سر سبز درخت کی لاش

سرکاری جنگل سے چوری کیا گیا
وہ درخت زمین پر ٹوٹا پڑا ہے
شاید اپنی زندگی کو بچانے کی
اس کی یہ آخری کوشش تھی
ٹرک پر بندھے بہت سے کٹے پھٹے درختو ں میں سے
اس نے جرات کی
اور اپنے وجود سے لپٹتی
آہنی زنجیروں کو توڑ کر
خود کو زمین پر گرالیا
ٹرک ڈورتا ہوا
دھول آڑاتی گرد میں گم ہو گیا
زخمی درخت کی آخری سانسس
ایک چیخ کی طرح ہر طرف گونج رہی ہے
مگر صرف ہوا ،اس کے درد سے گوش گزار ہے
جلتے سورج کو ۔۔۔۔
غم میں ڈوبی اس دھندلی ہوا نے چھپا لیا
درخت کی سرسبز شاخوں کو دیکھ کر
چند بکریاں اسے چرنے کےلئے قریب آگیں
درخت کی آخری سانسس کے ٹوٹتے ہی
بکریوں نے اس کی سر سبز شاخوں
اور ہرے پتوں کو چر نا شروع کردیا
درخت کو آتشدان میں جھونکا جانا قبول نہیں تھا
آتشدان کی آگ میں جلنا
اور سلگتے سلگتے راکھ بن جا نا ، کتنا فضول تھا
اس نے سوچا ۔۔
کو ئی اس کی لکڑی کے ٹکڑوں کو تراش کر
کاٹھ کے کھلونے ہی بنا دے
جسے بچے اپنے ننھے ننھے ہاتھوں میں لے کر کھیلیں
مگر سڑک کے کنارے پڑا
یہ درخت
جسکے ہرے اور سرسبز پتوں کو بکریا ں چر رہیں ہیں
دور ۔۔۔۔۔۔ دیمک کے کیڑے
تیزی سے اس کی طرف بڑھ رہے ہیں
تاکہ اس کے جسم میں باقی رہ جانے والی ہر خواہش کو
ریزہ ریزہ کرکے
ہوا میں بکھر دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *