موت کتنی ارزان ہے !

عید کے دن، میں اس مختصر سے خاندان کو یاد کررہا ہوں
جسے بڑی بے رحمی سے زندگی کی کتاب سے نوچ کر پھنک دیا گیا
اس شہر میں یوں تو روز ہی کوئی مرتا ہے
کوئی اپنی موت اور کوئی ایسی موت بھی مرجاتا ہے
کہ اس کا اپنے قاتلوں سے کوئی بھی
لینا دینا نہیں ہوتا
مگر یہ بدقسمت خاندان کس کھاتے
میں مارا گیا
کوئی نہیں جانتا
اپنی خوشیوں کے لئے
انہوں نے ایسے لباس کیوں خریدے ،
جنہیں کسی کو بھی نہیں پہننا تھا
کھلونے، اپنی اپنی آنکھیں موندے
منتظر ہیں کہ کوئی آواز انہیں
نیند سے جگا ئے
مگر پانی میں ڈوبتے ہوئے
ان کی آنکھوں کو موت نے ڈھانپ لیا
تاکہ وہ دوسرے کی موت کو نہ دیکھ سکیں
زندگی کے خوبصورت رنگوں سے بنا یہ خاندان
یوں مسمار کر دیا گیا
کہ ان کی زندگی پانی کی دیوار کے پار چلی گئی
موت کتنی ارزاں ہے !
اور اس کا نشانہ کتنا بے خطا ہے
ہم ایسی بے خطا موت کا شکار بننے والوں کے لئے دعا کے طلب گار ہیں

بوری میں بند لاش

بوری میں بند لاش
کسی سے کچھ نہیں کہتی
سارے سوالوں کے جواب
اسکی مٹھی سے گر کر کہیں کھو گئے ہیں
ادھ کھلی آنکھوں میں قید
آخری منظر
قطرہ قطرہ پگھل رہا ہے
لوگوں کے چہرے بجھے ہوئے ہیں
کچھ آوازیں بھی اس منظر میں موجود ہیں
جنہیں خاموش ہونٹوں نے جکڑ رکھا ہے
اس سڑک پرجہاں
بوری میں بند ایک لاش پھینک دی گئی ہے
نیا دن پوری آب وتاب سے طلوع ہو رہا ہے
لوگوں کا شور مچاتا ہجوم
اس راستے سے گزر رہا ہے
جہاں
بوری میں بند لاش
کسی سے کچھ نہیں کہتی