الیکشن 2013


پاکستان کےباشعور عوام مبارک باد مستحق ہیں
 کہ انہوں نے ووٹ کی بھر پور طاقت سے
سیاسی مفاہمت ،  دہشت گردی اور منافقت کو ہمیشہ کے لئے دفن کردیا
نئے پاکستان کو دیا جانے والا یہ  ووٹ
اس بات کا تقاضہ کرتا ہے  کہ ہم بحیثت ایک قوم اپنی ترجیحات کا اعادہ کرلیں کہ
معیشت کی درستگی، تعلیم کے  بھر پور فروغ اور  انصاف کی بالا دستی  سے
ہم پاکستان کے چہرے کو
عالمی چہرہ
!بنا دیں گے

زندہ لمس کی خواہش

شاید وہ کئی ٹکڑوں میں بانٹ دی گئی ہے
اندھیرے میں چمکتے سفید دانت او رسرخ زبان
جب اس کے وجود کے سونے میں اترتے ہیں
تو وہ ناپاک ہو جاتی ہے
دل سے دماغ تک
کئی جزیرے بپھری لہروں میں ڈوب جاتے ہیں
اور اسے ڈر لگتا ہے
وہ ہاتھ اونچے کرتی ہے
مگر ویرانے گھونگھٹ کاڑھے کھڑے ہیں
وہ اسے بھی
بنچر زمین میں بو دینا چاہتے ہیں
تاکہ اس کی ہڈیوں سے زرد موسم پھوٹ پڑیں
لہو کی سرخ گرمیاں جب ہونٹوں سے ٹپکتی ہیں
تو کوئی پرچھائیں اسے اندھیرے میں سمیٹ لیتی ہے
وہ اجلے آسمانوں کو چھونا چاہتی ہے
لیکن اس کے ہاتھ اس زندہ لمس کو بھی کھو دیتے ہیں
جہنوں نے اس کے ہمراہ خوابوں کی ویرانی سے
جلتی زمین تک سفر کیا ہے
شاید ہو کئی ٹکڑوں میں بانٹ دی گئی ہے

سیا ہ ہاتھ اور جگنو

سیاہ ہاتھ اور جگنو

ظلم کی سیاہ رات کو
اجلا بنانے کی خواہش کرنے والے
شہیدوں کا لہو
دشمن کی آستینوں پر ایک روز
ضرور چمکے گا
ظلم کی زنجیر کو توڑنے کے لئے
جو آوازیں کل نعرہ بنی تھیں
آھنی ہاتھوں نے آج انہیں
سنگلاخ دیواروں کے پیچھے
دھکیل دیا ہے
مگر ایک ایسی نیک ساعت طلوع
ہونے والی ہے
جب ظلم کے یہ سیاہ ہاتھ
اڑنے والے جگنووں
اور بھلادی جانے والی
آوازوں کی بازگشت کو
روک نہیں سکیں گے

پیاس کا سفر

وقت پر کوئی زنچیر نہیں ڈالی جاسکتی اور ہمارے چہرے راکھ ہوگئے ہیں۔ شاید کسی نئے جنم میں، کسی اجنبی دنیا میں ایک بار پھر ہم ملیں، مگر اس سے پہلے ہمیں اپنے جذبوں کی راکھ کو بکھرنے سے محفوظ رکھنا ہوگا۔ اڑتے پرندوں کے رنگین پروں پر نغمے لکھنے ہوں گے۔
جب کوئی سرحد یں مٹا دی جائیں گی تو وعدے پورے کرنے کی گھڑی آجائے گی۔ جب کوئی زنجیر وقت کو ، زبان کو اور گیتوں کو قید نہیں کرسکے گی۔
ہم راکھ میں ہاتھ کالے کرتے ہیں اور پھر ایک کرن پالیتے ہیں۔ کل چاند رات تھی ، ہم نے اپنے ہونٹ ملاکر چھوڑ دئیے تھے۔
آج اندھیرے میں دھوپ کھیل رہی ہے، جسموں کے اندر آگ جل رہی ہے۔ پھر ہمارے ہاتھ بھی جل جائیں گے اور ہر طرف آگ ناچے گی۔ ایک زمانے سے دوسرے زمانے تک، ایک جنم سے ہر جنم تک، ہماری پیاس سفر کرے گی۔
جب تک دھرتی کی گود میں درخت اگتے رہیں گے، ان کی بھری ہوئی جیبوں سے پھول گرتے رہیں گے اور چہروں پر چاند نکلے گا۔ ہم ان ہی موسموں میں جنم لیں گے۔
پہاڑوں کی اونچی چوٹیوں کو ہماری گونچتی آواز چھولے گی تو پھر کوئی نہیں روک سکے گا اور ہم اس دیوار کو ضرور ڈھونڈلیں گے جس کے سائے کی نرمی آج بھی ہمارے خوابوں میں تازہ ہے
وہ دیکھو ۔۔۔۔۔۔ !
آج نیا دن ہے اور آسمان پر کوئی سورج نہیں ۔۔۔۔ مگر ہم ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں۔ تمہارے جسم کا ریشم کہکشاں پر پھیلا ہوا ہے۔
وہ دیکھو ۔۔۔۔۔۔ !
ایک پرندہ اڑتا ہے، جس کے بازووں میں اس کی پر چھائیں ہے، پچھلے جنم میں ہر بار وہ اپنی ہی پرچھائیں سے ٹکراتا تھا۔
آج آزادی کی صبح ہے ۔۔۔۔۔ !
آسمان پر ہمارے ہاتھوں کا سورج ہے اور ہمارے سائے ہر قدم ہمارے ساتھ ہیں۔
اب ہمیں کسی بھی دوسرے جنم کا انتظار نہیں کہ ہم نے خواہشوں کی جنت اپنے ارادوں سے زمین کے دل میں اتار دی ہے۔
وہ وقت جو گزر گیا ہے ۔۔۔۔۔ !
اپنے چہرے پر ٹوٹی لکیریں لئے دفن ہو چکا ہے
وہ دیکھو ۔۔۔۔۔۔ !
قبر سے ایک پودا نکل رہا ہے۔/p>