مقتل میں‌شہنائی

اعتراف

وہ سامنے کھڑی تھی، برقعہ اوڑھے اور حجاب پہنے ہوئے، مگر اس کا چہرہ کھلا ہوا تھا۔ ابھی و ہ کمسن تھی ، مگر اس کے ہونٹوں پر لگی گہری لپ اسٹک نے مجھے روک لیا

میں نے اپنے دل میں اس سے سوال کیا ، تم کیا چاھتی ہو؟ مگر اس سوال کے جواب میں ، اپنے معصوم ہاتھوں سے اس نے اپنی آنکھوں کو ڈھانپ لیا۔ وہ کوری تختی کی طرح بلکل صاف ، آنکھوں میں چھپے آنسووں کی طرح شفاف تھی ، حیران کردینے والے جذبات سے بہت دور، اپنے ہاتھوں میں تھامی ہوئی گڑیا کی طرح چپ!

میں اپنے راستے کی طرف آگے بڑھ گیا ، مگر ابھی تک میرے اندر مختلف جذبات کے درمیا ن سرد و گرم چل رہی تھی

اخبارات کی کئی سرخیاں ، کٹی پھٹی لاشوں کی صورت میرے سامنے گر رہی تھیں، اس سب لاشوں کے درمیاں اس بچی کی بھی لاش تھی، جو گھر سے چیز لانے کے لئے نکلی تھی تو ایک سیاہ ہاتھ نے اسے اندھیرے کی طرف دکھیل دیا ، خواہشوں کے بھوکے جنگل میں دور تک اس کے معصوم جسم کوگھسیٹا رہا ، یہاں تک کے اس کی آنکھوں میں روشن تمام ستارے ایک ایک کر کے بجھ گئے تو اس کےمعصوم بے روح جسم کو کانٹوں کی طرف اچھال دیا۔

دکھ اور درد سے بھر ے دل کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے میں سوچ رہا تھا اور اپنی بزدلی اور کمزروی کا شکر گزار تھا جس کے باعث میرے قدموں نے کبھی کسی پھول کو کچلنے کی جرات نہیں کی۔

یہ وطن ہمارا ہے!

ابھی صبح دور ہے ، پرندے جاگ گئے ہیں ، ان کے چچہانے کی آواز آہستہ آہستہ فضا میں پھیلتی جارہی ہے ۔ مگر روز کی طرح نہیں ، کیونکہ آج کا دن ہمارے ملک کا 65 واں یوم آزادی ہے۔

آج کا یوم آزادی ، اس قوم کا یوم آزادی ہے ، جسے تاریخ سے سبق لینا نہیں آتا، دنیا کے تمام ممالک ترقی کی طرف گامزن ہیں، ان حکومتیوں کا بنیادی منشور اپنے عوام کی فلاع و بہبود ہے، مگر ہمارا ملک ایک کٹی پتنگ کی طرح اندھیرے کی سمت گرتا جارہا ہے، اس کی راہ میں کوئی سنگ میل نہیں ، جوترقی کی شاہراہ کی طرف اشارہ کرے ، ہم اپنی آزادی کا جشن ، روایات کے تسلسل کے طور پر منارہے ہیں، مگر جن کے دل اور ذہن پر وقت دستک دے رہاہے ، ان کی آنکھوں میں آنسو ہیں، اور آنکھیں جاگ رہی ہیں۔

ابھی صبح دور ہے، مگر بہت سے سوالوں کا کوئی جواب نہیں ، آزادی کے آغاز سے ہی ، ہم اپنی آزادی کےخود دشمن بن گئے ، کوئی بیرونی سازش نہیں ہوئی، کوئی ملک ہم پر حملہ آور نہیں ہوا، ہم ہی نے اپنی آزادی پر شب خون مارا، اپنے ہی لوگوں سے نفرت کی ، اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ، ملک کے وجود کو دولخت کیا، مگر اس کا حاصل کیا ہوا، ہمارے درمیا ن اندھیرے کچھ اور بڑھ گئے ، ہمارے مفادات اپنی تکمیل کے لئے ، اب اور بھی زیادہ قربانی مانگنے لگے ، ہم نے اپنی دوستی ، اپنے دشمنوں سے بڑھا لی، اپنے لوگوں کو ہم نسلی ولسانی فرقہ واریت اور تعصب کی نظر سے دیکھنے لگے، اپنے لوگ ہمیں اپنے ہی وطن میں برے لگنے لگے ، رشتے ہماری نظروں سے اوجھل ہوگئے، اور اپنے ہی لوگوں کے خون سے ، ہم اپنی ہی زمین کے تقدس کو پامال کرتے گئے، ہماری آنکھوں میں ، ہمارے ہی دشمنوں کا دیا ہوا اجالا تھا، جس نے خوشبو سے معطر فضا میں زہر گھول دیا، گھونسلوں سے پرندوں کو اڑا دیا ، زمین کی زرخیزی میں زہر بو دیا ، اپنے گھروں سے جڑے ہوئے دوسرے گھر وں کو اپنے ہی ہاتھوں سے جلادیا۔ ان جلے ہوئے گھروں کے دھویں نے منظر کو ذرا دیر کے لئے اوجھل تو کردیا ہے مگر بے گناہ لاشوں کی بے سمت اٹھی ہوئی انگلیاں ہم سے سوال کرتی ہیں کہ کب تک ہم نامعلوم قاتلوں کو اپنے درمیان جگہ دیتے رہیں گے۔ آخرکب تک؟

ابھی صبح دور ہے، صبح ہوتے ہی، توپوں کی سلامی دی جائے گی، خوش لباس لوگ ، پرچم کی سلامی کے لئے جمع ہوں گے، ہنستی ہوئی آوازوں کا بلند ہو تا ہواشور ، اندھیرے میں پریشان کرنے والے ان تمام سوالات کو بہا لے جائے گا، مگر زخمی دل ، اور اپنے ہی لوگو ں کی بے گناہ لاشوں کو اٹھانے والے ہاتھ کیونکر سلامی کے لئے اٹھ کھڑے ہوں گے؟

ملک کو تقسیم در تقسم کرنے والے لوگوں کے پیچھے کھڑے ہوکر ہم کب تک اپنے ملک کی آزادی کا جشن منائیں گے،کب تک ہم ان بے چہرہ لوگوں سے غافل رہیں گے، جو ہمارے ملک کی نظریاتی سرحدوں پامال کرتے جارہے ہیں، خدا نہ کرے کہ ایک بار پھرہمارے گھروں کی دیواریں ، جن پر روز چاند کی چاندنی چٹکتی ہے، گرادی جائیں۔

خدا نہ کرے !

ایک ملاقات

2 اپریل 2013، گلشنِ اقبال ٹاؤن، کراچی یونیورسٹی کے گیٹ نمبر 3 (مسکن) کے باہر جناب جاذب قریشی سے ہونے والی ملاقات میرے لئے ایک اہم درجہ رکھتی ہے۔

کافی عرصہ گزر گیا کہ میں جناب جاذب قریشی سے نہیں مل پایا، تب ایک روز ،یکم اپریل 2013 کو ان کا فون آیا، ان کے لہجے پر تھکن غالب تھی، مگر اس کے باوجود گفتگو کے دوران، مجھے تازیگی کا احساس بار بار چھوتا رہا ، ایسا لگا کہ وہ اپنی حیران کردینے والی طلسمی آنکھوں سے مجھے دیکھ رہے ہیں اوران کا لگایا ہوا “شیشے کا درخت” مجھ پر سایہ فگن ہے۔

یہاں میں اس بات کی وضاحت کرنا چاہوں گا کہ میری جاذب قریشی صاحب سے کوئی ذاتی واقفیت نہیں تھی، مگر ایک اتفاقی ملاقات میں، اپنی کچھ نثری نظمیوں پر ان سےتبادلہ خیال ہوا، ان نظموں کو سننے کے بعد انہوں نے کہا کہ تم میں شاعری کے روشن امکانات پوشیدہ ہیں ، تم انہیں ضرور تلاش کرو ۔۔۔ اس پہلی ملاقات کے بعد ۔۔۔ ہمارے درمیان ایک رشتہ استوار ہو تا چلا گیا۔ ان کی پہلی کتاب “پہچان” اور دوسرا شعری مجموعہ ” شناسائی” آج میرے لئے ان سے تعلق کا گہرا استعارہ بن چکے ہیں۔ایک استاد کی صورت وہ میرے لئے شاعری کا دبستان ہیں۔

میرا شخصی نام محمد انور ہے ، مگر انہوں نے میری شاعری اور اظہار کی مختلف جہتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے، مجھے میرا شعری نام “اکمل نوید” عطا کیا۔ آج یہ نام میری منفرد پہچان بن چکا ہے، شاعری ، دو دنیاؤں کے درمیا ن ایک طویل سفر ہے، اس سارے سفر میں جناب جاذب قریشی کی رفاقت ایسی کلید کی طرح ہے، جس نے میرے لئے دریافت کے تمام دروازے کھول دئیے ہیں۔ میرے پہلے شعری مجموعہ کا نام انہوں نے” دوسرے کنارے پر “ رکھا ، وہ مجھ سےزیادہ میری ذات کا ادراک رکھتے ہیں۔

اس ملاقات کو جسے میں اپنی زندہ یادوں کا اہم حصہ قرار دے رہاہوں، اپنی طبعت کی شدید ناسازی کے باوجود، جاذب صاحب نے ایک بار پھر ، اپنی اس بات کا اعادہ کیا کہ میں اپنے شعری امکانات کودریافت کروں، اپنی کچھ نئی تخلیقی کتابیں انہوں نے ، مجھے بڑی محبت کے ساتھ عنایت کیں ، کچھ دیر کے سکوت کے بعد ، انہوں نے کہا کہ وہ کل کڈنی سنٹر میں علاج کے لئے داخل ہورہے ہیں، انہوں نے بڑے یقین کے ساتھ کہا کہ جلد صحتیابی کے بعد ، وہ میری نثری نظموں کتاب “دوسرے کنارے پر” کی تقریب رونمائی کریں گے۔

میں حیرت زدہ ہوں ۔۔۔ آج کے بے رحم معاشرے کا ہرفرد ، صرف اپنی ذات کی آبیاری کو مقدم رکھتا ہے، یہ کونسا رشتہ ہے، اور کس پل سے جڑا ہے کہ گزرنے والا ہر وقت” نیند کا ریشم”بن کر، اسے برباد کرنے کے بجائے آباد کررہا ہے، اندھرے کے سینے میں روشنی کی صلیب اتارنے والےجاذب قریشی، کل کےروشن دن کی خواہش میں ، سورج کو زمین میں بو رہے ہیں- وہ اپنے ہمراہ پرندوں کی “اجلی آوازیں” اور نئے استعاروںکا چہرہ لئے ، ایک نئی زمین کا خواب ،آسمان سے زمین پر اتارے کے لئے، سیاہ آندھیوں اور بگولوں میں سے گزر رہے ہیں۔

میری ان سے محبت ، اتنی زیادہ اہم نہیں ، بلکہ بہت ہی کمتر ہے، مگر ان کا چہرہ اور بولتی آنکھیں آج میری “پہچان” بن چکی ہیں، وہ مجھے “شناسائی” کی پرکھ عطا کررہی ہیں، ان کا یہ ہنر بہت ہی اہم اور معتبر ہے جو میرے “شکستہ عکس“ کو اپنی “تخلیقی آواز” سے ہم آھنگ کر رہے ہیں

