Category Archives: طبع شدہ نظمیں

سورج اندھیرے پھینک رہا ہے

ہم روشنی کے لئے کس طرف کھڑکی کھولیں

پرانی زندگی کا دکھ نئے د ن کی خوشی میں

چھپ نہیں سکتا

خواب اور کھڑکی کے درمیاں بچے کھیلتے ہیں

مگر میرا دکھ عجیب ہے

وقت کا ہر لمحہ ایک نئی سمت کھنیچتا ہے

اب مجھے چھپ جا نا ہے

مگر ایک آواز جادو جیسی ہے

ہم روشنی ہے لئے کس طرف کھڑکی کھولیں

سورج کی طرف جو جاتے ہوئے

اندھیرے پھینگ جاتا ہے

یا اس طرف ۔۔۔۔۔

جدھر سے مسافر

گھروں کی جانب لوٹتے ہیں

چوڑیاں گم ہوگئیں

جب ہمارے رخ بدل دئے گئے
تو شہر ویران ہو گئے
تمام منظروں سے آوازیں اتار دی گئیں
اور ہجرت ممنوع قرار پائی
لوگوں سے پھری اجلی بستیوں میں
ویرانے اترنے لگے
جنگل رقص کرتا ہماری دیواروں تک اتر آیا
بد ہیبت مکڑیاں اپنے جالوں میں
اندھیرا ٹانکنے لگیں
کوئی دوسرا
اپنی تنہائی میں کسی کو پکار نہیں سکتا
ہمارے چیختے چہرے خاموش تصویروں کی صورت
خالی فریموں کے بھوکے جسموں میں اتار دیئے گئے
آنگنوں میں چوڑیاں کھنکنی بند ہو گئیں
اور جب ہم نے تھکے ہوئے جزبوں سے مغلوب
کسی کے جسم پر اپنی آنکھوں کے لمس کو اتارنا چاہا
تو ہماری انگلیاں
اور آنچلوں کے پیچھے
چہرے غائب ہو گئے

غنیم کا لشکر

مفلسی کی دیمک پوشاک کو چاٹ رہی ہے
دکھوں کی برہنگی کو چھپانا مشکل ہوگیا ہے
گھر کی دیواریں چھوٹی ہوتی جارہی ہیں
پرچھائیوں کے عقب میں غنیم کا لشکر ہے
جو روٹی چھیننے اور غزتوں پر وار کرنے آگے پڑھتا چلا آرہا ہے
بولتی زبانوں کا شور ساکت سمندر بن گیا ہے
کون ہے
جو اس سیاہ رات میں گرتی ہوئی دیواروں کی حفاظت کرے
کون ہے  ۔۔۔۔ جو  ہماری برہنگی کو ڈھانپنے کے لئے
اپنی پوشاک ہمیں دے دے
لیکن  یہاں تو کوئی زندہ نہیں ہے
سارے چہرے پتھر کے ہوچکے ہیں

مٹی کی خواہش

یہ  جسم مردہ ہیں
لفظ جنہیں لکھتے ہوئے
ہم کاغذ کالے کرتے ہیں
گناہ کی طرھ بے لذت ہیں
ہم زندہ رہنا چاھتے ہیں
چراغ سے چراغ جلانا چاہتے ہیں
ان چہروں کو مٹا دینا چاھتے ہیں
جو قاتل ہیں
دہشتگرد ہیں
ہم کچلی ہوئی تصویروں میں
تازہ رنگ بھر دیں گے
زخمی کلائیوں کو
پھولوں سے سجادیں گے
زمین کی تہہ میں تخلیق جاری ہے
بہت سے بیج ہیں
جو ایک روز تناور درخت بنیں گے
کالی راتوں کو سدا نہیں رہنا ہے
موسموں کی پہلی بارش پر
مردہ جسموں میں نئی روح پیدا ہوگی

قاتل کون ہے؟

تم نے اس کا خون دیکھا ہے
تم نے اس کی زبان سنی ہے
تم نے اس کا گھر دیکھا ہے
کسی چوراہے پر
کسی دفتر کے بند کمرے ہیں
اور کسی دروازے پر
جو اپنی عمر ہار جاتا ہے
رشتوں کی زنجیر توڑ دیتا ہے
اس آدمی کی ٹانگیں کیسی ہوتی ہیں
جو دوڑ کے مقابلے  جیتتا ہے
اس آدمی کے ہاتھ کیسے ہوتے ہیں
جو قتل کرتا ہے
اس آدمی کی زبان کیسی ہوتی ہے
جو جھوٹے وعدے کرتا ہے
ایک نظم جب بچھڑ جاتی ہے
ایک چھوٹ جب بولا جاتا ہے
ایک روٹی جب مانگنی پڑتی ہے
تو ایک انسان قتل ہوجاتا ہے