وقت ٹوٹ گیا ہے

ہم آگ روشنی کے لئے لائے تھے
ایک درخت کی اونچائی سے
ہم نے زمین کو ڈوبتے دیکھا
اب درخت سونا بن کر پگھل رہے ہیں
اور ہم چہرہ بنا رہے ہیں
کاش ہم نے دل بھی بنایا ہوتا
وہ لڑکی جس کے ہاتھ پر
ہر رات ایک پھول کھلتا ہے
وہ کیوں اپنے ہاتھ آگ میں جلاتی ہے
کیا اس کی کھڑکی پر وقت ٹوٹ گیا ہے
شاید ہم اب کبھی بھی
کوئی خوبصورت لمحہ نہ پاسکیں

سیلاب میں

وقت اپنے موسم بدل رہا ہے
تمہیں چھوتے ہوئے لمحے خواب بن جاتے ہیں
اور میں تمہارے ایک ایک لمس کو جوڑ کر
تمہیں مکمل کر دینا چاھتا ہوں
مگر تمہیں چھونے والے میرے ہاتھ بے اثر ہوگئے ہیں
تمہاری آنکھیں پرسات کی طرح برس رہی ہیں
اور میرے بوسور کی برمیاں تمہیں جوڑ نہیں پارہی ہیں
ان ویران دنوں میں جدائی خلا کی طرح پھیل گئی ہے
میں نے بہت سوچا ہے
مگر تم سے وابستہ اپنی خواہشوں سے
میں ایک لمحہ بھی پیچھے نہیں ہٹ سکا