ایک درخت کے نیچے

ایک درخت کے نیچے وہ دو جسم تھے
مختلف سایوں اور آوازوں کے درمیان
انہوں نے ایک خواب دیکھا تھا
مگر روشنی کی آنکھیں
ان کی دشمن تھیں
دو سائے
ہمیشہ ایک دوسرے کے تعاقب میں
خود کو ہار جاتے ہیں
ایک درخت کے نیچے
وقت پگھلتا رہا
نہوں نے چاہا
کہ سورج کو زمین کا کفن
پہنا دیں
مگر ان کی آنکھیں
جو ایک دوسرے کو چھوتی تھیں
لمس کی پہنائیوں میں اندھی ہو گئیں
ایک درخت کے نیچے
مختلف زمانوں کی قید میں
وہ اجنبی سمتوں میں تقیسم ہوگئے

زندگی كو میری قبر كا پتہ بتانا ہوگا

 

زندگی كو میری قبر كا پتہ بتانا ہوگا میں جب بهی پلٹ کردیكهتا ہوں وه بہشت كی طرف سے منہ موڑ كر مجھے اپنی سمت آتی دكهائی دیتی ہے میں جو ایك بوسیده شہر كی گمشدہ کہانی ہوں پرانے شہر کی گرد آلودہ گلیاں میرے سامنے کھلی پڑی ہیں ٹوٹے ہوئے کاسہ میں زندگی کی بکھری ہوئی سانسس دم توڑ رہی ہیں وہ میرے قریب آتی ہے اس کی آنکھوں سے بہتا ہوا امرت بھی مجھے شفا نہیں دیتا پرانے شہر پر گزری ہر قیامت میرے اندر شور مچا رہی ہے دھول اور بوسیدگی اوڑھے ہوئے میرایہ شہر، جس کی گلیوں میں ڈورتی زندگی میرے اندر بسی ہوئی ہے میں دو ٹکروں میں تقسیم ہو ں جسکے بیچوں بیچ ، اورنج ٹرین شور مچاتی ہو ئی گزرتی ہے دور چمکتے ہوئے برقی قمقموںکی روشنی نئے شہر کا پتہ دے رہی ہے
پرانی گلیوں اور محلوں کے کھنڈرات پر تارکول بچھادیا گیاہے اور اس پر ڈورتی میٹرو بسوں کی کھڑکیوں سے جھانکھتے ہوئے چہروں پرکہانی گم ہوچکی ہے ایک ٹائم ٹیبل تمام لوگوں کی گھڑیوں کی ٹک ٹک سے ساتھ بندھا ہوا ہے انہیں اپنے آباواجدد کے مدفوں شہر کی آوازیں سنائی نہیں دیتی ميں بھی ۔۔۔۔۔ اور نہ جانے کتنے چہرے تنہائی کی صلیبوں پر زندہ ہیں ایک تلاش ان کے چہروں پر جاگ رہی ہے اس نئے شہر کی ایک گمنام گلی میں میں ایک بند کمرہ میں قید ہوں تمام شہر اندھیرے کی چادر اوڑھے سو رہا ہے اور میں پرانے شہر کی تلاش میں ایک سرنگ کھود رہا ہوں جو خون کی رگوں کی طرح مجھے زندگی کی خوشیوں کا پتہ دے گی تاکہ میں اپنی اور اپنے اجداد کی قبروں کا پتہ ڈھونڈ سکوں

اکمل نوید http://www.anwer7star.com/بازیافت

شعلہ بدن اور شبنمی لباس

ہم سمندر کو چھونے کی خواہش میں
آہستہ آہستہ اندھرے میں
اترتے جارہے ہیں
میری نیند ایک نئی زندگی کے
خواب کی طرح جاگتی ہے
یہ سب کچھ حقیقت سے زیادہ خوبصورت ہے
ایک بڑا سا گھر
جس کی کھڑکی سے جھانکتی ہوئی
تم میری واپسی کا انتظار کرتی ہو
اور پھر تمہاری آواز مجھے گھیر لیتی ہے
ہم رقص کرتے ہیں
اور اپنے بکھرے وجود کو
ایک دوسرے سے باندھ لیتے ہیں
خواب کی عمر کی طرح ۔۔۔۔
مگر یہ خوشی بھی ایک دھوکا ہے
میں تم سے ملنے کی
تمہیں چھونے کی خواہش میں جل چکا ہوں
مگر میں پھر بھی خوابوں میں رہتا ہون
اور چاھتا ہوں
کہ کچھ ایسے بھی دن ہون
کچھ ایسی بھی راتیں ہوں
جب ہم اپنے شعلہ بدن کو
شبیم جیسی صبح کا لباس پہنا سکیں

اے محرم تو سرخرور ہے سدا

سیاہ آسماں پر پھیلے  لہو رنگ پرچم تلے
قافلے صدیوں سے ہیں سچ کے سفر پر رواں
سر ان کے پڑے ہیں سجدوں میں کٹے ہوئے
بریدہ جسم ہیں ان کے خوشبو سے مہکے ہوئے
برف جیسے شعلے جلے ہوئے خیمو ں سے ہیں  لپٹے ہوئے
آسمانوں سے لگی پر نم چشم کے سامنے
ڈوب چکی ہے دریاؤں کی روانی بھی پیاس میں
پاتال سے باندھ کر وقت کی رفتار کو
رقص بسمل ہوا ہے ہر طرف بپا
ظلم کو ہمیشہ کے لئے
دفنا دیا ہے گمنامی کی قبروں میں
اے محرم تو سرخرو ر ہے سدا
کہ تری ہر شہادت
موسم گل کا پیرھن دے گئی
بے گناہ کی موت کو

اس کی آخری تصویر

ٹیلفون کی کنٹکیٹ لسٹ میں
اپنے دوستوں کا نام تلاش کرتے ہوئے
اس کا نام باربار
میری نظروں کے سامنے سے گزرتا ہے
اس کی آخری تصویر
کنٹرکٹ پروفائل پرموجود ہے
جسکے عکس کوکیمرےکی آنکھ نے کبھی قید کیاتھا
میں ڈائل بٹن کو پریس کرتا ہوں
دیر تک ڈائل ٹون بجتی ہے
اور پھر یکلخت خاموش ہوجاتی ہے
مجھے اچھی طرح معلوم ہے
میرا مطلوبہ شخص اب اس دنیامیں نہیں
اس کی لحد پر مٹی ڈالتے ہوئے
میں نے ایک بوجھ اپنے دل پر محسوس کیا
مجھے اس سے بہت کچھ کہنا تھا
لفظوں کی بیسا کھیاں تھامے
ہمیشہ کچھ کہنے سے پہلے ہی
گفتگو کی دھلیز پر لڑکھراا جاتا تھا
مگر کچھ کہہ نہیں پاتا
میں ایک بار پھر کچھ دیر تک
پروفائل پر موجود اس کی تصویر کو دیکھتا ہوں
ایک بار پھر کوشش کرتا ہوں
ان کہی کو لفظوں میں سمونےکی
مگر ہار جاتا ہوں
پروفائل پر موجود اس کی تصویر جیسے کچھ سنا چاھتی ہے
مگر میں اب بھی کچھ کہنے سے قاصرہوں
میرے دل میں چھپا ڈر
دشمن کی طرح سامنے کھڑ ا ہے
خود کو بچانے کے لئے
میرے پاس
کوئی راستہ نہیں
میں کچھ دیر سوچتا ہوں
اور اس کا نام کنٹیکٹ لسٹ سے
ہمیشہ کے لیے ڈیلیٹ کردیتا ہوں

اکمل نویدؔ