سیا ہ موسموں کا دروازہ

سیاہ موسموں سے زندگی کو
چرانا پڑتا ہے
مگر کتنے برس اور ہم
یہ طوق گلے میں ڈالیں گے
کو ئی آھٹ بلند نہیں ہوتی
کوئی جھونکا خوشبو نہیں بنتا
جسم کو کاٹتا ایک دریا بہتا ہے
یہ وہ دعا نہیں
جو پوری ہوئی
سلگتے جسموں سے جلتے جہنم تک
زندگی سیاہ موسموں کا دروازہ ہے

گڑیا کی نیند

ایس نظروں سےتم مچھے دیکھتی ہو
کہ تم مجھے دوبارہ زندگی سے جوڑ دیتی ہون
یہ تمہارا کھیل ہے
مگر میں روز تمہارے ہاتھوں سے جوڑے جانا
پسند کر تا ہوں
اور پھر تم مسکرا دیتی ہو
تو خوشبا ہمیں گھیر لیتی ہے
تم سمدر کی طرح پرجوش ہو
مگر کنارے پر رکی رہتی ہو
اور میں چاھتا ہون
کہ تمہارے ساتھ دور تک بہتا چلا جاوں
پھر تم اپنے جسم کے مختلف خطورں پر
میرا نام لکھتی ہو
اور جیسے جیسے نئے ورق کھلتے چالاے جاتے ہیں
سانسوں میں ایک لذت تیرنے لکگتی ہے
اور تم میرے ہاتھوں میں
ایک اشارہ بن جاتی ہو
اور ایک نازک گڑیا کی طرح
اپنی آنکھیں بند کر کے
خوابوں کے بستر میں سو جاتی ہو

پتنگ کے فاصلے

یوں لگتا ہے
ایک خواب تیزی سے گزرتا جا رہاہے
ہم ایک دوسرے کو کھو چکے ہیں
اور ہمارے درمیان فاصلے اتنے
گہرے ہیں
کہ کئی سورج اس میں
ڈوبتے اور ابھرتے ہیں
تم اپنا چہرہ کھو چکی ہو
میں کس طرح تم تک پہونچوں
کہ کٹی پتنگ کی طرح
میں اپنی سمت کھو چکا ہوں
یوں لگتا ہے
ایک خواب تیزی سے گزرتا جا رہا ہے