اس کے باوجود

اس کے باوجود ۔۔۔
کہ میں اس دنیا میں تمہارے لئے کوئی گھر نہیں بنا سکا
تم نے فقط میرے دل میں رہنا گوارا کیا
خواہشوں کو چھوڑنے میں پہل کی
تم مسکرا سکتی تھیں
مگر تم نے تنہائی میں رھنا ،
مجھے یا د کرنا اور آنسو بہنا پسند کیا
اپنے ہاتھوں پر مہندی لگانے کے بجائے
تمہیں میرے ہاتھوں کی ان دیکھی گرفت
اچھی لگنے لگی
صرف یہی نہیں
رات جب بھی چاند تمہارے آنگن میں طلوع ہوا
تم نے اپنی روشنی سے بھی زیادہ منور ہو کر
میری زندگی کے اندھیروں کو اجالوں سے بھر دیا
یہ جانتے ہوئے بھی
کہ میں سراپا خواب ہوں
جو دن کے طلوع ہونے پر
اپنی جگہ خالی کردے گا

آج تھرکی صحرائی زندگی کے لئے ہمیں جاگنا ہو گا

aaaabbbbccc

صدیو ں سے تھر کی تپتی ریت پر
مور اپنےرقص کرتے رنگوں کو
قوس و قزح کی صورت زمین پر بکھر رہے ہیں
آج حد نظر تک
کوئی بھی پرندہ آسمان کی وسعتوں کو چھوتا نظر نہیں آ رہا ہے
زیست کی نمی
پاتال کی گہرائیوں میں کہیں چھپ گئی ہے
جہاں تک پہنچتے پہنچتے
درختوں کی صدیوں تک پھیلی جڑیں
اپنا وجود کھو تی جارہی ہیں
تپتے صحرا میں نمو پاتی زندگی
گہرے رنگوں کے آنچلوں کے پیچھے خاموش ہے
گہری کالی آنکھیں آج خود سے بہت ناراض ہیں
ان کے لب سلے ہوئے ہیں
کوئی بھی چیخ شکوہ بن کر ان کے ہونٹوں سےنہیں گرتی
ماؤں کی بھوکی کوکھ سے
ان کی اجڑی گود تک
درختوں سے ٹوٹے ہوئے پھولوں کی لاشیں پڑی ہوئی ہیں
وہ چیخ جو گھٹن بن کر
ان کے زندہ وجود کو نگلتی جار رہی ہے
کانٹوں کی فصل بن کر
ان چھوئے احساس کو لہولہاں کر رہی ہے
جن پھولو ں کو ماؤں کی گود سے اتر کر
بھوک اور غربت کے سیاہ زندانوں سے ٹکرانا تھا
انہو ں نے اپنی پیاس کو ہمیشہ ریت کی صراحی میں قید پایا
آج وہ اپنی ہی سانسوں کی ڈور سے الجھ کر دم توڑ رہے ہیں
آج تھر کا صحرا
بارشوں کے جل تھل کے انتظار میں تھک کر
ہمارے خوابوں کی دہلیز تک پہچ گیا ہے
اس کے پہلے کہ
خواب اور نیند
مو ت کی خاموشی کو چھو لیں
ہمیں جاگنا ہو گا

اکمل نوید (anwer7star)

شب و روز کی گردش سے گزرتا ہو ایہ سال

شب و روز کی گردش سے گزرتا ہو ایہ سال
آج نجانے کیو ں سانپ کی طرح رینگ رہا ہے
اس کی زہر بھری پھنکار سے میرے تازہ خوابوں فصل جل چکی ہے
زخم آلودہ جسم
لمس کی خواہش لئے آہٹوں کی دھند میں کہیں گم ہو چکا ہے
سورج کالی آندھیوں کی گرفت میں اپنی گرم روشنی کھوتا جارہا ہے
ایک اندھیرا گم راہ تیر کی طرح میر ے دل کی جانب محو پرواز ہے
اس سے پہلے کہ دشمن مجھے گھائل کردے
میری آنکھوں کی خالی جھیل سے ایک بے نام سی روشنی چشمہ بن کر پھوٹنے لگی ہے
اس کے بڑھتے ہوئے قدموں کی آھٹ پر
دل کے سدا بند رہنے والے دروازے
دوستوں کی بانہوں کی طرح وا ہوتے جارہے ہیں
میرا دل  اب امید کے چراغ سے روشن ہے
شاید گزرتے ہوئے اس بے ثمر سال کے بعد
سیاہ بادلوںکو جگمکاتے ستاروں سے آویزاں کر دیا  جائے
! اور ایک ننھی بے نام سی روشنی سورج کی کرن کو تھام کر سارے منظر کو روشن کردے