فوزیہ قصوری کی تحریک انصاف سے علیحدگی ۔۔ ایک لمحہ فکریہ

تحریک انصاف سے میر ی وابستگی ” نئے پاکستان” کے حوالے سے استوار ہوئی، آج نئے پاکستان کا تصور لوگوں کے دلوں میں رچ بس گیا ہے، میرے خیال میں تحریک انصاف کی منزل نیا پاکستان ہے۔

لوگ الیکشن 2013 کے نتائج سے دل برداشتہ نہیں ہوئے ہیں، ان کے حوصلے بلند ہیں اور وہ منزل کی طرف گامزن ہیں ، انہیں معلوم ہے کہ منزل تک پہچنے کے لئے ابھی بہت مسافت طے کرنا باقی ہے۔ 

تحریک انصاف نے اپنی 17 سالہ جدوجہد کے ذریعے لوگوں کی عمومی رائے کو متاثر کیا، خصوصا” ملک کا وہ نوجوان طبقہ جو پہلی بار ووٹ کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کررہا تھا ، انہوں نے عمران خان کی تبدیلی کی آواز پر لبیک کہا اور لوگوں کا ہجوم پر عزم کارواں کی صورت اختیار کر گیا۔

اس سارے عمل میں ، احتیاط کے تمام تر لوازمات کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا جو کہ وقت کا اہم تقاضہ تھا ، لوگوں کی بھیڑ کے لئے کارواں کے دروازے کھول دئے گئے ، دل صاف تھے ، اور ایک ہی نعرہ گونج رہا تھا کہ تبدیلی کے لئے ووٹ دیں۔ مگراس بات کا خیال نہیں رکھا گیا کہ ایک مچھلی سارے تالاب کا پانی گندا کرسکتی ہے۔

فوزیہ قصوری کی تحریک انصاف سے علیحدگی کو لوگ اہمیت دے رہے ہیں اور یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ، اس سے پہلے ڈاکٹر شیریں مزاری بھی اس سارے عمل سے گزر چکی ہیں۔ فوزیہ قصوری کی تحریک انصاف سے علیحدگی ، جسم سے اعضا کو الگ کردینے کے مترادف ہوگی، اور ان کا یہ عمل لوگوں کی رائے کو متاثر کرسکتا ہے۔

میری دعا ہے کہ تحریک انصاف ، نئے پاکستان کی منزل تک ضرور پہنچے ، مگر ا س کے لئے ضرور ی ہے کہ تحریک کے بنیادی اجزا ایک دوسرے سے مربوط رہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *