تھر باسی

تھر باسی لوگ

زندگی ایک حادثے سے دوچار ہے
اور موت کو تقسیم کر دیا گیا ہے
ماؤں کی کوکھ سے
جنم لینے والے بچوں میں
جہنوں نے زندگی کے ذائقہ کی جگہ
بحوک کی اذیت کو اپنے ہونٹوں پر رینگتا ہو ا محسوس کیا
اس سے پہلے کہ مائیں ان بچوں کو اپنی گود میں چھپا لیتیں
اور دودح کی نہر سے بہتا امرت انہیں زندگی کے رمز سے آشنا کردے
موت کو ان بچوں میں تقسیم کر دیا گیا
جہنیں گلی میں اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنا تھا
شور مچانا تھا ، شرارتیں کرنی تھیں
اب گلی میں اداسی کوڑے کی طرح پھیلی ہوئی ہے
گھٹی ہوئی چیخییں
گھروں کے دورازوں سے لپٹی سسک رہی ہیں
اب موت خالی ہا تھ ہے
لوگوں نے اپنے ہاتھوں میں
گلشن سے توڑے گئے پھولوں کی لاشیں اٹھا رکھی ہیں
مگر ایک امید زندگی کے ساتھ باندھی ہے
کہ کوئی بچہ آگے بڑھ کر ان کا دامن تھام کر کہے
کہ اہھی ہم زندہ ہیں
اور موت کو شکست ہو چکی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *