ایک درخت کے نیچے

ایک درخت کے نیچے وہ دو جسم تھے
مختلف سایوں اور آوازوں کے درمیان
انہوں نے ایک خواب دیکھا تھا
مگر روشنی کی آنکھیں
ان کی دشمن تھیں
دو سائے
ہمیشہ ایک دوسرے کے تعاقب میں
خود کو ہار جاتے ہیں
ایک درخت کے نیچے
وقت پگھلتا رہا
نہوں نے چاہا
کہ سورج کو زمین کا کفن
پہنا دیں
مگر ان کی آنکھیں
جو ایک دوسرے کو چھوتی تھیں
لمس کی پہنائیوں میں اندھی ہو گئیں
ایک درخت کے نیچے
مختلف زمانوں کی قید میں
وہ اجنبی سمتوں میں تقیسم ہوگئے

انتظار کا راستہ

کالے سمندروں کے سفر سے لوٹے ہوئے
وہ مجھے انتظار کی شکار گاہ کے قریب جاگتی ہوئی ملی
اس کی آنکھوں نے کہا
تم تو میرے بستر کی ہر شکن میں موجود تھے
اور میں ہر رات تمہارے کپڑوں میں بسے لمس سے ہم بستر ہوتی تھی
اب زندگی کتنے مختلف خانوں میں بٹ گئی ہے۔
سانپ کی کنچلی کی طرح ہم روز نئی زندگی بدلتے ہیں
کہ خود کو آئنیہ میں بھی نہیں پہچانتے
آراستگی سے اس زمانے میں
ہم نے خود کو جس روپ میں ڈھل لیا ہے
وہ گلدان میں سجے ہوئے
مصنوعی پھولوں کی طرح ہیں>
جن پر سے گزرتے ہوئے موسموں کی ہوائیں
اپنا اثر کھودیتی ہیں
اور خزاوں میں بھی رنگوں سے آراستہ رہتے ہیں
ہم اپنے خواب توڑ دیتے ہیں
اور اپنی پیاس خالی کنوں سے بجھا نہیں سکتے
ہم جذبات کی دنیا سے بہت دور ہیں
خوشی و غم کے موسم ہمارے دل کے راستے سے نہیں گزرتے
حسب منشا، ہمارا لہجہ جذبات سے بھرپور ہوتا ہے
اور کبھی وقت ضرورت ہم غم کو خود پر طاری کرکے
ان جذبات کا اظہار کرتے ہیں ، جسکی پرچھائیں بھی ہم پر نہیں پڑی ہوتیں ہیں
آج گزرتا ہوا وقت ہمارا اپنا نہیں
زندگی جیسے ایک ڈور ہے جسے جیتنا ہے
چاہے منزل پر ہم تنہا ہی پہنچیں
اگر وقت ہمارے ہاتھوں سے چھن جائے تو؟
اس سوال پرہمارا دل ڈوب جاتا ہے
کیونکہ وقت کے اس پیرہین کے علاوہ ہمارے پاس کچھ اپنا نہیں
جو ہماری برہنگی کو ڈھانپ سکے
خواب ہماری نیند کے بند دروازوں پر سوکھ چکے ہیں
ہماری آنکھیں رات کے اندھرے میں تھک کر بند ہو جاتی ہیں
مگر انہیں نیند نہیں کہا جاتا
اور صبح ہم کسی طیور کی تلاوت پر نہیں اٹھتے ہیں
بلکہ الارم کی ایک گھناؤنی آواز ہمیں اپنی ٹھوکر سے اٹھاتی ہے
ہم چند لمحے اجنبی زندگی کا احساس کرتے ہیں
اور کسی کارخانے میں تیار شدہ سانسوں کا ماسک پہن کر
زندگی کی نئی صبح کا آغاز کرتے ہیں
ہوا میں بہتی تازگی ہمیں چھولے تو ہمیں چھنکیں شروع ہوجاتی ہیں
اس زندگی میں ہم اکیلے ہیں
رشتوں اور روشنیوں کے لمس سے محروم
اور نہیں جانتے کہ معطر خوشبوں سے بسے ہمارے جسموں کے اندر کئی تار ایسے بھی ہیں
جو دل سے جوڑے ہیں
اور انہیں کسی ایسی حرارت کی ضرورت ہے
جو موسموں کو ہم رکاب رکھتی ہو
جو خوا بوں کی دھلیز پر جاگتی انتظار کی آنکھ جیسی ہو
جو پاس آتے قدموں کی جھنکار سن سکتی ہو
جو موسموں کی کٹھیا میں رہتی ہو
اور محبت کے ایک لمحے کی متلاشی ہو
زندگی
ایک ایسی خوشی سےتعبیر کی جاسکتی ہے
جسکی ہر رات
دیکھا جانے والا خواب پورا ہو
مگر زندگی کا جو پیمانہ ہمارے ہاتھوں میں ہے
اگر ہم اسے چھلکنے سے بچانا چاھتے ہیں
تو ہم ہر گزرتے لمحے کو پیار کے حوالے سے امر بناتے چلیں
تاکہ
زندگی کے پیمانے میں
کوئی دکھ کی گھڑی نہ بچے
اپنے لہجوں کی تراش خراش سے
خودرو اگ جانے والے دکھوں کو
تناور درخت بنے سے پہلے>
جڑؤں سمت اکھاڑ پھینکیں
اور رات کے خواب آلودہ ماحول میں ابھر نے والی سرگوشی بنا دیں
جسکے معنی صرف اور صرف
محبت ہی ہوتے ہیں

آہ ۔ جنید جمشید، زندگی اللہ کی امانت ہے

جنید جمشد نے اپنے منفرد انداز گائیگی اور وائٹل سائین کی گروپ پرفارمنس کے ذریعے اپنی گلوکاری کو مقبول عام بنا دیا ،اس کے گائے ہوئے گیتوں نے  نوجوان نسل کومتاثر کرناشروع کردیا ۔اس نے بہت جلد شہرت کی بلندیوں کو چھو ا۔اس کی زندگی کی راتیں، جگمگاتی روشیوں ، چاہنے والوں کی آوازوں کے شور میں بسر ہو رہی تھی ، جبکہ دن کی ساری مسافت ، نیند کی وادی میں گم ہورہی تھِی۔ شوبز کی خوبصورت جگمگاتی دنیا میں کسی ایک اجنبی  لمحہ نے ، اس کو نیند سے بیدار کر دیا ۔ روشینوں اور آوازوں کے شور کے پیچھے چھپا اندھیر ہ اس کے سامنے آگیا، حقیقت بے نقاب ہوگئِ کہ یہ  زندگی جھوٹ اور بناوٹی ہے۔اس احساس زیاں نے اس کی زندگی کو یکسر بدل ڈالا۔ زندگی کی ڈگر پر اذان کی آواز اس کے لئے سنگ میل بن گئی۔احکامات خداوندی اور  سنت رسول ﷺ کی  پیروی اس کا مقصد حیات بن  گئی۔

                        جیند جمشید نے محسوس کرلیا کہ زندگی اللہ کی امانت ہے، اور زندگی کو اس کے فرمان کے مطابق بسر کرنا عین عبادت ہے۔ آسائش زندگی  اب اس کا متمع نظر   نہیں رہا۔ایک باشرع انسان موت سےکبھی نہیں گبھراتا ، موت تو صرف ابدی زندگی کے سفر کا دروازہ ہے- زندگی کا جو بھِی لمحہ اسے میسر آتا ہے ، وہ خوشی کا اظہار کرتا ہے کہ  اسے اپنے رب کو راضی کرنے کی ایک اورمہلت مل گئِ، یہ ہی اس کی سرمایہ کاری ہے ،جو اللہ کے حضور ، اسسکےسرخرو  ہونے کا باعث بنے گی۔

                        نواجونی کی عمر، رسم و رواج سے بغاوت کا نام ہے،اس عمر میں  پابندیاں ،زنجیروں کے بوجھ کی طرح محسوس ہوتی  ہے ۔اسےوقت اگر کوئی ان دیکھے خدا کے بتائے ہوئے سیدھےراستہ پر  چلنا چاہے تو اسکادل انکارپر مائل  رہتا ہے۔نفس کے ساتھ جاری اس جہاد میں ، کامیابی ہر کسی کا نصیب نہیں  ہوتی ۔

جیندجمشید  نے جاگتی  راتوں اور شوبز کی چمکتی  روشنیوں سے منہ موڑ کر ، طلوع سحر کی پہلی روشن کرن کو سلام کیا جو اللہ کے حکم پر   اپنےدن  کا آغاز کرتی ہے، موت کو گلے سے لگا کر ، شہادت کے مرتبے پر فائز ہونے کا مرتبہ حاصل کرنے والے جنید جمشید نے ، ہماری آنکھوں کے پردوں پر جمے ہوئے اندھے جالوں کو صاف کردیا تاکہ حقیقی راستہ اسے نظر آسکے۔

                        زندگی  کے سکے کےدونوں طرف ڈھالی گئِ ، حق و باطل کی شبہیوں نے، مرکزی نقطے میں پہناں  ہو کر تمام باطل قوتوں سے انکار کردیا ۔۔۔ اب زندگی صرف اللہ  کی امانت ہے ۔

جیند جمشید نےتبلیع کےپر خار راستے پر چلنے کو اپنی زندگی کا چلن بنایا،  جو جہاد کا مترادف ہے،اس سفر میں دوستوں  سے زیادہ ،اسے دشمنوں کا سامنارہا ،اور تحفہ شہادت اسکی زندگی کی سب سے بڑی گواہی بن گیا۔