آہ ۔ جنید جمشید، زندگی اللہ کی امانت ہے

جنید جمشد نے اپنے منفرد انداز گائیگی اور وائٹل سائین کی گروپ پرفارمنس کے ذریعے اپنی گلوکاری کو مقبول عام بنا دیا ،اس کے گائے ہوئے گیتوں نے  نوجوان نسل کومتاثر کرناشروع کردیا ۔اس نے بہت جلد شہرت کی بلندیوں کو چھو ا۔اس کی زندگی کی راتیں، جگمگاتی روشیوں ، چاہنے والوں کی آوازوں کے شور میں بسر ہو رہی تھی ، جبکہ دن کی ساری مسافت ، نیند کی وادی میں گم ہورہی تھِی۔ شوبز کی خوبصورت جگمگاتی دنیا میں کسی ایک اجنبی  لمحہ نے ، اس کو نیند سے بیدار کر دیا ۔ روشینوں اور آوازوں کے شور کے پیچھے چھپا اندھیر ہ اس کے سامنے آگیا، حقیقت بے نقاب ہوگئِ کہ یہ  زندگی جھوٹ اور بناوٹی ہے۔اس احساس زیاں نے اس کی زندگی کو یکسر بدل ڈالا۔ زندگی کی ڈگر پر اذان کی آواز اس کے لئے سنگ میل بن گئی۔احکامات خداوندی اور  سنت رسول ﷺ کی  پیروی اس کا مقصد حیات بن  گئی۔

                        جیند جمشید نے محسوس کرلیا کہ زندگی اللہ کی امانت ہے، اور زندگی کو اس کے فرمان کے مطابق بسر کرنا عین عبادت ہے۔ آسائش زندگی  اب اس کا متمع نظر   نہیں رہا۔ایک باشرع انسان موت سےکبھی نہیں گبھراتا ، موت تو صرف ابدی زندگی کے سفر کا دروازہ ہے- زندگی کا جو بھِی لمحہ اسے میسر آتا ہے ، وہ خوشی کا اظہار کرتا ہے کہ  اسے اپنے رب کو راضی کرنے کی ایک اورمہلت مل گئِ، یہ ہی اس کی سرمایہ کاری ہے ،جو اللہ کے حضور ، اسسکےسرخرو  ہونے کا باعث بنے گی۔

                        نواجونی کی عمر، رسم و رواج سے بغاوت کا نام ہے،اس عمر میں  پابندیاں ،زنجیروں کے بوجھ کی طرح محسوس ہوتی  ہے ۔اسےوقت اگر کوئی ان دیکھے خدا کے بتائے ہوئے سیدھےراستہ پر  چلنا چاہے تو اسکادل انکارپر مائل  رہتا ہے۔نفس کے ساتھ جاری اس جہاد میں ، کامیابی ہر کسی کا نصیب نہیں  ہوتی ۔

جیندجمشید  نے جاگتی  راتوں اور شوبز کی چمکتی  روشنیوں سے منہ موڑ کر ، طلوع سحر کی پہلی روشن کرن کو سلام کیا جو اللہ کے حکم پر   اپنےدن  کا آغاز کرتی ہے، موت کو گلے سے لگا کر ، شہادت کے مرتبے پر فائز ہونے کا مرتبہ حاصل کرنے والے جنید جمشید نے ، ہماری آنکھوں کے پردوں پر جمے ہوئے اندھے جالوں کو صاف کردیا تاکہ حقیقی راستہ اسے نظر آسکے۔

                        زندگی  کے سکے کےدونوں طرف ڈھالی گئِ ، حق و باطل کی شبہیوں نے، مرکزی نقطے میں پہناں  ہو کر تمام باطل قوتوں سے انکار کردیا ۔۔۔ اب زندگی صرف اللہ  کی امانت ہے ۔

جیند جمشید نےتبلیع کےپر خار راستے پر چلنے کو اپنی زندگی کا چلن بنایا،  جو جہاد کا مترادف ہے،اس سفر میں دوستوں  سے زیادہ ،اسے دشمنوں کا سامنارہا ،اور تحفہ شہادت اسکی زندگی کی سب سے بڑی گواہی بن گیا۔

تمہاری دہلیز پر

ایک شیش محل ہے
اور بے شمار آنکھوں میں
صرف تمہاری آنکھیں مجھے یاد ہیں
میں کس طرح
کسی ایسے لمحے کو بھول سکتا ہوں
جسے تم نے میرے ساتھ
میرے لیئے دیکھا تھا
ڈر لگتا ہے
کہ کہیں تنہائیوں کے سیاہ خوف سے
تم ان یادوں کو
کسی دیوار میں نہ چن دو
اگر ایسا ہوگیا
تو پھر میرے بدن کو
صلیب پر سے کون اتارے گا
میں صدیوں سے تمہاری دہلیز پر کھڑا ہوں
ہر کھڑکی تمہاری آنکھ ہے
اور تمہارے جسم کا دروازہ
میری دستک کا عادی ہے

وجود کا نیا چہرہ

لفظوں میں زندگی کو لکھنا غذاب ہے، لفظ ٹوٹ جائیں تو ان کے درمیان پر چھائیں تقسیم ہو جاتی ہیں، سورج کی روشنی جب مصلوب جسموں کو چھوتی ہے تو روشنی یا تو تمام مناظر کو اجاگر کردیتی ہے ورنہ بجھے ہوئے چراغوں سے اٹھتا ہوا دھواں افق کو سیاہ کردیتا ہے۔
میں گھر اور دیوار کے بیچ ایک سایہ ہوں، چمکتی روشنیوں کے لفظ مجھے زمین پر پھیلتے اور گم ہوتے سایوں کی طرح لکھتے ہیں اور مٹا دیتے ہیں، میری پھٹی ہوئی تصویر دیوار پر ٹھوک دی گئی ہے، کیلیں میرے ہونٹوں اور آنکھوں میں پیوست کر دی گئی ہیں، مگر میں کسی اجنبی دیوار کا اشتہار نہیں، اپنے ہی گھر کی مشرقی دیوار پر ایک ٹوٹی ہوئی زندگی کی عبارت ہوں، میں نے مٹے ہوئے لفظوں کو دوبارہ لکھنے کا گناہ کیا، اس دوران سرد و گرم دونوں ہی ذائقے میرے لہو میں شامل ہوئے، مگر آدمی کا مزاج تو کسی اور ہی آگ کی تلاش میں کوہ طور کا سفر کرتا ہے۔ ا پنے پیچھے میں نے بہت دھول اڑائی مگر زندگی کا کوئی بھی راستہ صاف نہ کر سکا۔ اب سفر کی اگلی منزلیں دھندلی دکھائی دیتی ہیں اور تھکن سے بدن ٹوٹ چکاہے، اب اپنے خوابوں کا بوجھ میں نہیں اٹھا سکتا کہ اگلی منزل تک بہتی دھوپ میں مجھے اپنے بے چہرہ وجود کے ساتھ سفر کر نا ہے۔
آئینے کی عمر ایک دھوکا ہوتی ہے، اس کی چمک جب میرے ہاتھوں پر سے اتری تو میں تنہاتھا ۔۔۔۔ تنہائی کا یہ لمحہ تاریک رات کی طرح ہولناک تھا، اس تنہائی میں انسان آوازوں کی گرفت میں کٹھ پتلی بن جاتا ہے، مگر کب تک ! وقت کے پگھلتے لمحوں کے درمیان جب فیصلے کی گھڑی آ پہنچتی ہے تو وہ اپنا ہاتھ مقابلے سے کھنیچ لیتا ہے مگر ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی اس کے وجود کو پھلانگ کر بہت آگے نکل جاتا ہے، آئنیے پر بنی تصویر نئے خال و خد میں ڈھل جاتی ہے یوں لگتا ہے کہ پردے کے پیچھے کوئی چھپا ہوا ہے ۔ ہر لمحے گھورتی ہوئی سیاہ آنکھیں اور پھر تھکا دینے والی کیفیت سے ڈر کر وہی انسان جو تازہ لمحے تراش رہاہوتا ہے، دھند کے اس پار ہمیشہ کے لئے کھو جاتا ہے۔
وقت کتنی کروٹیں لیتا ہے اس کا اندازہ ہمیں لوگوں کے متضاد رویوں سے ہوتا ہے، اس منظر میں کچھ لوگ اندھیرے کا کاٹ کر روشنی کے لئے راستہ بناتے ہیں۔ ساحل پر دوڑتے قدموں کی گرمی، فضا میں اڑتے پرندوں کا نغمہ،پہاڑوں پر پھیلی برف جیسی خاموشی اور دو دلوں کے درمیان ایک ناچتا ہوا مکالمہ انسانی محبت کی لازاول داستان ہے مگر اس کے باوجود غم والم ہماری زندگی کا جزو ہیں۔ اس لمحے جب زندگی کو ہم کسی اندھے کنوئیں میں دھکیلنا چاہتے ہیں تو کوئی تاریکی کو روشنی سے کاٹ دیتا ہے۔
اپنے وجود کو ایک نئے آغاز کے ساتھ لکھنا، زندگی کا نیا چہرہ بنانا ہے ۔۔۔۔ اس ہنر میں آدمی خود سے بیگانہ ہو جاتاہے، آج زمین پر پھولوں کی کیاریوں کی جگہ بارود کے ڈھیر لگا دیئےگئے ہیں۔ ہر آدمی جنگاری ڈھونڈ رہا ہے اور جس کے پاس شعلہ ہو گا وہی ہمارا نجات دھندہ ہو گا۔ جب زمین ایک عظیم دھماکے کے ساتھ دھواں بن کر کرہ آسمانی میں بکھر جائے گی !

پرندوں سے بھرا آسمان

پرندوں سے بھرا آسمان

میں اس زندگی کا اگلا صفحہ لکھ چکا ہوں
جو کہیں مصلوب کردی گئی ہے
میرا دل ان بچوں کے ساتھ دھڑکتا ہے
جن کے سر کھلے آسمان کے نیچے ننگے ہیں
میں نے اپنے ہاتھوں پر
ان گھروں کے لئے دعائیں لکھی ہیں
جن گھروں کے دروازوں پر خدا دستک نہیں دیتا
میرے وجود کی آہٹ
میرے چہرے کا عکس
روتی آنکھوں سے موتی موتی سمیٹ رہے ہیں
جنگل میں بھٹکتی آوازیں
اور روٹھے ہوئے خوابوں کو ڈھونڈ کر
میں تازہ منڈیروں پررکھ رہا ہوں
میرے اندر پرندوں سے بھرا آسمان ہے
دعاوں سے بھرے
ہاتھ ہیں
جو اندھیری بستیوں میں
روشنی لئے سفر کررہے ہیں