اعتراف

وہ سامنے کھڑی تھی، برقعہ اوڑھے اور حجاب پہنے ہوئے، مگر اس کا چہرہ کھلا ہوا تھا۔ ابھی و ہ کمسن تھی ، مگر اس کے ہونٹوں پر لگی گہری لپ اسٹک نے مجھے روک لیا میں نے اپنے دل میں اس سے سوال کیا ، تم کیا چاھتی ہو؟ مگر اس سوال کے جواب

اعتراف Read More »

یہ وطن ہمارا ہے

ابھی صبح دور ہے ، پرندے جاگ گئے ہیں ، ان کے چچہانے کی آواز آہستہ آہستہ فضا میں پھیلتی جارہی ہے ۔ مگر روز کی طرح نہیں ، کیونکہ آج کا دن ہمارے ملک کا 65 واں یوم آزادی ہے۔ آج کا یوم آزادی ، اس قوم کا یوم آزادی ہے ، جسے تاریخ

یہ وطن ہمارا ہے Read More »

ایک ملاقات

2 اپریل 2013، گلشنِ اقبال ٹاؤن، کراچی یونیورسٹی کے گیٹ نمبر 3 (مسکن) کے باہر جناب جاذب قریشی سے ہونے والی ملاقات میرے لئے ایک اہم درجہ رکھتی ہے۔ کافی عرصہ گزر گیا کہ میں جناب جاذب قریشی سے نہیں مل پایا، تب ایک روز ،یکم اپریل 2013 کو ان کا فون آیا، ان کے

ایک ملاقات Read More »

معذرت کے ساتھ

اسلام ، کفروجہالت کے مقابل ایک ایسی روشنی کا ظہور ہے ، جس نے انسان کے ذہن و دل کو منور کیا۔ ہمارا مذہب غور و فکر کی دعوت دیتا ہے ، جو علم کے راستہ میں حق و صداقت کا ابتدائی زینہ ہے۔ مسلمان سائنسدانو ں نے علم کے اس راستے کی درست راہیں

معذرت کے ساتھ Read More »

میرا ووٹ “نئے پاکستان ” کے لئے ہے

پاکستان کی قومی تاریخ میں، عوام کو آزادانہ انتخابات کے مواقع بہت کم میسر آئے ہیں، ملک کی گذشتہ 65 سالہ تاریخ کے بہت بڑے حصے کو، فوجی آمریت کے تاریک سائے نے گھیرا ہوا ہے۔ جمہوری حکومتیں، کرکٹ کے کھلاڑیوں کی طرح کبھی کلین بولڈ کردی گئیں یا پھر میچ فکسنگ کی طرح ان

میرا ووٹ “نئے پاکستان ” کے لئے ہے Read More »

قاہرہ کے تحریر اسکوئر سے لیاری کے چیل چوک تک

تیز تر سائنسی ایجادات خاص طور پر انٹرنینٹ کے وسیع تر پھیلاؤ کے باعث گوبل ویلیج کا تصور تیزی سے فروع پا رہا ہے۔ دنیا بھر میں نئے نظریا ت کے اجر اء کا سفر بھی جاری ہے۔ بادشاہت اور جبر سے قائم حکومیتں لوگوں کے اجتماعی سیلاب میں بہتی جارہی ہیں۔حالیہ دنوں میں اٹھنے

قاہرہ کے تحریر اسکوئر سے لیاری کے چیل چوک تک Read More »

ایک اور المناک حادثہ

ہماری روزمرہ زندگی چاہئے وہ ملکی معاملات ہوں یا بھر سیاسی شعبدہ بازی، حادثات ہمارا تعاقب کررہے ہوتے ہیں۔ ایک عام زندگی سے ملکی روزنامے تک سفر جاری ہے ۔ حادثات سیاچن جسے بلند وبالا سرحدی محاذ پر بھی ہمارے منتظر ہیں ، جہاں برفانی تودے تلے دبے ہمارے سپاہی زندگی کی دستک کے منتظر

ایک اور المناک حادثہ Read More »

سیاسی دنگل

شعوری پختگی اور سیاسی بالیدگی کے فروغ نے افراد میں تشخص کو جنم دیا ، جس کے باعث لوگوں میں سیاسی پروگراموں کی دلچسبی میں بے پناہ اضافہ ہے۔ ان پروگراموں میں سیاسی لیڈروں کی پیروڈی کے پروگرام سر فہرست ہیں۔ ٹی وی چینلز پر ہونے والے ان مذاکراتی اور مباحثی پروگراموں میں ، جن

سیاسی دنگل Read More »

الیکشن 2013

الیکشن 2013 پاکستان کےباشعور عوام مبارک باد مستحق ہیں  کہ انہوں نے ووٹ کی بھر پور طاقت سے سیاسی مفاہمت ،  دہشت گردی اور منافقت کو ہمیشہ کے لئے دفن کردیا نئے پاکستان کو دیا جانے والا یہ  ووٹ اس بات کا تقاضہ کرتا ہے  کہ ہم بحیثت ایک قوم اپنی ترجیحات کا اعادہ کرلیں

الیکشن 2013 Read More »

فوزیہ قصوری کی تحریک انصاف سے علیحدگی ۔۔ ایک لمحہ فکریہ

تحریک انصاف سے میر ی وابستگی ” نئے پاکستان” کے حوالے سے استوار ہوئی، آج نئے پاکستان کا تصور لوگوں کے دلوں میں رچ بس گیا ہے، میرے خیال میں تحریک انصاف کی منزل نیا پاکستان ہے۔ لوگ الیکشن 2013 کے نتائج سے دل برداشتہ نہیں ہوئے ہیں، ان کے حوصلے بلند ہیں اور وہ

فوزیہ قصوری کی تحریک انصاف سے علیحدگی ۔۔ ایک لمحہ فکریہ Read More »

کوئی تو قدم آگے بڑھائے

قوم ہر طرح کی قربانی دینے کے لئے تیار ہے، مگر کوئی تو قدم آگے  بڑھائے! حکیم الامت ڈاکڑ محمد اقبال  کے 136 ویں  سالگرہ کے مواقع پر  مجھے  ان کا، پاکستان کی تخلیق سے تعبر کیا  گیا   خواب یاد آرہاہے  ۔ فکر و فلسفہ کے نمائیدہ  اس عظیم شاعر مشرق نے   اپنےواجدان سے ایک

کوئی تو قدم آگے بڑھائے Read More »

یہ کہانی کون لکھ رہاہے

گذشتہ دس روز میں 100 افراد کی ہلاکت، اس شہر کراچی کا المیہ ہے، جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا ،ملک کی معاشی ترقی کا دروازہ اور محبت کی کہانی کا روشن باب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہونے کے باعث تمام لوگوں کے لئے منی پاکستان کی حیثیت رکھتا تھا، مگر آج اندھیرے میں ڈوبے اس شہر

یہ کہانی کون لکھ رہاہے Read More »

اب بس بہت ہو چکا ۔۔۔۔

اب بس بہت ہو چکا ۔۔۔۔ سجدہ گاہ کو لہولہاں کر دیا گیا مسجد کی درودیوار پر میرا جسم لہو کی صورت چسپاں ہے فرش پر سجدہ ریز لاشیں ہی لاشیں ہیں اور اسکولوں کی دیواروں کو پھلانگ کر آنے والے پردیسووں نے معصوم بچوں کو قطاروں میں کھڑا کردیاہے ان کے معصوم جسموں سے

اب بس بہت ہو چکا ۔۔۔۔ Read More »

ایک ستم اور میری جاں

ایک ستم  اور میری جاں حکومتوں کا بنیادی مقصد ایک ایسی فلاحی ریاست کا قیام ہوتا ہے  جہاں لوگوں کو   بنیادی   حقوق، ملازمتوں کے مساوی  مواقع ، اور انصاف کا فوری حصول ممکن ہو۔مگر پاکستان میں حکومتیں، جمہوری نظام کی آڑ میں برسہا برس  سے ،حکومتی  وسائل کو ذاتی منفعت  کے کاموں میں استعمال کرنے

ایک ستم اور میری جاں Read More »

آہ ۔ جنید جمشید، زندگی اللہ کی امانت ہے

جنید جمشد نے اپنے منفرد انداز گائیگی اور وائٹل سائین کی گروپ پرفارمنس کے ذریعے اپنی گلوکاری کو مقبول عام بنا دیا ،اس کے گائے ہوئے گیتوں نے  نوجوان نسل کومتاثر کرناشروع کردیا ۔اس نے بہت جلد شہرت کی بلندیوں کو چھو ا۔اس کی زندگی کی راتیں، جگمگاتی روشیوں ، چاہنے والوں کی آوازوں کے

آہ ۔ جنید جمشید، زندگی اللہ کی امانت ہے Read More »

اب بس بہت ہو چکا ۔۔۔۔

اب بس بہت ہو چکا ۔۔۔۔ سجدہ گاہ کو لہولہاں کر دیا گیا مسجد کی درودیوار پر میرا جسم لہو کی صورت چسپاں ہے فرش پر سجدہ ریز لاشیں ہی لاشیں ہیں اور اسکولوں کی دیواروں کو پھلانگ کر آنے والے پردیسووں نے معصوم بچوں کو قطاروں میں کھڑا کردیاہے ان کے معصوم جسموں سے

اب بس بہت ہو چکا ۔۔۔۔ Read More »

دلوں کے درمیاں حائل خاموشی

دلوں کے درمیا ن حائل خاموشی ہم نے اپنی زندگی کو جو محبت کی سنہری مٹی سے گوندی گئی تھیایک پراسرار گیت میں لپیٹ کر رکھ دیاہم نے اپنی زندگی کو برتنے کے لئےاپنے دکھوں کو پرانے گھروں سے چرائے گئے برتنو ں میں جمع کیاگزرے دنوں کی مہک سے مٹھاس لئے شہد کا قطرہتمہارے

دلوں کے درمیاں حائل خاموشی Read More »

میں چلتا چلا جارہا ہوں

اپنے خیا لوں کی اڈھیرپن میں ، میں دور تک چلتا چلا جا رہا ہوں ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ میرےاندر کی خلا وسیع تر ہوتی جارہی ہے بہت سی چیزوں کے کھوجانے کا احساس بےچین کر رہا ہے بہت سی گزری باتیں یاد نہیں آرہی ہیں وقت کی گرفت کلائی پر سے ڈھیلی

میں چلتا چلا جارہا ہوں Read More »

زندگی كو میری قبر كا پتہ بتانا ہوگا

  زندگی كو میری قبر كا پتہ بتانا ہوگا میں جب بهی پلٹ کردیكهتا ہوں وه بہشت كی طرف سے منہ موڑ كر مجھے اپنی سمت آتی دكهائی دیتی ہے میں جو ایك بوسیده شہر كی گمشدہ کہانی ہوں پرانے شہر کی گرد آلودہ گلیاں میرے سامنے کھلی پڑی ہیں ٹوٹے ہوئے کاسہ میں زندگی

زندگی كو میری قبر كا پتہ بتانا ہوگا Read More »

اس کی آخری تصویر

ٹیلفون کی کنٹکیٹ لسٹ میں اپنے دوستوں کا نام تلاش کرتے ہوئے اس کا نام باربار میری نظروں کے سامنے سے گزرتا ہے اس کی آخری تصویر کنٹرکٹ پروفائل پرموجود ہے جسکے عکس کوکیمرےکی آنکھ نے کبھی قید کیاتھا میں ڈائل بٹن کو پریس کرتا ہوں دیر تک ڈائل ٹون بجتی ہے اور پھر یکلخت

اس کی آخری تصویر Read More »

غیر تخلیقی لمحوں کا درد

یہ لمحے جو گزررہے ہیں،مجھے ایک درد سے دوچار کررہے ہیں میں اپنے دل کی ڈھرکنوں کو لفظوں سے جوڑکر ایک ایسا آھنگ بنا نا چاھتا ہوں جو میرے ساتھ دور تک چلے تنہائیوں کی قید سے باہر سورج کو دیکھتے ہوئے اپنے اندر پھیلتے اندھیروں سے  میں ڈر رہا  ہوں کتنا بڑا عرصہ بیت

غیر تخلیقی لمحوں کا درد Read More »

سانحہ پشاور کے شہید طلبا کے نام

سانحہ پشاور کے شہید طلبا کے نام افسوس کا کوئی بھی لفظ نہیں لکھا جا سکتا کہ یہ ایک مکمل درد ہے جسکی اذیت زمانہ دور تک محسوس کرے گا ہماری قوم دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں کتنی قربانیاں دے چکی ہے اور کتنا قرض ہم پر  ادا کرنا باقی ہے دھشت گردی

سانحہ پشاور کے شہید طلبا کے نام Read More »

تھر باسی

تھر باسی لوگ زندگی ایک حادثے سے دوچار ہے اور موت کو تقسیم کر دیا گیا ہے ماؤں کی کوکھ سے جنم لینے والے بچوں میں جہنوں نے زندگی کے ذائقہ کی جگہ بحوک کی اذیت کو اپنے ہونٹوں پر رینگتا ہو ا محسوس کیا اس سے پہلے کہ مائیں ان بچوں کو اپنی گود

تھر باسی Read More »

آج تھرکی صحرائی زندگی کے لئے ہمیں جاگنا ہو گا

صدیو ں سے تھر کی تپتی ریت پر مور اپنےرقص کرتے رنگوں کو قوس و قزح کی صورت زمین پر بکھر رہے ہیں آج حد نظر تک کوئی بھی پرندہ آسمان کی وسعتوں کو چھوتا نظر نہیں آ رہا ہے زیست کی نمی پاتال کی گہرائیوں میں کہیں چھپ گئی ہے جہاں تک پہنچتے پہنچتے

آج تھرکی صحرائی زندگی کے لئے ہمیں جاگنا ہو گا Read More »

شب و روز کی گردش سے گزرتا ہو ایہ سال

شب و روز کی گردش سے گزرتا ہو ایہ سال آج نجانے کیو ں سانپ کی طرح رینگ رہا ہے اس کی زہر بھری پھنکار سے میرے تازہ خوابوں فصل جل چکی ہے زخم آلودہ جسم لمس کی خواہش لئے آہٹوں کی دھند میں کہیں گم ہو چکا ہے سورج کالی آندھیوں کی گرفت میں

شب و روز کی گردش سے گزرتا ہو ایہ سال Read More »

قائد تحریک الطاف حسین کی تصنیف “فلسفہ محبت”کی تقریب رونمائی

رابطہ کمیٹی ،متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کی جانب سے   30 نومبر 2013  کی شام  قائد تحریک الطاف حسین کی تصنیف “فلسفہ محبت”  کی تقریب رونمائی مارکی ہال ، پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کراچی  میں منعقد کی گئی۔ قیام پاکستان کی تحریک کے نتیجے میں اس  خطہ عرض پر  انسانوں کی  سب سے بڑی ہجرت عمل

قائد تحریک الطاف حسین کی تصنیف “فلسفہ محبت”کی تقریب رونمائی Read More »

اے محرم تو سرخرور ہے سدا

سیاہ آسماں پر پھیلے  لہو رنگ پرچم تلے قافلے صدیوں سے ہیں سچ کے سفر پر رواں سر ان کے پڑے ہیں سجدوں میں کٹے ہوئے بریدہ جسم ہیں ان کے خوشبو سے مہکے ہوئے برف جیسے شعلے جلے ہوئے خیمو ں سے ہیں  لپٹے ہوئے آسمانوں سے لگی پر نم چشم کے سامنے ڈوب چکی

اے محرم تو سرخرور ہے سدا Read More »

!سال نو کے آغاز سے پہلے

سال نو کے آغاز سے پہلے ضروری ہے کہ ایک نظر گزرنے والے اس سال پر بھی ڈالی جائے ، جسکے استقبا ل کے وقت کئی امیدیں ، روشن چراغوں کی صورت وقت کی دھلیز پر ہم نے سجائی تھیں ۔ مگر گزرنے والا وقت ، گزرے کئی سالوں کی طرح دبے پاؤں گزر گیااور

!سال نو کے آغاز سے پہلے Read More »

چند لمحوں کا فاصلہ

آفس میں سبھی لوگ موجود تھے ، معمول کی سرگرمیاں جاری تھیں، کہیں سے کسی کے قہقہے کی بلند آوازسنگلاخ دیواروں اور بھاری بھرکم چوبی دروازوں سے چھن کر باہر آ رہی تھی۔ دوسرےکمرے میں کیتھلی میں رکھا ہوا پانی گرم ہو کر آوازیں دے رہا تھا،بڑے صاحب کے کمرے کے باہر کھڑا دربان روز

چند لمحوں کا فاصلہ Read More »

ایک تصویر اور ایک سوال؟

ابھی کل ہی میں ،  اسلام آباد، ایبٹ آباد، بالا کوٹ، کاغان اور ناران کے ٹور سے لوٹا ہوں۔ یہ سفر اور مشاہدہ  ایک کہانی کی طرح ہے، جسے میں بعد میں آپ سے شیئر کروں گا، ناران کی مرکزی شاہراہ   جہاں بازار  واقع ہے، ہوٹلز    اور دکانیں  ہیں ، لوگوں کا ایک  ہجوم ہے

ایک تصویر اور ایک سوال؟ Read More »

موت کتنی ارزان ہے !

عید کے دن، میں اس مختصر سے خاندان کو یاد کررہا ہوں جسے بڑی بے رحمی سے زندگی کی کتاب سے نوچ کر پھنک دیا گیا اس شہر میں یوں تو روز ہی کوئی مرتا ہے کوئی اپنی موت اور کوئی ایسی موت بھی مرجاتا ہے کہ اس کا اپنے قاتلوں سے کوئی بھی لینا

موت کتنی ارزان ہے ! Read More »

نیا پاکستان ہمارے لئے نا گزیر کیوں ہے ؟

اس تصویر میں کوئی رنگ نہیں، اس میں ہم کوئی رنگ بھر بھی نہیں سکتے، کیا دیواروں سے لپٹی چیخوں کا بھی کوئی رنگ ہوتا ہے ، سنگلاخ زمین پر بہنے والا لہو، کب کا سیاہی میں تبدیل ہو چکا ہے، بھلا خون رائیگاں کا بھی کوئی اپنا رنگ ہوتا ہے۔ عورتوں کی اجتماعی عصمت

نیا پاکستان ہمارے لئے نا گزیر کیوں ہے ؟ Read More »

ہم چیخناچاہتے ہیں

ہم چیخناچاہتے ہیں یہ زندگی سے ناراض رویہ ہے ہر صبح آواز قتل کر دی جاتی ہے تو ساراشہر خاموش ہوجاتا ہے کسی کو گرنے سے بچانے کے لئے ہم چیخنا چاہتے ہیں مگر ایک ایسی تصویر بن جاتے ہیں جس میں خاموشی کو قید کر دیا جاتا ہے ہم تہہ در تہہ کسی اجنبی

ہم چیخناچاہتے ہیں Read More »

پرندوں سے بھرا آسمان

پرندوں سے بھرا آسمان میں اس زندگی کا اگلا صفحہ لکھ چکا ہوں جو کہیں مصلوب کردی گئی ہے میرا دل ان بچوں کے ساتھ دھڑکتا ہے جن کے سر کھلے آسمان کے نیچے ننگے ہیں میں نے اپنے ہاتھوں پر ان گھروں کے لئے دعائیں لکھی ہیں جن گھروں کے دروازوں پر خدا دستک

پرندوں سے بھرا آسمان Read More »

بے دروازہ گلی

بے دروازہ گلی یہ تنہائی آگ کے درخت جیسی ہے اور ان ویران گلیوں میں کوئی دروازہ نہیں کھلتا لوگ دعا مانگنا بھہول گئے ہیں ہر چہرہ پھتر ہے صرف ایک ہی آنکھ روتی ہے اور ایک ہی دریا بہتا ہے کوئی اڑتا پرندہ نہیں صرف ہاتھ اٹھے ہوئے ہیں موسم کی جلتی ہوئی شام

بے دروازہ گلی Read More »

سیا ہ ہاتھ اور جگنو

سیاہ ہاتھ اور جگنو ظلم کی سیاہ رات کو اجلا بنانے کی خواہش کرنے والے شہیدوں کا لہو دشمن کی آستینوں پر ایک روز ضرور چمکے گا ظلم کی زنجیر کو توڑنے کے لئے جو آوازیں کل نعرہ بنی تھیں آھنی ہاتھوں نے آج انہیں سنگلاخ دیواروں کے پیچھے دھکیل دیا ہے مگر ایک ایسی

سیا ہ ہاتھ اور جگنو Read More »

کھلونوں کے پھول

کھلونوں کے پھول وقت کے آئینہ پر میں اپنا چہرہ دیکھنا چاھتا ہوں مگر بوڑھے خوابوں کی گرفت میں سور ج ڈوب گیا ہے آسمان تک دھول اڑ رہی ہے تازگی کو ترسا ہوا موسم ہے دروازہ بےصدا ہے گرد باد دور تک پھیلا ہے اب ہم اپنے خوابوں ک پورا نہیں کرسکتے مٹی کے

کھلونوں کے پھول Read More »

روشنیوں سے دور

روشنیوں سے دور ستاروں کی روشنی سے بہت دور مردہ زمینوں اور آگ پھونکتی ہواوں کے درمیاں رقص ابد جاری ہے کتابوں میں چہرے لکھے جارہے ہیں اس پر ہول اندھیر ے میں کہیں ایک چیخ ابھرتی ہے سانسوں کو نچوڑ کر اس پر اینٹ رکھ دی جاتی ہے یوں ایک سیاہ دیوار دلوں کے

روشنیوں سے دور Read More »

بند کھڑکیاں

تم کون ہو ؟ میرے ہم زبان ہو کہ میرے ہم وطن ہو مجھے محبت کے کسی رشتہ میں پرودو میرے سرد ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھام لو میرا چہرہ ابھی مٹا نہیں ہے تم کون ہو؟ میرے ہم زبان ہو تو محبت کا کوئی  نغمہ سکھاو میرے ہم وطن ہو تو میرے سر

بند کھڑکیاں Read More »

سورج اندھیرے پھینک رہا ہے

ہم روشنی کے لئے کس طرف کھڑکی کھولیں پرانی زندگی کا دکھ نئے د ن کی خوشی میں چھپ نہیں سکتا خواب اور کھڑکی کے درمیاں بچے کھیلتے ہیں مگر میرا دکھ عجیب ہے وقت کا ہر لمحہ ایک نئی سمت کھنیچتا ہے اب مجھے چھپ جا نا ہے مگر ایک آواز جادو جیسی ہے

سورج اندھیرے پھینک رہا ہے Read More »

چوڑیاں گم ہوگئیں

جب ہمارے رخ بدل دئے گئے تو شہر ویران ہو گئے تمام منظروں سے آوازیں اتار دی گئیں اور ہجرت ممنوع قرار پائی لوگوں سے پھری اجلی بستیوں میں ویرانے اترنے لگے جنگل رقص کرتا ہماری دیواروں تک اتر آیا بد ہیبت مکڑیاں اپنے جالوں میں اندھیرا ٹانکنے لگیں کوئی دوسرا اپنی تنہائی میں کسی

چوڑیاں گم ہوگئیں Read More »

غنیم کا لشکر

مفلسی کی دیمک پوشاک کو چاٹ رہی ہے دکھوں کی برہنگی کو چھپانا مشکل ہوگیا ہے گھر کی دیواریں چھوٹی ہوتی جارہی ہیں پرچھائیوں کے عقب میں غنیم کا لشکر ہے جو روٹی چھیننے اور غزتوں پر وار کرنے آگے پڑھتا چلا آرہا ہے بولتی زبانوں کا شور ساکت سمندر بن گیا ہے کون ہے

غنیم کا لشکر Read More »

مٹی کی خواہش

یہ  جسم مردہ ہیں لفظ جنہیں لکھتے ہوئے ہم کاغذ کالے کرتے ہیں گناہ کی طرح بے لذت ہیں ہم زندہ رہنا چاھتے ہیں چراغ سے چراغ جلانا چاہتے ہیں ان چہروں کو مٹا دینا چاھتے ہیں جو قاتل ہیں دہشتگرد ہیں ہم کچلی ہوئی تصویروں میں تازہ رنگ بھر دیں گے زخمی کلائیوں کو

مٹی کی خواہش Read More »

قاتل کون ہے؟

تم نے اس کا خون دیکھا ہے تم نے اس کی زبان سنی ہے تم نے اس کا گھر دیکھا ہے کسی چوراہے پر کسی دفتر کے بند کمرے ہیں اور کسی دروازے پر جو اپنی عمر ہار جاتا ہے رشتوں کی زنجیر توڑ دیتا ہے اس آدمی کی ٹانگیں کیسی ہوتی ہیں جو دوڑ

قاتل کون ہے؟ Read More »

نامعلوم سے معلوم تک

زندگی کے رنگوں کی اڑتی ہوئی دھنک جسے پکڑنے کی خواہش میں انسان بھاگتا رہتا ہے مگر کوئی اس دھنک کو اپنے ہاتھوں  پر نہیں اتار سکا اس کا تعاقب جاری ہے وہ ایک ایسی ڈور میں شریک ہے جس کا کوئی کنار نہیں ہے حالانکہ زندگی  ۔۔۔۔ خود انسان کے وجود میں موج در

نامعلوم سے معلوم تک Read More »

محبت ایک پوشاک

تمہاری محبت ایک ایسی پوشاک کی طرح ہے جس نے میرے ظاہری و باطنی وجودوں کو چھپا رکھا ہے تمہاری خوشبو ایک آبجو ہے جس  میں تیر کر میں دور نکل جانا چاہتا ہوں اور جب شام کے کناروں پر میرا سفر پہنچے تو میری خواہش ہے کہ تم پھولوں کا بستر بن کر میرے

محبت ایک پوشاک Read More »

آج کا دن

آج کا دن غیر معمولی طور پر روشن ہے لوگوں کے ہجوم کے درمیان بے نام چہروں بے ہنگم آوازوں کا شور اور روشنی کے بے سمت بکھرتے زاویوں کو توڑ کر مجھے اس تک پیچنا ہے جس  کے لئے میرے دل کے مندر میں گنٹھیاں بجائی جارہی ہیں وہ چہرہ اجنبی ہے مگر زندگی

آج کا دن Read More »

زندگی کے درمیان

جب زندگی کے درمیا ن راستے ختم ہوھوگئے تو ہم نے سوچا، ایک ایسی رات آراستہ کی جائے جسکی مشرقتی دیوار پر سورج کبھی طلوع کہ ہو خوشبو کی بہتی جھیل میں جب ہم نے اپنے پاوں رکھے تو چاند اور ستارے ہمارے ہمراہ تھے پرندوں کی اجلی آوازیں تنہائی کی چادر پرلکھے گم شدہ

زندگی کے درمیان Read More »

نیاسال

ایک ایسی گہری رات کے بعد طلوع ہونے ہوالی نئے سال کی صبح کیسی ہوگی جب آگہی جرم بن چکی ہے جب الفت و محبت میں ڈوبے ہوئے لمحے وقت کی ٹوٹی ہوئی کرچیوں میں خون آلودہ پڑے ہیں اور وقت کی بے وفائی بے دام ہوچکی ہے آدمی اپنے انسان ہوئے کے احساس سےمحروم

نیاسال Read More »

جسم کی جلتی دھوپ

اب جینے کے کئی معنی ہیں یہاں پہنچنے تک ہم نے کئی زخم  اٹھائے ایک ایسی دھوپ عبور کی جسکی جلتی آگ میں اڑتے پرندے بھی پگھل رہے تھے تم سنگھار کرنا چاہتی ہو اپنا روپ ، اپنی خوشبو، اپنی آواز اور قدموں کی چاپ سب کچھ میرے حوالے کردینا چاہتی ہو سفر کی دھوپ

جسم کی جلتی دھوپ Read More »

شام کے کنارے پر

ایک جنگل پرندوں کی آواز سے محروم ہے ایک آواز ہاتھوں سے بار بار گرتی ہے ایک لڑکی جو شام کے کنارے اکیلی ہے ان سب سے اوپر جلتا سورج ہے مسافر اپنا سامان درست کر رہا ہے بہت سی چیزیں اور خواب جو کسی نے اس کے اسباب میں چپکے سے رکھ دئے تھے

شام کے کنارے پر Read More »

خواب ۔۔۔۔۔۔ امن کے شہر کا

کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارے چہرے اصلی نہیں ان پر نقابیں ہیں اور ہم نے اپنے جسموں کی دیوار کے پیچھے تعویز چھپا رکھے ہیِں وہ ہمارے سروں پر بیٹھنے والے خوبصورت پرنددوں سے جلتے ہیں وہ  ہماری کہانیوں میں رقص کرتے کرداروں سے نفرت کرتے ہیں وہ چاھتے ہیں کہ ہم اپنی کہانیوں

خواب ۔۔۔۔۔۔ امن کے شہر کا Read More »

سیلاب میں

وقت اپنے موسم بدل رہا ہے تمہیں چھوتے ہوئے لمحے خواب بن جاتے ہیں اور میں تمہارے ایک ایک لمس کو جوڑ کر تمہیں مکمل کر دینا چاھتا ہوں مگر تمہیں چھونے والے میرے ہاتھ بے اثر ہوگئے ہیں تمہاری آنکھیں پرسات کی طرح برس رہی ہیں اور میرے بوسور کی برمیاں تمہیں جوڑ نہیں

سیلاب میں Read More »

شعلہ بدن اور شبنمی لباس

ہم سمندر کو چھونے کی خواہش میں آہستہ آہستہ اندھرے میں اترتے جارہے ہیں میری نیند ایک نئی زندگی کے خواب کی طرح جاگتی ہے یہ سب کچھ حقیقت سے زیادہ خوبصورت ہے ایک بڑا سا گھر جس کی کھڑکی سے جھانکتی ہوئی تم میری واپسی کا انتظار کرتی ہو اور پھر تمہاری آواز مجھے

شعلہ بدن اور شبنمی لباس Read More »

اندر کا چراغ

تم اپنے سفر میں ہو کہ خواہشیں تمہیں رنگ برنگے غباروں کی طرح اڑتی ہوئی محسوس ہوتیں ہیں تم انہیں چھونے کے لئے آگے بڑھتی ہو اور سرابوں کو اوڑھ لیتی ہو تم دائروں میں قید ہو تمہاری نیکی  اور تمہارا چہرہ جھوٹ کے خلاف ہے اور زخمی ہے تم اپنی راہ الگ تراش رہی

اندر کا چراغ Read More »

گڑیا کی نیند

ایس نظروں سےتم مجھے دیکھتی ہو کہ تم مجھے دوبارہ زندگی سے جوڑ دیتی ہو یہ تمہارا کھیل ہے مگر میں روز تمہارے ہاتھوں سے جوڑے جانا پسند کر تا ہوں اور پھر تم مسکرا دیتی ہو تو خوشبو ہمیں گھیر لیتی ہے تم سمندر کی طرح پرجوش ہو مگر کنارے پر رکی رہتی ہو

گڑیا کی نیند Read More »

ہمیں رہائی ملے

اس کے خدوخال میرے جسم کی حرارتوں میں لکھ دیے گئے حیرتوں کی چار دیواری سے دور پرندوں کی آوازوں کے ہمراہ طلوع ہونے والی صبح جہاں گہری نیند میں دیکھے جانے والے خواب ہمیشہ ٹوٹ جاتے ہیں ایک احساس بے کنار آسمانوں کی سمت پھیل  رہا تھا خواب کی بے چین نیند سے جاگ

ہمیں رہائی ملے Read More »

محبت کے موسم میں

میں محبت کے اس موسم میں مرنا چاھتا ہوں جب درختوں پر پھول کھل رہے ہوں تمہارا وجود پھیگی بارش کی طرح قطرہ قطرہ میرے پیاسے جسم میں جذب ہورہا ہو تصویر کے اس  منظر   میں (میں چاھتا ہوں تم میرے لئے موت کا جام تجویز کرو محبت سے شرابور خواب آلودہ جسموں کے

محبت کے موسم میں Read More »

تم نہیں لوٹ سکتیں

تم نے مچھے مایوس  کیا ہے میں جانتا ہوں تم ایک بیمار معاشرے کی انا پرست لڑکی ہو جو چیت کے دوڑ میں ہار جاتی ہے تو پھر وقت کے ہر گزرتے لمحے کو اترن سمجھنے لگتی ہے زندگی ایک کھیل ہے ، جس کے ایک طرف رنگ ہیں، خوشیاں ہیں اور دوسری سمت پھیلے

تم نہیں لوٹ سکتیں Read More »

عمر کی بوڑھی لکیریں

ہم گرنے سے تو بچ گئے ہیں مگر ساحل کا کنارہ سمندر میں ڈوب گیا اور چلے ہو ئے ستاروں کی راکھ مٹی کا ڈھیر بن چکی ہے بس دکھ کی ایک لہر ہے اس پار جنگل ہے اور اوپر سیاہ آسمان ہے مگر ہماری دنیا تو دیوار کے اس طرف ہے ہم جذبوں کی

عمر کی بوڑھی لکیریں Read More »

جسم کشتی بن گئے

جب رات کے آخری پہر سارا بدن جلنے لگتا ہے تو میرے ہاتھ تمہیں بنانے لگتے ہیں بستر پر تمہارا بدن پھیل جاتا ہے سمندر کی طرح بے کتار اور پھر خوشبو بکھر جاتی ہے مگر یہ تو رات کی کہانی ہے جب میرے ہاتھ تمہارے جسم پر تیرتے ہیں تو کئی کشتیاں ابھرتی ہیں

جسم کشتی بن گئے Read More »

وہ مجھے دیکھتی ہے

میری بانہوں میں اس کا چہرہ پگھل جاتا ہے اور وہ یوں مجھے دیکھتی ہے کہ کہیں اس کے خواب ٹوٹ نہ جائیں اس کے ہاتھ لہولہاں نہ ہو جائیں اس کی پیاس ادھوری نہ رہ جائے مگر میں کناروں تک پھیلا ہوا آسماں ہوں جو اس کی پیشانی کو چوم کر سمندر بن جاتا

وہ مجھے دیکھتی ہے Read More »

ابابیلیں اڑ رہی ہیں

صرف تمہارا چہرہ ہے جو میرے جسم سے جوڑ دیا گیا ہے مگر میرے ہاتھ خالی ہیں زندگی کے ویران راستوں پر ابابیلیں اڑ رہی ہیں ہر پتھر تمہارا چہرہ ہے جو جلتے ہوئے سورج کی طرح پگھل رہا ہے آوازوں کے شور کو خاموشی کے کوزے میں بند کر دیا گیا ہے جہاں تم

ابابیلیں اڑ رہی ہیں Read More »

کہانی جو لکھی نہیں جا سکتی

ہم ایک ایسی کہانی میں موجود ہیں جو لکھی نہیں جاسکتی بس ہمارے ہونٹ ہیں جو اپنی سرگوشیوں میں ایک ایک لمحے کو تازہ پھول بنا رہے ہیں مگر جب بھی کوئی لمحہ جگنو بن کر چمکتا ہے تو ہم اپنے جسموں کی دیوار کے پیچھے کسی اجنبی چو رکی طرح چھپ جاتے ہیں جیسے

کہانی جو لکھی نہیں جا سکتی Read More »

وعدوں کی کتاب

ہم جلتے سورج کی طرح ہیں جسے اندھیرے کی تلوار کاٹ رہی ہے ہم سوچتے ہیں اور اپنے جسموں کو دیوار کی طرح ملانے کی کوشش کرتے ہیں مگر وقت ملتے نہیں دیتا طاق میں رکھے سوکھے پھولوں کی طرح ہم تازیگی کو ترس رہے ہیں اور پتی پتی بکھر رہے ہیں ڈالی سے ٹوٹےہوئے

وعدوں کی کتاب Read More »

تمہاری دہلیز پر

ایک شیش محل ہے اور بے شمار آنکھوں میں صرف تمہاری آنکھیں مجھے یاد ہیں میں کس طرح کسی ایسے لمحے کو بھول سکتا ہوں جسے تم نے میرے ساتھ میرے لیئے دیکھا تھا ڈر لگتا ہے کہ کہیں تنہائیوں کے سیاہ خوف سے تم ان یادوں کو کسی دیوار میں نہ چن دو اگر

تمہاری دہلیز پر Read More »

اجنبی بننےسے پہلے

ہماری روحیں دو مختلف جسموں میں ہیں اور ہم بارش کی دیوار کے نیچے پیاسےہیں تم افق کی طرح رنگ دار ہو اور میں ایک تیز خواب آور زہر میں ڈوبا ہوں اور یوں تمہاری طرف بڑھ رہا ہوں جیسے کوئی آگ میر اپیچھا کررہی ہو ہوا کے تیز طوفان میں ہم زیادہ دیر یکجا

