نیا موسم

خواب کا دروازہ کھلاہے
اب ہم پھول ہیں
بکھرے رنگ
ناچتی خوشبوئیں
ہمارے بدن پر اترچکی ہیں
گلے میں نئے دن کی مالا ہے
اور آنکھیں یوں روشن ہیں
جیسے سورج سامنے ہو
خوابو ں کی دہلیز پر
اب کوئی سیا ہ موسم
نہیں ہے

محبت کے موسم میں

میں محبت کے اس موسم میں مرنا چاھتا ہوں
جب درختوں پر پھول کھل رہے ہوں
تمہارا وجود پھیگی بارش کی طرح
قطرہ قطرہ میرے پیاسے جسم میں جذب ہورہا ہو
تصویر کے اس  منظر   میں (میں چاھتا ہوں
تم میرے لئے موت کا جام تجویز کرو
محبت سے شرابور
خواب آلودہ جسموں کے ہمرا ہ رقص گاہ سے
موت کی تنہائی تک
تمہاری آنکھیں میرے ساتھ ہیں
میں سوچ رہا ہوں
ہمیشہ کی طرح
کہیں وقت کی بے رحم تلوار>
ہمارے (باہم پیوست) جسموں کو
کاٹ کر ہمیشہ کے لئے الگ نہ کردے
یہ موقع غنیمت ہے
تم میری پانہوں میں ہو
صبح کی نیند کی طرح ، نیم خوابیدہ
اور محبت کے اس نشہ میں
اندھیری گلیوں میں کھو جانا چاھتا ہوں
کہ کوئی ہمیں تلاش نہ کر سکے
تنہائی کی اس دیوار کے دوسری طرف
روشنی اور آوازیں
اپنے احساس سے چھلملارہی ہیں
اور دیوار کے اس طرف
میرا خالی بدن
لہوکی نہر میں بہتا جا رہا ہے
میرے ہاتھوں کی کٹی رگوں سے
خون بہہ رہا ہے
آنکھیں نیند سے بوجھل ہیں
اور محبت کا نشہ ہونٹوں پر مسکرا رہا ہے

ایک تنہا نغمہ رقص میں بے حال ہے

یہ ایک ایسا احساس ہے
جو چھونے سے بھی زیادہ لطیف ہے
جسم کے پر لطف زاویوں سے ماوارا
روح کی گہرائیوں سے
ایک چشمہ پھوٹ رہا ہے
جسکے رنگ خواب کی نیم آغوش بانہوں میں
گم ہورہے ہیں
اور آنکھوں کے راستے
تمہارے جسم کے تالاب سے میں
پانی پی رہا ہوں
پیاس بلوریں گلاسوں میں گھلتی جارہی ہے
میری بے قرار روح
مدہوش سانسوں کی تال پر ناچ رہی ہے
ایک تنہا نغمہ رقص میں بے حال ہے
جلتی ہوئی آگ ہے
جو خاموش لہجے میں مسکرا رہی ہے
بکھرے ہوئی رات جیسی سیاہ گیسوؤں کے درمیان
۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے نیند آ رہی ہے

!سال نو کے آغاز سے پہلے

سال نو کے آغاز سے پہلے ضروری ہے کہ ایک نظر گزرنے والے اس سال پر بھی ڈالی جائے ، جسکے استقبا ل کے وقت کئی امیدیں ، روشن چراغوں کی صورت وقت کی دھلیز پر ہم نے سجائی تھیں ۔
مگر گزرنے والا وقت ، گزرے کئی سالوں کی طرح دبے پاؤں گزر گیااور امیدیں ٹوٹے خوابوں کی طرح ہر طرف کرچی کرچی بکھری پڑی ہیں۔
ہمارے ملک پاکستا ن کی آزادی ایک نصف صدی کا قصہ ہے، مورخ اس ملک کی تاریخ لہو سے لتھرے ہوئے قلم سے لکھ رہا ہے، اس ملک کی آزادی کا ثمر لاکھوں لوگوں کی جانی و مالی قربانیوں کا حاصل ہے ، اس سفر میں لٹے پٹے خا ندانوں نے انسانوں کی عظیم ہجرت کو جنم دیا۔ اس دشت بے خار کے سفر میں بے شمار عورتوں کی عزتوں کو پامال کیا گیا ،کئی انسانی جانوں کو ماؤں کی کوکھ میں ہی ہلاک کردیا گیا ، کئی خاندان ہمیشہ کے لئے تقسیم ہوگئے اور پاکستان معروض وجود میں آیا۔
پاکستان کا شہر کراچی آج کثرالسانی شہر کی حیثت اختیار کر گیا ہے، اس شہر بے مثال کو جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا ، جہاں کی سڑکیں روز دھوئی جاتی تھیں آج منی پاکستان کے طو ر پر جانا جاتا ہے، مگر روشن چہرے والا یہ شہر، اپنے ہی باسیوں کو امن نہیں دے سکتا، اس شہر میں روز لاشیں گرائی جاتی ہیں، تاریک گلیوں میں ، گزرے والا ہر شخص لٹ جاتا ہے، جرائم کی اس کثرت کے باوصف ہونے کے باوجود ، اس شہر کو کو ئی دوسرا نام نہیں دیا گیا۔
مذہبی ، لسانی و سیاسی جماعتوں کا مجموعہ مذہبی ، لسانی و سیاسی جماعتیوں کا مجموعہ یہ شہر اپنی ہمہ گیریت کے باوجود ، اپنی روشنیوں کو تازہ نہیں رکھ سکتا ، اندھیرے اور اجالوں کے درمیان، موت اور زندگی کا ابھی کھیل جاری ہے۔ ایک شخص اپنی بہن کی حفاظت میں اپنی جان سے چلا جاتا ہے، اور کوئی آواز اس کے حق میں بلند نہیں ہوتی ، اس کے برعکس دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور سیکولر ریاست ہونے کی دعویدار بھارت میں اس سال کا اختتام ، حالیہ اجتماعی زیادتی کے واقعہ پر دردمندر کا اظہار کیا جارہا ہےاورلڑکیوں کے ساتھ ہونیوالی زیادتی کیخلاف لڑنے کے عزم کااظہارکیا۔ مظاہرین کاایک ہی مطالبہ ہےکہ زیادتی کرنیوالے ملزمان کوکڑی سے کڑی سزا دی جائے۔ عورتوں ،مردوں سمیت بچوں اور بچیوں نے پر امن احتجاج کیا اور موم بتیاں جلائیں۔انھوں نے خواتین کیساتھ زیادتی کے خلاف یادداشت پر بھی دستخط کیے اور زیادتی کرنیوالوں کو پھانسی کی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
کاش نئے سال کے آغاز پر ہم اپنی آنکھوں پر بندھی پٹی کو کھول دیں اور اپنی سماعتوں کو آزاد کردیں تاکہ دکھ اور کرب میں مبتلا انسانوں کی آوازیں ہمیں سنائی دے سکیں!
چیخوں میں مبتلا آوازوں کو گیتوں سے ہم آھنگ کردیں اور رقص میں ہر ایک کو شامل کرلیں کہ ہم سب عالمی برادری چہرہ ہیں