میرے لئے وقت ختم ہو چکا ہے
بس چند سیٹرھیاں اور چڑھنی ہے
پہاڑ کے اس پار اندھیرے کی قید میں جا نے سے پہلے
میں اس سارے ماحول کو اپنی چیخ سے بھرنا چاھتا ہوں
میرا سامان باندھا رکھا ہے
مگر مجھے اپنی محبت کو پیچھے چھوڑنا ہے
میرے سامان میں کچھ نہیں
ایک مٹے ہوئے گم شدہ چہرے کے علاوہ
اپنی زندگی کے اس آخری دن
میں بہت سے لوگوں کے درمیاں ہوں
میری آواز پر کوئی پلٹ کر نہیں دیکھ رہا ہے
میرے بچین کے دوست سامنے ٹیبل پر بیٹھے تاش کھیل رہے ہیں
ان کے چہرے گزرے وقت کے بوجھ سے کچلے ہوئے ہیں
پہلے بھی کئی لوگ جا چکے ہیں
اور اب میرے قدم بھی اندھیرے کی طرف بڑھ رہے ہیں
میرے لئے وقت کا کھیل ختم ہو چکا ہے
