تھر باسی

تھر باسی لوگ

زندگی ایک حادثے سے دوچار ہے
اور موت کو تقسیم کر دیا گیا ہے
ماؤں کی کوکھ سے
جنم لینے والے بچوں میں
جہنوں نے زندگی کے ذائقہ کی جگہ
بحوک کی اذیت کو اپنے ہونٹوں پر رینگتا ہو ا محسوس کیا
اس سے پہلے کہ مائیں ان بچوں کو اپنی گود میں چھپا لیتیں
اور دودح کی نہر سے بہتا امرت انہیں زندگی کے رمز سے آشنا کردے
موت کو ان بچوں میں تقسیم کر دیا گیا
جہنیں گلی میں اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنا تھا
شور مچانا تھا ، شرارتیں کرنی تھیں
اب گلی میں اداسی کوڑے کی طرح پھیلی ہوئی ہے
گھٹی ہوئی چیخییں
گھروں کے دورازوں سے لپٹی سسک رہی ہیں
اب موت خالی ہا تھ ہے
لوگوں نے اپنے ہاتھوں میں
گلشن سے توڑے گئے پھولوں کی لاشیں اٹھا رکھی ہیں
مگر ایک امید زندگی کے ساتھ باندھی ہے
کہ کوئی بچہ آگے بڑھ کر ان کا دامن تھام کر کہے
کہ اہھی ہم زندہ ہیں
اور موت کو شکست ہو چکی ہے

بوری میں بند لاش

بوری میں بند لاش
کسی سے کچھ نہیں کہتی
سارے سوالوں کے جواب
اسکی مٹھی سے گر کر کہیں کھو گئے ہیں
ادھ کھلی آنکھوں میں قید
آخری منظر
قطرہ قطرہ پگھل رہا ہے
لوگوں کے چہرے بجھے ہوئے ہیں
کچھ آوازیں بھی اس منظر میں موجود ہیں
جنہیں خاموش ہونٹوں نے جکڑ رکھا ہے
اس سڑک پرجہاں
بوری میں بند ایک لاش پھینک دی گئی ہے
نیا دن پوری آب وتاب سے طلوع ہو رہا ہے
لوگوں کا شور مچاتا ہجوم
اس راستے سے گزر رہا ہے
جہاں
بوری میں بند لاش
کسی سے کچھ نہیں کہتی

ہم نے سوچا

جب زندگی کے درمیان راستے ختم ہوگئے تو ہم نے سوچا، ایک ایسی رات آراستہ کی جائے، جسکی مشرقی دیوار پر سورج کبھی طلوع نہ ہو۔ خوشبو کی بہتی جھیل میں جب ہم نے اپنے پاؤں رکھے تو چاند اور سورج ہمارے ساتھ تھے۔ پرندوں کی اجلی آوازیں تنہائی کی چادر پر لکھے گم شدہ خوابوں کو زندہ کررہی تھیں اور خوشبو کی جھیل کے کنارے ہماری تنہائی کے زخم سیئے جارہے تھے۔
اس جھیل میں تیرتے ہوئے ہم نے اپنے وجود کو ایک خوبصورت تصویر کے روبرو پایا ، رنگ ہر طرف اڑ رہے تھے ۔ خوشبو کے ساتھ رقص کرتے ہوئے ہم نے اپنے پیاسے جسموں پر نقش رنگوں کی لکیروں کو لباس کی قید سے آزاد کردیا

کہانی کا حصہ

میں ایک ایسی کہانی کا حصہ ہوں جسے کسی انجام کے بغیر لکھا دیا گیا، اس شہر خاموشاں میں ، جہاں ہوا بھی ٹہر گئی تھی، خواب سے بیدار ہوتی آنکھوں نے رقص کی خواہش کی، مگر اس اجنبی شہر میں آشنائی جرم ٹہری۔
پھر کہانی میں تمہیں بھی شامل کر دیا گیا، شاید تقدیر ایسے ہی کھیل رچاتی ہے، تم محبت کے شجر سے توڑا گیا ثمر تھیں، ایک ناراض رویہ تمہاری آنکھوں میں آ بیٹھا تھا، اور تم کسی کا اعتبار نہیں کر سکتی تھیں، مگر قدرت ایسے ہی کھیل رچاتی ہے، کیوپڈ کا چلا تیر بے خطا تھا اور تم گھائل ہوگیں۔
تمام راستے رقص گا ہ کی طرف جارہے تھے، یہ کہانی جو کسی انچام کی محتاج نہ تھی، دو دلوں کے درمیا ن سفر کر رہی ہے،درمیان میں ایک دریا بہہ رہا ہے، پہاڑوں کی وادیوں میں ایک پکار گونج رہی ہے، اور ہمارے دل انچانے وسوسوں سے ڈھرک رہے ہیں، ایک دریا کے کنارے ہم دونوں پیاسے ہیں اور بارش ہورہی ہے۔
یہ بھی قسمت میں لکھا ہے کہ ہم کسی انجام تک نہیں پہنچ پائیں گے اور ہر صبح اپنی ناتمام آرزوں کو ساتھ لے کر ہم اپنے اپنے قفس سے پرواز کر تے ہیں، متروک وادیوں اور برباد شہروں پر سے گزرتے ہوے، ایک لمس کی خواہش ہم پر اپنی تھکن طاری کر دیتی ہے۔
ایک سوال جو بار بار اپنی شکلیں بدلتا ہے، مگر ہمیں اجبنی نہیں کر سکتا !