جب دستک ابھرتی ہے

جب تھکن بازو سمیٹی ہے
دن کے سارے اجلے کپڑے
رات کے فرش پر گرتے چلے جاتے ہیں
آوازیں مجھے پکارتی ہیں
میں لمبے راستوں پر
پیروں کی لکیریں کھینچتا ہوں
میرے بدن پر سوئی تھکن
قطرہ قطرہ اندھیرے میں
گرتی جاتی ہے
خوشبو کا سیلاب پھیل جاتا ہے
میرے پیاسے ہاتھوں پر
مہکتا بدن ناچتا ہے
آوازیں میرے گرد بانہیں بکھیردیتی ہیں
پھر کوئی دستک ابھرتی ہے
اور دروازے کی آواز مجھے کھول جاتی ہے

زندگی کے درمیان

جب زندگی کے درمیا ن راستے ختم ہوھوگئے
تو ہم نے سوچا، ایک ایسی رات آراستہ کی جائے
جسکی مشرقتی دیوار پر سورج کبھی طلوع کہ ہو
خوشبو کی بہتی جھیل میں
جب ہم نے اپنے پاوں رکھے
تو چاند اور ستارے ہمارے ہمراہ تھے
پرندوں کی اجلی آوازیں
تنہائی کی چادر پرلکھے
گم شدہ خوابوں کو زندہ کر رہی تھیں
اور خوشبو کی چھیل کنارے
ہماری تنہائی کے زخم سیئے جارہے تھے
اس چھیل میں تیرتے ہوئے
ہم نے اپنے وجود کو
>ایک خوبصورت تصویر کے روپرو پایا
رنگ ہر طرف اڑ رہے تھے
خوشبو کے ساتھ رقص کرتے ہوئے
ہم نے اپنے پیاسے جسموں پر نقش
رنگوں کی لکیروں کو لباس کی قید سے آزاد کر دیا