ہم نوحہ گر ہیں

ہم نوحہ گر ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زمین پر بوچھ بڑھ گیا ہے، چمکتی روشنیوں کے پیچھے ہم سب کچھ نہیں چھپا سکتے، مگر دکھ تو آنسووں کے سیلاب میں بہتا جارہاہے۔
ہم نوحہ گر ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
جب گولیوں کی آوازیں ہر طرف گونجتی ہیں ، تو آسمان پرندوں کی آوازوں سے خالی ہوجاتا ہے۔ وہ شہر جو سماجی و سیاسی شعور کا نمائندہ تھا۔ عفریتوں میں گر ا ہوا ہے۔زندگی کا غازہ ہر چہرے سے اتر گیا ہے، بڑھتے ہوئے سیلاب کے سامنے شہر کا وجود شکستہ دیئے کی طرح بجھ رہا ہے۔
ہم نوحہ گر ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
کہ ہمارے گھر مقتل بنادیئے گئے ہیں، لوگ زندگی کا مول بھول چکے ہیں۔ ہماری آنکھیں پتھرا گئی ہیں ، ہم سیاہ آوازوں کو سن تو سکتے ہیں مگر کسی کو گرنے سے بچا نے کے لئے قدم آگے نہیں بڑھا سکتے۔ ہم کسی آسیب کی گرفت میں ہیں، اور منتظر ہیں کہ کوئی ایک ہاتھ ایسا بلند ہو جو سچ کا رفیق بن سکے، جو آئینے پر ٹھٹھرے ہوئے لہو رنگ منظر کو توڑ کر ہمیں آزاد کراسکے۔
ہم نوحہ گر ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
کہ زندہ آوازیں شور سے الگ کردی گئی ہیں، کتنے ہی دروازوں پر خونخوار دستک ابھرتی ہے اور درندے زندگی کی کتا ب پھاڑ ڈالتے ہیں۔
ہم نوحہ گر ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
کہ شہر کے سارے چہرے جل گئے ہیں، امن کے سارے دروازے توڑ ے جاچکے ہیں ۔ اورقاتل ہاتھ اپنی آزادیوں کا جشن منا رہے ہیں۔
ہم نوحہ گر ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !

سیاسی دنگل

شعوری پختگی اور سیاسی بالیدگی کے فروغ نے افراد میں تشخص کو جنم دیا ، جس کے باعث لوگوں میں سیاسی پروگراموں کی دلچسبی میں بے پناہ اضافہ ہے۔ ان پروگراموں میں سیاسی لیڈروں کی پیروڈی کے پروگرام سر فہرست ہیں۔ ٹی وی چینلز پر ہونے والے ان مذاکراتی اور مباحثی پروگراموں میں ، جن کی ابتدا میں سیاسی جماعتوں کے نمائیدہ لوگ، ایک دوسرے کو بڑے احترام سے اپنا بھائی، بہن اور بزرگ کہتے ہیں، مقابلہ کے آغاز میں ہی معاشرتی اقدار کو بالائے طاق رکھ کر جارحانہ پیش قدمی کرتے ہیں ، اور پسپائی کی صورت میں ان کے درمیاں تصادم جیسی گمبھر صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔اگر غور کیا جائے تو ان مذاکروں اور مباحثوں پر ہمیں کسی سیاسی دنگل کا گمان ہوتا ہے۔ جہاں اصل مقابلہ اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کی بدعنوانیوں کا دفاع ہوتا ہے۔ انہیں کچھ فکر نہیں ہوتی کہ ملک تباہی کی طرف جا رہا ہے، اور اسکی وجہ ان کے سیاسی رہنماؤں کی نا اہلی ، ان کی اقرابرداری اور سیاسی لوٹوں کی خریدو فروحت ہے ۔ وسعت پذیر نظریات اور قومی ہم آھنگ سوچ سے محروم یہ لوگ ، جمہوری فروغ اور شخصی آزادی کے دعوے دار ہیں۔ اس دنگل (یا جنگل ) میں ہونے والا اصل مقابلہ دو حکومتوں کے درمیاں ہے۔ ایک طر ف پیپلز پارٹی ہے جو وفاق کی نمائیدہ ہونے کی دعو ے دار ہے اور اس کا سب سے بڑا آزمودار ہتھیار سندھ کارڈ میں پوشیدہ ہے، جبکہ دوسری طرف مسلم لیگ نواز شریف کی جماعت ہے ، جو پاکستان کی بانی جماعت ہونے کی دعوے دار ، اور صوبہ پنجاب کی حکمران جماعت ہے ، مگر وقت پڑنے پر “جاگ پنجابی جاگ…. تیری پگ نوں لگ گئی آگ” کا نعرہ بلند کر نے میں کوئی عار نہیں محسوس کرتی ۔ان مذاکروں اور مباحثوں (سیاسی دنگل) میں ، ایک دوسرے پر لگائے جانے والے الزامات کی نوعیت کو دیکھا جائے تو ان کی ممثلت میں کوئی فرق نظر نہیں آئے گا، مگر ہر ایک کا طریقہ وار دات منفرد اور جدا گانہ ہے۔ حکمرانی کی ریاست کی طرف جانے والے اس راستے میں، ان دو فریقوں کے علاوہ دیگر عناصر بھی شامل ہیں۔ مذہبی اعتدال جماعتوں اور قوم پرستوں کے علاہ ، تحریک انصاف ، تبدیلی کا ایک نیا نعرہ لے کر ہمارے سامنے آئی ہے۔ 

سیاسی دنگل سجایا جارہا ہے، مگر مقابلے کے آغاز میں ابھی دیر ہے۔ اس سے پہلے کہ طبل بجایا جائے اور مقابلے کا آغاز ہوجائے، ضروری ہے کہ قوم اپنی قسمت کا خود تعین کر لے۔اس سے پہلے ہونے والے انتخابات میں عوام کی رائے کو غیر فطری عوامل کے ذریعے ہمیشہ متاثر یا تبدیل کیا گیا، مگر ہمیشہ جاری رہنے والی یہ روایت اب شاید اپنا اعادہ نہ کر سکے۔ اس لئے ضروری ہے کہ عوام اپنی شعوری پختگی اور سیاسی بالیدگی کا اہتما م کرتے ہوئے ان باتوں کو مدنظر رکھے:

(الف) سیاسی جماعتوں کے ماضی کو مد نظر رکھتے ہوئے سوچیں کہ ان جماعتو ں نے اپنے دور اقدار میں دیئے گئے منشور پر عمل بھی کیا ؟

(ب) کیا جمہوریت کی دعوے دار ان سیاسی جماعتوں نے اپنی پارٹی میں الیکشن کروائے یا ان پر قابض افراد ، ان جماعتوں کو اپنی مورثی جاگیر کےطور پر استعمال کر رہے ہیں۔

(ج) کیا ان سیاسی جماعتوں نے اپنی پارٹی ٹکٹ ، جاگیرداروں ، صنعت کارروں اور سیاسی خاندانوں کو فروخت کیا ، اپنے خاندان کے لوگوں ،ددست وا حباب اور حلیفوں میں تقسیم کیا ، سیاسی حمایت کے حصول کے لئے گدی نشینوں کو بطور نذرانہ پیش کیا ،یا پھر پارٹی ٹکٹ کی تقسیم حقیقی طور پر صرف انصاف اور انتخاب پر مبنی ہے۔

آپ سوچیں کہ اس سیاسی میوزیکل چیئر کے کھیل کو جاری رھنا چاہئے یا پھر ایک انقلابی تبدیلی پاکستان کی تعمیر نو کے لئے ضروری ہے۔ گذشتہ انتخاب کے نتیجے میں ، قائم ہونے والی حکومتیں ہمارے سامنے ہیں۔ سیاسی لیڈران کے بیانات کی سیاہی ابھی خشک نہیں ہوئی ہے۔ ایک طرف حکمران جماعت ملک میں بدعنوانی کے نئے ریکارڈ قائم کررہی ہے ، عدلیہ کے فیصلوں کو یہ کہہ کر پس پشت ڈالا جارہا ہے کہ عدالتی فیصلے ، عوامی امنگوں کے برخلاف ہیں۔ ملکی مفادات کو بیرونی قرضوں کے عوض گروی رکھا جارہا ہے۔ مستحکم اداروں کو تباہ و برباد کیا جارہا ہے، تو قصور وار کون ہے ؟

کیا حلیف جماعتیں بھی اس تباہی کی ذمہ دار ہیں ، جو حکومت کے ہر علم کو یہ کہا کر سہارا دیتی ہیں کہ یہ اقدامات ملکی مفادات کے لئے ضروری ہیں۔

