آج تھرکی صحرائی زندگی کے لئے ہمیں جاگنا ہو گا

aaaabbbbccc

صدیو ں سے تھر کی تپتی ریت پر
مور اپنےرقص کرتے رنگوں کو
قوس و قزح کی صورت زمین پر بکھر رہے ہیں
آج حد نظر تک
کوئی بھی پرندہ آسمان کی وسعتوں کو چھوتا نظر نہیں آ رہا ہے
زیست کی نمی
پاتال کی گہرائیوں میں کہیں چھپ گئی ہے
جہاں تک پہنچتے پہنچتے
درختوں کی صدیوں تک پھیلی جڑیں
اپنا وجود کھو تی جارہی ہیں
تپتے صحرا میں نمو پاتی زندگی
گہرے رنگوں کے آنچلوں کے پیچھے خاموش ہے
گہری کالی آنکھیں آج خود سے بہت ناراض ہیں
ان کے لب سلے ہوئے ہیں
کوئی بھی چیخ شکوہ بن کر ان کے ہونٹوں سےنہیں گرتی
ماؤں کی بھوکی کوکھ سے
ان کی اجڑی گود تک
درختوں سے ٹوٹے ہوئے پھولوں کی لاشیں پڑی ہوئی ہیں
وہ چیخ جو گھٹن بن کر
ان کے زندہ وجود کو نگلتی جار رہی ہے
کانٹوں کی فصل بن کر
ان چھوئے احساس کو لہولہاں کر رہی ہے
جن پھولو ں کو ماؤں کی گود سے اتر کر
بھوک اور غربت کے سیاہ زندانوں سے ٹکرانا تھا
انہو ں نے اپنی پیاس کو ہمیشہ ریت کی صراحی میں قید پایا
آج وہ اپنی ہی سانسوں کی ڈور سے الجھ کر دم توڑ رہے ہیں
آج تھر کا صحرا
بارشوں کے جل تھل کے انتظار میں تھک کر
ہمارے خوابوں کی دہلیز تک پہچ گیا ہے
اس کے پہلے کہ
خواب اور نیند
مو ت کی خاموشی کو چھو لیں
ہمیں جاگنا ہو گا

اکمل نوید (anwer7star)

2 thoughts on “آج تھرکی صحرائی زندگی کے لئے ہمیں جاگنا ہو گا”

  1. Sarwat Zahra
    Timeline
    Recent
    Post
    Photo

    Faheem Shanasposted to‎Sarwat Zahra
    a few seconds ago near Karachi
    اک غزل نصیر احمد ناصر کی نذر
    ۔ فہیم شناس کاظمی

    کربلا بھی فرات ہم نے کی
    دیکھیئے کیا حیات ہم نے کی

    کتنے بکھرے ہوئے تھے اندر سے
    جب سمٹنے کی بات ہم نے کی

    کیسی یہ کائنات ہم کو ملی
    کیسی یہ کائنات ہم نے کی

    وصل کی ایک شب تھی ایک ہی شب
    بس اسی میں حیات ہم نے کی

    پہلے خود کو مٹا د یا ہم نے
    پھر ہی نفیّ ثبات ہم کی

    گفتگو اس سے اور کرنی تھی
    اس سے کچھ اور بات ہم کی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *