Category Archives: سیاسی اور معاشرتی کالم

سیاسی دنگل

شعوری پختگی اور سیاسی بالیدگی کے فروغ نے افراد میں تشخص کو جنم دیا ، جس کے باعث لوگوں میں سیاسی پروگراموں کی دلچسبی میں بے پناہ اضافہ ہے۔ ان پروگراموں میں سیاسی لیڈروں کی پیروڈی کے پروگرام سر فہرست ہیں۔ ٹی وی چینلز پر ہونے والے ان مذاکراتی اور مباحثی پروگراموں میں ، جن کی ابتدا میں سیاسی جماعتوں کے نمائیدہ لوگ، ایک دوسرے کو بڑے احترام سے اپنا بھائی، بہن اور بزرگ کہتے ہیں، مقابلہ کے آغاز میں ہی معاشرتی اقدار کو بالائے طاق رکھ کر جارحانہ پیش قدمی کرتے ہیں ، اور پسپائی کی صورت میں ان کے درمیاں تصادم جیسی گمبھر صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔اگر غور کیا جائے تو ان مذاکروں اور مباحثوں پر ہمیں کسی سیاسی دنگل کا گمان ہوتا ہے۔ جہاں اصل مقابلہ اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کی بدعنوانیوں کا دفاع ہوتا ہے۔ انہیں کچھ فکر نہیں ہوتی کہ ملک تباہی کی طرف جا رہا ہے، اور اسکی وجہ ان کے سیاسی رہنماؤں کی نا اہلی ، ان کی اقرابرداری اور سیاسی لوٹوں کی خریدو فروحت ہے ۔ وسعت پذیر نظریات اور قومی ہم آھنگ سوچ سے محروم یہ لوگ ، جمہوری فروغ اور شخصی آزادی کے دعوے دار ہیں۔ اس دنگل (یا جنگل ) میں ہونے والا اصل مقابلہ دو حکومتوں کے درمیاں ہے۔ ایک طر ف پیپلز پارٹی ہے جو وفاق کی نمائیدہ ہونے کی دعو ے دار ہے اور اس کا سب سے بڑا آزمودار ہتھیار سندھ کارڈ میں پوشیدہ ہے، جبکہ دوسری طرف مسلم لیگ نواز شریف کی جماعت ہے ، جو پاکستان کی بانی جماعت ہونے کی دعوے دار ، اور صوبہ پنجاب کی حکمران جماعت ہے ، مگر وقت پڑنے پر “جاگ پنجابی جاگ…. تیری پگ نوں لگ گئی آگ” کا نعرہ بلند کر نے میں کوئی عار نہیں محسوس کرتی ۔ان مذاکروں اور مباحثوں (سیاسی دنگل) میں ، ایک دوسرے پر لگائے جانے والے الزامات کی نوعیت کو دیکھا جائے تو ان کی ممثلت میں کوئی فرق نظر نہیں آئے گا، مگر ہر ایک کا طریقہ وار دات منفرد اور جدا گانہ ہے۔ حکمرانی کی ریاست کی طرف جانے والے اس راستے میں، ان دو فریقوں کے علاوہ دیگر عناصر بھی شامل ہیں۔ مذہبی اعتدال جماعتوں اور قوم پرستوں کے علاہ ، تحریک انصاف ، تبدیلی کا ایک نیا نعرہ لے کر ہمارے سامنے آئی ہے۔ 

سیاسی دنگل سجایا جارہا ہے، مگر مقابلے کے آغاز میں ابھی دیر ہے۔ اس سے پہلے کہ طبل بجایا جائے اور مقابلے کا آغاز ہوجائے، ضروری ہے کہ قوم اپنی قسمت کا خود تعین کر لے۔اس سے پہلے ہونے والے انتخابات میں عوام کی رائے کو غیر فطری عوامل کے ذریعے ہمیشہ متاثر یا تبدیل کیا گیا، مگر ہمیشہ جاری رہنے والی یہ روایت اب شاید اپنا اعادہ نہ کر سکے۔ اس لئے ضروری ہے کہ عوام اپنی شعوری پختگی اور سیاسی بالیدگی کا اہتما م کرتے ہوئے ان باتوں کو مدنظر رکھے:

(الف) سیاسی جماعتوں کے ماضی کو مد نظر رکھتے ہوئے سوچیں کہ ان جماعتو ں نے اپنے دور اقدار میں دیئے گئے منشور پر عمل بھی کیا ؟

(ب) کیا جمہوریت کی دعوے دار ان سیاسی جماعتوں نے اپنی پارٹی میں الیکشن کروائے یا ان پر قابض افراد ، ان جماعتوں کو اپنی مورثی جاگیر کےطور پر استعمال کر رہے ہیں۔

(ج) کیا ان سیاسی جماعتوں نے اپنی پارٹی ٹکٹ ، جاگیرداروں ، صنعت کارروں اور سیاسی خاندانوں کو فروخت کیا ، اپنے خاندان کے لوگوں ،ددست وا حباب اور حلیفوں میں تقسیم کیا ، سیاسی حمایت کے حصول کے لئے گدی نشینوں کو بطور نذرانہ پیش کیا ،یا پھر پارٹی ٹکٹ کی تقسیم حقیقی طور پر صرف انصاف اور انتخاب پر مبنی ہے۔

آپ سوچیں کہ اس سیاسی میوزیکل چیئر کے کھیل کو جاری رھنا چاہئے یا پھر ایک انقلابی تبدیلی پاکستان کی تعمیر نو کے لئے ضروری ہے۔ گذشتہ انتخاب کے نتیجے میں ، قائم ہونے والی حکومتیں ہمارے سامنے ہیں۔ سیاسی لیڈران کے بیانات کی سیاہی ابھی خشک نہیں ہوئی ہے۔ ایک طرف حکمران جماعت ملک میں بدعنوانی کے نئے ریکارڈ قائم کررہی ہے ، عدلیہ کے فیصلوں کو یہ کہہ کر پس پشت ڈالا جارہا ہے کہ عدالتی فیصلے ، عوامی امنگوں کے برخلاف ہیں۔ ملکی مفادات کو بیرونی قرضوں کے عوض گروی رکھا جارہا ہے۔ مستحکم اداروں کو تباہ و برباد کیا جارہا ہے، تو قصور وار کون ہے ؟

کیا حلیف جماعتیں بھی اس تباہی کی ذمہ دار ہیں ، جو حکومت کے ہر علم کو یہ کہا کر سہارا دیتی ہیں کہ یہ اقدامات ملکی مفادات کے لئے ضروری ہیں۔

دوسری طرف اپوزیشن جماعت (مسلم لیگ ، نواز شریف) بھی اس قومی المیہ کی قصور وار ہے، جس نے گذشتہ برسوں میں حکمران جماعت کے تمام اقدامات کو یہ کہہ کر سہارا دیا کہ جمہوری حکومتوں کو اپنی مدت پوری کرنے دی جائے ایسا نہ ہو کہ سیاسی بساط کو ہی لیپٹ دیا جائے ۔اس کے لئے ایک سیاسی مک مکا کیا گیا اور پنجاب حکومت حاصل کی گئی۔ سیاسی تحریک بپا کرنے کے بجائے ان کی خواہش رہی کہ حکمران جماعت ملک کو تباہی کی طرف لےجائے، عوام مایوسی کا شکار ہوجائیں، صنعتیں اور ادارے تباہ و برباد ہوجائیں ، بے روزگاری عام ہوجائے ، طوائف ملکی عروج پائے اور جب انتخابات کا نقارہ بلند ہو تو لو گ انہیں نجات دہندہ کےطور پر منتخب کر لیں۔

آج ملک میں متوسط طبقہ ، جو معاشی ترقی کا ضامن ہوتا ہے ، مٹا جا رہا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ امیر، امیر تر ہوتا جارہا ہے اور غریب غریب تر، سیاسی لیڈراں کے اثاثوں میں، سیاسی انتقام کے باوجود بے پناہ اضافے کی رفتار جاری ہے۔ وزیروں کے بیٹے ، بدعنوانی کے الزامات کے باوجود ، اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں جیت کر اسمبلیوں میں پہنچ رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف، غریب کے بچے، بے روزگاری کے دھوپ تلے جلس رہے ہیں، ان کی تعلیمی اسناد ،اپنی اہمیت کھو چکی ہیں ، جرائم کی طرف بڑھتے ان کے کمزرو قدموں کو ، کوئی روکنے والا نہیں ۔

جب ان دونوں جماعتوں پر لگنے والے الزامات کی نوعیت اور کارکردگی ایک جیسی ہے ، تو کیا کیا یہ پاکستان کی تعمیر نو کرسیکں گے؟ کسی بھی پارٹی کے پاس ، قابل عمل منشور نہیں جو عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لاسکے، ان کے پاس صرف سیاسی نعرے ہیں جو غریب کے بھوکے پیٹ میں آگ بھرتے جارہے ہیں۔ قدرتی آفات (زلزلوں اور بارشیوں ) کے شکار افراد ، برسوں سے بے آسراہ زندگی بسر کر رہے ہیں اور ان کی مد د کے لئے کوئی بھی عملی قدم نہیں اٹھا یا گیا ۔

صرف ایک بار ۔۔۔ آپ اپنے ضمیر کی آواز پر ووٹ دیں، سوچیں اور فیصلہ کریں ، تعصب، عصبیت، لسانیت اور گروہی سیاست سے بلاتر ہو کر اپنا حق کا استعمال کریں، تو اہل لوگوں کا اقتدار اللہ قائم کرے گا۔

 

الیکشن 2013


پاکستان کےباشعور عوام مبارک باد مستحق ہیں
 کہ انہوں نے ووٹ کی بھر پور طاقت سے
سیاسی مفاہمت ،  دہشت گردی اور منافقت کو ہمیشہ کے لئے دفن کردیا
نئے پاکستان کو دیا جانے والا یہ  ووٹ
اس بات کا تقاضہ کرتا ہے  کہ ہم بحیثت ایک قوم اپنی ترجیحات کا اعادہ کرلیں کہ
معیشت کی درستگی، تعلیم کے  بھر پور فروغ اور  انصاف کی بالا دستی  سے
ہم پاکستان کے چہرے کو
عالمی چہرہ
بنا دیں گے!

فوزیہ قصوری کی تحریک انصاف سے علیحدگی ۔۔ ایک لمحہ فکریہ

تحریک انصاف سے میر ی وابستگی ” نئے پاکستان” کے حوالے سے استوار ہوئی، آج نئے پاکستان کا تصور لوگوں کے دلوں میں رچ بس گیا ہے، میرے خیال میں تحریک انصاف کی منزل نیا پاکستان ہے۔

لوگ الیکشن 2013 کے نتائج سے دل برداشتہ نہیں ہوئے ہیں، ان کے حوصلے بلند ہیں اور وہ منزل کی طرف گامزن ہیں ، انہیں معلوم ہے کہ منزل تک پہچنے کے لئے ابھی بہت مسافت طے کرنا باقی ہے۔ 

تحریک انصاف نے اپنی 17 سالہ جدوجہد کے ذریعے لوگوں کی عمومی رائے کو متاثر کیا، خصوصا” ملک کا وہ نوجوان طبقہ جو پہلی بار ووٹ کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کررہا تھا ، انہوں نے عمران خان کی تبدیلی کی آواز پر لبیک کہا اور لوگوں کا ہجوم پر عزم کارواں کی صورت اختیار کر گیا۔

اس سارے عمل میں ، احتیاط کے تمام تر لوازمات کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا جو کہ وقت کا اہم تقاضہ تھا ، لوگوں کی بھیڑ کے لئے کارواں کے دروازے کھول دئے گئے ، دل صاف تھے ، اور ایک ہی نعرہ گونج رہا تھا کہ تبدیلی کے لئے ووٹ دیں۔ مگراس بات کا خیال نہیں رکھا گیا کہ ایک مچھلی سارے تالاب کا پانی گندا کرسکتی ہے۔

فوزیہ قصوری کی تحریک انصاف سے علیحدگی کو لوگ اہمیت دے رہے ہیں اور یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ، اس سے پہلے ڈاکٹر شیریں مزاری بھی اس سارے عمل سے گزر چکی ہیں۔ فوزیہ قصوری کی تحریک انصاف سے علیحدگی ، جسم سے اعضا کو الگ کردینے کے مترادف ہوگی، اور ان کا یہ عمل لوگوں کی رائے کو متاثر کرسکتا ہے۔

میری دعا ہے کہ تحریک انصاف ، نئے پاکستان کی منزل تک ضرور پہنچے ، مگر ا س کے لئے ضرور ی ہے کہ تحریک کے بنیادی اجزا ایک دوسرے سے مربوط رہیں۔

کوئی تو قدم آگے بڑھائے!

قوم ہر طرح کی قربانی دینے کے لئے تیار ہے، مگر کوئی تو قدم آگے  بڑھائے!

حکیم الامت ڈاکڑ محمد اقبال  کے 136 ویں  سالگرہ کے مواقع پر  مجھے  ان کا، پاکستان کی تخلیق سے تعبر کیا  گیا   خواب یاد آرہاہے  ۔

فکر و فلسفہ کے نمائیدہ  اس عظیم شاعر مشرق نے   اپنےواجدان سے ایک ایسی اسلامی تشخص  پر مبنی  ریاست کا تصور پیش کیا ، جیسے لاکھوں جانوں کی قربانی دے کر حاصل کیا گیا ، آگ و خون کے راستے گزرتے ہوئے  انسانوں کی سب سے بڑی ھجرت    ، وطن  پاک پہنچی۔ مہاجرین اور انصار کے درمیان قیام ہونے والے رشتے نے ،  چودہ سو سال پہلے  ہونی والی ہجرت مدینہ کی یاد تازہ کردی۔

لوگوں  نے، عزم و ہمت کے وہ جوہر دیکھائے کہ قوم جلد ہی  ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوگئی۔

وقت سفر کرتا رہا ۔۔۔۔ پاکستان کے ساتھ آزاد ہونے والی حکومیتں  ترقی کا سفر کرتی رہیں ، مگر   ہم اپنے اثاثے کھوتے چلے گئے ، عظیم قومی رہنماؤں  ڈاکڑ محمد اقبال ، بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی رحلت  اور لیاقت علی خان کی  شہادت کے بعد ، ایسا لگتا تھ ا کہ  قوم بے سمتی کا شکار ہوگئی ہے،

اب انہیں خواب غلفت سے جگانے والا کوئی نہیں !

پھر   ملک کے جمہوری نظام کی بساط کو لپیٹ دیا گیا،  ایک ایسی حکمرانی  کا دور آیا ، جب  ہونٹوں کو خاموش رہنے کا حکم دے دیا گیا،  ایسی سنگلاخ دیواریں تعمیر کردی گئی کہ لوگوں کے کانوں تک کوئی چیخ نہیں  پہنچ سکے ، وقت چلتا رہا ، مگر آسمانوں پر سے  چمکنے والے تاروں کو  اتار لیا گیا، فضا میں تیرتے پرندوں کے  گیتوں کو پیروں تلے روندا گیا۔انسانیت کو بے آبرو کر کے، اس کے روشن چہرے پر کالک  مل دی گئی،   وقت چلتا رہا ،اس دوران  ملک کا ایک بازو ہم سے الگ ہو گیا ، وقت چلتا رہا  ،  اس اندھیرے میں  ایک بار پھر  سیاست کا  دروازہ کھلا ، مگر روشنی  اندر داخل نہیں ہوئی،  انکھوں  میں اندھیرے تیر تے رہے،  اور  سیاست ، ملکی سے زیادہ ، ذاتی مفادات سے وابستہ رہی،  ملکی مفادات کو  بیرونی قرضوں کے عوض  گروی رکھ دیا گیا۔   وزارتوں کے زیر نگرانی چلنے وال ادارے اور اثاثے   تباہ و برباد ہوتے چلے گئے ، مگر کوئی بھی اس کی  ذمہ داری قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔

آج وقت ایک بار پھر رک سا گیا ہے ،  قوم ایک بار پھر ، اس بات کی منتظر ہے کہ   حکیم الامت ڈاکڑ محمد اقبال    کے فکر و فلسفہ  کا احیا ء کیا جائے ، ان کی شاعری میں بیان کردہ  پیغام کی اصل روح تک پہنچا جائے ،قوم کی ترقی کی راہ میں حائل تما م رکاوٹوں  کو دور کیا جائے ، چاہے  ہمیں کتنی ہی بڑی قربابی کیوں نہ دینی پڑے،

 قوم ہر طرح کی قربانی دینے کے لئے تیار ہے، مگر کوئی تو قدم آگے  بڑھائے!

یہ کہانی کون لکھ رہاہے!

گذشتہ دس روز میں 100 افراد کی ہلاکت، اس شہر کراچی کا المیہ ہے، جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا ،ملک کی معاشی ترقی کا دروازہ اور محبت کی کہانی کا روشن باب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہونے کے باعث تمام لوگوں کے لئے منی پاکستان کی حیثیت رکھتا تھا، مگر آج اندھیرے میں ڈوبے اس شہر کے لوگ ماتم کناں ہیں۔ مسجدوں سے بلند ہونے والی آوازوں پر، گولیوں کی بوچھاڑ حاوی ہوتی جارہی ہے۔ درختوں پر بیسرا کرنے والے پرندے، اجنبی چہروں کے خوف سے ،اپنے گھونسلوں سے کبھی کا اڑ چکے ہیں، ویرانیوں نے دلوں میں گھر کرلیا ہے ، گھروں کے باہر جوانوں کے لاشے پڑے ہیں، ماؤں کی سفید چادروں نے کفن کی صورت انہیں پناہ دے رکھی ہے، ظلم کی یہ رات بہت لمبی ہے ، روتی ہوئی آوازیں ہر گھر کا دروازہ کھٹکٹا رہی ہیں، مگر اس کہانی کے لکھنے والے ہاتھوں کو ابھی اپنی بھوک مٹانے کے لئے ، بہت سی لاشوں ، آہوں اور سسکیوں کی ضرورت ہے۔

اس شہر کے ہر موڑ پر جلتے ہوئے چراغوں کو بجھانے لئے ، کتنے ہی نقاب پوش ، اپنی سیاہ چادروں میں بارود کی بارش چھپائے کھڑے ہیں۔

 
 
Skip to toolbar