اجنبی بننےسے پہلے Read More »

پتنگ کے فاصلے

یوں لگتا ہے ایک خواب تیزی سے گزرتا جا رہاہے ہم ایک دوسرے کو کھو چکے ہیں اور ہمارے درمیان فاصلے اتنے گہرے ہیں کہ کئی سورج اس میں ڈوبتے اور ابھرتے ہیں تم اپنا چہرہ کھو چکی ہو میں کس طرح تم تک پہونچوں کہ کٹی پتنگ کی طرح میں اپنی سمت کھو چکا

پتنگ کے فاصلے Read More »

بارش ہورہی ہے

یہ ایک سنسنی خیز لمحہ ہے ہم میں سے کوئی بھی ہاتھ چھڑا نہیں سکتا تمہاری بدن کی طرف میرے ہاتھ بہتے پانیوں کی طرح اترتے ہیں اور ایک لمحے کی دیر نہیں ہوتی کہ تیز روشنی ہمیں پکڑ لیتی ہے اب ہم چیختی آوازوں کے درمیاں ہیں کالی راتوں میں تیز ہواوں کا شور

بارش ہورہی ہے Read More »

ہونٹوں کو چوم کر

یہ لمحہ جو ہماری دھڑکن سے دور تھا برف کی دیوار کی طرح تھا آسمان کاغذ کا بن گیا تھا اور سورج ایک جلتی ہوئی دعا ہم کٹ رہے تھے اور جسم کے ہر حصے کو جوڑ رہے تھے گلاب کو شاخ پر رکھ رہے تھے اور ہونٹوں کو چوم کر محبت کا وعدہ کر

ہونٹوں کو چوم کر Read More »

سیا ہ موسموں کا دروازہ

سیاہ موسموں سے زندگی کو چرانا پڑتا ہے مگر کتنے برس اور ہم یہ طوق گلے میں ڈالیں گے کو ئی آھٹ بلند نہیں ہوتی کوئی جھونکا خوشبو نہیں بنتا جسم کو کاٹتا ایک دریا بہتا ہے یہ وہ دعا نہیں جو پوری ہوئی سلگتے جسموں سے جلتے جہنم تک زندگی سیاہ موسموں کا دروازہ

سیا ہ موسموں کا دروازہ Read More »

نیا موسم

خواب کا دروازہ کھلاہے اب ہم پھول ہیں بکھرے رنگ ناچتی خوشبوئیں ہمارے بدن پر اترچکی ہیں گلے میں نئے دن کی مالا ہے اور آنکھیں یوں روشن ہیں جیسے سورج سامنے ہو خوابو ں کی دہلیز پر اب کوئی سیا ہ موسم نہیں ہے

نیا موسم Read More »

زندہ لمس کی خواہش

شاید وہ کئی ٹکڑوں میں بانٹ دی گئی ہے اندھیرے میں چمکتے سفید دانت او رسرخ زبان جب اس کے وجود کے سونے میں اترتے ہیں تو وہ ناپاک ہو جاتی ہے دل سے دماغ تک کئی جزیرے بپھری لہروں میں ڈوب جاتے ہیں اور اسے ڈر لگتا ہے وہ ہاتھ اونچے کرتی ہے مگر

زندہ لمس کی خواہش Read More »

وقت ٹوٹ گیا ہے

ہم آگ روشنی کے لئے لائے تھے ایک درخت کی اونچائی سے ہم نے زمین کو ڈوبتے دیکھا اب درخت سونا بن کر پگھل رہے ہیں اور ہم چہرہ بنا رہے ہیں کاش ہم نے دل بھی بنایا ہوتا وہ لڑکی جس کے ہاتھ پر ہر رات ایک پھول کھلتا ہے وہ کیوں اپنے ہاتھ

وقت ٹوٹ گیا ہے Read More »

جنگل کی راکھ

وہ ایک دوراہے پر کھڑی ہے ایک طرف بوڑھا ہاتھ ہے جو چاھتا ہے کہ وہ رات بن کر اس کے جاگتے بدن پر ٹوٹ پڑے دوسری طرف آسمان پر امنگیں اپنے خوش رنگ پر پھیلائے اڑ رہی ہیں اور وہ ایک بے کنار پرواز چاہتی ہے مگر اس کے پاس بیھٹا ہو ا بوڑھا

جنگل کی راکھ Read More »

ایک درخت کے نیچے

ایک درخت کے نیچے وہ دو جسم تھے مختلف سایوں اور آوازوں کے درمیان انہوں نے ایک خواب دیکھا تھا مگر روشنی کی آنکھیں ان کی دشمن تھیں دو سائے ہمیشہ ایک دوسرے کے تعاقب میں خود کو ہار جاتے ہیں ایک درخت کے نیچے وقت پگھلتا رہا نہوں نے چاہا کہ سورج کو زمین

ایک درخت کے نیچے Read More »

رات کا آخری پہر

ایک ساز ہے مگر آواز نہیں ایک چہرہ ہے مگر عبارت نہیں ایک اترتی ہوئی رات ہے مگر کوئی دیا نہیں صرف آنکھیں ہیں جو ایک بے وفا کے پاس گروی ہیں اور دو دلوں کے بیچ ایک بند دروازہ ہے جسے کوئی روز رات کے آخری پہر کھولتا ہے اور سناٹوں کو آواز سے

رات کا آخری پہر Read More »

Scroll to Top