وقت ٹوٹ گیا ہے

ہم آگ روشنی کے لئے لائے تھے
ایک درخت کی اونچائی سے
ہم نے زمین کو ڈوبتے دیکھا
اب درخت سونا بن کر پگھل رہے ہیں
اور ہم چہرہ بنا رہے ہیں
کاش ہم نے دل بھی بنایا ہوتا
وہ لڑکی جس کے ہاتھ پر
ہر رات ایک پھول کھلتا ہے
وہ کیوں اپنے ہاتھ آگ میں جلاتی ہے
کیا اس کی کھڑکی پر وقت ٹوٹ گیا ہے
شاید ہم اب کبھی بھی
کوئی خوبصورت لمحہ نہ پاسکیں

رات کے آخری پہر میں

خواب محرومیوں کو جگاتے ہیں ، میری آرزویں اب تمہارے نام سے منسوب ہیں۔ رات کے آخری پہر کسی دوسرے کے موجود نہ ہونے پر ہم کتنے ملول ہو جاتے ہیں۔ ہر صبح ، میں تمہیں رات کی کہانی سناتا ہوں، آج ہماری محبت اپنا پہلا سال مکمل کرچکی ہے۔
ہم ایک دوسرے کو جتنا جان چکے ہیں، اس کے لیے صدیوں کا جنم بھی ناکافی تھا ، رات اور دن کے درمیان گزرتا وقت ان لمحوں کو یادگار بنا رہا ہے، جب ہم شام کے کناروں پر ملتے تھے۔
جب ہم ایک دوسرے سے سامنے ہوتے ہیں، بہت سے سوالوں کے ساتھ
تو انجام سے بے خبر ہوتے ہیں ، مگر محبت انجام سے وابستہ نہیں ، اور رقص کے درمیان جب ہم گیت گاتے ہیں اور خوشیوں کو اپنے اندر اترتا ہو ا محسوس کرتے ہیں، تو جدائی کی گھڑی آجاتی ہے۔
ہر بار ملنے اور جدا ہونے کے بعد گزری یادوں کی قندیلیں ،ہماری اندھری راتوں کو اجالوں سے بھر دیتی ہیں۔ جب ہم بھیگ جاتے ہیں تو موسم بدلنے سے پہلے رات کی پیاس کو اپنے اندر دور تک جذب کر لیتے ہیں، تاکہ ادھورے پن کی ہر خواہش بے نام ہو جائے۔
لوگوں کے درمیان، تمہارا چہرہ کبھی گم نہیں ہوتا۔
اجنبی آوازوں کے درمیان تمہاری آواز ایک گیت کی طرح سنائی دیتی ہے،
ہم اپنی ادھوری خواہشوں کو دعا کی صورت ساحل پر لکھ دیتے ہیں
میں نے اپنی ایک نظم میں لکھا تھا
“ہم ایک ایسی کہانی میں موجود ہیں جو لکھی نہیں جا سکتی”

خواب ۔۔۔۔۔۔ امن کے شہر کا

کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارے چہرے اصلی نہیں
ان پر نقابیں ہیں
اور ہم نے اپنے جسموں کی دیوار کے پیچھے
تعویز چھپا رکھے ہیِں
وہ ہمارے سروں پر
بیٹھنے والے خوبصورت پرنددوں سے جلتے ہیں
وہ  ہماری کہانیوں میں رقص کرتے
کرداروں سے نفرت کرتے ہیں
وہ چاھتے ہیں کہ ہم
اپنی کہانیوں میں ان کرداروں کی
پرورش کریں
جن کی سیاہ سرخ آنکھیں ہوں
اور وہ اپنے لشکروں پر سوار
دنیا کو فتخ کرتے چلے جائیں
وہ سروں کے مینار
لہو کے دریا
اور کتابوں کے جلتے شہر
دیکھنا چاہتے ہیں
مگر ہمارے  جسموں کی دیوار کے پیچھے
ایک پر امن شہر ہے
اور ہمارا جسم
ایک فصیل کے طور پر
ان کے ہتھیاروں کے سامنے کھڑا ہے
ہمارے آگے دشمنوں کا لشکر ہے
اور پیچھے  رنگ برنگے پھول
اڑتے ہوئے پرندے
لہلہاتے باغات
خوبصورت آنکھوں والی عورتیں
اور نطروں کی شرم کو محفوظ رکھنے والے مرد ہیں

