کہانی جو لکھی نہیں جا سکتی

ہم ایک ایسی کہانی میں موجود ہیں
جو لکھی نہیں جاسکتی
بس ہمارے ہونٹ ہیں
جو اپنی سرگوشیوں میں ایک ایک لمحے
کو تازہ پھول بنا رہے ہیں
مگر جب بھی کوئی لمحہ جگنو بن کر چمکتا ہے
تو ہم اپنے جسموں کی دیوار کے پیچھے
کسی اجنبی چو رکی طرح چھپ جاتے ہیں
جیسے وہ ہمارے گلے کی طرف بڑھتا ہوا
کوئی اجنبی ہاتھ ہو
مگر پھر بھی
ہم ایک ایسی کہانی میں موجود ہیں
جو لکھی نہیں جاسکتی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *