ہم نے سوچا

جب زندگی کے درمیان راستے ختم ہوگئے تو ہم نے سوچا، ایک ایسی رات آراستہ کی جائے، جسکی مشرقی دیوار پر سورج کبھی طلوع نہ ہو۔ خوشبو کی بہتی جھیل میں جب ہم نے اپنے پاؤں رکھے تو چاند اور سورج ہمارے ساتھ تھے۔ پرندوں کی اجلی آوازیں تنہائی کی چادر پر لکھے گم شدہ خوابوں کو زندہ کررہی تھیں اور خوشبو کی جھیل کے کنارے ہماری تنہائی کے زخم سیئے جارہے تھے۔
اس جھیل میں تیرتے ہوئے ہم نے اپنے وجود کو ایک خوبصورت تصویر کے روبرو پایا ، رنگ ہر طرف اڑ رہے تھے ۔ خوشبو کے ساتھ رقص کرتے ہوئے ہم نے اپنے پیاسے جسموں پر نقش رنگوں کی لکیروں کو لباس کی قید سے آزاد کردیا

ابابیلیں اڑ رہی ہیں

صرف تمہارا چہرہ ہے
جو میرے جسم سے جوڑ دیا گیا ہے
مگر میرے ہاتھ خالی ہیں
زندگی کے ویران راستوں پر
ابابیلیں اڑ رہی ہیں
ہر پتھر تمہارا چہرہ ہے
جو جلتے ہوئے سورج کی طرح
پگھل رہا ہے
آوازوں کے شور کو
خاموشی کے کوزے میں بند کر دیا گیا ہے
جہاں تم ایک چہرے سے
کئی چہروں میں بٹتی جارہی ہو

کوئی تو قدم آگے بڑھائے!

قوم ہر طرح کی قربانی دینے کے لئے تیار ہے، مگر کوئی تو قدم آگے  بڑھائے!

حکیم الامت ڈاکڑ محمد اقبال  کے 136 ویں  سالگرہ کے مواقع پر  مجھے  ان کا، پاکستان کی تخلیق سے تعبر کیا  گیا   خواب یاد آرہاہے  ۔

فکر و فلسفہ کے نمائیدہ  اس عظیم شاعر مشرق نے   اپنےواجدان سے ایک ایسی اسلامی تشخص  پر مبنی  ریاست کا تصور پیش کیا ، جیسے لاکھوں جانوں کی قربانی دے کر حاصل کیا گیا ، آگ و خون کے راستے گزرتے ہوئے  انسانوں کی سب سے بڑی ھجرت    ، وطن  پاک پہنچی۔ مہاجرین اور انصار کے درمیان قیام ہونے والے رشتے نے ،  چودہ سو سال پہلے  ہونی والی ہجرت مدینہ کی یاد تازہ کردی۔

لوگوں  نے، عزم و ہمت کے وہ جوہر دیکھائے کہ قوم جلد ہی  ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوگئی۔

وقت سفر کرتا رہا ۔۔۔۔ پاکستان کے ساتھ آزاد ہونے والی حکومیتں  ترقی کا سفر کرتی رہیں ، مگر   ہم اپنے اثاثے کھوتے چلے گئے ، عظیم قومی رہنماؤں  ڈاکڑ محمد اقبال ، بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی رحلت  اور لیاقت علی خان کی  شہادت کے بعد ، ایسا لگتا تھ ا کہ  قوم بے سمتی کا شکار ہوگئی ہے،

اب انہیں خواب غلفت سے جگانے والا کوئی نہیں !

پھر   ملک کے جمہوری نظام کی بساط کو لپیٹ دیا گیا،  ایک ایسی حکمرانی  کا دور آیا ، جب  ہونٹوں کو خاموش رہنے کا حکم دے دیا گیا،  ایسی سنگلاخ دیواریں تعمیر کردی گئی کہ لوگوں کے کانوں تک کوئی چیخ نہیں  پہنچ سکے ، وقت چلتا رہا ، مگر آسمانوں پر سے  چمکنے والے تاروں کو  اتار لیا گیا، فضا میں تیرتے پرندوں کے  گیتوں کو پیروں تلے روندا گیا۔انسانیت کو بے آبرو کر کے، اس کے روشن چہرے پر کالک  مل دی گئی،   وقت چلتا رہا ،اس دوران  ملک کا ایک بازو ہم سے الگ ہو گیا ، وقت چلتا رہا  ،  اس اندھیرے میں  ایک بار پھر  سیاست کا  دروازہ کھلا ، مگر روشنی  اندر داخل نہیں ہوئی،  انکھوں  میں اندھیرے تیر تے رہے،  اور  سیاست ، ملکی سے زیادہ ، ذاتی مفادات سے وابستہ رہی،  ملکی مفادات کو  بیرونی قرضوں کے عوض  گروی رکھ دیا گیا۔   وزارتوں کے زیر نگرانی چلنے وال ادارے اور اثاثے   تباہ و برباد ہوتے چلے گئے ، مگر کوئی بھی اس کی  ذمہ داری قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔

آج وقت ایک بار پھر رک سا گیا ہے ،  قوم ایک بار پھر ، اس بات کی منتظر ہے کہ   حکیم الامت ڈاکڑ محمد اقبال    کے فکر و فلسفہ  کا احیا ء کیا جائے ، ان کی شاعری میں بیان کردہ  پیغام کی اصل روح تک پہنچا جائے ،قوم کی ترقی کی راہ میں حائل تما م رکاوٹوں  کو دور کیا جائے ، چاہے  ہمیں کتنی ہی بڑی قربابی کیوں نہ دینی پڑے،

 قوم ہر طرح کی قربانی دینے کے لئے تیار ہے، مگر کوئی تو قدم آگے  بڑھائے!

