جسم کشتی بن گئے

جب رات کے آخری پہر
سارا بدن جلنے لگتا ہے
تو میرے ہاتھ تمہیں بنانے لگتے ہیں
بستر پر تمہارا بدن پھیل جاتا ہے
سمندر کی طرح بے کتار
اور پھر خوشبو بکھر جاتی ہے
مگر یہ تو رات کی کہانی ہے
جب میرے ہاتھ
تمہارے جسم پر تیرتے ہیں
تو کئی کشتیاں ابھرتی ہیں
ڈوبتی ہیں
پھر ہمیں سمندر کی گہرائیوں میں
کوئی دھکیل دیتا ہے
تو ہم ایک دوسرے کو بچانے کے لئے
اپنے جسموں کو جوڑ کر
خود کو ایک کشتی بنا لیتے ہیں

ایک درخت کے نیچے

ایک درخت کے نیچے وہ دو جسم تھے
مختلف سایوں اور آوازوں کے درمیان
انہوں نے ایک خواب دیکھا تھا
مگر روشنی کی آنکھیں
ان کی دشمن تھیں
دو سائے
ہمیشہ ایک دوسرے کے تعاقب میں
خود کو ہار جاتے ہیں
ایک درخت کے نیچے
وقت پگھلتا رہا
نہوں نے چاہا
کہ سورج کو زمین کا کفن
پہنا دیں
مگر ان کی آنکھیں
جو ایک دوسرے کو چھوتی تھیں
لمس کی پہنائیوں میں اندھی ہو گئیں
ایک درخت کے نیچے
مختلف زمانوں کی قید میں
وہ اجنبی سمتوں میں تقیسم ہوگئے

ہاتھ آزاد ہیں

وہ میرا جنون تھا جو سچ ہو گیا ہے
میں نے کئی بار خود کو کسی بہت اونچی عمارت پر ایستادہ پایا
کہ اگلے ہی لمحے میں کود کر خود کا مٹانا چاہتا تھا
میرے ترکش میں تین تیر تھے
مگر چاروں سمتیں میری مخالف تھیں
میں محبت کے نام پر آگ کو چوم لیتا تھا
مگر میرے تیر خالی چلے گئے اور میں پتھر کابن گیا
زمین اور آسمان کے درمیان کالا سورج سفر میں تھا
پھر جانے کیسے سفید بادلوں کا سائبا ن
میرے سر پر آ کر ٹھہر گیا
میرے پیروں پر خوشبو مل دی گئی
اور میرے سینے سے لگ کر کوئی اپنی ڈھڑکنیں
میرے وجود میں اتارے لگا
صدیوں سے بندھے ہاتھ آزاد ہوگئے
اور پہلی بار تم نے مجھے تھام لیا
میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دئے
ہم دونوں نے نئے موسموں کی تازہ اور خوبصورت
پوشاکیں پہن لیں اور زندہ ہوگئے

سر سبز درخت کی لاش

سرکاری جنگل سے چوری کیا گیا
وہ درخت زمین پر ٹوٹا پڑا ہے
شاید اپنی زندگی کو بچانے کی
اس کی یہ آخری کوشش تھی
ٹرک پر بندھے بہت سے کٹے پھٹے درختو ں میں سے
اس نے جرات کی
اور اپنے وجود سے لپٹتی
آہنی زنجیروں کو توڑ کر
خود کو زمین پر گرالیا
ٹرک ڈورتا ہوا
دھول آڑاتی گرد میں گم ہو گیا
زخمی درخت کی آخری سانسس
ایک چیخ کی طرح ہر طرف گونج رہی ہے
مگر صرف ہوا ،اس کے درد سے گوش گزار ہے
جلتے سورج کو ۔۔۔۔
غم میں ڈوبی اس دھندلی ہوا نے چھپا لیا
درخت کی سرسبز شاخوں کو دیکھ کر
چند بکریاں اسے چرنے کےلئے قریب آگیں
درخت کی آخری سانسس کے ٹوٹتے ہی
بکریوں نے اس کی سر سبز شاخوں
اور ہرے پتوں کو چر نا شروع کردیا
درخت کو آتشدان میں جھونکا جانا قبول نہیں تھا
آتشدان کی آگ میں جلنا
اور سلگتے سلگتے راکھ بن جا نا ، کتنا فضول تھا
اس نے سوچا ۔۔
کو ئی اس کی لکڑی کے ٹکڑوں کو تراش کر
کاٹھ کے کھلونے ہی بنا دے
جسے بچے اپنے ننھے ننھے ہاتھوں میں لے کر کھیلیں
مگر سڑک کے کنارے پڑا
یہ درخت
جسکے ہرے اور سرسبز پتوں کو بکریا ں چر رہیں ہیں
دور ۔۔۔۔۔۔ دیمک کے کیڑے
تیزی سے اس کی طرف بڑھ رہے ہیں
تاکہ اس کے جسم میں باقی رہ جانے والی ہر خواہش کو
ریزہ ریزہ کرکے
ہوا میں بکھر دیں