ہم نوحہ گر ہیں

ہم نوحہ گر ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زمین پر بوچھ بڑھ گیا ہے، چمکتی روشنیوں کے پیچھے ہم سب کچھ نہیں چھپا سکتے، مگر دکھ تو آنسووں کے سیلاب میں بہتا جارہاہے۔
ہم نوحہ گر ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
جب گولیوں کی آوازیں ہر طرف گونجتی ہیں ، تو آسمان پرندوں کی آوازوں سے خالی ہوجاتا ہے۔ وہ شہر جو سماجی و سیاسی شعور کا نمائندہ تھا۔ عفریتوں میں گر ا ہوا ہے۔زندگی کا غازہ ہر چہرے سے اتر گیا ہے، بڑھتے ہوئے سیلاب کے سامنے شہر کا وجود شکستہ دیئے کی طرح بجھ رہا ہے۔
ہم نوحہ گر ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
کہ ہمارے گھر مقتل بنادیئے گئے ہیں، لوگ زندگی کا مول بھول چکے ہیں۔ ہماری آنکھیں پتھرا گئی ہیں ، ہم سیاہ آوازوں کو سن تو سکتے ہیں مگر کسی کو گرنے سے بچا نے کے لئے قدم آگے نہیں بڑھا سکتے۔ ہم کسی آسیب کی گرفت میں ہیں، اور منتظر ہیں کہ کوئی ایک ہاتھ ایسا بلند ہو جو سچ کا رفیق بن سکے، جو آئینے پر ٹھٹھرے ہوئے لہو رنگ منظر کو توڑ کر ہمیں آزاد کراسکے۔
ہم نوحہ گر ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
کہ زندہ آوازیں شور سے الگ کردی گئی ہیں، کتنے ہی دروازوں پر خونخوار دستک ابھرتی ہے اور درندے زندگی کی کتا ب پھاڑ ڈالتے ہیں۔
ہم نوحہ گر ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
کہ شہر کے سارے چہرے جل گئے ہیں، امن کے سارے دروازے توڑ ے جاچکے ہیں ۔ اورقاتل ہاتھ اپنی آزادیوں کا جشن منا رہے ہیں۔
ہم نوحہ گر ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *