بند کھڑکیاں

تم کون ہو ؟
میرے ہم زبان ہو
کہ میرے ہم وطن ہو
مجھے محبت کے کسی رشتہ میں پرودو
میرے سرد ہاتھوں کو
اپنے ہاتھوں میں تھام لو
میرا چہرہ ابھی مٹا نہیں ہے
تم کون ہو؟
میرے ہم زبان ہو
تو محبت کا کوئی  نغمہ سکھاو
میرے ہم وطن ہو
تو میرے سر کی چھت کہ گراو
میرے ہم مذہب ہو
تو میرا خون تم پر حرام ہے
میں بند گلی میں پھنسا ہوں
اپنی کھڑکی تو کھولو
میرے لئے کوئی راستہ تو چھوڑو

آج کا روشن دن

آج کا دن غیر معولی طور پر روشن ہے
لوگوں کے ہجوم کے درمیان
بے نام چہروں ،
بے ہنگم آوازوں کے شور
اور روشنی کے بے سمت بکھرتے زاؤیوں کو توڑ کر
مجھے اس تک پہچنا ہے
جس کے لئے
میرے دل کے مندر میں گھنٹیاں بجائی جارہی ہیں
وہ چہرہ اجبنی ہے
مگر زندگی کے اندھرے میں
جب روشنی کا دیا جلے گا
اور پتھرائے ہوئے ہونٹوں پر
مسکراہٹ اپنے لمس سے ہنسی سجادے گی
آج کا دن غیر معولی طور پر روشن ہے
لوگوں کا ہجوم
ایک دیوار کی طرح راستے بند کر رہا ہے
مجھے ایک بلند پرواز کرکے
اس آشیانے تک پہچنا ہے
جہاں زندگی ہے
جہاں سرگوشی بھی معنی رکھتی ہے

جسم کی جلتی دھوپ

اب جینے کے کئی معنی ہیں
یہاں پہنچنے تک ہم نے کئی زخم  اٹھائے
ایک ایسی دھوپ عبور کی جسکی جلتی آگ میں
اڑتے پرندے بھی پگھل رہے تھے
تم سنگھار کرنا چاہتی ہو
اپنا روپ ، اپنی خوشبو، اپنی آواز
اور قدموں کی چاپ
سب کچھ میرے حوالے کردینا چاہتی ہو
سفر کی دھوپ سے ابھی تک ہمارے چہرے جھلسے ہوئے ہِیں
ہواوں کے سائے تلے  ہم اپنے جسموں کی کتھا لکھ رہے ہیں
جدائی کے ایک ایک پل کو اپنے جسموں سے اتار کر پھنک رہے ہیں
میں تمہیں ایک نئے روپ میں دیکھ رہا ہوں
ان دیکھی چاہتوں کو اپنے بد ن سے لیٹے تم میری طرف بڑھ رہی ہو
اور جب ہمارے جسموں کے اندر
روشنیاں جلنے لگتی ہیں
ہم نئے سفر کی اور بڑھنے لگتے ہیں