سورج اندھیرے پھینک رہا ہے

ہم روشنی کے لئے کس طرف کھڑکی کھولیں

پرانی زندگی کا دکھ نئے د ن کی خوشی میں

چھپ نہیں سکتا

خواب اور کھڑکی کے درمیاں بچے کھیلتے ہیں

مگر میرا دکھ عجیب ہے

وقت کا ہر لمحہ ایک نئی سمت کھنیچتا ہے

اب مجھے چھپ جا نا ہے

مگر ایک آواز جادو جیسی ہے

ہم روشنی ہے لئے کس طرف کھڑکی کھولیں

سورج کی طرف جو جاتے ہوئے

اندھیرے پھینگ جاتا ہے

یا اس طرف ۔۔۔۔۔

جدھر سے مسافر

گھروں کی جانب لوٹتے ہیں

تم سے گفتکو

ہم جس تناؤ سے گزر رہے ہیں، اس کے ختم ہوجانے کےامکانات معدوم ہوچکے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث ساری فضا گدلاتی جارہی ہے۔ میں تمہیں اس کا ذمے دار نہیں سمجھتا۔ بہت سے واقعات عالم بالا سے یوں ظہور پذیر ہوتے ہیں کہ اگر ہم ان کے اسباب کو سمجھنا چاہیں تو شاید کچھ بھی نہ جان سکیں۔
عورت کی زندگی بالخصوص ان تمام تجربات کی گہری چھاپ ہوتی ہے جن سے وہ گزر رہی ہوتی ہے۔ مرد کے حوالے سے عورت اپنے وجود میں بہت خواب بنتی ہے، بہت سے موسموں کے پھولوں اورپھلوں کو سنبھل کر رکھتی ہے۔ آنے والے وقت کے اسرار و رموز کی بازیافت ہی اس کی زندگی کا بہت بڑا حوالہ ہوتی ہے۔
تم نے بھی یقینا وقت کے کتنے بڑے عرصے پر محیط، ان خوابوں کو دیکھا ہوگا۔ اپنے بدن کی خوبصورتی اور دل کی بے چینی کو کن کن پیرہنوں میں سمویا ہو گا۔ اور جب وہ مرد ان سارے ان کہے جذبوں اور خوابوں کو چھونے کے لئے آگے بڑھا ہوگا تو تم نے کس طرح اور کن جذبوں کی پرکھ پر اپنے سارے وجود کو سمیٹ کر دسترخوان کی صورت اس کے سامنے بچھا دیا ہوگا۔
مگر یہ تمہاری بد قسمتی تھی کہ اس لمحے کی کوکھ سے پیدا ہونے والا اعتبار جو دو جسموں کو ایک کردیتا ہے تو تم طوفان میں گھر گئیں۔ تمہارا وہ دکھ آ ج بھی ، جلتے ہوئے شعلے کی طرح ، میرے دل کو جلا رہا ہے۔ میں نے سوچا تھا میری محبت تم پر سے گزرے ہوئے طوفانون کے بعد باقی رہ جانے والے تباہ کاریوں کی ازسر نو تعمیر کرے گی۔ مگر تم تنہا تھیں، خلا کی طرف تکتی تمہاری آنکھیں خالی تھیں۔ میں نے تمہیں چھو کر جگا دینا چاھا تھا مگر آج یوں لگ رہا ہے کہ تم تو پتھر تھیں اور میرے ساری عبادتیں جو تمہیں دوبارہ زندگی کے مثبت چہرے سے جوڑنے کے لئے تھیں، رائگاں گئیں۔
وقت کے اس لمحے جب تاریکی ہمیں چھو کر مٹاتی جارہی ہے اور ہم اپنی شناخت کھوتے جارہے ہیں، کیا اب ہم نہیں سوچ رہے کہ ہمیں اس ساری صورت حال کی کتنی بھاری قیمت چکانی پڑے گی، میں نہیں چاہتا کہ ہماری زندگی کے آخری باب میں خسارہ ہی خسارہ لکھا جائے۔ اس لئے مردہ دل ہوجانے کے باوجود میرے چہرے پر زندگی کی روشنی اور لفظوں میں محبت کی خوشبو باقی رہ گئی ہے۔ میں چاھتا ہوں کہ محبت بھرے طلسمی ہاتھوں سے تمہیں چھو کر خود سے قریب کرلوں تاکہ وہ موسم اور خواب جو گزری بہاروں میں کچلے گئے تھے ، وہ حیات نو سے معمور ہو جائیں۔