پرندوں سے بھرا آسمان

پرندوں سے بھرا آسمان

میں اس زندگی کا اگلا صفحہ لکھ چکا ہوں
جو کہیں مصلوب کردی گئی ہے
میرا دل ان بچوں کے ساتھ دھڑکتا ہے
جن کے سر کھلے آسمان کے نیچے ننگے ہیں
میں نے اپنے ہاتھوں پر
ان گھروں کے لئے دعائیں لکھی ہیں
جن گھروں کے دروازوں پر خدا دستک نہیں دیتا
میرے وجود کی آہٹ
میرے چہرے کا عکس
روتی آنکھوں سے موتی موتی سمیٹ رہے ہیں
جنگل میں بھٹکتی آوازیں
اور روٹھے ہوئے خوابوں کو ڈھونڈ کر
میں تازہ منڈیروں پررکھ رہا ہوں
میرے اندر پرندوں سے بھرا آسمان ہے
دعاوں سے بھرے
ہاتھ ہیں
جو اندھیری بستیوں میں
روشنی لئے سفر کررہے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *