جسم کی جلتی دھوپ

اب جینے کے کئی معنی ہیں
یہاں پہنچنے تک ہم نے کئی زخم  اٹھائے
ایک ایسی دھوپ عبور کی جسکی جلتی آگ میں
اڑتے پرندے بھی پگھل رہے تھے
تم سنگھار کرنا چاہتی ہو
اپنا روپ ، اپنی خوشبو، اپنی آواز
اور قدموں کی چاپ
سب کچھ میرے حوالے کردینا چاہتی ہو
سفر کی دھوپ سے ابھی تک ہمارے چہرے جھلسے ہوئے ہِیں
ہواوں کے سائے تلے  ہم اپنے جسموں کی کتھا لکھ رہے ہیں
جدائی کے ایک ایک پل کو اپنے جسموں سے اتار کر پھنک رہے ہیں
میں تمہیں ایک نئے روپ میں دیکھ رہا ہوں
ان دیکھی چاہتوں کو اپنے بد ن سے لیٹے تم میری طرف بڑھ رہی ہو
اور جب ہمارے جسموں کے اندر
روشنیاں جلنے لگتی ہیں
ہم نئے سفر کی اور بڑھنے لگتے ہیں

One thought on “جسم کی جلتی دھوپ”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *