Category Archives: غیر طبع شدہ نظمیں

امکانات سے باہر

امکانات سے باہر
سورج کی روشنی کے ساتھ سفر کرتے ہوئے
تم سے ہم آغوش ہونے کے خیال کو
میں نے کبھی بوسیدہ ہونے نہیں دیا
خواب و خیال>
خواب گاہ سے کبھی باہر نہیں نکلے
سور ج کی روشنی
جب بھی ستاروں سےبھرے آنچل میں پناہ لیتی
تو میں اس یقین کو کبھی نہیں جھٹلا سکا
کہ تم نے مجھے چھو کر گہری نیند سے جگا دیا ہے
اس یقین کو اپنے اندر
انگاروں کی طرح دہکتا ہوا محسوس کیا ہے
امکانات سے باہر
محسوس کیا جانے والا
ہم آغوشی کا لمحہ
آج تیز ہوا میں
میرے ساتھ اڑ رہا ہے۔

یہ جنگل ہے

یہ جنگل ہے
اور ڈور تے ہوئے
میرے پاؤں زخمی ہوچکے ہیں
میں سمتوں کا گمان کھو چکا ہوں
اور کسی آہٹ کی طرف ڈورتا ہوں
میں لہولہان ہوں
اور کسی بھی لمحے آزادی کی خواہش سے ٹوٹ سکتاہوں
یہ جنگل جو پہلے پرندوں کی آوازوں سے بھرا تھا
اب خاموشی کی سزا کاٹ رہا ہے
کوئی سرسراتی ہوا نہیں گزر رہی ہے
جو کسی احساس کو جنم دے
میری آنکھیں پتھرا گئی ہیں

انتظار کا راستہ

کالے سمندروں کے سفر سے لوٹے ہوئے
وہ مجھے انتظار کی شکار گاہ کے قریب جاگتی ہوئی ملی
اس کی آنکھوں نے کہا
تم تو میرے بستر کی ہر شکن میں موجود تھے
اور میں ہر رات تمہارے کپڑوں میں بسے لمس سے ہم بستر ہوتی تھی
اب زندگی کتنے مختلف خانوں میں بٹ گئی ہے۔
سانپ کی کنچلی کی طرح ہم روز نئی زندگی بدلتے ہیں
کہ خود کو آئنیہ میں بھی نہیں پہچانتے
آراستگی سے اس زمانے میں
ہم نے خود کو جس روپ میں ڈھل لیا ہے
وہ گلدان میں سجے ہوئے
مصنوعی پھولوں کی طرح ہیں>
جن پر سے گزرتے ہوئے موسموں کی ہوائیں
اپنا اثر کھودیتی ہیں
اور خزاوں میں بھی رنگوں سے آراستہ رہتے ہیں
ہم اپنے خواب توڑ دیتے ہیں
اور اپنی پیاس خالی کنوں سے بجھا نہیں سکتے
ہم جذبات کی دنیا سے بہت دور ہیں
خوشی و غم کے موسم ہمارے دل کے راستے سے نہیں گزرتے
حسب منشا، ہمارا لہجہ جذبات سے بھرپور ہوتا ہے
اور کبھی وقت ضرورت ہم غم کو خود پر طاری کرکے
ان جذبات کا اظہار کرتے ہیں ، جسکی پرچھائیں بھی ہم پر نہیں پڑی ہوتیں ہیں
آج گزرتا ہوا وقت ہمارا اپنا نہیں
زندگی جیسے ایک ڈور ہے جسے جیتنا ہے
چاہے منزل پر ہم تنہا ہی پہنچیں
اگر وقت ہمارے ہاتھوں سے چھن جائے تو؟
اس سوال پرہمارا دل ڈوب جاتا ہے
کیونکہ وقت کے اس پیرہین کے علاوہ ہمارے پاس کچھ اپنا نہیں
جو ہماری برہنگی کو ڈھانپ سکے
خواب ہماری نیند کے بند دروازوں پر سوکھ چکے ہیں
ہماری آنکھیں رات کے اندھرے میں تھک کر بند ہو جاتی ہیں
مگر انہیں نیند نہیں کہا جاتا
اور صبح ہم کسی طیور کی تلاوت پر نہیں اٹھتے ہیں
بلکہ الارم کی ایک گھناؤنی آواز ہمیں اپنی ٹھوکر سے اٹھاتی ہے
ہم چند لمحے اجنبی زندگی کا احساس کرتے ہیں
اور کسی کارخانے میں تیار شدہ سانسوں کا ماسک پہن کر
زندگی کی نئی صبح کا آغاز کرتے ہیں
ہوا میں بہتی تازگی ہمیں چھولے تو ہمیں چھنکیں شروع ہوجاتی ہیں
اس زندگی میں ہم اکیلے ہیں
رشتوں اور روشنیوں کے لمس سے محروم
اور نہیں جانتے کہ معطر خوشبوں سے بسے ہمارے جسموں کے اندر کئی تار ایسے بھی ہیں
جو دل سے جوڑے ہیں
اور انہیں کسی ایسی حرارت کی ضرورت ہے
جو موسموں کو ہم رکاب رکھتی ہو
جو خوا بوں کی دھلیز پر جاگتی انتظار کی آنکھ جیسی ہو
جو پاس آتے قدموں کی جھنکار سن سکتی ہو
جو موسموں کی کٹھیا میں رہتی ہو
اور محبت کے ایک لمحے کی متلاشی ہو
زندگی
ایک ایسی خوشی سےتعبیر کی جاسکتی ہے
جسکی ہر رات
دیکھا جانے والا خواب پورا ہو
مگر زندگی کا جو پیمانہ ہمارے ہاتھوں میں ہے
اگر ہم اسے چھلکنے سے بچانا چاھتے ہیں
تو ہم ہر گزرتے لمحے کو پیار کے حوالے سے امر بناتے چلیں
تاکہ
زندگی کے پیمانے میں
کوئی دکھ کی گھڑی نہ بچے
اپنے لہجوں کی تراش خراش سے
خودرو اگ جانے والے دکھوں کو
تناور درخت بنے سے پہلے>
جڑؤں سمت اکھاڑ پھینکیں
اور رات کے خواب آلودہ ماحول میں ابھر نے والی سرگوشی بنا دیں
جسکے معنی صرف اور صرف
محبت ہی ہوتے ہیں

بوری میں بند لاش

بوری میں بند لاش
کسی سے کچھ نہیں کہتی
سارے سوالوں کے جواب
اسکی مٹھی سے گر کر کہیں کھو گئے ہیں
ادھ کھلی آنکھوں میں قید
آخری منظر
قطرہ قطرہ پگھل رہا ہے
لوگوں کے چہرے بجھے ہوئے ہیں
کچھ آوازیں بھی اس منظر میں موجود ہیں
جنہیں خاموش ہونٹوں نے جکڑ رکھا ہے
اس سڑک پرجہاں
بوری میں بند ایک لاش پھینک دی گئی ہے
نیا دن پوری آب وتاب سے طلوع ہو رہا ہے
لوگوں کا شور مچاتا ہجوم
اس راستے سے گزر رہا ہے
جہاں
بوری میں بند لاش
کسی سے کچھ نہیں کہتی

Skip to toolbar