بند کھڑکیاں

تم کون ہو ؟
میرے ہم زبان ہو
کہ میرے ہم وطن ہو
مجھے محبت کے کسی رشتہ میں پرودو
میرے سرد ہاتھوں کو
اپنے ہاتھوں میں تھام لو
میرا چہرہ ابھی مٹا نہیں ہے
تم کون ہو؟
میرے ہم زبان ہو
تو محبت کا کوئی  نغمہ سکھاو
میرے ہم وطن ہو
تو میرے سر کی چھت کہ گراو
میرے ہم مذہب ہو
تو میرا خون تم پر حرام ہے
میں بند گلی میں پھنسا ہوں
اپنی کھڑکی تو کھولو
میرے لئے کوئی راستہ تو چھوڑو

اب جینے کے کئی معنی ہیں

اب جینے کے کئی معنی ہیں ، یہاں پہچنے تک ہم نے کئی زخم اٹھائے اور ایک ایسی دھوپ عبور کی جس کی جلتی آگ میں اڑتے پرندے بھی پگھل رہے ہیں۔ تم سنگھار کرنا چاھتی ہو، اپنا روپ، اپنی خوشبو ، اپنی آواز اور قدموں کی چاپ، سب کچھ میرے حوالے کردینا چاھتی ہو۔
سفر کی دھوپ سے ابھی تک ہمارے چہرے جھلسے ہوئے ہیں، ہواؤں کے سائے تلے ہم اپنےاپنے جسموں کی کتھا لکھ رہے ہیں۔ جدائی کے ایک ایک پل کو اپنے جسموں سے اتار کر پھینک رہے ہیں۔
میں تمہیں ایک نئے روپ میں دیکھ رہاہوں، ان دیکھی چاہتوں کو اپنے بدن سے لپٹے تم میرے طرف بڑھ رہی ہو۔
اور جب ہمارے جسموں کے اندر روشنیاں جلنے لگتی ہیں، ہم نئے سفر کی اور بڑھنے لگتے ہیں۔

اس کی آخری تصویر

ٹیلفون کی کنٹکیٹ لسٹ میں
اپنے دوستوں کا نام تلاش کرتے ہوئے
اس کا نام باربار
میری نظروں کے سامنے سے گزرتا ہے
اس کی آخری تصویر
کنٹرکٹ پروفائل پرموجود ہے
جسکے عکس کوکیمرےکی آنکھ نے کبھی قید کیاتھا
میں ڈائل بٹن کو پریس کرتا ہوں
دیر تک ڈائل ٹون بجتی ہے
اور پھر یکلخت خاموش ہوجاتی ہے
مجھے اچھی طرح معلوم ہے
میرا مطلوبہ شخص اب اس دنیامیں نہیں
اس کی لحد پر مٹی ڈالتے ہوئے
میں نے ایک بوجھ اپنے دل پر محسوس کیا
مجھے اس سے بہت کچھ کہنا تھا
لفظوں کی بیسا کھیاں تھامے
ہمیشہ کچھ کہنے سے پہلے ہی
گفتگو کی دھلیز پر لڑکھراا جاتا تھا
مگر کچھ کہہ نہیں پاتا
میں ایک بار پھر کچھ دیر تک
پروفائل پر موجود اس کی تصویر کو دیکھتا ہوں
ایک بار پھر کوشش کرتا ہوں
ان کہی کو لفظوں میں سمونےکی
مگر ہار جاتا ہوں
پروفائل پر موجود اس کی تصویر جیسے کچھ سنا چاھتی ہے
مگر میں اب بھی کچھ کہنے سے قاصرہوں
میرے دل میں چھپا ڈر
دشمن کی طرح سامنے کھڑ ا ہے
خود کو بچانے کے لئے
میرے پاس
کوئی راستہ نہیں
میں کچھ دیر سوچتا ہوں
اور اس کا نام کنٹیکٹ لسٹ سے
ہمیشہ کے لیے ڈیلیٹ کردیتا ہوں

اکمل نویدؔ