اندر کا چراغ

تم اپنے سفر میں ہو کہ خواہشیں تمہیں رنگ برنگے غباروں کی طرح اڑتی ہوئی محسوس ہوتیں ہیں تم انہیں چھونے کے لئے آگے بڑھتی ہو اور سرابوں کو اوڑھ لیتی ہو تم دائروں میں قید ہو تمہاری نیکی ، تمہارا چہرہ جھوٹ کے خلاف ہے اور زخمی ہے تم اپنی راہ الگ تراش رہی ہو تمہاری آواز معمولی نہیں ہے ،مگر پرچھائیاں زندگی کے تعاقب میں ہیں شاید یہ کوئی مجبوری ہے تم بھول جاتی ہو کہ ایک چمکدار طاق تمہارے اندر بھی موجود ہے جہاں ایک زندہ چراغ جل رہا ہے۔

تم ٹوٹے ہوئے گھڑے پر دریا کو پار کرنا چاہتی ہو اور زندگی کی روشنی تمہارے چہرے سے برسنے لگتی ہے

سیا ہ ہاتھ اور جگنو

سیاہ ہاتھ اور جگنو

ظلم کی سیاہ رات کو
اجلا بنانے کی خواہش کرنے والے
شہیدوں کا لہو
دشمن کی آستینوں پر ایک روز
ضرور چمکے گا
ظلم کی زنجیر کو توڑنے کے لئے
جو آوازیں کل نعرہ بنی تھیں
آھنی ہاتھوں نے آج انہیں
سنگلاخ دیواروں کے پیچھے
دھکیل دیا ہے
مگر ایک ایسی نیک ساعت طلوع
ہونے والی ہے
جب ظلم کے یہ سیاہ ہاتھ
اڑنے والے جگنووں
اور بھلادی جانے والی
آوازوں کی بازگشت کو
روک نہیں سکیں گے

سانحہ پشاور کے شہید طلبا کے نام

10849877_894436897235348_1620323525045499915_n

سانحہ پشاور کے شہید طلبا کے نام

افسوس کا کوئی بھی لفظ نہیں لکھا جا سکتا
کہ یہ ایک مکمل درد ہے
جسکی اذیت زمانہ دور تک محسوس کرے گا
ہماری قوم دہشت گردی کے خلاف
اس جنگ میں کتنی قربانیاں دے چکی ہے
اور کتنا قرض ہم پر  ادا کرنا باقی ہے
دھشت گردی کی اس جنگ کو ا ب ختم ہوجانا چاہئے
چاہے کتنی ہی اور قربانیاں ہمیں دینی پڑے
اپنے کل کو محفوظ کرنے کے لئے