ایک ملاقات

2 اپریل 2013، گلشنِ اقبال ٹاؤن، کراچی یونیورسٹی کے گیٹ نمبر 3 (مسکن) کے باہر جناب جاذب قریشی سے ہونے والی ملاقات میرے لئے ایک اہم درجہ رکھتی ہے۔

کافی عرصہ گزر گیا کہ میں جناب جاذب قریشی سے نہیں مل پایا، تب ایک روز ،یکم اپریل 2013 کو ان کا فون آیا، ان کے لہجے پر تھکن غالب تھی، مگر اس کے باوجود گفتگو کے دوران، مجھے تازیگی کا احساس بار بار چھوتا رہا ، ایسا لگا کہ وہ اپنی حیران کردینے والی طلسمی آنکھوں سے مجھے دیکھ رہے ہیں اوران کا لگایا ہوا “شیشے کا درخت” مجھ پر سایہ فگن ہے۔

یہاں میں اس بات کی وضاحت کرنا چاہوں گا کہ میری جاذب قریشی صاحب سے کوئی ذاتی واقفیت نہیں تھی، مگر ایک اتفاقی ملاقات میں، اپنی کچھ نثری نظمیوں پر ان سےتبادلہ خیال ہوا، ان نظموں کو سننے کے بعد انہوں نے کہا کہ تم میں شاعری کے روشن امکانات پوشیدہ ہیں ، تم انہیں ضرور تلاش کرو ۔۔۔ اس پہلی ملاقات کے بعد ۔۔۔ ہمارے درمیان ایک رشتہ استوار ہو تا چلا گیا۔ ان کی پہلی کتاب “پہچان” اور دوسرا شعری مجموعہ ” شناسائی” آج میرے لئے ان سے تعلق کا گہرا استعارہ بن چکے ہیں۔ایک استاد کی صورت وہ میرے لئے شاعری کا دبستان ہیں۔

میرا شخصی نام محمد انور ہے ، مگر انہوں نے میری شاعری اور اظہار کی مختلف جہتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے، مجھے میرا شعری نام “اکمل نوید” عطا کیا۔ آج یہ نام میری منفرد پہچان بن چکا ہے، شاعری ، دو دنیاؤں کے درمیا ن ایک طویل سفر ہے، اس سارے سفر میں جناب جاذب قریشی کی رفاقت ایسی کلید کی طرح ہے، جس نے میرے لئے دریافت کے تمام دروازے کھول دئیے ہیں۔ میرے پہلے شعری مجموعہ کا نام انہوں نے” دوسرے کنارے پر “ رکھا ، وہ مجھ سےزیادہ میری ذات کا ادراک رکھتے ہیں۔

اس ملاقات کو جسے میں اپنی زندہ یادوں کا اہم حصہ قرار دے رہاہوں، اپنی طبعت کی شدید ناسازی کے باوجود، جاذب صاحب نے ایک بار پھر ، اپنی اس بات کا اعادہ کیا کہ میں اپنے شعری امکانات کودریافت کروں، اپنی کچھ نئی تخلیقی کتابیں انہوں نے ، مجھے بڑی محبت کے ساتھ عنایت کیں ، کچھ دیر کے سکوت کے بعد ، انہوں نے کہا کہ وہ کل کڈنی سنٹر میں علاج کے لئے داخل ہورہے ہیں، انہوں نے بڑے یقین کے ساتھ کہا کہ جلد صحتیابی کے بعد ، وہ میری نثری نظموں کتاب “دوسرے کنارے پر” کی تقریب رونمائی کریں گے۔

میں حیرت زدہ ہوں ۔۔۔ آج کے بے رحم معاشرے کا ہرفرد ، صرف اپنی ذات کی آبیاری کو مقدم رکھتا ہے، یہ کونسا رشتہ ہے، اور کس پل سے جڑا ہے کہ گزرنے والا ہر وقت” نیند کا ریشم”بن کر، اسے برباد کرنے کے بجائے آباد کررہا ہے، اندھرے کے سینے میں روشنی کی صلیب اتارنے والےجاذب قریشی، کل کےروشن دن کی خواہش میں ، سورج کو زمین میں بو رہے ہیں- وہ اپنے ہمراہ پرندوں کی “اجلی آوازیں” اور نئے استعاروںکا چہرہ لئے ، ایک نئی زمین کا خواب ،آسمان سے زمین پر اتارے کے لئے، سیاہ آندھیوں اور بگولوں میں سے گزر رہے ہیں۔

میری ان سے محبت ، اتنی زیادہ اہم نہیں ، بلکہ بہت ہی کمتر ہے، مگر ان کا چہرہ اور بولتی آنکھیں آج میری “پہچان” بن چکی ہیں، وہ مجھے “شناسائی” کی پرکھ عطا کررہی ہیں، ان کا یہ ہنر بہت ہی اہم اور معتبر ہے جو میرے “شکستہ عکس“ کو اپنی “تخلیقی آواز” سے ہم آھنگ کر رہے ہیں

میرے ہونٹ اور دل کی ہر ڈھرکن، ایک دعا کی صورت ،خدا کی طرف محو سفر ہیں،

اے میرے اللہ ، ان معتبر اور سچے لوگوں کا اعتبار ہمارے درمیا ن سدا قائم رکھ

(امید ہے کہ میری اس دعا میں ، آپ بھی میرے ساتھ ہی