دلوں کے درمیاں حائل خاموشی

دلوں کے درمیا ن حائل خاموشی

ہم نے اپنی زندگی کو جو محبت کی سنہری مٹی سے گوندی گئی تھی
ایک پراسرار گیت میں لپیٹ کر رکھ دیا
ہم نے اپنی زندگی کو برتنے کے لئے
اپنے دکھوں کو پرانے گھروں سے چرائے گئے برتنو ں میں جمع کیا
گزرے دنوں کی مہک سے مٹھاس لئے شہد کا قطرہ
تمہارے ہونٹوں کی نمکیں مسکان کی گرفت سے چھوٹ رہا ہے
پرانے گھروں کے دروازوں پر گمشدہ خوابوں کے بوسیدہ قفل لٹک رہے ہیں
مکینوں کے بغیر گھروں میں صرف اداسی رہ جاتی ہے
قصے اور کہانیوں کی وادیوں میں سفر کرتے ہوئے
ہم نے اپنی زندگی کو
جو محبت کی سنہری مٹی سے گوندی گئی تھی
اسے پراسرار گیت کی قربت سے محروم رکھا
کہ کہیں گیت کی لے آواز کو چھو کر
ہمارے دلوں کے درمیا ن حائل خاموشی کو توڑ نہ دے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *