یہ جنگل ہے

یہ جنگل ہے
اور ڈور تے ہوئے
میرے پاؤں زخمی ہوچکے ہیں
میں سمتوں کا گمان کھو چکا ہوں
اور کسی آہٹ کی طرف ڈورتا ہوں
میں لہولہان ہوں
اور کسی بھی لمحے آزادی کی خواہش سے ٹوٹ سکتاہوں
یہ جنگل جو پہلے پرندوں کی آوازوں سے بھرا تھا
اب خاموشی کی سزا کاٹ رہا ہے
کوئی سرسراتی ہوا نہیں گزر رہی ہے
جو کسی احساس کو جنم دے
میری آنکھیں پتھرا گئی ہیں

چوڑیاں گم ہوگئیں

جب ہمارے رخ بدل دئے گئے
تو شہر ویران ہو گئے
تمام منظروں سے آوازیں اتار دی گئیں
اور ہجرت ممنوع قرار پائی
لوگوں سے پھری اجلی بستیوں میں
ویرانے اترنے لگے
جنگل رقص کرتا ہماری دیواروں تک اتر آیا
بد ہیبت مکڑیاں اپنے جالوں میں
اندھیرا ٹانکنے لگیں
کوئی دوسرا
اپنی تنہائی میں کسی کو پکار نہیں سکتا
ہمارے چیختے چہرے خاموش تصویروں کی صورت
خالی فریموں کے بھوکے جسموں میں اتار دیئے گئے
آنگنوں میں چوڑیاں کھنکنی بند ہو گئیں
اور جب ہم نے تھکے ہوئے جزبوں سے مغلوب
کسی کے جسم پر اپنی آنکھوں کے لمس کو اتارنا چاہا
تو ہماری انگلیاں
اور آنچلوں کے پیچھے
چہرے غائب ہو گئے

عمر کی بوڑھی لکیریں

ہم گرنے سے تو بچ گئے ہیں
مگر ساحل کا کنارہ سمندر میں ڈوب گیا
اور چلے ہو ئے ستاروں کی راکھ
مٹی کا ڈھیر بن چکی ہے
بس دکھ کی ایک لہر ہے
اس پار جنگل ہے
اور اوپر سیاہ آسمان ہے
مگر ہماری دنیا تو دیوار کے اس طرف ہے
ہم جذبوں کی گرمی کھو چکے ہیں
اور لفظوں کے اشارے بنا کر خوشی کو
ڈھونڈنا بھول چکے ہیں
ساحل کے ڈوبے ہوئے کنارے پر
ہم نے کچھ وعدے لکھے تھے
جہاں اب لہروں کے تار بکھرے ہیں
ہم گرنے سے تو بچ گئے ہیں
مگر عمر کی لکیر بوڑھی ہوتی جارہی ہے

امکانات سے باہر

امکانات سے باہر
سورج کی روشنی کے ساتھ سفر کرتے ہوئے
تم سے ہم آغوش ہونے کے خیال کو
میں نے کبھی بوسیدہ ہونے نہیں دیا
خواب و خیال>
خواب گاہ سے کبھی باہر نہیں نکلے
سور ج کی روشنی
جب بھی ستاروں سےبھرے آنچل میں پناہ لیتی
تو میں اس یقین کو کبھی نہیں جھٹلا سکا
کہ تم نے مجھے چھو کر گہری نیند سے جگا دیا ہے
اس یقین کو اپنے اندر
انگاروں کی طرح دہکتا ہوا محسوس کیا ہے
امکانات سے باہر
محسوس کیا جانے والا
ہم آغوشی کا لمحہ
آج تیز ہوا میں
میرے ساتھ اڑ رہا ہے۔

پناہ درکار ہے

ایک بار پھر مجھے پناہ درکار ہے
مصنوعی موسم کی اجلی شاموں سے میں خود کو موڑ چکا ہوں
خوشیوں کے لمحےٹوٹی ہوئی گھڑی کی سوئیوں کی طرح
ایک ہی زمین پر رک گئے ہیں
میں بہت آگے نکل آیا ہوں
ایک بار پھر مجھے پناہ درکار ہے
جو تم جیسا ہو اور کوئی سوال پوچھے بنا
میرے جسم و جاں میں نشہ بن کر اتر جائے
شاید کوئی فیصلہ میرے اندر کہں ہوچکا ہے
اس لئے تو میں وقت کے ساتھ نہیں ہوں
کوئی اجنبی ہاتھ مجھے جکڑے ہوئے ہے
میرے سانسوں کی ڈوریوں کو تھامے ہوئے
مجھے کسی اور سمت گھسیٹ رہا ہے
میں وہاں جانا نہں چاھتا
جہاں تم نہیں ہو ۔۔۔۔
>ایک بار پھر مجھے پناہ درکار ہے