اس کی آخری تصویر

ٹیلفون کی کنٹکیٹ لسٹ میں
اپنے دوستوں کا نام تلاش کرتے ہوئے
اس کا نام باربار
میری نظروں کے سامنے سے گزرتا ہے
اس کی آخری تصویر
کنٹرکٹ پروفائل پرموجود ہے
جسکے عکس کوکیمرےکی آنکھ نے کبھی قید کیاتھا
میں ڈائل بٹن کو پریس کرتا ہوں
دیر تک ڈائل ٹون بجتی ہے
اور پھر یکلخت خاموش ہوجاتی ہے
مجھے اچھی طرح معلوم ہے
میرا مطلوبہ شخص اب اس دنیامیں نہیں
اس کی لحد پر مٹی ڈالتے ہوئے
میں نے ایک بوجھ اپنے دل پر محسوس کیا
مجھے اس سے بہت کچھ کہنا تھا
لفظوں کی بیسا کھیاں تھامے
ہمیشہ کچھ کہنے سے پہلے ہی
گفتگو کی دھلیز پر لڑکھراا جاتا تھا
مگر کچھ کہہ نہیں پاتا
میں ایک بار پھر کچھ دیر تک
پروفائل پر موجود اس کی تصویر کو دیکھتا ہوں
ایک بار پھر کوشش کرتا ہوں
ان کہی کو لفظوں میں سمونےکی
مگر ہار جاتا ہوں
پروفائل پر موجود اس کی تصویر جیسے کچھ سنا چاھتی ہے
مگر میں اب بھی کچھ کہنے سے قاصرہوں
میرے دل میں چھپا ڈر
دشمن کی طرح سامنے کھڑ ا ہے
خود کو بچانے کے لئے
میرے پاس
کوئی راستہ نہیں
میں کچھ دیر سوچتا ہوں
اور اس کا نام کنٹیکٹ لسٹ سے
ہمیشہ کے لیے ڈیلیٹ کردیتا ہوں

اکمل نویدؔ

یہ وطن ہمارا ہے!

ابھی صبح دور ہے ، پرندے جاگ گئے ہیں ، ان کے چچہانے کی آواز آہستہ آہستہ فضا میں پھیلتی جارہی ہے ۔ مگر روز کی طرح نہیں ، کیونکہ آج کا دن ہمارے ملک کا 65 واں یوم آزادی ہے۔

آج کا یوم آزادی ، اس قوم کا یوم آزادی ہے ، جسے تاریخ سے سبق لینا نہیں آتا، دنیا کے تمام ممالک ترقی کی طرف گامزن ہیں، ان حکومتیوں کا بنیادی منشور اپنے عوام کی فلاع و بہبود ہے، مگر ہمارا ملک ایک کٹی پتنگ کی طرح اندھیرے کی سمت گرتا جارہا ہے، اس کی راہ میں کوئی سنگ میل نہیں ، جوترقی کی شاہراہ کی طرف اشارہ کرے ، ہم اپنی آزادی کا جشن ، روایات کے تسلسل کے طور پر منارہے ہیں، مگر جن کے دل اور ذہن پر وقت دستک دے رہاہے ، ان کی آنکھوں میں آنسو ہیں، اور آنکھیں جاگ رہی ہیں۔

ابھی صبح دور ہے، مگر بہت سے سوالوں کا کوئی جواب نہیں ، آزادی کے آغاز سے ہی ، ہم اپنی آزادی کےخود دشمن بن گئے ، کوئی بیرونی سازش نہیں ہوئی، کوئی ملک ہم پر حملہ آور نہیں ہوا، ہم ہی نے اپنی آزادی پر شب خون مارا، اپنے ہی لوگوں سے نفرت کی ، اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ، ملک کے وجود کو دولخت کیا، مگر اس کا حاصل کیا ہوا، ہمارے درمیا ن اندھیرے کچھ اور بڑھ گئے ، ہمارے مفادات اپنی تکمیل کے لئے ، اب اور بھی زیادہ قربانی مانگنے لگے ، ہم نے اپنی دوستی ، اپنے دشمنوں سے بڑھا لی، اپنے لوگوں کو ہم نسلی ولسانی فرقہ واریت اور تعصب کی نظر سے دیکھنے لگے، اپنے لوگ ہمیں اپنے ہی وطن میں برے لگنے لگے ، رشتے ہماری نظروں سے اوجھل ہوگئے، اور اپنے ہی لوگوں کے خون سے ، ہم اپنی ہی زمین کے تقدس کو پامال کرتے گئے، ہماری آنکھوں میں ، ہمارے ہی دشمنوں کا دیا ہوا اجالا تھا، جس نے خوشبو سے معطر فضا میں زہر گھول دیا، گھونسلوں سے پرندوں کو اڑا دیا ، زمین کی زرخیزی میں زہر بو دیا ، اپنے گھروں سے جڑے ہوئے دوسرے گھر وں کو اپنے ہی ہاتھوں سے جلادیا۔ ان جلے ہوئے گھروں کے دھویں نے منظر کو ذرا دیر کے لئے اوجھل تو کردیا ہے مگر بے گناہ لاشوں کی بے سمت اٹھی ہوئی انگلیاں ہم سے سوال کرتی ہیں کہ کب تک ہم نامعلوم قاتلوں کو اپنے درمیان جگہ دیتے رہیں گے۔ آخرکب تک؟

ابھی صبح دور ہے، صبح ہوتے ہی، توپوں کی سلامی دی جائے گی، خوش لباس لوگ ، پرچم کی سلامی کے لئے جمع ہوں گے، ہنستی ہوئی آوازوں کا بلند ہو تا ہواشور ، اندھیرے میں پریشان کرنے والے ان تمام سوالات کو بہا لے جائے گا، مگر زخمی دل ، اور اپنے ہی لوگو ں کی بے گناہ لاشوں کو اٹھانے والے ہاتھ کیونکر سلامی کے لئے اٹھ کھڑے ہوں گے؟

ملک کو تقسیم در تقسم کرنے والے لوگوں کے پیچھے کھڑے ہوکر ہم کب تک اپنے ملک کی آزادی کا جشن منائیں گے،کب تک ہم ان بے چہرہ لوگوں سے غافل رہیں گے، جو ہمارے ملک کی نظریاتی سرحدوں پامال کرتے جارہے ہیں، خدا نہ کرے کہ ایک بار پھرہمارے گھروں کی دیواریں ، جن پر روز چاند کی چاندنی چٹکتی ہے، گرادی جائیں۔

خدا نہ کرے !

اجنبی بننےسے پہلے

ہماری روحیں دو مختلف جسموں میں ہیں
اور ہم بارش کی دیوار کے نیچے
پیاسےہیں
تم افق کی طرح رنگ دار ہو
اور میں ایک تیز خواب آور
زہر میں ڈوبا ہوں
اور یوں تمہاری طرف بڑھ رہا ہوں
جیسے کوئی آگ میر اپیچھا کررہی ہو
ہوا کے تیز طوفان میں
ہم زیادہ دیر یکجا نہیں رہ سکتے
مگر اجنبی بننے سے پہلے
اپنے ہاتھ
خوابوں سے رنگ دینا چاہتے ہیں

سر سبز درخت کی لاش

سرکاری جنگل سے چوری کیا گیا
وہ درخت زمین پر ٹوٹا پڑا ہے
شاید اپنی زندگی کو بچانے کی
اس کی یہ آخری کوشش تھی
ٹرک پر بندھے بہت سے کٹے پھٹے درختو ں میں سے
اس نے جرات کی
اور اپنے وجود سے لپٹتی
آہنی زنجیروں کو توڑ کر
خود کو زمین پر گرالیا
ٹرک ڈورتا ہوا
دھول آڑاتی گرد میں گم ہو گیا
زخمی درخت کی آخری سانسس
ایک چیخ کی طرح ہر طرف گونج رہی ہے
مگر صرف ہوا ،اس کے درد سے گوش گزار ہے
جلتے سورج کو ۔۔۔۔
غم میں ڈوبی اس دھندلی ہوا نے چھپا لیا
درخت کی سرسبز شاخوں کو دیکھ کر
چند بکریاں اسے چرنے کےلئے قریب آگیں
درخت کی آخری سانسس کے ٹوٹتے ہی
بکریوں نے اس کی سر سبز شاخوں
اور ہرے پتوں کو چر نا شروع کردیا
درخت کو آتشدان میں جھونکا جانا قبول نہیں تھا
آتشدان کی آگ میں جلنا
اور سلگتے سلگتے راکھ بن جا نا ، کتنا فضول تھا
اس نے سوچا ۔۔
کو ئی اس کی لکڑی کے ٹکڑوں کو تراش کر
کاٹھ کے کھلونے ہی بنا دے
جسے بچے اپنے ننھے ننھے ہاتھوں میں لے کر کھیلیں
مگر سڑک کے کنارے پڑا
یہ درخت
جسکے ہرے اور سرسبز پتوں کو بکریا ں چر رہیں ہیں
دور ۔۔۔۔۔۔ دیمک کے کیڑے
تیزی سے اس کی طرف بڑھ رہے ہیں
تاکہ اس کے جسم میں باقی رہ جانے والی ہر خواہش کو
ریزہ ریزہ کرکے
ہوا میں بکھر دیں