اب بس بہت ہو چکا ۔۔۔۔

اب بس بہت ہو چکا ۔۔۔۔
سجدہ گاہ کو لہولہاں کر دیا گیا
مسجد کی درودیوار پر
میرا جسم لہو کی صورت چسپاں ہے
فرش پر سجدہ ریز لاشیں ہی لاشیں ہیں
اور اسکولوں کی دیواروں کو پھلانگ کر آنے والے پردیسووں نے
معصوم بچوں کو قطاروں میں کھڑا کردیاہے
ان کے معصوم جسموں سے بہتا لہو
فرش پردریا کی صورت بہہ رہا ہے
اوران کےبیچ معصوم زندگیوں کی فریاد کرتی استانی کا شعلہ زدہ جسم
گیلی لکڑی کی طرح سلگ رہا ہے
خوف اور دہشت زدہ طالبعلوں کو ایک نیا سبق سیکھانے کےبعد
ان کی کتابوںسے معصوم زندگیوں کے سارے اگلےباب پھاڑ دیئے گئے
اب ہر طرف ، خون آلودہ جوتے، کتابیں اور قلم و دوات پڑی ہیں
ایک خاموش فضا دم توڑ رہی ہے
جن کی آخری سانسوںمیں خون کی بو رچی بسی ہے
ہماری فوج پربھی شب خوں مارا گیا
وہ ہمیشہ ان راستوں کےداخل ہوتے ہیں
جن پر صرف ہمارے دوست دستک دیتے ہیں
اعتماد اور اعتقاد کا خون ہو تا رہا
اب بس بہت ہو چکا ۔۔۔۔
حملہ آواروں کے باریش چہرے
کلمہ پڑتی آوازیں ۔۔۔۔۔۔۔ دھوکا ہیں
وہ ہم میں سے نہیں ہو سکتے
ٹوٹے ہوئےآئینوں پر
ان کےاصل چہرے نقش ہیں
ہم نے ان ابلیسی چہروں کو پہچان لیا ہے
جو ہمیں خاک میں ملا دینا چاہتے ہیں
اور ان کی طاقت ہیں
ہمارے جیسےبے نام اور خاموش لوگ
اوران کی آوازوں میں شامل ہیں
ہمارے جھوٹے سیاستدانوں اور نام نہاد علما کے کھوکھلے نعرے
اور ان کی آنکھوں میں چھپی ہے ، دولت کی ہوس،
ہمارے اپنے گمراہ لوگ ۔۔۔۔
بازاروں میں چلتے پھرتے خوش نما چہروں اور نغموں کو شکار کر رہے ہیں
اس قوم کے وطن فروش ، لوگوں کے ہجوم میں چھپے ہوئے ہیں
مگر ان کی ابلیسی چہرے جلد بےنقاب ہوجائیں گے
کہ اب ہمیں اپنی نہیں ۔۔۔
ان ظالموں کی سربریدہ لاشیوں کے ڈھڑہچاہیے ہیں
تاکہ ہمارا وطن ہمیشہ کے لئے آزاد ہو جائے

اکمل نوید
http://www.anwer7star.com/

ایک تصویر اور ایک سوال؟

ابھی کل ہی میں ،  اسلام آباد، ایبٹ آباد، بالا کوٹ، کاغان اور ناران کے ٹور سے لوٹا ہوں۔ یہ سفر اور مشاہدہ  ایک کہانی کی طرح ہے، جسے میں بعد میں آپ سے شیئر کروں گا، ناران کی مرکزی شاہراہ   جہاں بازار  واقع ہے، ہوٹلز    اور دکانیں  ہیں ، لوگوں کا ایک  ہجوم ہے جو سارے پاکستان سے  یہاں آیا ہوا ہے ،  ناران کی ان وادیوں  میں گھومتے ہوئے ایک   خیال بار بار   ابھرتا رہا  کہ ان  ہوٹلز    اور دکانیں  نے دونوں اطراف سے ، ناران کے قدرتی  حسن کو  لوگوں کی آنکھ سے اوجھل کردیا ہے ، کوئی آنکھ  دریار کنہار   کی روانی  اور بلند و بلا برف سے ڈھکی ہوئی پہاڑوں کی چوٹیوں کو   اسکے سارے وجود کے ہمراہ  نہیں دیکھ سکتی ہیں جوکہ ایک المیہ سے کم نہیں  !

IMG_8259

کیا یہ بد نما عمارت ، قدرتی حسن کو چھپا نے کی مجرم ہے، نہیں  بلکہ کاروباری  ذھنیت  مجرم ہے ، جس نے  اس پوری وادی کے حسن کو  انسانی آنکھ سے اوجھل کر دیا ۔۔۔  مجرم کون ہے ،

اس سوال کا جواب   آپ سب کو دینا ہو گا

ابابیلیں اڑ رہی ہیں

صرف تمہارا چہرہ ہے
جو میرے جسم سے جوڑ دیا گیا ہے
مگر میرے ہاتھ خالی ہیں
زندگی کے ویران راستوں پر
ابابیلیں اڑ رہی ہیں
ہر پتھر تمہارا چہرہ ہے
جو جلتے ہوئے سورج کی طرح
پگھل رہا ہے
آوازوں کے شور کو
خاموشی کے کوزے میں بند کر دیا گیا ہے
جہاں تم ایک چہرے سے
کئی چہروں میں بٹتی جارہی ہو

رات کے آخری پہر میں

خواب محرومیوں کو جگاتے ہیں ، میری آرزویں اب تمہارے نام سے منسوب ہیں۔ رات کے آخری پہر کسی دوسرے کے موجود نہ ہونے پر ہم کتنے ملول ہو جاتے ہیں۔ ہر صبح ، میں تمہیں رات کی کہانی سناتا ہوں، آج ہماری محبت اپنا پہلا سال مکمل کرچکی ہے۔
ہم ایک دوسرے کو جتنا جان چکے ہیں، اس کے لیے صدیوں کا جنم بھی ناکافی تھا ، رات اور دن کے درمیان گزرتا وقت ان لمحوں کو یادگار بنا رہا ہے، جب ہم شام کے کناروں پر ملتے تھے۔
جب ہم ایک دوسرے سے سامنے ہوتے ہیں، بہت سے سوالوں کے ساتھ
تو انجام سے بے خبر ہوتے ہیں ، مگر محبت انجام سے وابستہ نہیں ، اور رقص کے درمیان جب ہم گیت گاتے ہیں اور خوشیوں کو اپنے اندر اترتا ہو ا محسوس کرتے ہیں، تو جدائی کی گھڑی آجاتی ہے۔
ہر بار ملنے اور جدا ہونے کے بعد گزری یادوں کی قندیلیں ،ہماری اندھری راتوں کو اجالوں سے بھر دیتی ہیں۔ جب ہم بھیگ جاتے ہیں تو موسم بدلنے سے پہلے رات کی پیاس کو اپنے اندر دور تک جذب کر لیتے ہیں، تاکہ ادھورے پن کی ہر خواہش بے نام ہو جائے۔
لوگوں کے درمیان، تمہارا چہرہ کبھی گم نہیں ہوتا۔
اجنبی آوازوں کے درمیان تمہاری آواز ایک گیت کی طرح سنائی دیتی ہے،
ہم اپنی ادھوری خواہشوں کو دعا کی صورت ساحل پر لکھ دیتے ہیں
میں نے اپنی ایک نظم میں لکھا تھا
“ہم ایک ایسی کہانی میں موجود ہیں جو لکھی نہیں جا سکتی”