اجنبی بننےسے پہلے

ہماری روحیں دو مختلف جسموں میں ہیں
اور ہم بارش کی دیوار کے نیچے
پیاسےہیں
تم افق کی طرح رنگ دار ہو
اور میں ایک تیز خواب آور
زہر میں ڈوبا ہوں
اور یوں تمہاری طرف بڑھ رہا ہوں
جیسے کوئی آگ میر اپیچھا کررہی ہو
ہوا کے تیز طوفان میں
ہم زیادہ دیر یکجا نہیں رہ سکتے
مگر اجنبی بننے سے پہلے
اپنے ہاتھ
خوابوں سے رنگ دینا چاہتے ہیں

شام کے کنارے پر

ایک جنگل پرندوں کی آواز سے محروم ہے
ایک آواز ہاتھوں سے بار بار گرتی ہے
ایک لڑکی جو شام کے کنارے اکیلی ہے
ان سب سے اوپر
جلتا سورج ہے
مسافر اپنا سامان درست کر رہا ہے
بہت سی چیزیں اور خواب
جو کسی نے اس کے اسباب میں
چپکے سے رکھ دئے تھے
مگر جب وہ جنگل سے گزرا
تو خاموشی کے ڈر سے اس کی آواز
ہاتھوں سے بار بار گرتی جاتی تھی
ایک لڑکی جو اپنا خواب
اس کے ساماان میں چھپا چکی تھی
شام کے کنارے
اتتظار اوڑھے بیٹھی تھی
اور کھلے آسمان پر جلتا سورح
چوری ہو چکا تھا

زندہ لمس کی خواہش

شاید وہ کئی ٹکڑوں میں بانٹ دی گئی ہے
اندھیرے میں چمکتے سفید دانت او رسرخ زبان
جب اس کے وجود کے سونے میں اترتے ہیں
تو وہ ناپاک ہو جاتی ہے
دل سے دماغ تک
کئی جزیرے بپھری لہروں میں ڈوب جاتے ہیں
اور اسے ڈر لگتا ہے
وہ ہاتھ اونچے کرتی ہے
مگر ویرانے گھونگھٹ کاڑھے کھڑے ہیں
وہ اسے بھی
بنچر زمین میں بو دینا چاہتے ہیں
تاکہ اس کی ہڈیوں سے زرد موسم پھوٹ پڑیں
لہو کی سرخ گرمیاں جب ہونٹوں سے ٹپکتی ہیں
تو کوئی پرچھائیں اسے اندھیرے میں سمیٹ لیتی ہے
وہ اجلے آسمانوں کو چھونا چاہتی ہے
لیکن اس کے ہاتھ اس زندہ لمس کو بھی کھو دیتے ہیں
جہنوں نے اس کے ہمراہ خوابوں کی ویرانی سے
جلتی زمین تک سفر کیا ہے
شاید ہو کئی ٹکڑوں میں بانٹ دی گئی ہے

امکانات سے باہر

امکانات سے باہر
سورج کی روشنی کے ساتھ سفر کرتے ہوئے
تم سے ہم آغوش ہونے کے خیال کو
میں نے کبھی بوسیدہ ہونے نہیں دیا
خواب و خیال>
خواب گاہ سے کبھی باہر نہیں نکلے
سور ج کی روشنی
جب بھی ستاروں سےبھرے آنچل میں پناہ لیتی
تو میں اس یقین کو کبھی نہیں جھٹلا سکا
کہ تم نے مجھے چھو کر گہری نیند سے جگا دیا ہے
اس یقین کو اپنے اندر
انگاروں کی طرح دہکتا ہوا محسوس کیا ہے
امکانات سے باہر
محسوس کیا جانے والا
ہم آغوشی کا لمحہ
آج تیز ہوا میں
میرے ساتھ اڑ رہا ہے۔