زندگی كو میری قبر كا پتہ بتانا ہوگا

 

زندگی كو میری قبر كا پتہ بتانا ہوگا میں جب بهی پلٹ کردیكهتا ہوں وه بہشت كی طرف سے منہ موڑ كر مجھے اپنی سمت آتی دكهائی دیتی ہے میں جو ایك بوسیده شہر كی گمشدہ کہانی ہوں پرانے شہر کی گرد آلودہ گلیاں میرے سامنے کھلی پڑی ہیں ٹوٹے ہوئے کاسہ میں زندگی کی بکھری ہوئی سانسس دم توڑ رہی ہیں وہ میرے قریب آتی ہے اس کی آنکھوں سے بہتا ہوا امرت بھی مجھے شفا نہیں دیتا پرانے شہر پر گزری ہر قیامت میرے اندر شور مچا رہی ہے دھول اور بوسیدگی اوڑھے ہوئے میرایہ شہر، جس کی گلیوں میں ڈورتی زندگی میرے اندر بسی ہوئی ہے میں دو ٹکروں میں تقسیم ہو ں جسکے بیچوں بیچ ، اورنج ٹرین شور مچاتی ہو ئی گزرتی ہے دور چمکتے ہوئے برقی قمقموںکی روشنی نئے شہر کا پتہ دے رہی ہے
پرانی گلیوں اور محلوں کے کھنڈرات پر تارکول بچھادیا گیاہے اور اس پر ڈورتی میٹرو بسوں کی کھڑکیوں سے جھانکھتے ہوئے چہروں پرکہانی گم ہوچکی ہے ایک ٹائم ٹیبل تمام لوگوں کی گھڑیوں کی ٹک ٹک سے ساتھ بندھا ہوا ہے انہیں اپنے آباواجدد کے مدفوں شہر کی آوازیں سنائی نہیں دیتی ميں بھی ۔۔۔۔۔ اور نہ جانے کتنے چہرے تنہائی کی صلیبوں پر زندہ ہیں ایک تلاش ان کے چہروں پر جاگ رہی ہے اس نئے شہر کی ایک گمنام گلی میں میں ایک بند کمرہ میں قید ہوں تمام شہر اندھیرے کی چادر اوڑھے سو رہا ہے اور میں پرانے شہر کی تلاش میں ایک سرنگ کھود رہا ہوں جو خون کی رگوں کی طرح مجھے زندگی کی خوشیوں کا پتہ دے گی تاکہ میں اپنی اور اپنے اجداد کی قبروں کا پتہ ڈھونڈ سکوں

اکمل نوید http://www.anwer7star.com/بازیافت

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *