ایک تصویر اور ایک سوال؟

ابھی کل ہی میں ،  اسلام آباد، ایبٹ آباد، بالا کوٹ، کاغان اور ناران کے ٹور سے لوٹا ہوں۔ یہ سفر اور مشاہدہ  ایک کہانی کی طرح ہے، جسے میں بعد میں آپ سے شیئر کروں گا، ناران کی مرکزی شاہراہ   جہاں بازار  واقع ہے، ہوٹلز    اور دکانیں  ہیں ، لوگوں کا ایک  ہجوم ہے جو سارے پاکستان سے  یہاں آیا ہوا ہے ،  ناران کی ان وادیوں  میں گھومتے ہوئے ایک   خیال بار بار   ابھرتا رہا  کہ ان  ہوٹلز    اور دکانیں  نے دونوں اطراف سے ، ناران کے قدرتی  حسن کو  لوگوں کی آنکھ سے اوجھل کردیا ہے ، کوئی آنکھ  دریار کنہار   کی روانی  اور بلند و بلا برف سے ڈھکی ہوئی پہاڑوں کی چوٹیوں کو   اسکے سارے وجود کے ہمراہ  نہیں دیکھ سکتی ہیں جوکہ ایک المیہ سے کم نہیں  !

IMG_8259

کیا یہ بد نما عمارت ، قدرتی حسن کو چھپا نے کی مجرم ہے، نہیں  بلکہ کاروباری  ذھنیت  مجرم ہے ، جس نے  اس پوری وادی کے حسن کو  انسانی آنکھ سے اوجھل کر دیا ۔۔۔  مجرم کون ہے ،

اس سوال کا جواب   آپ سب کو دینا ہو گا

بارش ہورہی ہے

یہ ایک سنسنی خیز لمحہ ہے
ہم میں سے کوئی بھی ہاتھ چھڑا نہیں سکتا
تمہاری بدن کی طرف
میرے ہاتھ بہتے پانیوں کی طرح اترتے ہیں
اور ایک لمحے کی دیر نہیں ہوتی
کہ تیز روشنی ہمیں پکڑ لیتی ہے
اب ہم چیختی آوازوں کے درمیاں ہیں
کالی راتوں میں تیز ہواوں کا شور
ہمیں ڈرانے لگتا ہے
مگر سب سے اچھا خواب
تمہاری یادوں کے پھیلے ہوئے طلسم کا ہے
بارش ہورہی ہے
ہوا کا چہرہ صاف ہے
اور تم صبح کی طرح طلوع ہو رہی ہو

نیا پاکستان ہمارے لئے نا گزیر کیوں ہے ؟

waic_2_01_1947

اس تصویر میں کوئی رنگ نہیں، اس میں ہم کوئی رنگ بھر بھی نہیں سکتے، کیا دیواروں سے لپٹی چیخوں کا بھی کوئی رنگ ہوتا ہے ، سنگلاخ زمین پر بہنے والا لہو، کب کا سیاہی میں تبدیل ہو چکا ہے، بھلا خون رائیگاں کا بھی کوئی اپنا رنگ ہوتا ہے۔ عورتوں کی اجتماعی عصمت دری ،ان کی کوکھ سے زندہ بچوں کو نکال کر سنگینوں میں پرو دینے کے منظروں میں موجود رنگ ، شرم اور انسانی بے حرمتی کے باعث اپنی شناخت کھو دیتے ہیں۔
ہمارے ملک کی چھیاسٹھ سالہ تاریخ شاہد ہے کہ ہم نے اس نسل کے نطفے سے جنم لیا،جس نے اس ملک کے قیام کے لئے لازاوال قربانیں دیں، عصمتوں کی پامالی،خون کےرشتوں کی تقسیم، جائیدادوں کی بربادی اور خون کے پیاسے دریا سے گزر کر انہوں نے اس وطن عزیر کے قیام کے خواب کو پورا کیا
دنیا کی عظیم ہجرت سے گزرنے والی اس نسل سے جنم لینے والی ہماری یہ دوسری نسل، آج اپنے ہی ہاتھوں سے اس ملک کی بربادی کے سامان کررہی ہے، ملک دولخت ہو چکا ہے، ہم یہاں عصبی و لسانی نفرتوں کےبیج بو رہے ہیں، حادثے ہمارے روشن دنوں کے چہروں کو داغ دار کررہےہیں۔ آسمان لہو کی سرخی لئے ، اندھیروں میں ڈوب رہا ہے، سڑکیں، جہاں بوری بند لاشیں پھنکی جاتی ہیں، لوگوں کی بھٹکتی چیخوں سے بھرا ہوا ہے، ہر طرف بے نام لوگ ، اجنبی چہروں کے ساتھ ہمارے ہی درمیاں آباد ہیں، ہماری جڑوں کو کاٹ رہے ہیں ،ہماری رگوں میں اترتا زہر ، ہماری آنکھوں میں قید بے رنگ منظروں کو اوجھل کر رہا ہے۔

