اندر کا چراغ

تم اپنے سفر میں ہو کہ خواہشیں تمہیں رنگ برنگے غباروں کی طرح اڑتی ہوئی محسوس ہوتیں ہیں تم انہیں چھونے کے لئے آگے بڑھتی ہو اور سرابوں کو اوڑھ لیتی ہو تم دائروں میں قید ہو تمہاری نیکی ، تمہارا چہرہ جھوٹ کے خلاف ہے اور زخمی ہے تم اپنی راہ الگ تراش رہی ہو تمہاری آواز معمولی نہیں ہے ،مگر پرچھائیاں زندگی کے تعاقب میں ہیں شاید یہ کوئی مجبوری ہے تم بھول جاتی ہو کہ ایک چمکدار طاق تمہارے اندر بھی موجود ہے جہاں ایک زندہ چراغ جل رہا ہے۔

تم ٹوٹے ہوئے گھڑے پر دریا کو پار کرنا چاہتی ہو اور زندگی کی روشنی تمہارے چہرے سے برسنے لگتی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *