رات کے آخری پہر میں

خواب محرومیوں کو جگاتے ہیں ، میری آرزویں اب تمہارے نام سے منسوب ہیں۔ رات کے آخری پہر کسی دوسرے کے موجود نہ ہونے پر ہم کتنے ملول ہو جاتے ہیں۔ ہر صبح ، میں تمہیں رات کی کہانی سناتا ہوں، آج ہماری محبت اپنا پہلا سال مکمل کرچکی ہے۔
ہم ایک دوسرے کو جتنا جان چکے ہیں، اس کے لیے صدیوں کا جنم بھی ناکافی تھا ، رات اور دن کے درمیان گزرتا وقت ان لمحوں کو یادگار بنا رہا ہے، جب ہم شام کے کناروں پر ملتے تھے۔
جب ہم ایک دوسرے سے سامنے ہوتے ہیں، بہت سے سوالوں کے ساتھ
تو انجام سے بے خبر ہوتے ہیں ، مگر محبت انجام سے وابستہ نہیں ، اور رقص کے درمیان جب ہم گیت گاتے ہیں اور خوشیوں کو اپنے اندر اترتا ہو ا محسوس کرتے ہیں، تو جدائی کی گھڑی آجاتی ہے۔
ہر بار ملنے اور جدا ہونے کے بعد گزری یادوں کی قندیلیں ،ہماری اندھری راتوں کو اجالوں سے بھر دیتی ہیں۔ جب ہم بھیگ جاتے ہیں تو موسم بدلنے سے پہلے رات کی پیاس کو اپنے اندر دور تک جذب کر لیتے ہیں، تاکہ ادھورے پن کی ہر خواہش بے نام ہو جائے۔
لوگوں کے درمیان، تمہارا چہرہ کبھی گم نہیں ہوتا۔
اجنبی آوازوں کے درمیان تمہاری آواز ایک گیت کی طرح سنائی دیتی ہے،
ہم اپنی ادھوری خواہشوں کو دعا کی صورت ساحل پر لکھ دیتے ہیں
میں نے اپنی ایک نظم میں لکھا تھا
“ہم ایک ایسی کہانی میں موجود ہیں جو لکھی نہیں جا سکتی”

صرف تمہارے لئے

اس کی خواہشیں معصوم تھیں، اسے آسمانوں کی وسعت کا کبھی احساس نہ تھا، صبح کی روشنی نے پہلی بار اسے چھوا تو اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی بارش ہونے لگی۔
زندگی اتنی خوبصورت تو نہ تھی ۔۔ اس کی روح بار بار کچلی گئی تھی، اس کی خواب دیکھنے والی آنکھوں کے آگے سنگلاخ دیواریں چن دی گئی تھیں ۔ اور تنہائی، اس کی روح میں ہمیشہ کے لئے بس گئی تھی۔کوئی خواب نہ تھا، جس سے وہ اپنے دل کی بات کہہ سکتی، (مگر کیا اس کا دل ڈھرکتا بھی تھا؟) اس نے کبھی ایسا محسوس نہیں کیا ۔ مگر انجانی خواہشیں اس کے اندر گھر کر چکی تھیں۔ رات کو اپنے آس پاس ہمیشہ اس نے کسی کی آہٹ کو محسوس کیا۔ وہ کون تھا؟ اس جستجو کی اسے آگہی نہ تھی۔ بس دل کسی احساس سے بوچھل تھا۔ دن اور رات کے بے معنی آ نے اور جانے کو وہ کیونکر زندگی کہہ سکتی تھی۔ مگر دل کے اندھیرے میں ہمیشہ محسوس رہنے والا احساس اب ایک روشنی میں بدل رہا تھا۔ اس کی خواہشیں معصوم تھیں۔ اس نے جب اس روشنی کا ہاتھ تھاما تو پہلی بار اپنے خالی دل کو بھرا ہوا پایا۔ اس کے خدو خال کتنے مانوس تھے، مگر تصویر اب بھی واضح نہ تھی۔ کوئی اس میں اپنے رنگ بھر رہا تھا۔
تب اس کی خواہشوں نے سمندر دیکھنے کی خواہش کی، کیا اس کی ان دیکھی محبت ، سمندروں سے بھی بڑی ہے اور جہاں دو کنارے ملتے ہیں، کیا اس کی زندگی میں بھی ایک ایسا پوشیدہ کنارہ ہے، جسے کسی نے نہ چھوا ہو، اور جہاں ہمیشہ سفر میں رھنے والے مسافر اپنی منزل تما م کرتے ہیں۔
اس کی معصوم خواہشوں کو آج کئی سوال درپیش ہیں۔ کیونکہ تصویر کے رنگ ابھی ادھورے ہیں اور وہ چہرہ جو ہر پل اس کی ڈھرکنو ں کے ساتھ تھا اپنی شکل ادھوری چھوڑ گیا ہے ۔

کوئی تیسرا شخص

ہم دونوں بے سایہ شجر کی طرح ہیں
وقت کی ڈور ہمارے ہاتھوں سے چھوٹ گئی ہے
میں تمہارے جسم کی طرف دیکھتا ہوں
تو میرے بدن کی حرارتیں ٹھنڈی ہونے لگتی ہیں
میں تمہارے سامنے گر جاتا ہوں
میرے ہاتھوں کی مٹی ہوئی لکیروں میں تمہارا چہرہ چھپ گیا ہے
مگر تم مجھے تھام لیتی ہو
زندگی کا یہ موڑ بھی کسی اساطیری کہانی کی طرح ہے
کہ میں تمہارے جسم کا مالک نہیں
مگر تمہاری روح اور تمہارے جذبے میرے ساتھ رقص میں ہیں
میرے اندر تمہیں چھو کر جل جانے کا خوف ہے
مگر میرے آنکھوں میں تمہاری تصویر تازہ رہتی ہے
اور اس موڑ پر کوئی دوسرا کھڑا ہے
جہاں سے سے ہم دونوں کو زندگی کا نیا آغاز کرنا تھا