الیکشن 2013


پاکستان کےباشعور عوام مبارک باد مستحق ہیں
 کہ انہوں نے ووٹ کی بھر پور طاقت سے
سیاسی مفاہمت ،  دہشت گردی اور منافقت کو ہمیشہ کے لئے دفن کردیا
نئے پاکستان کو دیا جانے والا یہ  ووٹ
اس بات کا تقاضہ کرتا ہے  کہ ہم بحیثت ایک قوم اپنی ترجیحات کا اعادہ کرلیں کہ
معیشت کی درستگی، تعلیم کے  بھر پور فروغ اور  انصاف کی بالا دستی  سے
ہم پاکستان کے چہرے کو
عالمی چہرہ
!بنا دیں گے

پناہ درکار ہے

ایک بار پھر مجھے پناہ درکار ہے
مصنوعی موسم کی اجلی شاموں سے میں خود کو موڑ چکا ہوں
خوشیوں کے لمحےٹوٹی ہوئی گھڑی کی سوئیوں کی طرح
ایک ہی زمین پر رک گئے ہیں
میں بہت آگے نکل آیا ہوں
ایک بار پھر مجھے پناہ درکار ہے
جو تم جیسا ہو اور کوئی سوال پوچھے بنا
میرے جسم و جاں میں نشہ بن کر اتر جائے
شاید کوئی فیصلہ میرے اندر کہں ہوچکا ہے
اس لئے تو میں وقت کے ساتھ نہیں ہوں
کوئی اجنبی ہاتھ مجھے جکڑے ہوئے ہے
میرے سانسوں کی ڈوریوں کو تھامے ہوئے
مجھے کسی اور سمت گھسیٹ رہا ہے
میں وہاں جانا نہں چاھتا
جہاں تم نہیں ہو ۔۔۔۔
>ایک بار پھر مجھے پناہ درکار ہے

نیا سال

ایک ایسی گہری رات کے بعد
طلوع ہونے والی نئے سال کی صبح کیسی ہوگی
جب آگہی جرم بن چکی ہے
جب الفت و محبت میں ڈوبے ہوئے لمحے
وقت کی ٹوٹی ہوئی کرچیوں میں خون آلود پڑے ہیں
وقت کی بے وفائی،
بے دام ہوچکی ہے
آدمی اپنے انسان ہونے کے احساس سے محروم ہے
جب ایک کلی پھول بننے کی عمر کو نہیں چھو سکتی
جب ایک خیال
خوشبو کی لہر نہ بن سکے گا
تو آنے والے سال کا نیا دن
بسنت کے رنگ کیونکر بانٹھے گا
آج محبت جرم بن چکی ہے
ایک بار پھر
کچا گھڑا ، محبت کے شور مچاتے
دریا کی لہروں میں گم ہوتا جارہا ہے
کوئی ہے
جو محبت کی اس دعا کو سمیٹ لے
اور انسان کے پتھر نما چہرے پر
روشنی بکھر دے ۔۔

سورج اندھیرے پھینک رہا ہے

ہم روشنی کے لئے کس طرف کھڑکی کھولیں

پرانی زندگی کا دکھ نئے د ن کی خوشی میں

چھپ نہیں سکتا

خواب اور کھڑکی کے درمیاں بچے کھیلتے ہیں

مگر میرا دکھ عجیب ہے

وقت کا ہر لمحہ ایک نئی سمت کھنیچتا ہے

اب مجھے چھپ جا نا ہے

مگر ایک آواز جادو جیسی ہے

ہم روشنی ہے لئے کس طرف کھڑکی کھولیں

سورج کی طرف جو جاتے ہوئے

اندھیرے پھینگ جاتا ہے

یا اس طرف ۔۔۔۔۔

جدھر سے مسافر

گھروں کی جانب لوٹتے ہیں