اے محرم تو سرخرور ہے سدا

سیاہ آسماں پر پھیلے  لہو رنگ پرچم تلے
قافلے صدیوں سے ہیں سچ کے سفر پر رواں
سر ان کے پڑے ہیں سجدوں میں کٹے ہوئے
بریدہ جسم ہیں ان کے خوشبو سے مہکے ہوئے
برف جیسے شعلے جلے ہوئے خیمو ں سے ہیں  لپٹے ہوئے
آسمانوں سے لگی پر نم چشم کے سامنے
ڈوب چکی ہے دریاؤں کی روانی بھی پیاس میں
پاتال سے باندھ کر وقت کی رفتار کو
رقص بسمل ہوا ہے ہر طرف بپا
ظلم کو ہمیشہ کے لئے
دفنا دیا ہے گمنامی کی قبروں میں
اے محرم تو سرخرو ر ہے سدا
کہ تری ہر شہادت
موسم گل کا پیرھن دے گئی
بے گناہ کی موت کو

آج کا روشن دن

آج کا دن غیر معولی طور پر روشن ہے
لوگوں کے ہجوم کے درمیان
بے نام چہروں ،
بے ہنگم آوازوں کے شور
اور روشنی کے بے سمت بکھرتے زاؤیوں کو توڑ کر
مجھے اس تک پہچنا ہے
جس کے لئے
میرے دل کے مندر میں گھنٹیاں بجائی جارہی ہیں
وہ چہرہ اجبنی ہے
مگر زندگی کے اندھرے میں
جب روشنی کا دیا جلے گا
اور پتھرائے ہوئے ہونٹوں پر
مسکراہٹ اپنے لمس سے ہنسی سجادے گی
آج کا دن غیر معولی طور پر روشن ہے
لوگوں کا ہجوم
ایک دیوار کی طرح راستے بند کر رہا ہے
مجھے ایک بلند پرواز کرکے
اس آشیانے تک پہچنا ہے
جہاں زندگی ہے
جہاں سرگوشی بھی معنی رکھتی ہے

عمر کی بوڑھی لکیریں

ہم گرنے سے تو بچ گئے ہیں
مگر ساحل کا کنارہ سمندر میں ڈوب گیا
اور چلے ہو ئے ستاروں کی راکھ
مٹی کا ڈھیر بن چکی ہے
بس دکھ کی ایک لہر ہے
اس پار جنگل ہے
اور اوپر سیاہ آسمان ہے
مگر ہماری دنیا تو دیوار کے اس طرف ہے
ہم جذبوں کی گرمی کھو چکے ہیں
اور لفظوں کے اشارے بنا کر خوشی کو
ڈھونڈنا بھول چکے ہیں
ساحل کے ڈوبے ہوئے کنارے پر
ہم نے کچھ وعدے لکھے تھے
جہاں اب لہروں کے تار بکھرے ہیں
ہم گرنے سے تو بچ گئے ہیں
مگر عمر کی لکیر بوڑھی ہوتی جارہی ہے

رات کا آخری پہر

ایک ساز ہے
مگر آواز نہیں
ایک چہرہ ہے
مگر عبارت نہیں
ایک اترتی ہوئی رات ہے
مگر کوئی دیا نہیں
صرف آنکھیں ہیں
جو ایک بے وفا کے پاس
گروی ہیں
اور دو دلوں کے بیچ
ایک بند دروازہ ہے
جسے کوئی روز
رات کے آخری پہر کھولتا ہے
اور سناٹوں کو آواز سے
جوڑ دیتا ہے