ایک تصویر اور ایک سوال؟

ابھی کل ہی میں ،  اسلام آباد، ایبٹ آباد، بالا کوٹ، کاغان اور ناران کے ٹور سے لوٹا ہوں۔ یہ سفر اور مشاہدہ  ایک کہانی کی طرح ہے، جسے میں بعد میں آپ سے شیئر کروں گا، ناران کی مرکزی شاہراہ   جہاں بازار  واقع ہے، ہوٹلز    اور دکانیں  ہیں ، لوگوں کا ایک  ہجوم ہے جو سارے پاکستان سے  یہاں آیا ہوا ہے ،  ناران کی ان وادیوں  میں گھومتے ہوئے ایک   خیال بار بار   ابھرتا رہا  کہ ان  ہوٹلز    اور دکانیں  نے دونوں اطراف سے ، ناران کے قدرتی  حسن کو  لوگوں کی آنکھ سے اوجھل کردیا ہے ، کوئی آنکھ  دریار کنہار   کی روانی  اور بلند و بلا برف سے ڈھکی ہوئی پہاڑوں کی چوٹیوں کو   اسکے سارے وجود کے ہمراہ  نہیں دیکھ سکتی ہیں جوکہ ایک المیہ سے کم نہیں  !

IMG_8259

کیا یہ بد نما عمارت ، قدرتی حسن کو چھپا نے کی مجرم ہے، نہیں  بلکہ کاروباری  ذھنیت  مجرم ہے ، جس نے  اس پوری وادی کے حسن کو  انسانی آنکھ سے اوجھل کر دیا ۔۔۔  مجرم کون ہے ،

اس سوال کا جواب   آپ سب کو دینا ہو گا

رات کے آخری پہر میں

خواب محرومیوں کو جگاتے ہیں ، میری آرزویں اب تمہارے نام سے منسوب ہیں۔ رات کے آخری پہر کسی دوسرے کے موجود نہ ہونے پر ہم کتنے ملول ہو جاتے ہیں۔ ہر صبح ، میں تمہیں رات کی کہانی سناتا ہوں، آج ہماری محبت اپنا پہلا سال مکمل کرچکی ہے۔
ہم ایک دوسرے کو جتنا جان چکے ہیں، اس کے لیے صدیوں کا جنم بھی ناکافی تھا ، رات اور دن کے درمیان گزرتا وقت ان لمحوں کو یادگار بنا رہا ہے، جب ہم شام کے کناروں پر ملتے تھے۔
جب ہم ایک دوسرے سے سامنے ہوتے ہیں، بہت سے سوالوں کے ساتھ
تو انجام سے بے خبر ہوتے ہیں ، مگر محبت انجام سے وابستہ نہیں ، اور رقص کے درمیان جب ہم گیت گاتے ہیں اور خوشیوں کو اپنے اندر اترتا ہو ا محسوس کرتے ہیں، تو جدائی کی گھڑی آجاتی ہے۔
ہر بار ملنے اور جدا ہونے کے بعد گزری یادوں کی قندیلیں ،ہماری اندھری راتوں کو اجالوں سے بھر دیتی ہیں۔ جب ہم بھیگ جاتے ہیں تو موسم بدلنے سے پہلے رات کی پیاس کو اپنے اندر دور تک جذب کر لیتے ہیں، تاکہ ادھورے پن کی ہر خواہش بے نام ہو جائے۔
لوگوں کے درمیان، تمہارا چہرہ کبھی گم نہیں ہوتا۔
اجنبی آوازوں کے درمیان تمہاری آواز ایک گیت کی طرح سنائی دیتی ہے،
ہم اپنی ادھوری خواہشوں کو دعا کی صورت ساحل پر لکھ دیتے ہیں
میں نے اپنی ایک نظم میں لکھا تھا
“ہم ایک ایسی کہانی میں موجود ہیں جو لکھی نہیں جا سکتی”

اس کے باوجود

اس کے باوجود ۔۔۔
کہ میں اس دنیا میں تمہارے لئے کوئی گھر نہیں بنا سکا
تم نے فقط میرے دل میں رہنا گوارا کیا
خواہشوں کو چھوڑنے میں پہل کی
تم مسکرا سکتی تھیں
مگر تم نے تنہائی میں رھنا ،
مجھے یا د کرنا اور آنسو بہنا پسند کیا
اپنے ہاتھوں پر مہندی لگانے کے بجائے
تمہیں میرے ہاتھوں کی ان دیکھی گرفت
اچھی لگنے لگی
صرف یہی نہیں
رات جب بھی چاند تمہارے آنگن میں طلوع ہوا
تم نے اپنی روشنی سے بھی زیادہ منور ہو کر
میری زندگی کے اندھیروں کو اجالوں سے بھر دیا
یہ جانتے ہوئے بھی
کہ میں سراپا خواب ہوں
جو دن کے طلوع ہونے پر
اپنی جگہ خالی کردے گا

ایک تصویر بناؤں

اس سے پہلے کہ زمین کھسک جاتی
میں نے کیوں نہ آسمان کا کنارہ تھام لیا
میں نے خود کو جلا دیا
اور چاہ کہ اپنی انگلیوں کو رنگ میں ڈوبو کر
ایک تصویر بناؤں
شام کے اجالے کی
مگر تصویر کے رنگوں میں
اب صرف سائے ہیں
تمہاری محبت سدا بہار موسم کی طرح ہے
مگر میں خود کیوں تقسیم ہو رہا ہوں
تم آسمان کا کنارہ ہو
اور میں گرنے سے پہلے
تمہاری گرفت میں آنا چاہتا ہوں
محبت کے لئے
مگر کچھ اور بھی ہے
میرے دل کے اندھیرے میں
اپنی خواہشوں کا جال پھلائے
میں منتظر ہوں
کہ تم دام میں آجاؤ
تم میرے لئے
ہر لمحہ زندگی اور فنا کے درمیاں
محبت کی ایک تصویر کی طرح نمایا ں ہو
جسکے رنگوں میں زندگی کا اجالا ہے