سیا ہ موسموں کا دروازہ

سیاہ موسموں سے زندگی کو
چرانا پڑتا ہے
مگر کتنے برس اور ہم
یہ طوق گلے میں ڈالیں گے
کو ئی آھٹ بلند نہیں ہوتی
کوئی جھونکا خوشبو نہیں بنتا
جسم کو کاٹتا ایک دریا بہتا ہے
یہ وہ دعا نہیں
جو پوری ہوئی
سلگتے جسموں سے جلتے جہنم تک
زندگی سیاہ موسموں کا دروازہ ہے

One thought on “سیا ہ موسموں کا دروازہ”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *