اس کی آخری تصویر

ٹیلفون کی کنٹکیٹ لسٹ میں
اپنے دوستوں کا نام تلاش کرتے ہوئے
اس کا نام باربار
میری نظروں کے سامنے سے گزرتا ہے
اس کی آخری تصویر
کنٹرکٹ پروفائل پرموجود ہے
جسکے عکس کوکیمرےکی آنکھ نے کبھی قید کیاتھا
میں ڈائل بٹن کو پریس کرتا ہوں
دیر تک ڈائل ٹون بجتی ہے
اور پھر یکلخت خاموش ہوجاتی ہے
مجھے اچھی طرح معلوم ہے
میرا مطلوبہ شخص اب اس دنیامیں نہیں
اس کی لحد پر مٹی ڈالتے ہوئے
میں نے ایک بوجھ اپنے دل پر محسوس کیا
مجھے اس سے بہت کچھ کہنا تھا
لفظوں کی بیسا کھیاں تھامے
ہمیشہ کچھ کہنے سے پہلے ہی
گفتگو کی دھلیز پر لڑکھراا جاتا تھا
مگر کچھ کہہ نہیں پاتا
میں ایک بار پھر کچھ دیر تک
پروفائل پر موجود اس کی تصویر کو دیکھتا ہوں
ایک بار پھر کوشش کرتا ہوں
ان کہی کو لفظوں میں سمونےکی
مگر ہار جاتا ہوں
پروفائل پر موجود اس کی تصویر جیسے کچھ سنا چاھتی ہے
مگر میں اب بھی کچھ کہنے سے قاصرہوں
میرے دل میں چھپا ڈر
دشمن کی طرح سامنے کھڑ ا ہے
خود کو بچانے کے لئے
میرے پاس
کوئی راستہ نہیں
میں کچھ دیر سوچتا ہوں
اور اس کا نام کنٹیکٹ لسٹ سے
ہمیشہ کے لیے ڈیلیٹ کردیتا ہوں

اکمل نویدؔ

رات کے آخری پہر میں

خواب محرومیوں کو جگاتے ہیں ، میری آرزویں اب تمہارے نام سے منسوب ہیں۔ رات کے آخری پہر کسی دوسرے کے موجود نہ ہونے پر ہم کتنے ملول ہو جاتے ہیں۔ ہر صبح ، میں تمہیں رات کی کہانی سناتا ہوں، آج ہماری محبت اپنا پہلا سال مکمل کرچکی ہے۔
ہم ایک دوسرے کو جتنا جان چکے ہیں، اس کے لیے صدیوں کا جنم بھی ناکافی تھا ، رات اور دن کے درمیان گزرتا وقت ان لمحوں کو یادگار بنا رہا ہے، جب ہم شام کے کناروں پر ملتے تھے۔
جب ہم ایک دوسرے سے سامنے ہوتے ہیں، بہت سے سوالوں کے ساتھ
تو انجام سے بے خبر ہوتے ہیں ، مگر محبت انجام سے وابستہ نہیں ، اور رقص کے درمیان جب ہم گیت گاتے ہیں اور خوشیوں کو اپنے اندر اترتا ہو ا محسوس کرتے ہیں، تو جدائی کی گھڑی آجاتی ہے۔
ہر بار ملنے اور جدا ہونے کے بعد گزری یادوں کی قندیلیں ،ہماری اندھری راتوں کو اجالوں سے بھر دیتی ہیں۔ جب ہم بھیگ جاتے ہیں تو موسم بدلنے سے پہلے رات کی پیاس کو اپنے اندر دور تک جذب کر لیتے ہیں، تاکہ ادھورے پن کی ہر خواہش بے نام ہو جائے۔
لوگوں کے درمیان، تمہارا چہرہ کبھی گم نہیں ہوتا۔
اجنبی آوازوں کے درمیان تمہاری آواز ایک گیت کی طرح سنائی دیتی ہے،
ہم اپنی ادھوری خواہشوں کو دعا کی صورت ساحل پر لکھ دیتے ہیں
میں نے اپنی ایک نظم میں لکھا تھا
“ہم ایک ایسی کہانی میں موجود ہیں جو لکھی نہیں جا سکتی”

بوری میں بند لاش

بوری میں بند لاش
کسی سے کچھ نہیں کہتی
سارے سوالوں کے جواب
اسکی مٹھی سے گر کر کہیں کھو گئے ہیں
ادھ کھلی آنکھوں میں قید
آخری منظر
قطرہ قطرہ پگھل رہا ہے
لوگوں کے چہرے بجھے ہوئے ہیں
کچھ آوازیں بھی اس منظر میں موجود ہیں
جنہیں خاموش ہونٹوں نے جکڑ رکھا ہے
اس سڑک پرجہاں
بوری میں بند ایک لاش پھینک دی گئی ہے
نیا دن پوری آب وتاب سے طلوع ہو رہا ہے
لوگوں کا شور مچاتا ہجوم
اس راستے سے گزر رہا ہے
جہاں
بوری میں بند لاش
کسی سے کچھ نہیں کہتی