ایک تصویر بناؤں

اس سے پہلے کہ زمین کھسک جاتی
میں نے کیوں نہ آسمان کا کنارہ تھام لیا
میں نے خود کو جلا دیا
اور چاہ کہ اپنی انگلیوں کو رنگ میں ڈوبو کر
ایک تصویر بناؤں
شام کے اجالے کی
مگر تصویر کے رنگوں میں
اب صرف سائے ہیں
تمہاری محبت سدا بہار موسم کی طرح ہے
مگر میں خود کیوں تقسیم ہو رہا ہوں
تم آسمان کا کنارہ ہو
اور میں گرنے سے پہلے
تمہاری گرفت میں آنا چاہتا ہوں
محبت کے لئے
مگر کچھ اور بھی ہے
میرے دل کے اندھیرے میں
اپنی خواہشوں کا جال پھلائے
میں منتظر ہوں
کہ تم دام میں آجاؤ
تم میرے لئے
ہر لمحہ زندگی اور فنا کے درمیاں
محبت کی ایک تصویر کی طرح نمایا ں ہو
جسکے رنگوں میں زندگی کا اجالا ہے

One thought on “ایک تصویر بناؤں”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *