چوڑیاں گم ہوگئیں

جب ہمارے رخ بدل دئے گئے
تو شہر ویران ہو گئے
تمام منظروں سے آوازیں اتار دی گئیں
اور ہجرت ممنوع قرار پائی
لوگوں سے پھری اجلی بستیوں میں
ویرانے اترنے لگے
جنگل رقص کرتا ہماری دیواروں تک اتر آیا
بد ہیبت مکڑیاں اپنے جالوں میں
اندھیرا ٹانکنے لگیں
کوئی دوسرا
اپنی تنہائی میں کسی کو پکار نہیں سکتا
ہمارے چیختے چہرے خاموش تصویروں کی صورت
خالی فریموں کے بھوکے جسموں میں اتار دیئے گئے
آنگنوں میں چوڑیاں کھنکنی بند ہو گئیں
اور جب ہم نے تھکے ہوئے جزبوں سے مغلوب
کسی کے جسم پر اپنی آنکھوں کے لمس کو اتارنا چاہا
تو ہماری انگلیاں
اور آنچلوں کے پیچھے
چہرے غائب ہو گئے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *