تم نہیں لوٹ سکتیں

تم نے مچھے مایوس  کیا ہے
میں جانتا ہوں
تم ایک بیمار معاشرے کی انا پرست لڑکی ہو
جو چیت کے دوڑ میں ہار جاتی ہے تو پھر
وقت کے ہر گزرتے لمحے کو اترن سمجھنے لگتی ہے
زندگی ایک کھیل ہے ، جس کے ایک طرف رنگ ہیں، خوشیاں ہیں
اور دوسری سمت پھیلے ہوئے اندھیر ے ہیں
تنہائی اپنا خیمہ گاڑے تمہیں آواز دیتی ہے
تو تم ڈر جاتی ہو
کہ اندھیرے سے نکلنے والے ہاتھ تمہیں  چھو نہ لیں
اور تم پرائی نہ ہوجاو
تم اجنبی راستوں کا سفر کرتی ہو
اور کھلی آنکھوں کے ساتھ سمندر تمہیں نگل جاتا ہے
تم واپس اپنے شہر کو نہیں لوٹ سکتیں
کہ تمہارا جرم تو سورج کی کالی آنکھ بن چکا ہے
تم چھونے اور محسوس کرنے کی لذت گم کرچکی ہو
تمہیں توپلٹ کر وہیں جانا ہے
جہاں تم اپنا انکار پھینک آئی تھیں

محبت ایک پوشاک

تمہاری محبت ایک ایسی پوشاک کی طرح ہے
جس نے میرے ظاہری و باطنی وجودوں کو چھپا رکھا ہے
تمہاری خوشبو ایک آبجو ہے
جس  میں تیر کر میں دور نکل جانا چاہتا ہوں
اور جب شام کے کناروں پر میرا سفر پہنچے
تو میری خواہش ہے
کہ تم پھولوں کا بستر بن کر
میرے تھکے ہوئے بدن کو سمٹ لو

سیا ہ ہاتھ اور جگنو

سیاہ ہاتھ اور جگنو

ظلم کی سیاہ رات کو
اجلا بنانے کی خواہش کرنے والے
شہیدوں کا لہو
دشمن کی آستینوں پر ایک روز
ضرور چمکے گا
ظلم کی زنجیر کو توڑنے کے لئے
جو آوازیں کل نعرہ بنی تھیں
آھنی ہاتھوں نے آج انہیں
سنگلاخ دیواروں کے پیچھے
دھکیل دیا ہے
مگر ایک ایسی نیک ساعت طلوع
ہونے والی ہے
جب ظلم کے یہ سیاہ ہاتھ
اڑنے والے جگنووں
اور بھلادی جانے والی
آوازوں کی بازگشت کو
روک نہیں سکیں گے

وعدوں کی کتاب

ہم جلتے سورج کی طرح ہیں
جسے اندھیرے کی تلوار کاٹ رہی ہے
ہم سوچتے ہیں
اور اپنے جسموں کو دیوار کی طرح
ملانے کی کوشش کرتے ہیں
مگر وقت ملتے نہیں دیتا
طاق میں رکھے سوکھے پھولوں کی طرح
ہم تازیگی کو ترس رہے ہیں
اور پتی پتی بکھر رہے ہیں
ڈالی سے ٹوٹےہوئے ایک جنم بیت چکا ہے
اپنی پیاس کو ہم
کنوئیں میں نہیں پھینک سکتے
وعدوں پھری کتا ب تھامے رات گزارتے ہیں
اور خوابوں کے جسموں کو
بستر پر سلاتے ہیں

اسکے خال وخد

اسکے خال و خد میرے جسم کی حراتو ں میں لکھ دئے گئے
حیرتوں کی چار دیواری سے دور
پرندوں کی آوازوں کے ہمراہ طلوع ہونے والی صبح
جہاں گہری نیند میں دیکھے جانے والے خواب ہمیشہ ٹوٹ جاتے ہیں
ایک احساس بے کنار آسمانوں کی سمت پھیل رہا تھا
خواب کی بے چین نیند سے جاگ کر اس کا سایہ
میری روح کی ویرانی کو چھو گیا
میرے ہاتھ مٹی کے بدن کو سانچوں میں ڈھال رہے تھے
اس کے وجود کو میں نے کتنی ہی تصویروں میں دیکھا
مگر اس کے ہونے کا احساس سورج کی تیز روشنی میں جل رہا تھا
تب ہم نے اپنی قربتوں کے نشہ میں ڈوبی شراب سے
ہونٹوں کی پیاس بجھائی
تاکہ عکس در عکس
جنموں تک پھیلی
آوارگی کی بے خواب نیند کے سراب سے
ہمیں رہائی ملے