غنیم کا لشکر

مفلسی کی دیمک پوشاک کو چاٹ رہی ہے
دکھوں کی برہنگی کو چھپانا مشکل ہوگیا ہے
گھر کی دیواریں چھوٹی ہوتی جارہی ہیں
پرچھائیوں کے عقب میں غنیم کا لشکر ہے
جو روٹی چھیننے اور غزتوں پر وار کرنے آگے پڑھتا چلا آرہا ہے
بولتی زبانوں کا شور ساکت سمندر بن گیا ہے
کون ہے
جو اس سیاہ رات میں گرتی ہوئی دیواروں کی حفاظت کرے
کون ہے  ۔۔۔۔ جو  ہماری برہنگی کو ڈھانپنے کے لئے
اپنی پوشاک ہمیں دے دے
لیکن  یہاں تو کوئی زندہ نہیں ہے
سارے چہرے پتھر کے ہوچکے ہیں

چوڑیاں گم ہوگئیں

جب ہمارے رخ بدل دئے گئے
تو شہر ویران ہو گئے
تمام منظروں سے آوازیں اتار دی گئیں
اور ہجرت ممنوع قرار پائی
لوگوں سے پھری اجلی بستیوں میں
ویرانے اترنے لگے
جنگل رقص کرتا ہماری دیواروں تک اتر آیا
بد ہیبت مکڑیاں اپنے جالوں میں
اندھیرا ٹانکنے لگیں
کوئی دوسرا
اپنی تنہائی میں کسی کو پکار نہیں سکتا
ہمارے چیختے چہرے خاموش تصویروں کی صورت
خالی فریموں کے بھوکے جسموں میں اتار دیئے گئے
آنگنوں میں چوڑیاں کھنکنی بند ہو گئیں
اور جب ہم نے تھکے ہوئے جزبوں سے مغلوب
کسی کے جسم پر اپنی آنکھوں کے لمس کو اتارنا چاہا
تو ہماری انگلیاں
اور آنچلوں کے پیچھے
چہرے غائب ہو گئے

جب دستک ابھرتی ہے

جب تھکن بازو سمیٹی ہے
دن کے سارے اجلے کپڑے
رات کے فرش پر گرتے چلے جاتے ہیں
آوازیں مجھے پکارتی ہیں
میں لمبے راستوں پر
پیروں کی لکیریں کھینچتا ہوں
میرے بدن پر سوئی تھکن
قطرہ قطرہ اندھیرے میں
گرتی جاتی ہے
خوشبو کا سیلاب پھیل جاتا ہے
میرے پیاسے ہاتھوں پر
مہکتا بدن ناچتا ہے
آوازیں میرے گرد بانہیں بکھیردیتی ہیں
پھر کوئی دستک ابھرتی ہے
اور دروازے کی آواز مجھے کھول جاتی ہے

اب بس بہت ہو چکا ۔۔۔۔

اب بس بہت ہو چکا ۔۔۔۔
سجدہ گاہ کو لہولہاں کر دیا گیا
مسجد کی درودیوار پر
میرا جسم لہو کی صورت چسپاں ہے
فرش پر سجدہ ریز لاشیں ہی لاشیں ہیں
اور اسکولوں کی دیواروں کو پھلانگ کر آنے والے پردیسووں نے
معصوم بچوں کو قطاروں میں کھڑا کردیاہے
ان کے معصوم جسموں سے بہتا لہو
فرش پردریا کی صورت بہہ رہا ہے
اوران کےبیچ معصوم زندگیوں کی فریاد کرتی استانی کا شعلہ زدہ جسم
گیلی لکڑی کی طرح سلگ رہا ہے
خوف اور دہشت زدہ طالبعلوں کو ایک نیا سبق سیکھانے کےبعد
ان کی کتابوںسے معصوم زندگیوں کے سارے اگلےباب پھاڑ دیئے گئے
اب ہر طرف ، خون آلودہ جوتے، کتابیں اور قلم و دوات پڑی ہیں
ایک خاموش فضا دم توڑ رہی ہے
جن کی آخری سانسوںمیں خون کی بو رچی بسی ہے
ہماری فوج پربھی شب خوں مارا گیا
وہ ہمیشہ ان راستوں کےداخل ہوتے ہیں
جن پر صرف ہمارے دوست دستک دیتے ہیں
اعتماد اور اعتقاد کا خون ہو تا رہا
اب بس بہت ہو چکا ۔۔۔۔
حملہ آواروں کے باریش چہرے
کلمہ پڑتی آوازیں ۔۔۔۔۔۔۔ دھوکا ہیں
وہ ہم میں سے نہیں ہو سکتے
ٹوٹے ہوئےآئینوں پر
ان کےاصل چہرے نقش ہیں
ہم نے ان ابلیسی چہروں کو پہچان لیا ہے
جو ہمیں خاک میں ملا دینا چاہتے ہیں
اور ان کی طاقت ہیں
ہمارے جیسےبے نام اور خاموش لوگ
اوران کی آوازوں میں شامل ہیں
ہمارے جھوٹے سیاستدانوں اور نام نہاد علما کے کھوکھلے نعرے
اور ان کی آنکھوں میں چھپی ہے ، دولت کی ہوس،
ہمارے اپنے گمراہ لوگ ۔۔۔۔
بازاروں میں چلتے پھرتے خوش نما چہروں اور نغموں کو شکار کر رہے ہیں
اس قوم کے وطن فروش ، لوگوں کے ہجوم میں چھپے ہوئے ہیں
مگر ان کی ابلیسی چہرے جلد بےنقاب ہوجائیں گے
کہ اب ہمیں اپنی نہیں ۔۔۔
ان ظالموں کی سربریدہ لاشیوں کے ڈھڑہچاہیے ہیں
تاکہ ہمارا وطن ہمیشہ کے لئے آزاد ہو جائے

اکمل نوید
http://www.anwer7star.com/