موت کتنی ارزان ہے !

عید کے دن، میں اس مختصر سے خاندان کو یاد کررہا ہوں
جسے بڑی بے رحمی سے زندگی کی کتاب سے نوچ کر پھنک دیا گیا
اس شہر میں یوں تو روز ہی کوئی مرتا ہے
کوئی اپنی موت اور کوئی ایسی موت بھی مرجاتا ہے
کہ اس کا اپنے قاتلوں سے کوئی بھی
لینا دینا نہیں ہوتا
مگر یہ بدقسمت خاندان کس کھاتے
میں مارا گیا
کوئی نہیں جانتا
اپنی خوشیوں کے لئے
انہوں نے ایسے لباس کیوں خریدے ،
جنہیں کسی کو بھی نہیں پہننا تھا
کھلونے، اپنی اپنی آنکھیں موندے
منتظر ہیں کہ کوئی آواز انہیں
نیند سے جگا ئے
مگر پانی میں ڈوبتے ہوئے
ان کی آنکھوں کو موت نے ڈھانپ لیا
تاکہ وہ دوسرے کی موت کو نہ دیکھ سکیں
زندگی کے خوبصورت رنگوں سے بنا یہ خاندان
یوں مسمار کر دیا گیا
کہ ان کی زندگی پانی کی دیوار کے پار چلی گئی
موت کتنی ارزاں ہے !
اور اس کا نشانہ کتنا بے خطا ہے
ہم ایسی بے خطا موت کا شکار بننے والوں کے لئے دعا کے طلب گار ہیں

ایک ستم اور میری جاں

ایک ستم  اور میری جاں

حکومتوں کا بنیادی مقصد ایک ایسی فلاحی ریاست کا قیام ہوتا ہے  جہاں لوگوں کو   بنیادی   حقوق، ملازمتوں کے مساوی  مواقع ، اور انصاف کا فوری حصول ممکن ہو۔مگر پاکستان میں حکومتیں، جمہوری نظام کی آڑ میں برسہا برس  سے ،حکومتی  وسائل کو ذاتی منفعت  کے کاموں میں استعمال کرنے کی عادی ہو چکی ہیں، جمہور کے لئے قوانین واضع کرنے کی جگہ ، ایسے قوانین  کا اجرا کیا جارہا ہے، جو  تاحیات حکمرانی کے لئے  ان کا راستہ صاف کرسکے۔

اب یہ بات سب پر عیاں ہوچکی ہے کہ ہمارے ملک کی  دو بڑی سیاسی جماعتوں نے برسر اقتدار آکر لوٹ مار اور اقرابا پروی کا بازار گرم کردیا۔ اور عوام کے حصے میں جمہوریت ایک بہترین انتقام کا نعرہ بن کر سامنے آئی ۔عوام کے حصے میں آنے والی روٹی  اور روزگار کو بھی ان  سے دور  کردیا، غریبوں کے لئے قیام اسکولوں میں تعلیم ناپید، ہسپتالوں سے ڈاکٹر اور دوائیں نایاب، اور ملک سے روزگارکے مواقع غائب ہوتے چلےگئے ، آبادیاں ، بنیادی ضرورتوں سے محروم ،کچرے کے ڈھِیر کی طرح بدنما دیکھائی دینے لگیں۔ جبکہ ملک کی اشرافیہ ، کے لئےرائج دوہرے معیار نے ان کے درمیان طبقاتی  فاصلے بڑھا دئے۔جھوٹ اور   منامقت کا چلن عام  ہو گیا۔

ملک کے دو بڑے شہروں، لاہور اور کراچی ، جو کہ  اپنی  گنجان آبادیوں کے باعث، مسائلستان بن چکے ہیں ،وہاں  ٹرانسپورٹ کا بوسیدہ نظام   لوگوں کے لئے تکالیف کا باعث بن  چکا ہے۔ایسے میں عالمی سطح پر تسلیم شدہ    “ای ٹیکسی” کا نظام  ان شہروں میں متعارف کرایا گیا،  جہاں  جدید تریں  اور معیاری ٹرانسپورٹ اور اس سے منسلک تعلیم  یافتہ  اسٹاف جسکا تعلق  موبائل ایپ کے ذریعے  صارف سے جوڑ دیا گیا۔ بہت ہی آسا نی سے   دستیابی کو ممکن بنادیا ۔ آپ جہاں ہیں اور جہاں  جانا چاہتے ہیں   ، یہ سب معلومات ، اس  موبائل  ایپ سے جوڑے   سرور  پر  مہیا کی جاتی ہے جو فوری طور پر  ، فاصلہ کی طوالت اور اس کا تخمینے سے آپ کو  آگاہ کردیتا ہے۔

اس جدید نظام نے  ، لوگوں کی سفری  سہولیا ت   کے ساتھ ساتھ، ملک کے بے روزگاہ  نوجوانوں کے لئے باعزت  معقول  روزگار مہیا کیا بلکہ  لوگوں کے لئے سرمایہ کاری  کا بھی ذریعہ  بنا ۔۔۔۔ اگر آپ  ایک شاندار  گاڑی کے مالک ہیں  اور کمپنی کے معیار سے مطابقت پر  ، آپ اس گاڑی  کو کمپنی  کو دے کر معقول  ماہانہ  معوضہ   بھی حاصل کر  سکتے ہیں۔

تیزی سے  تبدیل ہوتی اس دینا میں ،یہ تبدیلیاں زندگی  میں آسانیاں پیدا کرتی ہیں، مگر ہماری حکومتوں کو  یہ   تبدیلیاں راس نہ  آئی، انہوں نے سڑکوں پر ڈھولتی  ، بوسیدہ اور پرانی  گاڑیوں  کے چلنے پر کبھی کوئی نوٹس نہیں  لیا، مگر فوری  طور پر انہوں نے اس نئے نظام سے پیدا ہونے والے سہولتوںکو  عوام کےلئے  غیر قانونی ٹہرا دیا۔ اور حكم جاری كردیا   کہ انہیں بهی  بوسیده نظام كے اصول وقوانیں  كے تحت چلنے كی  اجازت لینی  ہوگی، جہاں   صارف  کے لئے  سہولتوں  کے برعکس ،اجر  صرف  اپنے منافع پر نظر رکھے ۔

قاتل کون ہے؟

تم نے اس کا خون دیکھا ہے
تم نے اس کی زبان سنی ہے
تم نے اس کا گھر دیکھا ہے
کسی چوراہے پر
کسی دفتر کے بند کمرے ہیں
اور کسی دروازے پر
جو اپنی عمر ہار جاتا ہے
رشتوں کی زنجیر توڑ دیتا ہے
اس آدمی کی ٹانگیں کیسی ہوتی ہیں
جو دوڑ کے مقابلے  جیتتا ہے
اس آدمی کے ہاتھ کیسے ہوتے ہیں
جو قتل کرتا ہے
اس آدمی کی زبان کیسی ہوتی ہے
جو جھوٹے وعدے کرتا ہے
ایک نظم جب بچھڑ جاتی ہے
ایک چھوٹ جب بولا جاتا ہے
ایک روٹی جب مانگنی پڑتی ہے
تو ایک انسان قتل ہوجاتا ہے