وہ مجھے دیکھتی ہے

میری بانہوں میں اس کا چہرہ پگھل جاتا ہے
اور وہ یوں مجھے دیکھتی ہے
کہ کہیں اس کے خواب ٹوٹ نہ جائیں
اس کے ہاتھ لہولہاں نہ ہو جائیں
اس کی پیاس ادھوری نہ رہ جائے
مگر میں کناروں تک پھیلا ہوا آسماں ہوں
جو اس کی پیشانی کو چوم کر
سمندر بن جاتا ہے

وعدوں کی کتاب

ہم جلتے سورج کی طرح ہیں
جسے اندھیرے کی تلوار کاٹ رہی ہے
ہم سوچتے ہیں
اور اپنے جسموں کو دیوار کی طرح
ملانے کی کوشش کرتے ہیں
مگر وقت ملتے نہیں دیتا
طاق میں رکھے سوکھے پھولوں کی طرح
ہم تازیگی کو ترس رہے ہیں
اور پتی پتی بکھر رہے ہیں
ڈالی سے ٹوٹےہوئے ایک جنم بیت چکا ہے
اپنی پیاس کو ہم
کنوئیں میں نہیں پھینک سکتے
وعدوں پھری کتا ب تھامے رات گزارتے ہیں
اور خوابوں کے جسموں کو
بستر پر سلاتے ہیں

ایک تصویر بناؤں

اس سے پہلے کہ زمین کھسک جاتی
میں نے کیوں نہ آسمان کا کنارہ تھام لیا
میں نے خود کو جلا دیا
اور چاہ کہ اپنی انگلیوں کو رنگ میں ڈوبو کر
ایک تصویر بناؤں
شام کے اجالے کی
مگر تصویر کے رنگوں میں
اب صرف سائے ہیں
تمہاری محبت سدا بہار موسم کی طرح ہے
مگر میں خود کیوں تقسیم ہو رہا ہوں
تم آسمان کا کنارہ ہو
اور میں گرنے سے پہلے
تمہاری گرفت میں آنا چاہتا ہوں
محبت کے لئے
مگر کچھ اور بھی ہے
میرے دل کے اندھیرے میں
اپنی خواہشوں کا جال پھلائے
میں منتظر ہوں
کہ تم دام میں آجاؤ
تم میرے لئے
ہر لمحہ زندگی اور فنا کے درمیاں
محبت کی ایک تصویر کی طرح نمایا ں ہو
جسکے رنگوں میں زندگی کا اجالا ہے