خواب ۔۔۔۔۔۔ امن کے شہر کا

کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارے چہرے اصلی نہیں
ان پر نقابیں ہیں
اور ہم نے اپنے جسموں کی دیوار کے پیچھے
تعویز چھپا رکھے ہیِں
وہ ہمارے سروں پر
بیٹھنے والے خوبصورت پرنددوں سے جلتے ہیں
وہ  ہماری کہانیوں میں رقص کرتے
کرداروں سے نفرت کرتے ہیں
وہ چاھتے ہیں کہ ہم
اپنی کہانیوں میں ان کرداروں کی
پرورش کریں
جن کی سیاہ سرخ آنکھیں ہوں
اور وہ اپنے لشکروں پر سوار
دنیا کو فتخ کرتے چلے جائیں
وہ سروں کے مینار
لہو کے دریا
اور کتابوں کے جلتے شہر
دیکھنا چاہتے ہیں
مگر ہمارے  جسموں کی دیوار کے پیچھے
ایک پر امن شہر ہے
اور ہمارا جسم
ایک فصیل کے طور پر
ان کے ہتھیاروں کے سامنے کھڑا ہے
ہمارے آگے دشمنوں کا لشکر ہے
اور پیچھے  رنگ برنگے پھول
اڑتے ہوئے پرندے
لہلہاتے باغات
خوبصورت آنکھوں والی عورتیں
اور نطروں کی شرم کو محفوظ رکھنے والے مرد ہیں

کہانی جو لکھی نہیں جا سکتی

ہم ایک ایسی کہانی میں موجود ہیں
جو لکھی نہیں جاسکتی
بس ہمارے ہونٹ ہیں
جو اپنی سرگوشیوں میں ایک ایک لمحے
کو تازہ پھول بنا رہے ہیں
مگر جب بھی کوئی لمحہ جگنو بن کر چمکتا ہے
تو ہم اپنے جسموں کی دیوار کے پیچھے
کسی اجنبی چو رکی طرح چھپ جاتے ہیں
جیسے وہ ہمارے گلے کی طرف بڑھتا ہوا
کوئی اجنبی ہاتھ ہو
مگر پھر بھی
ہم ایک ایسی کہانی میں موجود ہیں
جو لکھی نہیں جاسکتی

زندہ لمس کی خواہش

شاید وہ کئی ٹکڑوں میں بانٹ دی گئی ہے
اندھیرے میں چمکتے سفید دانت او رسرخ زبان
جب اس کے وجود کے سونے میں اترتے ہیں
تو وہ ناپاک ہو جاتی ہے
دل سے دماغ تک
کئی جزیرے بپھری لہروں میں ڈوب جاتے ہیں
اور اسے ڈر لگتا ہے
وہ ہاتھ اونچے کرتی ہے
مگر ویرانے گھونگھٹ کاڑھے کھڑے ہیں
وہ اسے بھی
بنچر زمین میں بو دینا چاہتے ہیں
تاکہ اس کی ہڈیوں سے زرد موسم پھوٹ پڑیں
لہو کی سرخ گرمیاں جب ہونٹوں سے ٹپکتی ہیں
تو کوئی پرچھائیں اسے اندھیرے میں سمیٹ لیتی ہے
وہ اجلے آسمانوں کو چھونا چاہتی ہے
لیکن اس کے ہاتھ اس زندہ لمس کو بھی کھو دیتے ہیں
جہنوں نے اس کے ہمراہ خوابوں کی ویرانی سے
جلتی زمین تک سفر کیا ہے
شاید ہو کئی ٹکڑوں میں بانٹ دی گئی ہے

قاہرہ کے تحریر اسکوئر سے لیاری کے چیل چوک تک

تیز تر سائنسی ایجادات خاص طور پر انٹرنینٹ کے وسیع تر پھیلاؤ کے باعث گوبل ویلیج کا تصور تیزی سے فروع پا رہا ہے۔ دنیا بھر میں نئے نظریا ت کے اجر اء کا سفر بھی جاری ہے۔ بادشاہت اور جبر سے قائم حکومیتں لوگوں کے اجتماعی سیلاب میں بہتی جارہی ہیں۔حالیہ دنوں میں اٹھنے والے عوامی انقلاب مصر ، لیبیا، یمن، بحرین سے ہوتے ہوئے شمالی افریقہ اور مشرق وسطی کے کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ تیونس اور مصر میں تو حکومت نے مسلسل عوامی دباؤ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے عدم تعاون کے باعث اقتدر چھوڑ دیا لیکن باقی ممالک میں حکمران ملکی افواج کی مدد سے احتجاج روکنے اور بغاوتیں فرو کروانے میں مصروف ہیں۔ جبکہ کچھ ممالک نے عوامی رجحانات دیکھ کر بڑے اقتصادی پیکجز کا اعلان کیا ہے جن میں سعودی عرب سر فہرست ہے۔

