خاموش فلم

وہ ایک خاموش فلم تھی

اس کے کردار جیسے نیند میں چل رہے تھے

میں دیر تک ندی کنارے بیٹھتاسوچ رہا تھا

کنکر پانی میں گر کر دائرہ بنا رہا تھا

ایک دائرے کے پیچھے کئی دائرے

زندگی پرانی گھڑی میں رکی ہوئی تھی

زور زوو سے ہلانے پر اس کے کانٹے چل پڑتے

مگر آگے جا  کر رک جاتے

اور کتنا دور چلنا ہے

زندگی کے  اس بوجھ کو اٹھا کر

کتنے  دکھ

کتنے راز

اور کتنی کہانیاں ہیں

زندگی کی اس گٹھری میں بندھی ہوئی

جیسے خاموش فلم میں

ایک فریم سے کئی فریم تک

منظرساکت رہتا ہے

مکڑی کے جال سے نکل نہیں پاتا

اکمل نوید

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Scroll to Top