روشنیوں سے دور

روشنیوں سے دور

ستاروں کی روشنی سے بہت دور
مردہ زمینوں اور آگ پھونکتی ہواوں کے درمیاں
رقص ابد جاری ہے
کتابوں میں چہرے لکھے جارہے ہیں
اس پر ہول اندھیر ے میں کہیں ایک چیخ ابھرتی ہے
سانسوں کو نچوڑ کر اس پر اینٹ رکھ دی جاتی ہے
یوں ایک سیاہ دیوار
دلوں کے بیچ میں بلند ہوتی ہے
مردہ زمینوں اور آگ پھونکتی ہواوں کے درمیاں
انسانوں کا چہرہ مٹایا جارہا ہے ایسا لگتا ہے
سورج پھٹ جائے گا
اور تیزروشنی اندھیرے کے بستر میں کھو جائے گی
میرے بازوں سے اوپر کوئی دوسرا چہرہ اگ رہا ہے
میرے ہونٹ پکارتے ہیں
مشرق سے مغرب تک سب کچھ ڈوب رہاہے
اب کچھ نہیں بچا
صرف چہرے ہیں
الزام لگاتی انگلیاں
اور گالی دیتے ہوئے لفظ ہیں
جن برتنوں میں ہم نے
موسموں کے پھولوں کا رس جمع کیا تھا
ان کو کتے چاٹتے ہیں
جن وادیوں میں ہم نے گیت گائے تھے
وہ منظر سے اوجھل ہوگئی ہیں
زمین کے سارے چہرے جل گئے ہیں

ایک ستم اور میری جاں

ایک ستم  اور میری جاں

حکومتوں کا بنیادی مقصد ایک ایسی فلاحی ریاست کا قیام ہوتا ہے  جہاں لوگوں کو   بنیادی   حقوق، ملازمتوں کے مساوی  مواقع ، اور انصاف کا فوری حصول ممکن ہو۔مگر پاکستان میں حکومتیں، جمہوری نظام کی آڑ میں برسہا برس  سے ،حکومتی  وسائل کو ذاتی منفعت  کے کاموں میں استعمال کرنے کی عادی ہو چکی ہیں، جمہور کے لئے قوانین واضع کرنے کی جگہ ، ایسے قوانین  کا اجرا کیا جارہا ہے، جو  تاحیات حکمرانی کے لئے  ان کا راستہ صاف کرسکے۔

اب یہ بات سب پر عیاں ہوچکی ہے کہ ہمارے ملک کی  دو بڑی سیاسی جماعتوں نے برسر اقتدار آکر لوٹ مار اور اقرابا پروی کا بازار گرم کردیا۔ اور عوام کے حصے میں جمہوریت ایک بہترین انتقام کا نعرہ بن کر سامنے آئی ۔عوام کے حصے میں آنے والی روٹی  اور روزگار کو بھی ان  سے دور  کردیا، غریبوں کے لئے قیام اسکولوں میں تعلیم ناپید، ہسپتالوں سے ڈاکٹر اور دوائیں نایاب، اور ملک سے روزگارکے مواقع غائب ہوتے چلےگئے ، آبادیاں ، بنیادی ضرورتوں سے محروم ،کچرے کے ڈھِیر کی طرح بدنما دیکھائی دینے لگیں۔ جبکہ ملک کی اشرافیہ ، کے لئےرائج دوہرے معیار نے ان کے درمیان طبقاتی  فاصلے بڑھا دئے۔جھوٹ اور   منامقت کا چلن عام  ہو گیا۔

ملک کے دو بڑے شہروں، لاہور اور کراچی ، جو کہ  اپنی  گنجان آبادیوں کے باعث، مسائلستان بن چکے ہیں ،وہاں  ٹرانسپورٹ کا بوسیدہ نظام   لوگوں کے لئے تکالیف کا باعث بن  چکا ہے۔ایسے میں عالمی سطح پر تسلیم شدہ    “ای ٹیکسی” کا نظام  ان شہروں میں متعارف کرایا گیا،  جہاں  جدید تریں  اور معیاری ٹرانسپورٹ اور اس سے منسلک تعلیم  یافتہ  اسٹاف جسکا تعلق  موبائل ایپ کے ذریعے  صارف سے جوڑ دیا گیا۔ بہت ہی آسا نی سے   دستیابی کو ممکن بنادیا ۔ آپ جہاں ہیں اور جہاں  جانا چاہتے ہیں   ، یہ سب معلومات ، اس  موبائل  ایپ سے جوڑے   سرور  پر  مہیا کی جاتی ہے جو فوری طور پر  ، فاصلہ کی طوالت اور اس کا تخمینے سے آپ کو  آگاہ کردیتا ہے۔

