الیکشن 2013


پاکستان کےباشعور عوام مبارک باد مستحق ہیں
 کہ انہوں نے ووٹ کی بھر پور طاقت سے
سیاسی مفاہمت ،  دہشت گردی اور منافقت کو ہمیشہ کے لئے دفن کردیا
نئے پاکستان کو دیا جانے والا یہ  ووٹ
اس بات کا تقاضہ کرتا ہے  کہ ہم بحیثت ایک قوم اپنی ترجیحات کا اعادہ کرلیں کہ
معیشت کی درستگی، تعلیم کے  بھر پور فروغ اور  انصاف کی بالا دستی  سے
ہم پاکستان کے چہرے کو
عالمی چہرہ
!بنا دیں گے

بہت سے چہروں میں گم وہ ایک چہرہ

مجھے یوں لگا ، میں آئینہ میں خود کو دیکھ رہا ہوں۔ اتنی محبت مجھے خود سے بھی نہ تھی۔ جس قدر چاہت کا اظہار اس نے مجھ سے کیا ۔ وہ میرے خون میں سفر کرتی ہوئی میرے دل اور پھر خواب تک آپہنچی ۔ ہر رات میں ایک بزم سجاتا ہوں۔ رات کے آخری پہر تک پہنچتے پہنچتےوہ اداس ہوجاتی، جیسے وہ میرے زندگی سے جانا نہ چاہتی ہو۔میں اس کے لئے کیا تھا اور وہ قطرہ قطرہ پگھلتی مجھ میں سما جانا چاھتی تھی۔
میں شرمندہ تھا ۔۔ ایک ایسی صبح کے آجانے پر جب اس کا ہاتھ میرے ہاتھوں سے چھوٹ جاتا، اس سے جدائی کی ہر گھڑی میں ، مجھے یو ں لگتا کہ مجھ پر اس کا رنگ چڑھتا جا رہا ہو۔ ایک لمحہ ایسا بھی ہمارے درمیان آیا، جو خواب جیسا تھا (مگر اس کے رنگ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ نکھرتے جارہے ہیں) مجھے یوں لگ رہا تھا کہ میں ایک پیاسے سفر کے بعد کسی سایہ دار درخت تلے کھڑا ہوں، جس کی پناہ میں آسودگی تھی۔ اس کے قریب پہنچ کر مجھےساحل سے ٹکراتی موجوں کو چھونے کا احساس ہوا۔
جب ہم ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے، ہمارے سائے ہر پل قریب آتے ہوئے ایک دوسرے میں گم ہوگئے، مجھے احساس ہوا کہ کسی نے میرے لئے زندگی کا بند دروازہ کھول دیا ہو، یہ خواب نہیں تھا ، میں آج بھی خود کو، اسی خوشبو میں بسا محسوس کر رہا ہوں، جس بارش میں ہم دیر تک بھیگتے رہے تھے اس کی میٹھاس میرے ہونٹوں پر تازہ ہے۔
ہم ایک دوسرے کے لئے کیا تھے، رفتہ رفتہ جسموں کے بندھوں سے آزاد ہوتے ہوئے، ہم حیرت زدہ تھے اور اس انکشاف سے گزررہے تھے کہ محبت کے لمس کا سفر ، زندگی کے اجالے کو چھوتا ہوا منزل تک پہنچ گیا ہے۔
بہت سے چہروں میں گم وہ ایک چہرہ تھا ،
جسے میں آج اپنا چہرہ کہتا ہوں !

کہانی جو لکھی نہیں جا سکتی

ہم ایک ایسی کہانی میں موجود ہیں
جو لکھی نہیں جاسکتی
بس ہمارے ہونٹ ہیں
جو اپنی سرگوشیوں میں ایک ایک لمحے
کو تازہ پھول بنا رہے ہیں
مگر جب بھی کوئی لمحہ جگنو بن کر چمکتا ہے
تو ہم اپنے جسموں کی دیوار کے پیچھے
کسی اجنبی چو رکی طرح چھپ جاتے ہیں
جیسے وہ ہمارے گلے کی طرف بڑھتا ہوا
کوئی اجنبی ہاتھ ہو
مگر پھر بھی
ہم ایک ایسی کہانی میں موجود ہیں
جو لکھی نہیں جاسکتی