ایک تنہا نغمہ رقص میں بے حال ہے

یہ ایک ایسا احساس ہے
جو چھونے سے بھی زیادہ لطیف ہے
جسم کے پر لطف زاویوں سے ماوارا
روح کی گہرائیوں سے
ایک چشمہ پھوٹ رہا ہے
جسکے رنگ خواب کی نیم آغوش بانہوں میں
گم ہورہے ہیں
اور آنکھوں کے راستے
تمہارے جسم کے تالاب سے میں
پانی پی رہا ہوں
پیاس بلوریں گلاسوں میں گھلتی جارہی ہے
میری بے قرار روح
مدہوش سانسوں کی تال پر ناچ رہی ہے
ایک تنہا نغمہ رقص میں بے حال ہے
جلتی ہوئی آگ ہے
جو خاموش لہجے میں مسکرا رہی ہے
بکھرے ہوئی رات جیسی سیاہ گیسوؤں کے درمیان
۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے نیند آ رہی ہے

خوابوں کی فصل

میرے سیاہ آسمان پر
تم نے اپنے چہرے کی روشنیاں لکھ دی ہیں
بہت دنوں بعد آج ایک قیدی رہا ہو کر چاند دیکھ رہا ہے
میں تو بازی ہار چکا تھا
جس زمین میں مجھے اپنے خوابوں کی فصل بونا تھی
وہ دھوپ میں جل گئی تھی
مگر آج تمہاری بھیگی آنکھوں میں دعائیں جاگ رہی ہیں
اور تم میرے جسم و جاں کے خلا کو
اپنے لمس کی حرارتوں سے پر کر رہی ہو
تم نے اپنے آپ کو مجھ سے جوڑ لیا ہے
تمہاری آواز پر موسم بدل رہے ہیں
جلتا ہوا سورج شام کے سمندر میں اتر گیا ہے

ایک ستم اور میری جاں

ایک ستم  اور میری جاں

حکومتوں کا بنیادی مقصد ایک ایسی فلاحی ریاست کا قیام ہوتا ہے  جہاں لوگوں کو   بنیادی   حقوق، ملازمتوں کے مساوی  مواقع ، اور انصاف کا فوری حصول ممکن ہو۔مگر پاکستان میں حکومتیں، جمہوری نظام کی آڑ میں برسہا برس  سے ،حکومتی  وسائل کو ذاتی منفعت  کے کاموں میں استعمال کرنے کی عادی ہو چکی ہیں، جمہور کے لئے قوانین واضع کرنے کی جگہ ، ایسے قوانین  کا اجرا کیا جارہا ہے، جو  تاحیات حکمرانی کے لئے  ان کا راستہ صاف کرسکے۔

اب یہ بات سب پر عیاں ہوچکی ہے کہ ہمارے ملک کی  دو بڑی سیاسی جماعتوں نے برسر اقتدار آکر لوٹ مار اور اقرابا پروی کا بازار گرم کردیا۔ اور عوام کے حصے میں جمہوریت ایک بہترین انتقام کا نعرہ بن کر سامنے آئی ۔عوام کے حصے میں آنے والی روٹی  اور روزگار کو بھی ان  سے دور  کردیا، غریبوں کے لئے قیام اسکولوں میں تعلیم ناپید، ہسپتالوں سے ڈاکٹر اور دوائیں نایاب، اور ملک سے روزگارکے مواقع غائب ہوتے چلےگئے ، آبادیاں ، بنیادی ضرورتوں سے محروم ،کچرے کے ڈھِیر کی طرح بدنما دیکھائی دینے لگیں۔ جبکہ ملک کی اشرافیہ ، کے لئےرائج دوہرے معیار نے ان کے درمیان طبقاتی  فاصلے بڑھا دئے۔جھوٹ اور   منامقت کا چلن عام  ہو گیا۔

ملک کے دو بڑے شہروں، لاہور اور کراچی ، جو کہ  اپنی  گنجان آبادیوں کے باعث، مسائلستان بن چکے ہیں ،وہاں  ٹرانسپورٹ کا بوسیدہ نظام   لوگوں کے لئے تکالیف کا باعث بن  چکا ہے۔ایسے میں عالمی سطح پر تسلیم شدہ    “ای ٹیکسی” کا نظام  ان شہروں میں متعارف کرایا گیا،  جہاں  جدید تریں  اور معیاری ٹرانسپورٹ اور اس سے منسلک تعلیم  یافتہ  اسٹاف جسکا تعلق  موبائل ایپ کے ذریعے  صارف سے جوڑ دیا گیا۔ بہت ہی آسا نی سے   دستیابی کو ممکن بنادیا ۔ آپ جہاں ہیں اور جہاں  جانا چاہتے ہیں   ، یہ سب معلومات ، اس  موبائل  ایپ سے جوڑے   سرور  پر  مہیا کی جاتی ہے جو فوری طور پر  ، فاصلہ کی طوالت اور اس کا تخمینے سے آپ کو  آگاہ کردیتا ہے۔

اس جدید نظام نے  ، لوگوں کی سفری  سہولیا ت   کے ساتھ ساتھ، ملک کے بے روزگاہ  نوجوانوں کے لئے باعزت  معقول  روزگار مہیا کیا بلکہ  لوگوں کے لئے سرمایہ کاری  کا بھی ذریعہ  بنا ۔۔۔۔ اگر آپ  ایک شاندار  گاڑی کے مالک ہیں  اور کمپنی کے معیار سے مطابقت پر  ، آپ اس گاڑی  کو کمپنی  کو دے کر معقول  ماہانہ  معوضہ   بھی حاصل کر  سکتے ہیں۔

تیزی سے  تبدیل ہوتی اس دینا میں ،یہ تبدیلیاں زندگی  میں آسانیاں پیدا کرتی ہیں، مگر ہماری حکومتوں کو  یہ   تبدیلیاں راس نہ  آئی، انہوں نے سڑکوں پر ڈھولتی  ، بوسیدہ اور پرانی  گاڑیوں  کے چلنے پر کبھی کوئی نوٹس نہیں  لیا، مگر فوری  طور پر انہوں نے اس نئے نظام سے پیدا ہونے والے سہولتوںکو  عوام کےلئے  غیر قانونی ٹہرا دیا۔ اور حكم جاری كردیا   کہ انہیں بهی  بوسیده نظام كے اصول وقوانیں  كے تحت چلنے كی  اجازت لینی  ہوگی، جہاں   صارف  کے لئے  سہولتوں  کے برعکس ،اجر  صرف  اپنے منافع پر نظر رکھے ۔

اس کی آخری تصویر

ٹیلفون کی کنٹکیٹ لسٹ میں
اپنے دوستوں کا نام تلاش کرتے ہوئے
اس کا نام باربار
میری نظروں کے سامنے سے گزرتا ہے
اس کی آخری تصویر
کنٹرکٹ پروفائل پرموجود ہے
جسکے عکس کوکیمرےکی آنکھ نے کبھی قید کیاتھا
میں ڈائل بٹن کو پریس کرتا ہوں
دیر تک ڈائل ٹون بجتی ہے
اور پھر یکلخت خاموش ہوجاتی ہے
مجھے اچھی طرح معلوم ہے
میرا مطلوبہ شخص اب اس دنیامیں نہیں
اس کی لحد پر مٹی ڈالتے ہوئے
میں نے ایک بوجھ اپنے دل پر محسوس کیا
مجھے اس سے بہت کچھ کہنا تھا
لفظوں کی بیسا کھیاں تھامے
ہمیشہ کچھ کہنے سے پہلے ہی
گفتگو کی دھلیز پر لڑکھراا جاتا تھا
مگر کچھ کہہ نہیں پاتا
میں ایک بار پھر کچھ دیر تک
پروفائل پر موجود اس کی تصویر کو دیکھتا ہوں
ایک بار پھر کوشش کرتا ہوں
ان کہی کو لفظوں میں سمونےکی
مگر ہار جاتا ہوں
پروفائل پر موجود اس کی تصویر جیسے کچھ سنا چاھتی ہے
مگر میں اب بھی کچھ کہنے سے قاصرہوں
میرے دل میں چھپا ڈر
دشمن کی طرح سامنے کھڑ ا ہے
خود کو بچانے کے لئے
میرے پاس
کوئی راستہ نہیں
میں کچھ دیر سوچتا ہوں
اور اس کا نام کنٹیکٹ لسٹ سے
ہمیشہ کے لیے ڈیلیٹ کردیتا ہوں

اکمل نویدؔ

روشنیوں سے دور

روشنیوں سے دور

ستاروں کی روشنی سے بہت دور
مردہ زمینوں اور آگ پھونکتی ہواوں کے درمیاں
رقص ابد جاری ہے
کتابوں میں چہرے لکھے جارہے ہیں
اس پر ہول اندھیر ے میں کہیں ایک چیخ ابھرتی ہے
سانسوں کو نچوڑ کر اس پر اینٹ رکھ دی جاتی ہے
یوں ایک سیاہ دیوار
دلوں کے بیچ میں بلند ہوتی ہے
مردہ زمینوں اور آگ پھونکتی ہواوں کے درمیاں
انسانوں کا چہرہ مٹایا جارہا ہے ایسا لگتا ہے
سورج پھٹ جائے گا
اور تیزروشنی اندھیرے کے بستر میں کھو جائے گی
میرے بازوں سے اوپر کوئی دوسرا چہرہ اگ رہا ہے
میرے ہونٹ پکارتے ہیں
مشرق سے مغرب تک سب کچھ ڈوب رہاہے
اب کچھ نہیں بچا
صرف چہرے ہیں
الزام لگاتی انگلیاں
اور گالی دیتے ہوئے لفظ ہیں
جن برتنوں میں ہم نے
موسموں کے پھولوں کا رس جمع کیا تھا
ان کو کتے چاٹتے ہیں
جن وادیوں میں ہم نے گیت گائے تھے
وہ منظر سے اوجھل ہوگئی ہیں
زمین کے سارے چہرے جل گئے ہیں