ہونٹوں کو چوم کر

یہ لمحہ جو ہماری دھڑکن سے
دور تھا
برف کی دیوار کی طرح تھا
آسمان کاغذ کا بن گیا تھا
اور سورج
ایک جلتی ہوئی دعا
ہم کٹ رہے تھے
اور جسم کے ہر حصے کو جوڑ رہے تھے
گلاب کو شاخ پر رکھ رہے تھے
اور ہونٹوں کو چوم کر
محبت کا وعدہ کر رہے تھے
مگر وقت کا وہ لمحہ
ہماری دھڑکنوں سے دور تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *