نامعلوم سے معلوم تک

زندگی کے رنگوں کی اڑتی ہوئی دھنک
جسے پکڑنے کی خواہش میں
انسان بھاگتا رہتا ہے
مگر کوئی اس دھنک کو اپنے ہاتھوں  پر نہیں اتار سکا
اس کا تعاقب جاری ہے
وہ ایک ایسی ڈور میں شریک ہے
جس کا کوئی کنار نہیں ہے
حالانکہ زندگی  ۔۔۔۔
خود انسان کے وجود میں
موج در موج سفر کررہی ہے
مگر وہ نہیں جانتا
کیونکہ وہ باہر کی آوازوں میں گم ہو گیا ہے

اے محرم تو سرخرور ہے سدا

سیاہ آسماں پر پھیلے  لہو رنگ پرچم تلے
قافلے صدیوں سے ہیں سچ کے سفر پر رواں
سر ان کے پڑے ہیں سجدوں میں کٹے ہوئے
بریدہ جسم ہیں ان کے خوشبو سے مہکے ہوئے
برف جیسے شعلے جلے ہوئے خیمو ں سے ہیں  لپٹے ہوئے
آسمانوں سے لگی پر نم چشم کے سامنے
ڈوب چکی ہے دریاؤں کی روانی بھی پیاس میں
پاتال سے باندھ کر وقت کی رفتار کو
رقص بسمل ہوا ہے ہر طرف بپا
ظلم کو ہمیشہ کے لئے
دفنا دیا ہے گمنامی کی قبروں میں
اے محرم تو سرخرو ر ہے سدا
کہ تری ہر شہادت
موسم گل کا پیرھن دے گئی
بے گناہ کی موت کو