تم نہیں لوٹ سکتیں

تم نے مچھے مایوس  کیا ہے
میں جانتا ہوں
تم ایک بیمار معاشرے کی انا پرست لڑکی ہو
جو چیت کے دوڑ میں ہار جاتی ہے تو پھر
وقت کے ہر گزرتے لمحے کو اترن سمجھنے لگتی ہے
زندگی ایک کھیل ہے ، جس کے ایک طرف رنگ ہیں، خوشیاں ہیں
اور دوسری سمت پھیلے ہوئے اندھیر ے ہیں
تنہائی اپنا خیمہ گاڑے تمہیں آواز دیتی ہے
تو تم ڈر جاتی ہو
کہ اندھیرے سے نکلنے والے ہاتھ تمہیں  چھو نہ لیں
اور تم پرائی نہ ہوجاو
تم اجنبی راستوں کا سفر کرتی ہو
اور کھلی آنکھوں کے ساتھ سمندر تمہیں نگل جاتا ہے
تم واپس اپنے شہر کو نہیں لوٹ سکتیں
کہ تمہارا جرم تو سورج کی کالی آنکھ بن چکا ہے
تم چھونے اور محسوس کرنے کی لذت گم کرچکی ہو
تمہیں توپلٹ کر وہیں جانا ہے
جہاں تم اپنا انکار پھینک آئی تھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *