یہ وطن ہمارا ہے!

ابھی صبح دور ہے ، پرندے جاگ گئے ہیں ، ان کے چچہانے کی آواز آہستہ آہستہ فضا میں پھیلتی جارہی ہے ۔ مگر روز کی طرح نہیں ، کیونکہ آج کا دن ہمارے ملک کا 65 واں یوم آزادی ہے۔

آج کا یوم آزادی ، اس قوم کا یوم آزادی ہے ، جسے تاریخ سے سبق لینا نہیں آتا، دنیا کے تمام ممالک ترقی کی طرف گامزن ہیں، ان حکومتیوں کا بنیادی منشور اپنے عوام کی فلاع و بہبود ہے، مگر ہمارا ملک ایک کٹی پتنگ کی طرح اندھیرے کی سمت گرتا جارہا ہے، اس کی راہ میں کوئی سنگ میل نہیں ، جوترقی کی شاہراہ کی طرف اشارہ کرے ، ہم اپنی آزادی کا جشن ، روایات کے تسلسل کے طور پر منارہے ہیں، مگر جن کے دل اور ذہن پر وقت دستک دے رہاہے ، ان کی آنکھوں میں آنسو ہیں، اور آنکھیں جاگ رہی ہیں۔

ابھی صبح دور ہے، مگر بہت سے سوالوں کا کوئی جواب نہیں ، آزادی کے آغاز سے ہی ، ہم اپنی آزادی کےخود دشمن بن گئے ، کوئی بیرونی سازش نہیں ہوئی، کوئی ملک ہم پر حملہ آور نہیں ہوا، ہم ہی نے اپنی آزادی پر شب خون مارا، اپنے ہی لوگوں سے نفرت کی ، اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ، ملک کے وجود کو دولخت کیا، مگر اس کا حاصل کیا ہوا، ہمارے درمیا ن اندھیرے کچھ اور بڑھ گئے ، ہمارے مفادات اپنی تکمیل کے لئے ، اب اور بھی زیادہ قربانی مانگنے لگے ، ہم نے اپنی دوستی ، اپنے دشمنوں سے بڑھا لی، اپنے لوگوں کو ہم نسلی ولسانی فرقہ واریت اور تعصب کی نظر سے دیکھنے لگے، اپنے لوگ ہمیں اپنے ہی وطن میں برے لگنے لگے ، رشتے ہماری نظروں سے اوجھل ہوگئے، اور اپنے ہی لوگوں کے خون سے ، ہم اپنی ہی زمین کے تقدس کو پامال کرتے گئے، ہماری آنکھوں میں ، ہمارے ہی دشمنوں کا دیا ہوا اجالا تھا، جس نے خوشبو سے معطر فضا میں زہر گھول دیا، گھونسلوں سے پرندوں کو اڑا دیا ، زمین کی زرخیزی میں زہر بو دیا ، اپنے گھروں سے جڑے ہوئے دوسرے گھر وں کو اپنے ہی ہاتھوں سے جلادیا۔ ان جلے ہوئے گھروں کے دھویں نے منظر کو ذرا دیر کے لئے اوجھل تو کردیا ہے مگر بے گناہ لاشوں کی بے سمت اٹھی ہوئی انگلیاں ہم سے سوال کرتی ہیں کہ کب تک ہم نامعلوم قاتلوں کو اپنے درمیان جگہ دیتے رہیں گے۔ آخرکب تک؟

ابھی صبح دور ہے، صبح ہوتے ہی، توپوں کی سلامی دی جائے گی، خوش لباس لوگ ، پرچم کی سلامی کے لئے جمع ہوں گے، ہنستی ہوئی آوازوں کا بلند ہو تا ہواشور ، اندھیرے میں پریشان کرنے والے ان تمام سوالات کو بہا لے جائے گا، مگر زخمی دل ، اور اپنے ہی لوگو ں کی بے گناہ لاشوں کو اٹھانے والے ہاتھ کیونکر سلامی کے لئے اٹھ کھڑے ہوں گے؟

ملک کو تقسیم در تقسم کرنے والے لوگوں کے پیچھے کھڑے ہوکر ہم کب تک اپنے ملک کی آزادی کا جشن منائیں گے،کب تک ہم ان بے چہرہ لوگوں سے غافل رہیں گے، جو ہمارے ملک کی نظریاتی سرحدوں پامال کرتے جارہے ہیں، خدا نہ کرے کہ ایک بار پھرہمارے گھروں کی دیواریں ، جن پر روز چاند کی چاندنی چٹکتی ہے، گرادی جائیں۔

خدا نہ کرے !

ہم نے سوچا

جب زندگی کے درمیان راستے ختم ہوگئے تو ہم نے سوچا، ایک ایسی رات آراستہ کی جائے، جسکی مشرقی دیوار پر سورج کبھی طلوع نہ ہو۔ خوشبو کی بہتی جھیل میں جب ہم نے اپنے پاؤں رکھے تو چاند اور سورج ہمارے ساتھ تھے۔ پرندوں کی اجلی آوازیں تنہائی کی چادر پر لکھے گم شدہ خوابوں کو زندہ کررہی تھیں اور خوشبو کی جھیل کے کنارے ہماری تنہائی کے زخم سیئے جارہے تھے۔
اس جھیل میں تیرتے ہوئے ہم نے اپنے وجود کو ایک خوبصورت تصویر کے روبرو پایا ، رنگ ہر طرف اڑ رہے تھے ۔ خوشبو کے ساتھ رقص کرتے ہوئے ہم نے اپنے پیاسے جسموں پر نقش رنگوں کی لکیروں کو لباس کی قید سے آزاد کردیا

گڑیا کی نیند

ایس نظروں سےتم مچھے دیکھتی ہو
کہ تم مجھے دوبارہ زندگی سے جوڑ دیتی ہون
یہ تمہارا کھیل ہے
مگر میں روز تمہارے ہاتھوں سے جوڑے جانا
پسند کر تا ہوں
اور پھر تم مسکرا دیتی ہو
تو خوشبا ہمیں گھیر لیتی ہے
تم سمدر کی طرح پرجوش ہو
مگر کنارے پر رکی رہتی ہو
اور میں چاھتا ہون
کہ تمہارے ساتھ دور تک بہتا چلا جاوں
پھر تم اپنے جسم کے مختلف خطورں پر
میرا نام لکھتی ہو
اور جیسے جیسے نئے ورق کھلتے چالاے جاتے ہیں
سانسوں میں ایک لذت تیرنے لکگتی ہے
اور تم میرے ہاتھوں میں
ایک اشارہ بن جاتی ہو
اور ایک نازک گڑیا کی طرح
اپنی آنکھیں بند کر کے
خوابوں کے بستر میں سو جاتی ہو

نیاسال

ایک ایسی گہری رات کے بعد
طلوع ہونے ہوالی نئے سال کی صبح کیسی ہوگی
جب آگہی جرم بن چکی ہے
جب الفت و محبت میں ڈوبے ہوئے لمحے
وقت کی ٹوٹی ہوئی کرچیوں میں خون آلودہ پڑے ہیں
اور وقت کی بے وفائی
بے دام ہوچکی ہے
آدمی اپنے انسان ہوئے کے احساس سےمحروم ہے
جب ایک کلی پھول بننے کی عمر کو نہیں چھو سکتی
جب  ایک خیال
خوشبو کی لہر نہ بن سکےگا
تو آنے والے سال کا نیا دن
بسنت کے رنگ کیونکہ بانٹے گا
آج محبت جرم بن چکی ہے
اور ایک بار پھر
کچا گھڑا، محبت کے شور مجاتے
دریا کی لہروں میں گم ہوتا جارہاہے
کوئی ہے
جو محبت کی اس دعا کو سمیٹ لے
اورانسان کے پتھر نما چہرے پر
>روشنی بکھر دے