وہ مجھے دیکھتی ہے

میری بانہوں میں اس کا چہرہ پگھل جاتا ہے
اور وہ یوں مجھے دیکھتی ہے
کہ کہیں اس کے خواب ٹوٹ نہ جائیں
اس کے ہاتھ لہولہاں نہ ہو جائیں
اس کی پیاس ادھوری نہ رہ جائے
مگر میں کناروں تک پھیلا ہوا آسماں ہوں
جو اس کی پیشانی کو چوم کر
سمندر بن جاتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *