اے محرم تو سرخرور ہے سدا

سیاہ آسماں پر پھیلے  لہو رنگ پرچم تلے
قافلے صدیوں سے ہیں سچ کے سفر پر رواں
سر ان کے پڑے ہیں سجدوں میں کٹے ہوئے
بریدہ جسم ہیں ان کے خوشبو سے مہکے ہوئے
برف جیسے شعلے جلے ہوئے خیمو ں سے ہیں  لپٹے ہوئے
آسمانوں سے لگی پر نم چشم کے سامنے
ڈوب چکی ہے دریاؤں کی روانی بھی پیاس میں
پاتال سے باندھ کر وقت کی رفتار کو
رقص بسمل ہوا ہے ہر طرف بپا
ظلم کو ہمیشہ کے لئے
دفنا دیا ہے گمنامی کی قبروں میں
اے محرم تو سرخرو ر ہے سدا
کہ تری ہر شہادت
موسم گل کا پیرھن دے گئی
بے گناہ کی موت کو

One thought on “اے محرم تو سرخرور ہے سدا”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *