خواب ۔۔۔۔۔۔ امن کے شہر کا

کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارے چہرے اصلی نہیں
ان پر نقابیں ہیں
اور ہم نے اپنے جسموں کی دیوار کے پیچھے
تعویز چھپا رکھے ہیِں
وہ ہمارے سروں پر
بیٹھنے والے خوبصورت پرنددوں سے جلتے ہیں
وہ  ہماری کہانیوں میں رقص کرتے
کرداروں سے نفرت کرتے ہیں
وہ چاھتے ہیں کہ ہم
اپنی کہانیوں میں ان کرداروں کی
پرورش کریں
جن کی سیاہ سرخ آنکھیں ہوں
اور وہ اپنے لشکروں پر سوار
دنیا کو فتخ کرتے چلے جائیں
وہ سروں کے مینار
لہو کے دریا
اور کتابوں کے جلتے شہر
دیکھنا چاہتے ہیں
مگر ہمارے  جسموں کی دیوار کے پیچھے
ایک پر امن شہر ہے
اور ہمارا جسم
ایک فصیل کے طور پر
ان کے ہتھیاروں کے سامنے کھڑا ہے
ہمارے آگے دشمنوں کا لشکر ہے
اور پیچھے  رنگ برنگے پھول
اڑتے ہوئے پرندے
لہلہاتے باغات
خوبصورت آنکھوں والی عورتیں
اور نطروں کی شرم کو محفوظ رکھنے والے مرد ہیں

پیاس کا سفر

وقت پر کوئی زنچیر نہیں ڈالی جاسکتی اور ہمارے چہرے راکھ ہوگئے ہیں۔ شاید کسی نئے جنم میں، کسی اجنبی دنیا میں ایک بار پھر ہم ملیں، مگر اس سے پہلے ہمیں اپنے جذبوں کی راکھ کو بکھرنے سے محفوظ رکھنا ہوگا۔ اڑتے پرندوں کے رنگین پروں پر نغمے لکھنے ہوں گے۔
جب کوئی سرحد یں مٹا دی جائیں گی تو وعدے پورے کرنے کی گھڑی آجائے گی۔ جب کوئی زنجیر وقت کو ، زبان کو اور گیتوں کو قید نہیں کرسکے گی۔
ہم راکھ میں ہاتھ کالے کرتے ہیں اور پھر ایک کرن پالیتے ہیں۔ کل چاند رات تھی ، ہم نے اپنے ہونٹ ملاکر چھوڑ دئیے تھے۔
آج اندھیرے میں دھوپ کھیل رہی ہے، جسموں کے اندر آگ جل رہی ہے۔ پھر ہمارے ہاتھ بھی جل جائیں گے اور ہر طرف آگ ناچے گی۔ ایک زمانے سے دوسرے زمانے تک، ایک جنم سے ہر جنم تک، ہماری پیاس سفر کرے گی۔
جب تک دھرتی کی گود میں درخت اگتے رہیں گے، ان کی بھری ہوئی جیبوں سے پھول گرتے رہیں گے اور چہروں پر چاند نکلے گا۔ ہم ان ہی موسموں میں جنم لیں گے۔
پہاڑوں کی اونچی چوٹیوں کو ہماری گونچتی آواز چھولے گی تو پھر کوئی نہیں روک سکے گا اور ہم اس دیوار کو ضرور ڈھونڈلیں گے جس کے سائے کی نرمی آج بھی ہمارے خوابوں میں تازہ ہے
وہ دیکھو ۔۔۔۔۔۔ !
آج نیا دن ہے اور آسمان پر کوئی سورج نہیں ۔۔۔۔ مگر ہم ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں۔ تمہارے جسم کا ریشم کہکشاں پر پھیلا ہوا ہے۔
وہ دیکھو ۔۔۔۔۔۔ !
ایک پرندہ اڑتا ہے، جس کے بازووں میں اس کی پر چھائیں ہے، پچھلے جنم میں ہر بار وہ اپنی ہی پرچھائیں سے ٹکراتا تھا۔
آج آزادی کی صبح ہے ۔۔۔۔۔ !
آسمان پر ہمارے ہاتھوں کا سورج ہے اور ہمارے سائے ہر قدم ہمارے ساتھ ہیں۔
اب ہمیں کسی بھی دوسرے جنم کا انتظار نہیں کہ ہم نے خواہشوں کی جنت اپنے ارادوں سے زمین کے دل میں اتار دی ہے۔
وہ وقت جو گزر گیا ہے ۔۔۔۔۔ !
اپنے چہرے پر ٹوٹی لکیریں لئے دفن ہو چکا ہے
وہ دیکھو ۔۔۔۔۔۔ !
قبر سے ایک پودا نکل رہا ہے۔/p>

رات کا آخری پہر

ایک ساز ہے
مگر آواز نہیں
ایک چہرہ ہے
مگر عبارت نہیں
ایک اترتی ہوئی رات ہے
مگر کوئی دیا نہیں
صرف آنکھیں ہیں
جو ایک بے وفا کے پاس
گروی ہیں
اور دو دلوں کے بیچ
ایک بند دروازہ ہے
جسے کوئی روز
رات کے آخری پہر کھولتا ہے
اور سناٹوں کو آواز سے
جوڑ دیتا ہے

تھر باسی

تھر باسی لوگ

زندگی ایک حادثے سے دوچار ہے
اور موت کو تقسیم کر دیا گیا ہے
ماؤں کی کوکھ سے
جنم لینے والے بچوں میں
جہنوں نے زندگی کے ذائقہ کی جگہ
بحوک کی اذیت کو اپنے ہونٹوں پر رینگتا ہو ا محسوس کیا
اس سے پہلے کہ مائیں ان بچوں کو اپنی گود میں چھپا لیتیں
اور دودح کی نہر سے بہتا امرت انہیں زندگی کے رمز سے آشنا کردے
موت کو ان بچوں میں تقسیم کر دیا گیا
جہنیں گلی میں اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنا تھا
شور مچانا تھا ، شرارتیں کرنی تھیں
اب گلی میں اداسی کوڑے کی طرح پھیلی ہوئی ہے
گھٹی ہوئی چیخییں
گھروں کے دورازوں سے لپٹی سسک رہی ہیں
اب موت خالی ہا تھ ہے
لوگوں نے اپنے ہاتھوں میں
گلشن سے توڑے گئے پھولوں کی لاشیں اٹھا رکھی ہیں
مگر ایک امید زندگی کے ساتھ باندھی ہے
کہ کوئی بچہ آگے بڑھ کر ان کا دامن تھام کر کہے
کہ اہھی ہم زندہ ہیں
اور موت کو شکست ہو چکی ہے