شعلہ بدن اور شبنمی لباس

ہم سمندر کو چھونے کی خواہش میں
آہستہ آہستہ اندھرے میں
اترتے جارہے ہیں
میری نیند ایک نئی زندگی کے
خواب کی طرح جاگتی ہے
یہ سب کچھ حقیقت سے زیادہ خوبصورت ہے
ایک بڑا سا گھر
جس کی کھڑکی سے جھانکتی ہوئی
تم میری واپسی کا انتظار کرتی ہو
اور پھر تمہاری آواز مجھے گھیر لیتی ہے
ہم رقص کرتے ہیں
اور اپنے بکھرے وجود کو
ایک دوسرے سے باندھ لیتے ہیں
خواب کی عمر کی طرح ۔۔۔۔
مگر یہ خوشی بھی ایک دھوکا ہے
میں تم سے ملنے کی
تمہیں چھونے کی خواہش میں جل چکا ہوں
مگر میں پھر بھی خوابوں میں رہتا ہون
اور چاھتا ہوں
کہ کچھ ایسے بھی دن ہون
کچھ ایسی بھی راتیں ہوں
جب ہم اپنے شعلہ بدن کو
شبیم جیسی صبح کا لباس پہنا سکیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *