ابابیلیں اڑ رہی ہیں

صرف تمہارا چہرہ ہے
جو میرے جسم سے جوڑ دیا گیا ہے
مگر میرے ہاتھ خالی ہیں
زندگی کے ویران راستوں پر
ابابیلیں اڑ رہی ہیں
ہر پتھر تمہارا چہرہ ہے
جو جلتے ہوئے سورج کی طرح
پگھل رہا ہے
آوازوں کے شور کو
خاموشی کے کوزے میں بند کر دیا گیا ہے
جہاں تم ایک چہرے سے
کئی چہروں میں بٹتی جارہی ہو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *