Category Archives: سیاسی اور معاشرتی کالم

یہ کہانی کون لکھ رہاہے!

گذشتہ دس روز میں 100 افراد کی ہلاکت، اس شہر کراچی کا المیہ ہے، جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا ،ملک کی معاشی ترقی کا دروازہ اور محبت کی کہانی کا روشن باب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہونے کے باعث تمام لوگوں کے لئے منی پاکستان کی حیثیت رکھتا تھا، مگر آج اندھیرے میں ڈوبے اس شہر کے لوگ ماتم کناں ہیں۔ مسجدوں سے بلند ہونے والی آوازوں پر، گولیوں کی بوچھاڑ حاوی ہوتی جارہی ہے۔ درختوں پر بیسرا کرنے والے پرندے، اجنبی چہروں کے خوف سے ،اپنے گھونسلوں سے کبھی کا اڑ چکے ہیں، ویرانیوں نے دلوں میں گھر کرلیا ہے ، گھروں کے باہر جوانوں کے لاشے پڑے ہیں، ماؤں کی سفید چادروں نے کفن کی صورت انہیں پناہ دے رکھی ہے، ظلم کی یہ رات بہت لمبی ہے ، روتی ہوئی آوازیں ہر گھر کا دروازہ کھٹکٹا رہی ہیں، مگر اس کہانی کے لکھنے والے ہاتھوں کو ابھی اپنی بھوک مٹانے کے لئے ، بہت سی لاشوں ، آہوں اور سسکیوں کی ضرورت ہے۔

اس شہر کے ہر موڑ پر جلتے ہوئے چراغوں کو بجھانے لئے ، کتنے ہی نقاب پوش ، اپنی سیاہ چادروں میں بارود کی بارش چھپائے کھڑے ہیں۔

 
 

آہ ۔ جنید جمشید، زندگی اللہ کی امانت ہے

جنید جمشد نے اپنے منفرد انداز گائیگی اور وائٹل سائین کی گروپ پرفارمنس کے ذریعے اپنی گلوکاری کو مقبول عام بنا دیا ،اس کے گائے ہوئے گیتوں نے  نوجوان نسل کومتاثر کرناشروع کردیا ۔اس نے بہت جلد شہرت کی بلندیوں کو چھو ا۔اس کی زندگی کی راتیں، جگمگاتی روشیوں ، چاہنے والوں کی آوازوں کے شور میں بسر ہو رہی تھی ، جبکہ دن کی ساری مسافت ، نیند کی وادی میں گم ہورہی تھِی۔ شوبز کی خوبصورت جگمگاتی دنیا میں کسی ایک اجنبی  لمحہ نے ، اس کو نیند سے بیدار کر دیا ۔ روشینوں اور آوازوں کے شور کے پیچھے چھپا اندھیر ہ اس کے سامنے آگیا، حقیقت بے نقاب ہوگئِ کہ یہ  زندگی جھوٹ اور بناوٹی ہے۔اس احساس زیاں نے اس کی زندگی کو یکسر بدل ڈالا۔ زندگی کی ڈگر پر اذان کی آواز اس کے لئے سنگ میل بن گئی۔احکامات خداوندی اور  سنت رسول ﷺ کی  پیروی اس کا مقصد حیات بن  گئی۔

                        جیند جمشید نے محسوس کرلیا کہ زندگی اللہ کی امانت ہے، اور زندگی کو اس کے فرمان کے مطابق بسر کرنا عین عبادت ہے۔ آسائش زندگی  اب اس کا متمع نظر   نہیں رہا۔ایک باشرع انسان موت سےکبھی نہیں گبھراتا ، موت تو صرف ابدی زندگی کے سفر کا دروازہ ہے- زندگی کا جو بھِی لمحہ اسے میسر آتا ہے ، وہ خوشی کا اظہار کرتا ہے کہ  اسے اپنے رب کو راضی کرنے کی ایک اورمہلت مل گئِ، یہ ہی اس کی سرمایہ کاری ہے ،جو اللہ کے حضور ، اسسکےسرخرو  ہونے کا باعث بنے گی۔

                        نواجونی کی عمر، رسم و رواج سے بغاوت کا نام ہے،اس عمر میں  پابندیاں ،زنجیروں کے بوجھ کی طرح محسوس ہوتی  ہے ۔اسےوقت اگر کوئی ان دیکھے خدا کے بتائے ہوئے سیدھےراستہ پر  چلنا چاہے تو اسکادل انکارپر مائل  رہتا ہے۔نفس کے ساتھ جاری اس جہاد میں ، کامیابی ہر کسی کا نصیب نہیں  ہوتی ۔

جیندجمشید  نے جاگتی  راتوں اور شوبز کی چمکتی  روشنیوں سے منہ موڑ کر ، طلوع سحر کی پہلی روشن کرن کو سلام کیا جو اللہ کے حکم پر   اپنےدن  کا آغاز کرتی ہے، موت کو گلے سے لگا کر ، شہادت کے مرتبے پر فائز ہونے کا مرتبہ حاصل کرنے والے جنید جمشید نے ، ہماری آنکھوں کے پردوں پر جمے ہوئے اندھے جالوں کو صاف کردیا تاکہ حقیقی راستہ اسے نظر آسکے۔

                        زندگی  کے سکے کےدونوں طرف ڈھالی گئِ ، حق و باطل کی شبہیوں نے، مرکزی نقطے میں پہناں  ہو کر تمام باطل قوتوں سے انکار کردیا ۔۔۔ اب زندگی صرف اللہ  کی امانت ہے ۔

جیند جمشید نےتبلیع کےپر خار راستے پر چلنے کو اپنی زندگی کا چلن بنایا،  جو جہاد کا مترادف ہے،اس سفر میں دوستوں  سے زیادہ ،اسے دشمنوں کا سامنارہا ،اور تحفہ شہادت اسکی زندگی کی سب سے بڑی گواہی بن گیا۔

زندگی كو میری قبر كا پتہ بتانا ہوگا

 

زندگی كو میری قبر كا پتہ بتانا ہوگا میں جب بهی پلٹ کردیكهتا ہوں وه بہشت كی طرف سے منہ موڑ كر مجھے اپنی سمت آتی دكهائی دیتی ہے میں جو ایك بوسیده شہر كی گمشدہ کہانی ہوں پرانے شہر کی گرد آلودہ گلیاں میرے سامنے کھلی پڑی ہیں ٹوٹے ہوئے کاسہ میں زندگی کی بکھری ہوئی سانسس دم توڑ رہی ہیں وہ میرے قریب آتی ہے اس کی آنکھوں سے بہتا ہوا امرت بھی مجھے شفا نہیں دیتا پرانے شہر پر گزری ہر قیامت میرے اندر شور مچا رہی ہے دھول اور بوسیدگی اوڑھے ہوئے میرایہ شہر، جس کی گلیوں میں ڈورتی زندگی میرے اندر بسی ہوئی ہے میں دو ٹکروں میں تقسیم ہو ں جسکے بیچوں بیچ ، اورنج ٹرین شور مچاتی ہو ئی گزرتی ہے دور چمکتے ہوئے برقی قمقموںکی روشنی نئے شہر کا پتہ دے رہی ہے
پرانی گلیوں اور محلوں کے کھنڈرات پر تارکول بچھادیا گیاہے اور اس پر ڈورتی میٹرو بسوں کی کھڑکیوں سے جھانکھتے ہوئے چہروں پرکہانی گم ہوچکی ہے ایک ٹائم ٹیبل تمام لوگوں کی گھڑیوں کی ٹک ٹک سے ساتھ بندھا ہوا ہے انہیں اپنے آباواجدد کے مدفوں شہر کی آوازیں سنائی نہیں دیتی ميں بھی ۔۔۔۔۔ اور نہ جانے کتنے چہرے تنہائی کی صلیبوں پر زندہ ہیں ایک تلاش ان کے چہروں پر جاگ رہی ہے اس نئے شہر کی ایک گمنام گلی میں میں ایک بند کمرہ میں قید ہوں تمام شہر اندھیرے کی چادر اوڑھے سو رہا ہے اور میں پرانے شہر کی تلاش میں ایک سرنگ کھود رہا ہوں جو خون کی رگوں کی طرح مجھے زندگی کی خوشیوں کا پتہ دے گی تاکہ میں اپنی اور اپنے اجداد کی قبروں کا پتہ ڈھونڈ سکوں

اکمل نوید http://www.anwer7star.com/بازیافت

!سال نو کے آغاز سے پہلے

سال نو کے آغاز سے پہلے ضروری ہے کہ ایک نظر گزرنے والے اس سال پر بھی ڈالی جائے ، جسکے استقبا ل کے وقت کئی امیدیں ، روشن چراغوں کی صورت وقت کی دھلیز پر ہم نے سجائی تھیں ۔
مگر گزرنے والا وقت ، گزرے کئی سالوں کی طرح دبے پاؤں گزر گیااور امیدیں ٹوٹے خوابوں کی طرح ہر طرف کرچی کرچی بکھری پڑی ہیں۔
ہمارے ملک پاکستا ن کی آزادی ایک نصف صدی کا قصہ ہے، مورخ اس ملک کی تاریخ لہو سے لتھرے ہوئے قلم سے لکھ رہا ہے، اس ملک کی آزادی کا ثمر لاکھوں لوگوں کی جانی و مالی قربانیوں کا حاصل ہے ، اس سفر میں لٹے پٹے خا ندانوں نے انسانوں کی عظیم ہجرت کو جنم دیا۔ اس دشت بے خار کے سفر میں بے شمار عورتوں کی عزتوں کو پامال کیا گیا ،کئی انسانی جانوں کو ماؤں کی کوکھ میں ہی ہلاک کردیا گیا ، کئی خاندان ہمیشہ کے لئے تقسیم ہوگئے اور پاکستان معروض وجود میں آیا۔
پاکستان کا شہر کراچی آج کثرالسانی شہر کی حیثت اختیار کر گیا ہے، اس شہر بے مثال کو جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا ، جہاں کی سڑکیں روز دھوئی جاتی تھیں آج منی پاکستان کے طو ر پر جانا جاتا ہے، مگر روشن چہرے والا یہ شہر، اپنے ہی باسیوں کو امن نہیں دے سکتا، اس شہر میں روز لاشیں گرائی جاتی ہیں، تاریک گلیوں میں ، گزرے والا ہر شخص لٹ جاتا ہے، جرائم کی اس کثرت کے باوصف ہونے کے باوجود ، اس شہر کو کو ئی دوسرا نام نہیں دیا گیا۔
مذہبی ، لسانی و سیاسی جماعتوں کا مجموعہ مذہبی ، لسانی و سیاسی جماعتیوں کا مجموعہ یہ شہر اپنی ہمہ گیریت کے باوجود ، اپنی روشنیوں کو تازہ نہیں رکھ سکتا ، اندھیرے اور اجالوں کے درمیان، موت اور زندگی کا ابھی کھیل جاری ہے۔ ایک شخص اپنی بہن کی حفاظت میں اپنی جان سے چلا جاتا ہے، اور کوئی آواز اس کے حق میں بلند نہیں ہوتی ، اس کے برعکس دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور سیکولر ریاست ہونے کی دعویدار بھارت میں اس سال کا اختتام ، حالیہ اجتماعی زیادتی کے واقعہ پر دردمندر کا اظہار کیا جارہا ہےاورلڑکیوں کے ساتھ ہونیوالی زیادتی کیخلاف لڑنے کے عزم کااظہارکیا۔ مظاہرین کاایک ہی مطالبہ ہےکہ زیادتی کرنیوالے ملزمان کوکڑی سے کڑی سزا دی جائے۔ عورتوں ،مردوں سمیت بچوں اور بچیوں نے پر امن احتجاج کیا اور موم بتیاں جلائیں۔انھوں نے خواتین کیساتھ زیادتی کے خلاف یادداشت پر بھی دستخط کیے اور زیادتی کرنیوالوں کو پھانسی کی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
کاش نئے سال کے آغاز پر ہم اپنی آنکھوں پر بندھی پٹی کو کھول دیں اور اپنی سماعتوں کو آزاد کردیں تاکہ دکھ اور کرب میں مبتلا انسانوں کی آوازیں ہمیں سنائی دے سکیں!
چیخوں میں مبتلا آوازوں کو گیتوں سے ہم آھنگ کردیں اور رقص میں ہر ایک کو شامل کرلیں کہ ہم سب عالمی برادری چہرہ ہیں