pakistani-flag

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سر سبز پرچم اور جذبہ حب الوطنی کو گواہ بنا کر، ہم اپنے پروردگار کے حضور عہد کریں کہ آج کے بعد ہمارا ہر عمل ، عزم و ہمت کی مثال ہو گا، ہمارا یہ ملک ہماری آنے والی نئی نسل کے لئے ناگزیر ہے ، کیوں کہ اس ملک کی آزاد فضا میں اذان مقدس کی آواز ہر سو پھیلی ہے، ہمارے نغمے،بہتے دریا، اونچے اونچے پہاڑ، فضا میں بلند پرواز کرتے پرندے، ہمارے، چمکتے دمکتے چہروں کا تاج ہیں، ہمارا ملک کی آزادی، غلامی کے ایک بھیانک اختتام کی کہانی ہے، اور ہم نے اپنی تمام آنے والی نسلوں کے لئے آزادی حاصل کرلی ہے !

فوزیہ قصوری کی تحریک انصاف سے علیحدگی ۔۔ ایک لمحہ فکریہ

تحریک انصاف سے میر ی وابستگی ” نئے پاکستان” کے حوالے سے استوار ہوئی، آج نئے پاکستان کا تصور لوگوں کے دلوں میں رچ بس گیا ہے، میرے خیال میں تحریک انصاف کی منزل نیا پاکستان ہے۔

لوگ الیکشن 2013 کے نتائج سے دل برداشتہ نہیں ہوئے ہیں، ان کے حوصلے بلند ہیں اور وہ منزل کی طرف گامزن ہیں ، انہیں معلوم ہے کہ منزل تک پہچنے کے لئے ابھی بہت مسافت طے کرنا باقی ہے۔ 

تحریک انصاف نے اپنی 17 سالہ جدوجہد کے ذریعے لوگوں کی عمومی رائے کو متاثر کیا، خصوصا” ملک کا وہ نوجوان طبقہ جو پہلی بار ووٹ کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کررہا تھا ، انہوں نے عمران خان کی تبدیلی کی آواز پر لبیک کہا اور لوگوں کا ہجوم پر عزم کارواں کی صورت اختیار کر گیا۔

اس سارے عمل میں ، احتیاط کے تمام تر لوازمات کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا جو کہ وقت کا اہم تقاضہ تھا ، لوگوں کی بھیڑ کے لئے کارواں کے دروازے کھول دئے گئے ، دل صاف تھے ، اور ایک ہی نعرہ گونج رہا تھا کہ تبدیلی کے لئے ووٹ دیں۔ مگراس بات کا خیال نہیں رکھا گیا کہ ایک مچھلی سارے تالاب کا پانی گندا کرسکتی ہے۔

فوزیہ قصوری کی تحریک انصاف سے علیحدگی کو لوگ اہمیت دے رہے ہیں اور یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ، اس سے پہلے ڈاکٹر شیریں مزاری بھی اس سارے عمل سے گزر چکی ہیں۔ فوزیہ قصوری کی تحریک انصاف سے علیحدگی ، جسم سے اعضا کو الگ کردینے کے مترادف ہوگی، اور ان کا یہ عمل لوگوں کی رائے کو متاثر کرسکتا ہے۔

میری دعا ہے کہ تحریک انصاف ، نئے پاکستان کی منزل تک ضرور پہنچے ، مگر ا س کے لئے ضرور ی ہے کہ تحریک کے بنیادی اجزا ایک دوسرے سے مربوط رہیں۔

میرا ووٹ “نئے پاکستان ” کے لئے ہے

پاکستان کی قومی تاریخ میں، عوام کو آزادانہ انتخابات کے مواقع بہت کم میسر آئے ہیں، ملک کی گذشتہ 65 سالہ تاریخ کے بہت بڑے حصے کو، فوجی آمریت کے تاریک سائے نے گھیرا ہوا ہے۔ جمہوری حکومتیں، کرکٹ کے کھلاڑیوں کی طرح کبھی کلین بولڈ کردی گئیں یا پھر میچ فکسنگ کی طرح ان کے اختتام کا تعین کرلیا گیا۔ اس تمام عرصے میں عوام کی زندگی ، جمہوری ثمرات سے محروم رہی۔ روٹی ، کپڑا اور مکان جیسے انقلابی نعرے، خوبصورت سلوگن ثابت ہوئے اورعوام کی کثیر تعداد، غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوگئی، جہاں ان کے سروں پر کوئی سائبان نہیں، تپتی زمین پر ننگے پاؤں چلنے والی اس عوام کے لئے زندگی کو بسر کرنا ، غذاب بنتا جا رہاہے۔ملک کی گرتی ہوئی معیشت، بے روزگاری ، ناانصافی اور طبقاتی تقسیم سے ستائی ہوئی عوام نے اخلاقی اقدار کے بوجھ کو اتار دیا اور مادر پدر آزاد ہوگئے، پڑھے لکھے نوجوانوں کی اکثریت، جرائم کی طرف مائل ہوگئی،اسٹریٹ کرائم کی شرح میں بے پناہ اضافے اور فروغ پاتی مجرمانہ ذہنیت کےباعث ، ایک کھوکھلا پن ہماری زندگیوں میں شامل ہوگیا ہے۔ کمزور اور ناتواں لوگ، اجتماعی خودکشیوں کو زندگی پر ترجیح دے رہے ہیں، جہاں زہر کی ایک پڑیا ، گھر کے تمام افرادکو گہری نیند سلا کر، انہیں ہر طرح کے مصائب سے آزاد کردیتی ہے۔

آمریت کی گود میں پلنے والے ، سیاسی لیڈراں اپنی خود ساختہ جلاوطنی اور اپنے خلاف کرپشن کے الزمات کو سیاسی انتقام قرار دے کر ، اقتدار کی سیڑھی چڑھنا چاھتے ہیں۔ جمہوری عمل کو ان سیاست دانوں نے اقتدار کے حصول کا کھیل بنا دیا ہے۔ ان پر حیوانیت طاری ہے اور زمین پر بے گناہ انسانوں کا خون بہایا جا رہے، سیاسی لیڈراں اقتدار کو عوام کی خدمت کے لئے نہیں، بلکہ طاقت اور اپنی انا کی تسکین کے لئے حاصل کرنا چاھتے ہیں۔تاکہ ان کا یہ اقتدار، انہیں ، ان کے خاندان اور دوستوں کو بلندی کی طرف لے جائے گا۔ چاھے اس کی قیمت ، ملک کو دولخت کرکے ادا کی جائے۔

ان تناضر میں ، گیارہ مئی  2013کو اپنے ووٹ کے استعمال سے قبل میں سوچ رہا ہوں کہ میرا ووٹ کس کے لئے ہے؟
کیا میرا ووٹ کے حق کو استعمال کرنا ملک میں تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اور اگر اس بات پر میرا
پختہ یقین ہے تو پھر میں کیوں، اپنا ووٹ اقتدار کی میوزیکل چیئر میں شامل افراد کو دوں، جنہوں نے آج تک اپنے منشور پر عمل دارامد نہیں کیا، وہ چہرے بدل بدل کر مسند اقتدار پر فائز ہوجاتے ہیں، اور پھر اگلے آنے والے الیکشن تک ان کا رابطہ اپنی بے وقوف عوام سے منقطع ہوجاتا ہے۔

کیا میرا ووٹ ان لیڈران کے لئے ہے جنہوں نے ہمیشہ ملکی مفادات پر اپنے ذاتی مفادات کو ترجیع دی ، اور عوام کے دکھ سکھ سے بے بہرہ ہو کر اقتدار کے محلوں میں خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہوتے ہیں۔

نہیں

میرا ووٹ ، عالیشان پاکستان کے لئے ہے، اس کے بہتے دریاوں، لہلاتے سرسبز کھیتوں ، اونچے پہاڑوں اور صحراوں کے لئے ہے

اجالوں اور رقص کرتے رنگوں، گہنگناتی ہواؤں کے لئے ہے

مختلف بولیوں، زندگی بھرےقصے، کہانیوں کے لئے ہے

میرا ووٹ “نئے پاکستان ” کے لئے ہے

اس تبدیلی کے لئے ہے جو حبس میں جکڑے دن کو آزاد کردے!