Category Archives: طبع شدہ نظمیں

پناہ درکار ہے

ایک بار پھر مجھے پناہ درکار ہے
مصنوعی موسم کی اجلی شاموں سے میں خود کو موڑ چکا ہوں
خوشیوں کے لمحےٹوٹی ہوئی گھڑی کی سوئیوں کی طرح
ایک ہی زمین پر رک گئے ہیں
میں بہت آگے نکل آیا ہوں
ایک بار پھر مجھے پناہ درکار ہے
جو تم جیسا ہو اور کوئی سوال پوچھے بنا
میرے جسم و جاں میں نشہ بن کر اتر جائے
شاید کوئی فیصلہ میرے اندر کہں ہوچکا ہے
اس لئے تو میں وقت کے ساتھ نہیں ہوں
کوئی اجنبی ہاتھ مجھے جکڑے ہوئے ہے
میرے سانسوں کی ڈوریوں کو تھامے ہوئے
مجھے کسی اور سمت گھسیٹ رہا ہے
میں وہاں جانا نہں چاھتا
جہاں تم نہیں ہو ۔۔۔۔
>ایک بار پھر مجھے پناہ درکار ہے

خوابوں کی فصل

میرے سیاہ آسمان پر
تم نے اپنے چہرے کی روشنیاں لکھ دی ہیں
بہت دنوں بعد آج ایک قیدی رہا ہو کر چاند دیکھ رہا ہے
میں تو بازی ہار چکا تھا
جس زمین میں مجھے اپنے خوابوں کی فصل بونا تھی
وہ دھوپ میں جل گئی تھی
مگر آج تمہاری بھیگی آنکھوں میں دعائیں جاگ رہی ہیں
اور تم میرے جسم و جاں کے خلا کو
اپنے لمس کی حرارتوں سے پر کر رہی ہو
تم نے اپنے آپ کو مجھ سے جوڑ لیا ہے
تمہاری آواز پر موسم بدل رہے ہیں
جلتا ہوا سورج شام کے سمندر میں اتر گیا ہے

ہاتھ آزاد ہیں

وہ میرا جنون تھا جو سچ ہو گیا ہے
میں نے کئی بار خود کو کسی بہت اونچی عمارت پر ایستادہ پایا
کہ اگلے ہی لمحے میں کود کر خود کا مٹانا چاہتا تھا
میرے ترکش میں تین تیر تھے
مگر چاروں سمتیں میری مخالف تھیں
میں محبت کے نام پر آگ کو چوم لیتا تھا
مگر میرے تیر خالی چلے گئے اور میں پتھر کابن گیا
زمین اور آسمان کے درمیان کالا سورج سفر میں تھا
پھر جانے کیسے سفید بادلوں کا سائبا ن
میرے سر پر آ کر ٹھہر گیا
میرے پیروں پر خوشبو مل دی گئی
اور میرے سینے سے لگ کر کوئی اپنی ڈھڑکنیں
میرے وجود میں اتارے لگا
صدیوں سے بندھے ہاتھ آزاد ہوگئے
اور پہلی بار تم نے مجھے تھام لیا
میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دئے
ہم دونوں نے نئے موسموں کی تازہ اور خوبصورت
پوشاکیں پہن لیں اور زندہ ہوگئے

روشنی کی پکار

ہمارے دل سیاہ تھے
قریب تھا کہ ہمارے جسموں پر
آسمان سے غذاب اترتا
تو ہم جل کر راکھ ہوجاتے
ہمارے دل سیاہ تھے
قریب تھاکہ ہم گرتے اور ٹوٹ جاتے
یا ہماری سانسیس روک لی جاتیں
پھر ہمیں آگ کے گڑھے میں پھینک دیا جاتا
مگر ایسا نہیں ہوا
اور ہم تک ہدایت آ پہنچی
قریب تھا کہ ہمارے کانوں میں شور بھر دیا جاتا ؎
ہمارے ہاتھ کھینچ کر لمبے کر دئے جاتے
یا پھر ہما رہے پاوں تنکا بنادئے جاتے
مگر ایسا نہٰں ہوا
کہ ہر لمحے اس کی رحمتیں ہمیں تھامے رکھتی ہیں
اب ہم پکار اٹھے ہیں
کہ اے خدا
ہمارے سینے پر رکھی
اندھیرے کی صلیب کو توڑ دے
اے خدا ہمیں وہ آگ بنا دے
جس کی آواز میں تو نے
اپنے بندے کو پکارا تھا
جب ہم اندھے تھے تو ہم نے سمجھا
کہ تیرے رحمتوں کا دروازہ بند ہے
ہم نے نہیں دیکھا
کہ آسمانوں پر اجالا پھیل رہا ہے
بادلوں سے بارش ہور ہی ہے
مردہ زمین کی گود
زرخیری سے لدی ہوئی ہے
ہم نے صبح ۔۔۔۔۔
سورج کو طلوع ہوتے نہیں دیکھا
کہ عارضی موت کے بعد
ہم دوبارہ زندگی کی حرارت سے معمور ہیں

دوسرے کنار ے پر

وقت کے دوسرے کنارے پر کون ہے
میں لاپتا ہو چکا ہوں
وقت کے رتھ پر کوئی نہیں
چاند انگوٹھی میں جڑا ہوا ہے
شہ رگ کٹ چکی ہے
صرف سانپ کا زہر جاگ رہا ہے
نیلے ہونٹوں پر
پیاسے جسموں کی پکار ہے
وقت کے دوسرے کنارے پر کون پے
کیا میرا خدا
پھر میری تخلیق کر رہا ہے