ایک تنہا نغمہ رقص میں بے حال ہے

یہ ایک ایسا احساس ہے
جو چھونے سے بھی زیادہ لطیف ہے
جسم کے پر لطف زاویوں سے ماوارا
روح کی گہرائیوں سے
ایک چشمہ پھوٹ رہا ہے
جسکے رنگ خواب کی نیم آغوش بانہوں میں
گم ہورہے ہیں
اور آنکھوں کے راستے
تمہارے جسم کے تالاب سے میں
پانی پی رہا ہوں
پیاس بلوریں گلاسوں میں گھلتی جارہی ہے
میری بے قرار روح
مدہوش سانسوں کی تال پر ناچ رہی ہے
ایک تنہا نغمہ رقص میں بے حال ہے
جلتی ہوئی آگ ہے
جو خاموش لہجے میں مسکرا رہی ہے
بکھرے ہوئی رات جیسی سیاہ گیسوؤں کے درمیان
۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے نیند آ رہی ہے

ایک اور المناک حادثہ

ہماری روزمرہ زندگی چاہئے وہ ملکی معاملات ہوں یا بھر سیاسی شعبدہ بازی، حادثات ہمارا تعاقب کررہے ہوتے ہیں۔ ایک عام زندگی سے ملکی روزنامے تک سفر جاری ہے ۔ حادثات سیاچن جسے بلند وبالا سرحدی محاذ پر بھی ہمارے منتظر ہیں ، جہاں برفانی تودے تلے دبے ہمارے سپاہی زندگی کی دستک کے منتظر ہیں، تو کراچی جیسے بڑے شہر میں گلیوں اور کوچوں میں لڑی جانے والی جنگ جاری ہے ،مگر کوئی نہیں جا نتا کہ گھر گھر موت کو تقیسم کرنے والے یہ لوگ کون ہیں، ملکی تاریخ سے سبق نہ سیکھنے والوں کے لئے ایک اور بنگلہ دیش کی کہانی بلوچستان کے پہاڑوں پر لکھی جارہی ہے۔ لگتا ہے کہ کھیل ختم ھونے کو ہے ۔

اسلام آباد کے ہوائی اڈے کے قریب جمعہ 20 اپریل 2012 کی شام بھوجا ایئرلائن کا مسافر طیارہ گر کر تباہ ہونے سے تمام 127 افراد ہلاک ہو گئے۔

اسلام آباد کے حسین افق پر ایک ہی جیسا یہ دوسرا حادثہ ہے۔ جس وقت یہ حادثہ پیش آیا ۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں طوفانی بارش کے ساتھ تیز ہوائیں بھی چل رہی تھیں۔ طیارے کا ملبہ اسلام آباد ہائی وے سے چند کلومیٹر دور حسین آباد نامی گاؤں میں گھروں اور ان کے ارد گرد وسیع علاقے میں گرا۔

ہمیشہ کی طرح یہ حادثہ بھی بہت سے سوالات کے جواب چاھتا ہے ، مگر ہمیشہ کی طرح بولنے والے ھونٹوں پر تالے ہیں۔

مگریہ تصویرں کہہ رہی ہیں ، سچ کو تلاش کیا جائے

آج کا دن

آج کا دن غیر معمولی طور پر روشن ہے
لوگوں کے ہجوم کے درمیان
بے نام چہروں
بے ہنگم آوازوں کا شور
اور روشنی کے بے سمت بکھرتے زاویوں کو توڑ کر
مجھے اس تک پیچنا ہے
جس  کے لئے
میرے دل کے مندر میں گنٹھیاں بجائی جارہی ہیں
وہ چہرہ اجنبی ہے
مگر زندگی کے اندھرے ہیں
جب دوستی کا دیا جلے گا
تو آنکھوں سے روشنی بہنے لگے گی
اور پتھرائے  ہوئے ہونٹوں پر
مسکراہٹ اپنے لمس سے ہنسی سجا دے گی
آج کا دن غیر معمولی طور پر روشن ہے
لوگوں کا ہجوم-
ایک دیوار کی طرح راستے بند کر رہاے
مجھے ایک بلند پرواز کر کے
اس آشیانے تک پہنچنا ہے
جہاں زندگی ہے
جہان سرگوشی بھی معنی رکھتی ہے