غیر تخلیقی لمحوں کا درد

یہ لمحے جو گزررہے ہیں،مجھے ایک درد سے دوچار کررہے ہیں

میں اپنے دل کی ڈھرکنوں کو لفظوں سے جوڑکر

ایک ایسا آھنگ بنا نا چاھتا ہوں

جو میرے ساتھ دور تک چلے

تنہائیوں کی قید سے باہر

سورج کو دیکھتے ہوئے

اپنے اندر پھیلتے اندھیروں سے  میں ڈر رہا  ہوں

کتنا بڑا عرصہ بیت گیا

مگر میں  وہ لفظ نہیں کہہ سکا

جس کے پیچھے کوئی تخلیق کا ر فرما ہو

اتنی گہری خاموشی کے پیچھے

صرف اجبنی آنکھیں ہیں

جو وہ لفظ سننا چاھتی ہیں

جو ہاتھ کی ہیتھلی پر  بجھے ہو دئے

کو روشن کر سکے

ان غیر تخلیقی لمحوں میں

درد ہی میرا ساتھی ہے

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *