ہم نوحہ گر ہیں

ہم نوحہ گر ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زمین پر بوچھ بڑھ گیا ہے، چمکتی روشنیوں کے پیچھے ہم سب کچھ نہیں چھپا سکتے، مگر دکھ تو آنسووں کے سیلاب میں بہتا جارہاہے۔
ہم نوحہ گر ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
جب گولیوں کی آوازیں ہر طرف گونجتی ہیں ، تو آسمان پرندوں کی آوازوں سے خالی ہوجاتا ہے۔ وہ شہر جو سماجی و سیاسی شعور کا نمائندہ تھا۔ عفریتوں میں گر ا ہوا ہے۔زندگی کا غازہ ہر چہرے سے اتر گیا ہے، بڑھتے ہوئے سیلاب کے سامنے شہر کا وجود شکستہ دیئے کی طرح بجھ رہا ہے۔
ہم نوحہ گر ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
کہ ہمارے گھر مقتل بنادیئے گئے ہیں، لوگ زندگی کا مول بھول چکے ہیں۔ ہماری آنکھیں پتھرا گئی ہیں ، ہم سیاہ آوازوں کو سن تو سکتے ہیں مگر کسی کو گرنے سے بچا نے کے لئے قدم آگے نہیں بڑھا سکتے۔ ہم کسی آسیب کی گرفت میں ہیں، اور منتظر ہیں کہ کوئی ایک ہاتھ ایسا بلند ہو جو سچ کا رفیق بن سکے، جو آئینے پر ٹھٹھرے ہوئے لہو رنگ منظر کو توڑ کر ہمیں آزاد کراسکے۔
ہم نوحہ گر ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
کہ زندہ آوازیں شور سے الگ کردی گئی ہیں، کتنے ہی دروازوں پر خونخوار دستک ابھرتی ہے اور درندے زندگی کی کتا ب پھاڑ ڈالتے ہیں۔
ہم نوحہ گر ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
کہ شہر کے سارے چہرے جل گئے ہیں، امن کے سارے دروازے توڑ ے جاچکے ہیں ۔ اورقاتل ہاتھ اپنی آزادیوں کا جشن منا رہے ہیں۔
ہم نوحہ گر ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !

شام کے کنارے پر

ایک جنگل پرندوں کی آواز سے محروم ہے
ایک آواز ہاتھوں سے بار بار گرتی ہے
ایک لڑکی جو شام کے کنارے اکیلی ہے
ان سب سے اوپر
جلتا سورج ہے
مسافر اپنا سامان درست کر رہا ہے
بہت سی چیزیں اور خواب
جو کسی نے اس کے اسباب میں
چپکے سے رکھ دئے تھے
مگر جب وہ جنگل سے گزرا
تو خاموشی کے ڈر سے اس کی آواز
ہاتھوں سے بار بار گرتی جاتی تھی
ایک لڑکی جو اپنا خواب
اس کے ساماان میں چھپا چکی تھی
شام کے کنارے
اتتظار اوڑھے بیٹھی تھی
اور کھلے آسمان پر جلتا سورح
چوری ہو چکا تھا

بے دروازہ گلی

بے دروازہ گلی

یہ تنہائی
آگ کے درخت جیسی ہے
اور ان ویران گلیوں میں کوئی دروازہ نہیں کھلتا
لوگ دعا مانگنا بھہول گئے ہیں
ہر چہرہ پھتر ہے
صرف ایک ہی آنکھ روتی ہے
اور ایک ہی دریا بہتا ہے
کوئی اڑتا پرندہ نہیں
صرف ہاتھ اٹھے ہوئے ہیں
موسم کی جلتی ہوئی شام کی طرف
یہ تنہائی
ایک ایسے لمحے کی تصویر ہے
جو کسی مطلوم کی آنکھ میں
ٹھہر گیا ہے