دنیا کے وسیع تر کنیوئس سے ہم پاکستا ن کی طرف آئیں تو ہمیں یہاں ایک گہری گھٹن کا احساس ہوتا ہے ، پاکستان جہاں جمہوریت نے خود اپنی عوام کو گہرے زخم دئے ہیں ، لوگ روزگار سے محروم ہیں ، جسکے باعث نوجوانوں کا رخ جرائم کی دنیا کی طرف ہو گیا ہے، اخلاقیات سے مارواء ایک ایسی نسل کی آبیاری کی جاری ہے، جو معاشرتی اور مذہبی شعور سے نابلد ہے۔ سب سے گھناؤنا کردار ملک کے سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کا ہے، جن کے دو چہرے والے نظریا ت نے نظریہ ضرورت کی یاد تازہ کردی ہے، لوگ تعلیم ، صحت اور روزگار جیسی بنیادی ضروریا ت سے محروم ہیں، توانائی کے ذرایع کی عدم دستیابی کے باعث صنعتوں کی بند ش نے زندگی کی محرومیوں میں انگنت اضافہ کر دیا ہے۔کرپشن اور لاقانونیت کے بڑھتے ہوئے اندھیروں نے کثیر آبادیوں کو اپنے گھرے میں لے لیا ہے۔ ناگہبان آنکھوں سے دور نئی نسل جرائم کی گود میں پروان چڑھ رہی ہے، خواتیں کے خلاف جنسی جرائم میں بے پناہ اضافے نے معاشرے کی خوبصورتی کو مسخ کردیا ہے۔ بد کرداری کے فروغ نے ، غیر اخلاقیات کو تیزی سے فروع دیا ۔ روشنیوں سے چمکتا ہمارا شہر ایک برباد شہر کی داستان بن گیا ہے۔

لیاری کے چیل چوک میں لڑی جانے والی جنگ ، صرف منشیات فروشوں اور دہشت گردوں کے خلاف نہیں ، بلکہ اس کے کئی اسباب دیگر بھی ہیں جو غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں، قانوں نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف نبرد آزما طاقتوں کا کہنا ہے کہ انہیں یہ جدید تر ہتھیار ایک سیاسی جماعت نے دوسری سیاسی جماعت کے خلاف استعمال کے لئے دئے تھے ، اور اس آپریشن کا مقصد کہانی کے ان کردار کو ہمیشہ کے لئےخاموش کردینا ہے ،

لیاری کے چیل چوک میں فتح کس کو ہوگی ؟

یہ ایک سوال ہے جس کا ابھی کوئی جواب نہیں کیونکہ برائی کے خلاف لڑنے والوں کے چہروں پر خود بے شمار سوالات لکھے ہ

آج کا روشن دن

آج کا دن غیر معولی طور پر روشن ہے
لوگوں کے ہجوم کے درمیان
بے نام چہروں ،
بے ہنگم آوازوں کے شور
اور روشنی کے بے سمت بکھرتے زاؤیوں کو توڑ کر
مجھے اس تک پہچنا ہے
جس کے لئے
میرے دل کے مندر میں گھنٹیاں بجائی جارہی ہیں
وہ چہرہ اجبنی ہے
مگر زندگی کے اندھرے میں
جب روشنی کا دیا جلے گا
اور پتھرائے ہوئے ہونٹوں پر
مسکراہٹ اپنے لمس سے ہنسی سجادے گی
آج کا دن غیر معولی طور پر روشن ہے
لوگوں کا ہجوم
ایک دیوار کی طرح راستے بند کر رہا ہے
مجھے ایک بلند پرواز کرکے
اس آشیانے تک پہچنا ہے
جہاں زندگی ہے
جہاں سرگوشی بھی معنی رکھتی ہے