چند لمحوں کا فاصلہ

آفس میں سبھی لوگ موجود تھے ، معمول کی سرگرمیاں جاری تھیں، کہیں سے کسی کے قہقہے کی بلند آوازسنگلاخ دیواروں اور بھاری بھرکم چوبی دروازوں سے چھن کر باہر آ رہی تھی۔ دوسرےکمرے میں کیتھلی میں رکھا ہوا پانی گرم ہو کر آوازیں دے رہا تھا،بڑے صاحب کے کمرے کے باہر کھڑا دربان روز کی طرح کچھ سوچ رہا تھا، اس کی آنکھوں کی کیاریوں میں ، بوسیدہ پھولوں کی پتیاں بکھری پڑی تھیں، راہداری سے گزرنے والے لوگوں کے قدموں کی آواز یں باہر کی سمت جاتی سنائی دے رہی تھی۔

میں اپنی میز پر جھکا ہوا ، نوٹ بک پر کچھ لکھ رہا تھا کہ کسی نے میز کو زور سے ہلایا ، میں نے نظر اٹھا کر دیکھا ،کوئی بھی آس پاس موجودنہیں تھا، مگر غصے سے بھر ی ہوئی ایک آواز کمرے میں داخل ہو رہی تھی، میز ، کرسی اور اطراف کے تما م منظر ایک بار پھر ہلنےلگے، زمین کی غصے سے بھر ی ہوئی آواز، مجھے بار بار جھنجوڑنے لگی، باہر ہونے والی گڑگڑاہٹ دل کے غلافوں میں چھپی ہوئی ڈھرکنوں پر غالب آنے لگی ۔ہرطرف شور بکھرتا چلا گیا، دور سے کہیں اذان کی بلند ہوتی آواز سنائی دینے لگی، ہرچہرہ ایک کھلی کتاب کی طرح ، اپنی اپنی داستانیں سنارہا تھا، زمین کی غصے سے بھری ہوئی آواز میں کئی اور آوازیں اپنا وجود کھو تی جا رہی تھیں، اپنی میز پر بیٹھا میں نجانے کب سے جھول رہا تھا، بہت سی دعائیں ، اپنے گھر والوں کی یادیں ، دھندلی تصویروں کی طرح گم ہو رہی تھیں ، جیسے آخری وقت، زندگی کے ساحل پر آ لگا ہو، آفس کی بلند و بالا عمارت ، زمین بوس ہونے کے قریب تھی، ہرچہرہ بے بس تھا، سوچ رہا تھا کہ چند لمحوں کا یہ فاصلہ کیونکر طے ہوگا، وقت کی اگلی گھڑی ، زندگی کو سانسوں کی گرمی سے جوڑے گی یا پھر دشت میں اڑتی آوارہ خاک سب کو ڈھانپ لے گی۔

میں سوچ رہا تھا، کہ یکایک میری نظر اس عورت پر پڑی، جو زمین پر نڈھال سی پڑی تھی ،اس کے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند تھے، آنسوں سے اس کا چہرہ گیلا تھا ، جسے ابھی اس نے وضو کیا ہو، قیامت کی اس گھڑی میں ،کسی کے پاس وہ لفظ نہیں تھے کہ خدا تک اس کی آواز پہنچ پاتی ، شور زدہ آوازوں کے درمیاں، اس عورت کا ہر لفظ صاف اور واضح تھا، میرے بچے گھر میں اکیلے ہیں، اے خدا رحم کر!

بس وہی گھڑی تھی، جب زمین کی غصے سے بھری ہوئی آواز دم توڑ گئی، لوگ اپنے اپنےدفتروں سے باہر نکل آئےاور ان سب کے درمیان زندگی ہنس رہی تھی۔

ہمیں رہائی ملے

اس کے خدوخال میرے جسم کی حرارتوں میں لکھ دیے گئے
حیرتوں کی چار دیواری سے دور
پرندوں کی آوازوں کے ہمراہ طلوع ہونے والی صبح
جہاں گہری نیند میں دیکھے جانے والے خواب ہمیشہ ٹوٹ جاتے ہیں
ایک احساس بے کنار آسمانوں کی سمت پھیل  رہا تھا
خواب کی بے چین نیند سے جاگ کر اس کا سایہ
میری روح کی ویرانی کو چھو گیا
اس کے بدن کا پھل دار سایہ
میرے وجود پر چھا ررہا تھا
میرے ہاتھ مٹی کے بدن کو سانچوں میں ڈھال رہے تھے
اس کے وجود کو میں نے کتنی ہی تصویروں میں دیکھا
مگر اس کے ہونے کا احساس سورج کی تیز روشنی میں جل رہا تھا
تب ہم نے اپنی قربتوں کے نشہ میں ڈوبی شراب سے
ہونٹوں کی پیاس بجھائی
تاکہ عکس در عکس
جنموں تک پھیلی
آورگی کی بے خواب نیند کے سراب سے
ہمیں رہائی ملے

سیا ہ موسموں کا دروازہ

سیاہ موسموں سے زندگی کو
چرانا پڑتا ہے
مگر کتنے برس اور ہم
یہ طوق گلے میں ڈالیں گے
کو ئی آھٹ بلند نہیں ہوتی
کوئی جھونکا خوشبو نہیں بنتا
جسم کو کاٹتا ایک دریا بہتا ہے
یہ وہ دعا نہیں
جو پوری ہوئی
سلگتے جسموں سے جلتے جہنم تک
زندگی سیاہ موسموں کا دروازہ ہے