قائد تحریک الطاف حسین کی تصنیف “فلسفہ محبت”کی تقریب رونمائی

رابطہ کمیٹی ،متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کی جانب سے   30 نومبر 2013  کی شام  قائد تحریک الطاف حسین کی تصنیف “فلسفہ محبت”  کی تقریب رونمائی مارکی ہال ، پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کراچی  میں منعقد کی گئی۔ قیام پاکستان کی تحریک کے نتیجے میں اس  خطہ عرض پر  انسانوں کی  سب سے بڑی ہجرت عمل میں آئی،  آزادی کے اس سفر میں  ،  مالی  وجانی قربانیوں کے بعد  جب لٹے پٹے  قافلے کی صورت  پاکستان  پہچنے والوں کو مہاجرین کا لقب دیا گیا  اور بد نصیبی سے  وہ آج بھی  مہاجرین کے لقب سے  پکارے جاتے ہیں ۔ ایم کیو ایم   ان ہی لاکھوں مہاجرین کی نمائندہ جماعت ہونے کی دعوے دار ہے، جو حقیقتاَ درست دکھائی دیتا ہے۔

الطاف حسین  17 ستمبر 1953  کوکراچی کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے، انہوں نے اپنی عملی سیاست کا آغاز جامعہ کراچی، اپنے دور طالب علمی سے کیا ، انہو ں نے مہاجر طلبہ کو منظم کرکے  11 جون 1978 کو  پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس  آرگنائزیشن کی بنیاد رکھی۔جو اپنی  بڑھتی ہوئی مقبولیت  کے باعث   دوسری طالبہ تنظیموں کا نشانہ بننے لگی۔

مارچ 1984ء کو ایم کیو ایم کے قیام کا اعلان ہوا۔ 1984ء میں  جب کراچی میں لسانی فسادات کا آغاز ہوا تو ایم کیو ایم ایک بڑی سیاسی  جماعت کے طور پر ابھری ۔ اس دور سے آج تک ہونے والے تمام انتخابات میں کراچی سمیت سندھ کے دوسرے علاقوں میں مہاجر آبادی والے علاقوں میں ایم کیو ایم کے امیدوار کامیاب ہوتے ہیں۔

جولائی 1997 میں ایم کیو ایم کا نام مہاجر قومی مومنٹ سے تبدیل کرکے متحدہ قومی مومنٹ رکھا گیا۔ اور صرف مہاجر سیاست سے ہٹ کر تمام مظلوم طبقوںکی یکجہتی  کے پیغام کو فروغ دیا گیا ۔ اس بات کے برعکس کہ الطاف حسین کو پاکستانی سیاست کی ایک متنازعہ شخصیت  کہا جاتا ہے  اس حقیقت کو بھی  نظر انداز کرنا ممکن نہیں کہ ان کے چاہنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔

مذکورہ سطور میں   جہا ں  ایک طرف الطاف حسین کی شخصیت کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے ، تو دوسری   طرف  اس حقیقت  کا بھی انکار ممکن نہیں کہ لاکھوں  دلوں میں ڈھرکتے ہوئے ان کی کردار کے مقناطیسی تاثر کا مکمل احاطہ کرنا مشکل ہے۔

 متحدہ موومنٹ  کے کارکنا ں کے لئے منعقدہ فکری نششت کے دوران سال  2003  میں جناب الطاف حسین نے اپنا  ایک فکر انگیز لیکچر   فلسفہء محبت  کے عنوان  سے دیا جو دنیا کا  سب سے زیادہ اہم ، ہمہ گیر  موضوع  ہے مگر اسے ہمیشہ  تہہ در تہہ   خاموشییوں میں لپیٹ  کر رکھا گیا۔مگر آج  جناب الطا ف حیسن کی یہ  کتاب اپنے قا رئین  کو “محبت ” کے اصل معنی و مفہوم اور اس کی حقیقت کو سمجھنے اور ان کے ذہنوں کے دریچے کھولنے میں معاون و مددگار  ثابت ہو گی۔

Spread the love

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Scroll to Top