دوسری طرف اپوزیشن جماعت (مسلم لیگ ، نواز شریف) بھی اس قومی المیہ کی قصور وار ہے، جس نے گذشتہ برسوں میں حکمران جماعت کے تمام اقدامات کو یہ کہہ کر سہارا دیا کہ جمہوری حکومتوں کو اپنی مدت پوری کرنے دی جائے ایسا نہ ہو کہ سیاسی بساط کو ہی لیپٹ دیا جائے ۔اس کے لئے ایک سیاسی مک مکا کیا گیا اور پنجاب حکومت حاصل کی گئی۔ سیاسی تحریک بپا کرنے کے بجائے ان کی خواہش رہی کہ حکمران جماعت ملک کو تباہی کی طرف لےجائے، عوام مایوسی کا شکار ہوجائیں، صنعتیں اور ادارے تباہ و برباد ہوجائیں ، بے روزگاری عام ہوجائے ، طوائف ملکی عروج پائے اور جب انتخابات کا نقارہ بلند ہو تو لو گ انہیں نجات دہندہ کےطور پر منتخب کر لیں۔

آج ملک میں متوسط طبقہ ، جو معاشی ترقی کا ضامن ہوتا ہے ، مٹا جا رہا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ امیر، امیر تر ہوتا جارہا ہے اور غریب غریب تر، سیاسی لیڈراں کے اثاثوں میں، سیاسی انتقام کے باوجود بے پناہ اضافے کی رفتار جاری ہے۔ وزیروں کے بیٹے ، بدعنوانی کے الزامات کے باوجود ، اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں جیت کر اسمبلیوں میں پہنچ رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف، غریب کے بچے، بے روزگاری کے دھوپ تلے جلس رہے ہیں، ان کی تعلیمی اسناد ،اپنی اہمیت کھو چکی ہیں ، جرائم کی طرف بڑھتے ان کے کمزرو قدموں کو ، کوئی روکنے والا نہیں ۔

جب ان دونوں جماعتوں پر لگنے والے الزامات کی نوعیت اور کارکردگی ایک جیسی ہے ، تو کیا کیا یہ پاکستان کی تعمیر نو کرسیکں گے؟ کسی بھی پارٹی کے پاس ، قابل عمل منشور نہیں جو عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لاسکے، ان کے پاس صرف سیاسی نعرے ہیں جو غریب کے بھوکے پیٹ میں آگ بھرتے جارہے ہیں۔ قدرتی آفات (زلزلوں اور بارشیوں ) کے شکار افراد ، برسوں سے بے آسراہ زندگی بسر کر رہے ہیں اور ان کی مد د کے لئے کوئی بھی عملی قدم نہیں اٹھا یا گیا ۔

صرف ایک بار ۔۔۔ آپ اپنے ضمیر کی آواز پر ووٹ دیں، سوچیں اور فیصلہ کریں ، تعصب، عصبیت، لسانیت اور گروہی سیاست سے بلاتر ہو کر اپنا حق کا استعمال کریں، تو اہل لوگوں کا اقتدار اللہ قائم کرے گا۔

 

محبت کے موسم میں

میں محبت کے اس موسم میں مرنا چاھتا ہوں
جب درختوں پر پھول کھل رہے ہوں
تمہارا وجود پھیگی بارش کی طرح
قطرہ قطرہ میرے پیاسے جسم میں جذب ہورہا ہو
تصویر کے اس  منظر   میں (میں چاھتا ہوں
تم میرے لئے موت کا جام تجویز کرو
محبت سے شرابور
خواب آلودہ جسموں کے ہمرا ہ رقص گاہ سے
موت کی تنہائی تک
تمہاری آنکھیں میرے ساتھ ہیں
میں سوچ رہا ہوں
ہمیشہ کی طرح
کہیں وقت کی بے رحم تلوار>
ہمارے (باہم پیوست) جسموں کو
کاٹ کر ہمیشہ کے لئے الگ نہ کردے
یہ موقع غنیمت ہے
تم میری پانہوں میں ہو
صبح کی نیند کی طرح ، نیم خوابیدہ
اور محبت کے اس نشہ میں
اندھیری گلیوں میں کھو جانا چاھتا ہوں
کہ کوئی ہمیں تلاش نہ کر سکے
تنہائی کی اس دیوار کے دوسری طرف
روشنی اور آوازیں
اپنے احساس سے چھلملارہی ہیں
اور دیوار کے اس طرف
میرا خالی بدن
لہوکی نہر میں بہتا جا رہا ہے
میرے ہاتھوں کی کٹی رگوں سے
خون بہہ رہا ہے
آنکھیں نیند سے بوجھل ہیں
اور محبت کا نشہ ہونٹوں پر مسکرا رہا ہے

اجنبی بننےسے پہلے

ہماری روحیں دو مختلف جسموں میں ہیں
اور ہم بارش کی دیوار کے نیچے
پیاسےہیں
تم افق کی طرح رنگ دار ہو
اور میں ایک تیز خواب آور
زہر میں ڈوبا ہوں
اور یوں تمہاری طرف بڑھ رہا ہوں
جیسے کوئی آگ میر اپیچھا کررہی ہو
ہوا کے تیز طوفان میں
ہم زیادہ دیر یکجا نہیں رہ سکتے
مگر اجنبی بننے سے پہلے
اپنے ہاتھ
خوابوں سے رنگ دینا چاہتے ہیں

نیا پاکستان ہمارے لئے نا گزیر کیوں ہے ؟

waic_2_01_1947

اس تصویر میں کوئی رنگ نہیں، اس میں ہم کوئی رنگ بھر بھی نہیں سکتے، کیا دیواروں سے لپٹی چیخوں کا بھی کوئی رنگ ہوتا ہے ، سنگلاخ زمین پر بہنے والا لہو، کب کا سیاہی میں تبدیل ہو چکا ہے، بھلا خون رائیگاں کا بھی کوئی اپنا رنگ ہوتا ہے۔ عورتوں کی اجتماعی عصمت دری ،ان کی کوکھ سے زندہ بچوں کو نکال کر سنگینوں میں پرو دینے کے منظروں میں موجود رنگ ، شرم اور انسانی بے حرمتی کے باعث اپنی شناخت کھو دیتے ہیں۔
ہمارے ملک کی چھیاسٹھ سالہ تاریخ شاہد ہے کہ ہم نے اس نسل کے نطفے سے جنم لیا،جس نے اس ملک کے قیام کے لئے لازاوال قربانیں دیں، عصمتوں کی پامالی،خون کےرشتوں کی تقسیم، جائیدادوں کی بربادی اور خون کے پیاسے دریا سے گزر کر انہوں نے اس وطن عزیر کے قیام کے خواب کو پورا کیا
دنیا کی عظیم ہجرت سے گزرنے والی اس نسل سے جنم لینے والی ہماری یہ دوسری نسل، آج اپنے ہی ہاتھوں سے اس ملک کی بربادی کے سامان کررہی ہے، ملک دولخت ہو چکا ہے، ہم یہاں عصبی و لسانی نفرتوں کےبیج بو رہے ہیں، حادثے ہمارے روشن دنوں کے چہروں کو داغ دار کررہےہیں۔ آسمان لہو کی سرخی لئے ، اندھیروں میں ڈوب رہا ہے، سڑکیں، جہاں بوری بند لاشیں پھنکی جاتی ہیں، لوگوں کی بھٹکتی چیخوں سے بھرا ہوا ہے، ہر طرف بے نام لوگ ، اجنبی چہروں کے ساتھ ہمارے ہی درمیاں آباد ہیں، ہماری جڑوں کو کاٹ رہے ہیں ،ہماری رگوں میں اترتا زہر ، ہماری آنکھوں میں قید بے رنگ منظروں کو اوجھل کر رہا ہے۔

pakistani-flag

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سر سبز پرچم اور جذبہ حب الوطنی کو گواہ بنا کر، ہم اپنے پروردگار کے حضور عہد کریں کہ آج کے بعد ہمارا ہر عمل ، عزم و ہمت کی مثال ہو گا، ہمارا یہ ملک ہماری آنے والی نئی نسل کے لئے ناگزیر ہے ، کیوں کہ اس ملک کی آزاد فضا میں اذان مقدس کی آواز ہر سو پھیلی ہے، ہمارے نغمے،بہتے دریا، اونچے اونچے پہاڑ، فضا میں بلند پرواز کرتے پرندے، ہمارے، چمکتے دمکتے چہروں کا تاج ہیں، ہمارا ملک کی آزادی، غلامی کے ایک بھیانک اختتام کی کہانی ہے، اور ہم نے اپنی تمام آنے والی نسلوں کے لئے آزادی حاصل کرلی ہے !