میں چلتا چلا جارہا ہوں

اپنے خیا لوں کی اڈھیرپن میں ، میں دور تک چلتا چلا جا رہا ہوں
ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ میرےاندر کی خلا وسیع تر ہوتی جارہی ہے
بہت سی چیزوں کے کھوجانے کا احساس
بےچین کر رہا ہے
بہت سی گزری باتیں یاد نہیں آرہی ہیں
وقت کی گرفت
کلائی پر سے ڈھیلی پڑتی جارہی ہے
عجیب لگ رہا ہے
کوئی میرے ساتھ نہیں
دیوار پر
چراغ کی روشنی کے سامنے آجانے پر
ایک بڑا سا سایہ نمودار ہونے لگا ہے
جس کے سامنے ، میں خود کو بونا محسوس کر رہا ہوں
عجیب لگ رہا ہے
اپنے خیا لوں کی کی اڈھیرپن میں ، میں دور تک چلتا چلا جا رہا ہوں
خود سے ہم کلامی کرتے ہوئے
تنہائی کا احساس
پتھر ہوتے جسم پر رینگتا ہوا محسوس کر رہا ہوں
اپنے خیا لوں کی کی اڈھیرپن میں ، میں دور تک چلتا چلا جا رہا ہوں
ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ میرےاندر کی خلا وسیع تر ہوتی جارہی ہے
اکمل نوید

پتنگ کے فاصلے

یوں لگتا ہے
ایک خواب تیزی سے گزرتا جا رہاہے
ہم ایک دوسرے کو کھو چکے ہیں
اور ہمارے درمیان فاصلے اتنے
گہرے ہیں
کہ کئی سورج اس میں
ڈوبتے اور ابھرتے ہیں
تم اپنا چہرہ کھو چکی ہو
میں کس طرح تم تک پہونچوں
کہ کٹی پتنگ کی طرح
میں اپنی سمت کھو چکا ہوں
یوں لگتا ہے
ایک خواب تیزی سے گزرتا جا رہا ہے

اس کے باوجود

اس کے باوجود ۔۔۔
کہ میں اس دنیا میں تمہارے لئے کوئی گھر نہیں بنا سکا
تم نے فقط میرے دل میں رہنا گوارا کیا
خواہشوں کو چھوڑنے میں پہل کی
تم مسکرا سکتی تھیں
مگر تم نے تنہائی میں رھنا ،
مجھے یا د کرنا اور آنسو بہنا پسند کیا
اپنے ہاتھوں پر مہندی لگانے کے بجائے
تمہیں میرے ہاتھوں کی ان دیکھی گرفت
اچھی لگنے لگی
صرف یہی نہیں
رات جب بھی چاند تمہارے آنگن میں طلوع ہوا
تم نے اپنی روشنی سے بھی زیادہ منور ہو کر
میری زندگی کے اندھیروں کو اجالوں سے بھر دیا
یہ جانتے ہوئے بھی
کہ میں سراپا خواب ہوں
جو دن کے طلوع ہونے پر
اپنی جگہ خالی کردے گا

غنیم کا لشکر

مفلسی کی دیمک پوشاک کو چاٹ رہی ہے
دکھوں کی برہنگی کو چھپانا مشکل ہوگیا ہے
گھر کی دیواریں چھوٹی ہوتی جارہی ہیں
پرچھائیوں کے عقب میں غنیم کا لشکر ہے
جو روٹی چھیننے اور غزتوں پر وار کرنے آگے پڑھتا چلا آرہا ہے
بولتی زبانوں کا شور ساکت سمندر بن گیا ہے
کون ہے
جو اس سیاہ رات میں گرتی ہوئی دیواروں کی حفاظت کرے
کون ہے  ۔۔۔۔ جو  ہماری برہنگی کو ڈھانپنے کے لئے
اپنی پوشاک ہمیں دے دے
لیکن  یہاں تو کوئی زندہ نہیں ہے
سارے چہرے پتھر کے ہوچکے ہیں

آج تھرکی صحرائی زندگی کے لئے ہمیں جاگنا ہو گا

aaaabbbbccc

صدیو ں سے تھر کی تپتی ریت پر
مور اپنےرقص کرتے رنگوں کو
قوس و قزح کی صورت زمین پر بکھر رہے ہیں
آج حد نظر تک
کوئی بھی پرندہ آسمان کی وسعتوں کو چھوتا نظر نہیں آ رہا ہے
زیست کی نمی
پاتال کی گہرائیوں میں کہیں چھپ گئی ہے
جہاں تک پہنچتے پہنچتے
درختوں کی صدیوں تک پھیلی جڑیں
اپنا وجود کھو تی جارہی ہیں
تپتے صحرا میں نمو پاتی زندگی
گہرے رنگوں کے آنچلوں کے پیچھے خاموش ہے
گہری کالی آنکھیں آج خود سے بہت ناراض ہیں
ان کے لب سلے ہوئے ہیں
کوئی بھی چیخ شکوہ بن کر ان کے ہونٹوں سےنہیں گرتی
ماؤں کی بھوکی کوکھ سے
ان کی اجڑی گود تک
درختوں سے ٹوٹے ہوئے پھولوں کی لاشیں پڑی ہوئی ہیں
وہ چیخ جو گھٹن بن کر
ان کے زندہ وجود کو نگلتی جار رہی ہے
کانٹوں کی فصل بن کر
ان چھوئے احساس کو لہولہاں کر رہی ہے
جن پھولو ں کو ماؤں کی گود سے اتر کر
بھوک اور غربت کے سیاہ زندانوں سے ٹکرانا تھا
انہو ں نے اپنی پیاس کو ہمیشہ ریت کی صراحی میں قید پایا
آج وہ اپنی ہی سانسوں کی ڈور سے الجھ کر دم توڑ رہے ہیں
آج تھر کا صحرا
بارشوں کے جل تھل کے انتظار میں تھک کر
ہمارے خوابوں کی دہلیز تک پہچ گیا ہے
اس کے پہلے کہ
خواب اور نیند
مو ت کی خاموشی کو چھو لیں
ہمیں جاگنا ہو گا

اکمل نوید (anwer7star)