اس جدید نظام نے  ، لوگوں کی سفری  سہولیا ت   کے ساتھ ساتھ، ملک کے بے روزگاہ  نوجوانوں کے لئے باعزت  معقول  روزگار مہیا کیا بلکہ  لوگوں کے لئے سرمایہ کاری  کا بھی ذریعہ  بنا ۔۔۔۔ اگر آپ  ایک شاندار  گاڑی کے مالک ہیں  اور کمپنی کے معیار سے مطابقت پر  ، آپ اس گاڑی  کو کمپنی  کو دے کر معقول  ماہانہ  معوضہ   بھی حاصل کر  سکتے ہیں۔

تیزی سے  تبدیل ہوتی اس دینا میں ،یہ تبدیلیاں زندگی  میں آسانیاں پیدا کرتی ہیں، مگر ہماری حکومتوں کو  یہ   تبدیلیاں راس نہ  آئی، انہوں نے سڑکوں پر ڈھولتی  ، بوسیدہ اور پرانی  گاڑیوں  کے چلنے پر کبھی کوئی نوٹس نہیں  لیا، مگر فوری  طور پر انہوں نے اس نئے نظام سے پیدا ہونے والے سہولتوںکو  عوام کےلئے  غیر قانونی ٹہرا دیا۔ اور حكم جاری كردیا   کہ انہیں بهی  بوسیده نظام كے اصول وقوانیں  كے تحت چلنے كی  اجازت لینی  ہوگی، جہاں   صارف  کے لئے  سہولتوں  کے برعکس ،اجر  صرف  اپنے منافع پر نظر رکھے ۔

جسم کشتی بن گئے

جب رات کے آخری پہر
سارا بدن جلنے لگتا ہے
تو میرے ہاتھ تمہیں بنانے لگتے ہیں
بستر پر تمہارا بدن پھیل جاتا ہے
سمندر کی طرح بے کتار
اور پھر خوشبو بکھر جاتی ہے
مگر یہ تو رات کی کہانی ہے
جب میرے ہاتھ
تمہارے جسم پر تیرتے ہیں
تو کئی کشتیاں ابھرتی ہیں
ڈوبتی ہیں
پھر ہمیں سمندر کی گہرائیوں میں
کوئی دھکیل دیتا ہے
تو ہم ایک دوسرے کو بچانے کے لئے
اپنے جسموں کو جوڑ کر
خود کو ایک کشتی بنا لیتے ہیں

رات کے آخری پہر میں

خواب محرومیوں کو جگاتے ہیں ، میری آرزویں اب تمہارے نام سے منسوب ہیں۔ رات کے آخری پہر کسی دوسرے کے موجود نہ ہونے پر ہم کتنے ملول ہو جاتے ہیں۔ ہر صبح ، میں تمہیں رات کی کہانی سناتا ہوں، آج ہماری محبت اپنا پہلا سال مکمل کرچکی ہے۔
ہم ایک دوسرے کو جتنا جان چکے ہیں، اس کے لیے صدیوں کا جنم بھی ناکافی تھا ، رات اور دن کے درمیان گزرتا وقت ان لمحوں کو یادگار بنا رہا ہے، جب ہم شام کے کناروں پر ملتے تھے۔
جب ہم ایک دوسرے سے سامنے ہوتے ہیں، بہت سے سوالوں کے ساتھ
تو انجام سے بے خبر ہوتے ہیں ، مگر محبت انجام سے وابستہ نہیں ، اور رقص کے درمیان جب ہم گیت گاتے ہیں اور خوشیوں کو اپنے اندر اترتا ہو ا محسوس کرتے ہیں، تو جدائی کی گھڑی آجاتی ہے۔
ہر بار ملنے اور جدا ہونے کے بعد گزری یادوں کی قندیلیں ،ہماری اندھری راتوں کو اجالوں سے بھر دیتی ہیں۔ جب ہم بھیگ جاتے ہیں تو موسم بدلنے سے پہلے رات کی پیاس کو اپنے اندر دور تک جذب کر لیتے ہیں، تاکہ ادھورے پن کی ہر خواہش بے نام ہو جائے۔
لوگوں کے درمیان، تمہارا چہرہ کبھی گم نہیں ہوتا۔
اجنبی آوازوں کے درمیان تمہاری آواز ایک گیت کی طرح سنائی دیتی ہے،
ہم اپنی ادھوری خواہشوں کو دعا کی صورت ساحل پر لکھ دیتے ہیں
میں نے اپنی ایک نظم میں لکھا تھا
“ہم ایک ایسی کہانی میں موجود ہیں جو لکھی نہیں جا سکتی”