روشنیوں سے دور

روشنیوں سے دور

ستاروں کی روشنی سے بہت دور
مردہ زمینوں اور آگ پھونکتی ہواوں کے درمیاں
رقص ابد جاری ہے
کتابوں میں چہرے لکھے جارہے ہیں
اس پر ہول اندھیر ے میں کہیں ایک چیخ ابھرتی ہے
سانسوں کو نچوڑ کر اس پر اینٹ رکھ دی جاتی ہے
یوں ایک سیاہ دیوار
دلوں کے بیچ میں بلند ہوتی ہے
مردہ زمینوں اور آگ پھونکتی ہواوں کے درمیاں
انسانوں کا چہرہ مٹایا جارہا ہے ایسا لگتا ہے
سورج پھٹ جائے گا
اور تیزروشنی اندھیرے کے بستر میں کھو جائے گی
میرے بازوں سے اوپر کوئی دوسرا چہرہ اگ رہا ہے
میرے ہونٹ پکارتے ہیں
مشرق سے مغرب تک سب کچھ ڈوب رہاہے
اب کچھ نہیں بچا
صرف چہرے ہیں
الزام لگاتی انگلیاں
اور گالی دیتے ہوئے لفظ ہیں
جن برتنوں میں ہم نے
موسموں کے پھولوں کا رس جمع کیا تھا
ان کو کتے چاٹتے ہیں
جن وادیوں میں ہم نے گیت گائے تھے
وہ منظر سے اوجھل ہوگئی ہیں
زمین کے سارے چہرے جل گئے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *