اس کے باوجود

اس کے باوجود ۔۔۔
کہ میں اس دنیا میں تمہارے لئے کوئی گھر نہیں بنا سکا
تم نے فقط میرے دل میں رہنا گوارا کیا
خواہشوں کو چھوڑنے میں پہل کی
تم مسکرا سکتی تھیں
مگر تم نے تنہائی میں رھنا ،
مجھے یا د کرنا اور آنسو بہنا پسند کیا
اپنے ہاتھوں پر مہندی لگانے کے بجائے
تمہیں میرے ہاتھوں کی ان دیکھی گرفت
اچھی لگنے لگی
صرف یہی نہیں
رات جب بھی چاند تمہارے آنگن میں طلوع ہوا
تم نے اپنی روشنی سے بھی زیادہ منور ہو کر
میری زندگی کے اندھیروں کو اجالوں سے بھر دیا
یہ جانتے ہوئے بھی
کہ میں سراپا خواب ہوں
جو دن کے طلوع ہونے پر
اپنی جگہ خالی کردے گا

خواب ۔۔۔۔۔۔ امن کے شہر کا

کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارے چہرے اصلی نہیں
ان پر نقابیں ہیں
اور ہم نے اپنے جسموں کی دیوار کے پیچھے
تعویز چھپا رکھے ہیِں
وہ ہمارے سروں پر
بیٹھنے والے خوبصورت پرنددوں سے جلتے ہیں
وہ  ہماری کہانیوں میں رقص کرتے
کرداروں سے نفرت کرتے ہیں
وہ چاھتے ہیں کہ ہم
اپنی کہانیوں میں ان کرداروں کی
پرورش کریں
جن کی سیاہ سرخ آنکھیں ہوں
اور وہ اپنے لشکروں پر سوار
دنیا کو فتخ کرتے چلے جائیں
وہ سروں کے مینار
لہو کے دریا
اور کتابوں کے جلتے شہر
دیکھنا چاہتے ہیں
مگر ہمارے  جسموں کی دیوار کے پیچھے
ایک پر امن شہر ہے
اور ہمارا جسم
ایک فصیل کے طور پر
ان کے ہتھیاروں کے سامنے کھڑا ہے
ہمارے آگے دشمنوں کا لشکر ہے
اور پیچھے  رنگ برنگے پھول
اڑتے ہوئے پرندے
لہلہاتے باغات
خوبصورت آنکھوں والی عورتیں
اور نطروں کی شرم کو محفوظ رکھنے والے مرد ہیں