میرے ہونٹ اور دل کی ہر ڈھرکن، ایک دعا کی صورت ،خدا کی طرف محو سفر ہیں،

اے میرے اللہ ، ان معتبر اور سچے لوگوں کا اعتبار ہمارے درمیا ن سدا قائم رکھ

(امید ہے کہ میری اس دعا میں ، آپ بھی میرے ساتھ ہی

معذرت کے ساتھ

اسلام ، کفروجہالت کے مقابل ایک ایسی روشنی کا ظہور ہے ، جس نے انسان کے ذہن و دل کو منور کیا۔ ہمارا مذہب غور و فکر کی دعوت دیتا ہے ، جو علم کے راستہ میں حق و صداقت کا ابتدائی زینہ ہے۔

مسلمان سائنسدانو ں نے علم کے اس راستے کی درست راہیں متعین کیں ، ایسے اصول واضع کیے ، جس نے انسانی زندگی کو آسان اور علم کو اس کی قدر سے مشروط کر دیا۔

مگر آج علم کا ہر راستہ اور سائنسی واضح داری کا فروغ مسلمانوں ں کے ذہنوں پر خود فراموشی کے تالے لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔اس کے بعد کی تاریخ ایسےسیاہ واقعات سے بھری ہوئی ہے، جب مسلمانوں کے عظیم الشان شہر وں کو تاراج کیا گیا ، انسانی کھوپیڑیوں سے بلندو بالا مینار بنائے گئے ، کتب خانوں کو آگ لگادی گئی اور ان میں موجود بیش قمیت کتابوں کی جلی ہوئی راکھ سے دریاوں کا پانی سیاہ ہو گیا۔

مسلمان ٹوٹی ہوئی تسبح کے دانوں کی ظرح بکھیر دیئے گئے، مشرق ومغرب تک پھیلی عظیم الشان اسلامی مملکت کو ٹکروں میں بانٹ کر ان کی افرادی اور انقلابی قوت کو کمزور کر دیا گیا۔ انسانی حقوق کے لئے بلند کی گئی آواز کی آڑ میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف منفی پر چار کیا گیا۔

کفرو اسلام کی جنگ آج بھی جاری ہے ، مگر ہمارے ھتیار ہمارے ہی خلا ف صف آرا ہیں۔ مسلمانوں کی مساجد پر ، خود مسلمان حملہ آوار ہیں۔ یہ کیسا علم ہے کہ اس کی روشنی ، جس نے غار حرا سے اپنا سفر شروع کیا اور پوری دنیا کو منور کر دیا ، اس کی آگہی ہمیں اپنے دشمنوں کو شناخت نہیں کرنے دیتی، شاید ہم علم کے راستے سے بھٹک گئے ہیں ، مگر ہمارا دین جو اپنی وحدت میں مکمل علم ہے ، تو پھر اپنے دین کی پاسداری کیوں ہم پر کیوں لازم نہیں؟

عقل و فہم کی کسوٹی پر کھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہمارا وطن عزیز ، کسی کو بھی عزیزنہیں ، ملک میں لسانیت اور عصبیت کو فروغ دیا جارہا ہے ، قومی سانحات و واقعات پر کوئی بھی غوروفکر کا قائل نہیں ۔ ملک کیسے دولخت ہوا ، اس کے پیچھے کو ن سے عوامل تھے، اس بربادی میں کن لوگوں کا مفادہ پوشیدہ تھا ، او ر اس تقیسم سے کن طاقتوں کو فائدہ حاصل ہوا۔ اسلام کے نام پر قیام ہونے والی ریاست کی حفاظت کیوں کر نظر انداز کی گئی، کیا وہی لوگ اور عوامل ہمارے درمیان آج بھی موجود ہیں، اور ملک کی مزید تقسیم کے فارمولے پر عمل کر رہے ہوں، ہماری سیاسی جماعیتوں نے کھوکھلے نعروں کے سوا کچھ نہیں د یا، جس کے باعث آج قوم کا سفر ترقی کی جانب نہیں تیزلی کی طرف گامزن ہے۔ ایک بار پھر اس امر کی ضرورت ہے کہ ایک ایسی قوم کی تشکیل کی جائے، جو اپنے قردار مقاصد سے آگاہ ہو۔

آج قوم ہم سے بے شمار سوالوں کے جواب چاھتی ہے، مگر ہم کون ہیں ؟ یہ سوال سب سے اہم ہے۔ معاشرہ افراد کی جن اکائیوں سے مل کر وجود پاتا ہے۔ اس کا ہر کرادر آج خود سے سوال کر رہا ہے کہ میں کو ن ہوں؟

ایک عالم دین ؟ کیا وہ دین کا صیح ادارک و فہم رکھتا ہے اور درست سمت کی رھنمائی کر سکتا ہے!

ایک معلم ؟ کیا وہ اپنے فرائض کی اہمت سے آگاہ ہے، کہ کس طرح ایک قوم سیسہ پلائی دیورا بنتی ہے !

غرض ایک سیاست داں ، ایک سپاہی ، ایک طبیب ، ایک منضف بھی اپنے پیشے سے وابستہ امور کی ادائیگی میں ، انضاف کے پیمانے پر پورا اترتا ہے۔ ان سب سوالوں کے جواب میں ایک بہت بڑا انکار ، ہمار ے سفر کی کامیابیوں کے راستے پر کھڑا ہے۔

غفلت اور جہالت کی گہری نیند میں سوئی ہوئی اس قوم کے ملک میں ، سیاسی جماعتیں ، سیاسی خاندانوں کی اجارادرای کی علامت بن گیئں ہیں، مذہبی جماعیتں اپنے مرکز سے بھٹک گیئں ہیں، عوامی خدمت سے شرسار کوئی نہیں ، قوی اداروں کو ، حکمرانوں کے دوست و احباب تباہ کررہے ہیں۔ بدعنوان افراد ،سرفرازی کے نشانات سے نوازے گئے ہیں۔

اس پش منظر میں ایک حالیہ واقعہ “توہین رسالتؐؐ و عظمت رسول ؐ ” کے نام پر سیاسی ،مذہبی جماعتوں اور حکومت کی طرف سے اعلان کردہ یوم احتجاج ہماری آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے ، لوگوں کے بے ہنگم احتجاجی ہجوم نے اس دن قومی اثآثوں کو پامال کیا لوگوں کی قیمتی املاک کو لوٹ لیا اور بے گناہ انسانی جانوں کو تلف کیا ، کیا احتجاج کر نے والے ان لوگوں کو ہم امت رسو ل قرار د ے سکتے ہیں۔ یہ سوا ل بہت اہمیت کا حامل ہے کہ کس طرح ان احتجاج کرنے والوں ، دھشت گرد، لٹرے، اور قاتل شامل ہوگئے، جنہوں نے تباھی اور خون کی ہولی کھیل کر ، ہمارے چہروں کو داغ دار کردیا۔

توہن رسالت ؐ کے واقعے سے جڑے یوٹیوب چینل کو ملک میں بند کر دیا گیا۔ اس ملک میں جہاں تعلیمی نظام پہلے ہی کھوکھلا ہو چکاہے ، حکومت کا یہ اقدام کہ وہ علمی اور سفارتی کوششو ں سے مذکورہ ویڈیو کلپ پر پابندی لگاتی جیسے دیگر مسلم ممالک نے کیا ِ یوٹیوب چینل پر بندش عائد کر دی۔ اس امر سے تعلیمی میدان سے وابستہ افراد خصوصا تحقیق اور دریافت سے وابستہ لوگ بری طرح متاثر ہیں۔ ضرروت اس بات کی ہے ہم اپنی ترجیحات کا درست تعین کریں۔ گزرتے وقت کے ساتھ ، درست فیصلے ہی قومی ترقی و تعمیر کے لئے ضروری ہیں۔

اکمل نوید