یہ جنگل ہے

یہ جنگل ہے
اور ڈور تے ہوئے
میرے پاؤں زخمی ہوچکے ہیں
میں سمتوں کا گمان کھو چکا ہوں
اور کسی آہٹ کی طرف ڈورتا ہوں
میں لہولہان ہوں
اور کسی بھی لمحے آزادی کی خواہش سے ٹوٹ سکتاہوں
یہ جنگل جو پہلے پرندوں کی آوازوں سے بھرا تھا
اب خاموشی کی سزا کاٹ رہا ہے
کوئی سرسراتی ہوا نہیں گزر رہی ہے
جو کسی احساس کو جنم دے
میری آنکھیں پتھرا گئی ہیں

One thought on “یہ جنگل ہے”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *