Category Archives: غیر طبع شدہ نظمیں

آج تھرکی صحرائی زندگی کے لئے ہمیں جاگنا ہو گا

aaaabbbbccc

صدیو ں سے تھر کی تپتی ریت پر
مور اپنےرقص کرتے رنگوں کو
قوس و قزح کی صورت زمین پر بکھر رہے ہیں
آج حد نظر تک
کوئی بھی پرندہ آسمان کی وسعتوں کو چھوتا نظر نہیں آ رہا ہے
زیست کی نمی
پاتال کی گہرائیوں میں کہیں چھپ گئی ہے
جہاں تک پہنچتے پہنچتے
درختوں کی صدیوں تک پھیلی جڑیں
اپنا وجود کھو تی جارہی ہیں
تپتے صحرا میں نمو پاتی زندگی
گہرے رنگوں کے آنچلوں کے پیچھے خاموش ہے
گہری کالی آنکھیں آج خود سے بہت ناراض ہیں
ان کے لب سلے ہوئے ہیں
کوئی بھی چیخ شکوہ بن کر ان کے ہونٹوں سےنہیں گرتی
ماؤں کی بھوکی کوکھ سے
ان کی اجڑی گود تک
درختوں سے ٹوٹے ہوئے پھولوں کی لاشیں پڑی ہوئی ہیں
وہ چیخ جو گھٹن بن کر
ان کے زندہ وجود کو نگلتی جار رہی ہے
کانٹوں کی فصل بن کر
ان چھوئے احساس کو لہولہاں کر رہی ہے
جن پھولو ں کو ماؤں کی گود سے اتر کر
بھوک اور غربت کے سیاہ زندانوں سے ٹکرانا تھا
انہو ں نے اپنی پیاس کو ہمیشہ ریت کی صراحی میں قید پایا
آج وہ اپنی ہی سانسوں کی ڈور سے الجھ کر دم توڑ رہے ہیں
آج تھر کا صحرا
بارشوں کے جل تھل کے انتظار میں تھک کر
ہمارے خوابوں کی دہلیز تک پہچ گیا ہے
اس کے پہلے کہ
خواب اور نیند
مو ت کی خاموشی کو چھو لیں
ہمیں جاگنا ہو گا

اکمل نوید (anwer7star)

شب و روز کی گردش سے گزرتا ہو ایہ سال

شب و روز کی گردش سے گزرتا ہو ایہ سال
آج نجانے کیو ں سانپ کی طرح رینگ رہا ہے
اس کی زہر بھری پھنکار سے میرے تازہ خوابوں فصل جل چکی ہے
زخم آلودہ جسم
لمس کی خواہش لئے آہٹوں کی دھند میں کہیں گم ہو چکا ہے
سورج کالی آندھیوں کی گرفت میں اپنی گرم روشنی کھوتا جارہا ہے
ایک اندھیرا گم راہ تیر کی طرح میر ے دل کی جانب محو پرواز ہے
اس سے پہلے کہ دشمن مجھے گھائل کردے
میری آنکھوں کی خالی جھیل سے ایک بے نام سی روشنی چشمہ بن کر پھوٹنے لگی ہے
اس کے بڑھتے ہوئے قدموں کی آھٹ پر
دل کے سدا بند رہنے والے دروازے
دوستوں کی بانہوں کی طرح وا ہوتے جارہے ہیں
میرا دل  اب امید کے چراغ سے روشن ہے
شاید گزرتے ہوئے اس بے ثمر سال کے بعد
سیاہ بادلوںکو جگمکاتے ستاروں سے آویزاں کر دیا  جائے
! اور ایک ننھی بے نام سی روشنی سورج کی کرن کو تھام کر سارے منظر کو روشن کردے

اے محرم تو سرخرور ہے سدا

سیاہ آسماں پر پھیلے  لہو رنگ پرچم تلے
قافلے صدیوں سے ہیں سچ کے سفر پر رواں
سر ان کے پڑے ہیں سجدوں میں کٹے ہوئے
بریدہ جسم ہیں ان کے خوشبو سے مہکے ہوئے
برف جیسے شعلے جلے ہوئے خیمو ں سے ہیں  لپٹے ہوئے
آسمانوں سے لگی پر نم چشم کے سامنے
ڈوب چکی ہے دریاؤں کی روانی بھی پیاس میں
پاتال سے باندھ کر وقت کی رفتار کو
رقص بسمل ہوا ہے ہر طرف بپا
ظلم کو ہمیشہ کے لئے
دفنا دیا ہے گمنامی کی قبروں میں
اے محرم تو سرخرو ر ہے سدا
کہ تری ہر شہادت
موسم گل کا پیرھن دے گئی
بے گناہ کی موت کو

موت کتنی ارزان ہے !

موت کتنی ارزاں ہے !
عید کے دن، میں اس مختصر سے خاندان کو یاد کررہا ہوں
جسے بڑی بے رحمی سے زندگی کی کتاب سے نوچ کر پھنک دیا گیا
اس شہر میں یوں تو روز ہی کوئی مرتا ہے
کوئی اپنی موت اور کوئی ایسی موت بھی مرجاتا ہے
کہ اس کا اپنے قاتلوں سے کوئی بھی
لینا دینا نہیں ہوتا
مگر یہ بدقسمت خاندان کس کھاتے
میں مارا گیا
کوئی نہیں جانتا
اپنی خوشیوں کے لئے
انہوں نے ایسے لباس کیوں خریدے ،
جنہیں کسی کو بھی نہیں پہننا تھا
کھلونے، اپنی اپنی آنکھیں موندے
منتظر ہیں کہ کوئی آواز انہیں
نیند سے جگا ئے
مگر پانی میں ڈوبتے ہوئے
ان کی آنکھوں کو موت نے ڈھانپ لیا
تاکہ وہ دوسرے کی موت کو نہ دیکھ سکیں
زندگی کے خوبصورت رنگوں سے بنا یہ خاندان
یوں مسمار کر دیا گیا
کہ ان کی زندگی پانی کی دیوار کے پار چلی گئی
موت کتنی ارزاں ہے !
اور اس کا نشانہ کتنا بے خطا ہے
ہم ایسی بے خطا موت کا شکار بننے والوں کے لئے دعا کے طلب گار ہیں

ہم چیخناچاہتے ہیں

ہم چیخناچاہتے ہیں

یہ زندگی سے ناراض رویہ ہے
ہر صبح آواز قتل کر دی جاتی ہے
تو ساراشہر خاموش ہوجاتا ہے
کسی کو گرنے سے بچانے کے لئے
ہم چیخنا چاہتے ہیں
مگر ایک ایسی تصویر بن جاتے ہیں
جس میں خاموشی کو قید کر دیا جاتا ہے
ہم تہہ در تہہ
کسی اجنبی سمت اتر جاتے ہیں
الجھی سوچوں کے ہمراہ
اب وقت کا دائرہ بھی
جائے اماں نہیں ہے کہ
محبت کی اجلی روشنی
رنگوں اور خوابوں کے درخت سے
ٹوٹ چکی ہے

Skip to toolbar