Tag Archives: anwer7star

سر سبز درخت کی لاش

سرکاری جنگل سے چوری کیا گیا
وہ درخت زمین پر ٹوٹا پڑا ہے
شاید اپنی زندگی کو بچانے کی
اس کی یہ آخری کوشش تھی
ٹرک پر بندھے بہت سے کٹے پھٹے درختو ں میں سے
اس نے جرات کی
اور اپنے وجود سے لپٹتی
آہنی زنجیروں کو توڑ کر
خود کو زمین پر گرالیا
ٹرک ڈورتا ہوا
دھول آڑاتی گرد میں گم ہو گیا
زخمی درخت کی آخری سانسس
ایک چیخ کی طرح ہر طرف گونج رہی ہے
مگر صرف ہوا ،اس کے درد سے گوش گزار ہے
جلتے سورج کو ۔۔۔۔
غم میں ڈوبی اس دھندلی ہوا نے چھپا لیا
درخت کی سرسبز شاخوں کو دیکھ کر
چند بکریاں اسے چرنے کےلئے قریب آگیں
درخت کی آخری سانسس کے ٹوٹتے ہی
بکریوں نے اس کی سر سبز شاخوں
اور ہرے پتوں کو چر نا شروع کردیا
درخت کو آتشدان میں جھونکا جانا قبول نہیں تھا
آتشدان کی آگ میں جلنا
اور سلگتے سلگتے راکھ بن جا نا ، کتنا فضول تھا
اس نے سوچا ۔۔
کو ئی اس کی لکڑی کے ٹکڑوں کو تراش کر
کاٹھ کے کھلونے ہی بنا دے
جسے بچے اپنے ننھے ننھے ہاتھوں میں لے کر کھیلیں
مگر سڑک کے کنارے پڑا
یہ درخت
جسکے ہرے اور سرسبز پتوں کو بکریا ں چر رہیں ہیں
دور ۔۔۔۔۔۔ دیمک کے کیڑے
تیزی سے اس کی طرف بڑھ رہے ہیں
تاکہ اس کے جسم میں باقی رہ جانے والی ہر خواہش کو
ریزہ ریزہ کرکے
ہوا میں بکھر دیں

شب و روز کی گردش سے گزرتا ہو ایہ سال

شب و روز کی گردش سے گزرتا ہو ایہ سال
آج نجانے کیو ں سانپ کی طرح رینگ رہا ہے
اس کی زہر بھری پھنکار سے میرے تازہ خوابوں فصل جل چکی ہے
زخم آلودہ جسم
لمس کی خواہش لئے آہٹوں کی دھند میں کہیں گم ہو چکا ہے
سورج کالی آندھیوں کی گرفت میں اپنی گرم روشنی کھوتا جارہا ہے
ایک اندھیرا گم راہ تیر کی طرح میر ے دل کی جانب محو پرواز ہے
اس سے پہلے کہ دشمن مجھے گھائل کردے
میری آنکھوں کی خالی جھیل سے ایک بے نام سی روشنی چشمہ بن کر پھوٹنے لگی ہے
اس کے بڑھتے ہوئے قدموں کی آھٹ پر
دل کے سدا بند رہنے والے دروازے
دوستوں کی بانہوں کی طرح وا ہوتے جارہے ہیں
میرا دل  اب امید کے چراغ سے روشن ہے
شاید گزرتے ہوئے اس بے ثمر سال کے بعد
سیاہ بادلوںکو جگمکاتے ستاروں سے آویزاں کر دیا  جائے
! اور ایک ننھی بے نام سی روشنی سورج کی کرن کو تھام کر سارے منظر کو روشن کردے