اسکے خال وخد

اسکے خال و خد میرے جسم کی حراتو ں میں لکھ دئے گئے
حیرتوں کی چار دیواری سے دور
پرندوں کی آوازوں کے ہمراہ طلوع ہونے والی صبح
جہاں گہری نیند میں دیکھے جانے والے خواب ہمیشہ ٹوٹ جاتے ہیں
ایک احساس بے کنار آسمانوں کی سمت پھیل رہا تھا
خواب کی بے چین نیند سے جاگ کر اس کا سایہ
میری روح کی ویرانی کو چھو گیا
میرے ہاتھ مٹی کے بدن کو سانچوں میں ڈھال رہے تھے
اس کے وجود کو میں نے کتنی ہی تصویروں میں دیکھا
مگر اس کے ہونے کا احساس سورج کی تیز روشنی میں جل رہا تھا
تب ہم نے اپنی قربتوں کے نشہ میں ڈوبی شراب سے
ہونٹوں کی پیاس بجھائی
تاکہ عکس در عکس
جنموں تک پھیلی
آوارگی کی بے خواب نیند کے سراب سے
ہمیں رہائی ملے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *