گڑیا کی نیند

ایس نظروں سےتم مچھے دیکھتی ہو
کہ تم مجھے دوبارہ زندگی سے جوڑ دیتی ہون
یہ تمہارا کھیل ہے
مگر میں روز تمہارے ہاتھوں سے جوڑے جانا
پسند کر تا ہوں
اور پھر تم مسکرا دیتی ہو
تو خوشبا ہمیں گھیر لیتی ہے
تم سمدر کی طرح پرجوش ہو
مگر کنارے پر رکی رہتی ہو
اور میں چاھتا ہون
کہ تمہارے ساتھ دور تک بہتا چلا جاوں
پھر تم اپنے جسم کے مختلف خطورں پر
میرا نام لکھتی ہو
اور جیسے جیسے نئے ورق کھلتے چالاے جاتے ہیں
سانسوں میں ایک لذت تیرنے لکگتی ہے
اور تم میرے ہاتھوں میں
ایک اشارہ بن جاتی ہو
اور ایک نازک گڑیا کی طرح
اپنی آنکھیں بند کر کے
خوابوں کے بستر میں سو جاتی ہو

پناہ درکار ہے

ایک بار پھر مجھے پناہ درکار ہے
مصنوعی موسم کی اجلی شاموں سے میں خود کو موڑ چکا ہوں
خوشیوں کے لمحےٹوٹی ہوئی گھڑی کی سوئیوں کی طرح
ایک ہی زمین پر رک گئے ہیں
میں بہت آگے نکل آیا ہوں
ایک بار پھر مجھے پناہ درکار ہے
جو تم جیسا ہو اور کوئی سوال پوچھے بنا
میرے جسم و جاں میں نشہ بن کر اتر جائے
شاید کوئی فیصلہ میرے اندر کہں ہوچکا ہے
اس لئے تو میں وقت کے ساتھ نہیں ہوں
کوئی اجنبی ہاتھ مجھے جکڑے ہوئے ہے
میرے سانسوں کی ڈوریوں کو تھامے ہوئے
مجھے کسی اور سمت گھسیٹ رہا ہے
میں وہاں جانا نہں چاھتا
جہاں تم نہیں ہو ۔۔۔۔
>ایک بار پھر مجھے پناہ درکار ہے

ہم چیخناچاہتے ہیں

ہم چیخناچاہتے ہیں

یہ زندگی سے ناراض رویہ ہے
ہر صبح آواز قتل کر دی جاتی ہے
تو ساراشہر خاموش ہوجاتا ہے
کسی کو گرنے سے بچانے کے لئے
ہم چیخنا چاہتے ہیں
مگر ایک ایسی تصویر بن جاتے ہیں
جس میں خاموشی کو قید کر دیا جاتا ہے
ہم تہہ در تہہ
کسی اجنبی سمت اتر جاتے ہیں
الجھی سوچوں کے ہمراہ
اب وقت کا دائرہ بھی
جائے اماں نہیں ہے کہ
محبت کی اجلی روشنی
رنگوں اور خوابوں کے درخت سے
ٹوٹ چکی ہے

اب جینے کے کئی معنی ہیں

اب جینے کے کئی معنی ہیں ، یہاں پہچنے تک ہم نے کئی زخم اٹھائے اور ایک ایسی دھوپ عبور کی جس کی جلتی آگ میں اڑتے پرندے بھی پگھل رہے ہیں۔ تم سنگھار کرنا چاھتی ہو، اپنا روپ، اپنی خوشبو ، اپنی آواز اور قدموں کی چاپ، سب کچھ میرے حوالے کردینا چاھتی ہو۔
سفر کی دھوپ سے ابھی تک ہمارے چہرے جھلسے ہوئے ہیں، ہواؤں کے سائے تلے ہم اپنےاپنے جسموں کی کتھا لکھ رہے ہیں۔ جدائی کے ایک ایک پل کو اپنے جسموں سے اتار کر پھینک رہے ہیں۔
میں تمہیں ایک نئے روپ میں دیکھ رہاہوں، ان دیکھی چاہتوں کو اپنے بدن سے لپٹے تم میرے طرف بڑھ رہی ہو۔
اور جب ہمارے جسموں کے اندر روشنیاں جلنے لگتی ہیں، ہم نئے سفر کی اور بڑھنے لگتے ہیں۔