Category Archives: نثری تحریریں

صرف تمہارے لئے

اس کی خواہشیں معصوم تھیں، اسے آسمانوں کی وسعت کا کبھی احساس نہ تھا، صبح کی روشنی نے پہلی بار اسے چھوا تو اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی بارش ہونے لگی۔
زندگی اتنی خوبصورت تو نہ تھی ۔۔ اس کی روح بار بار کچلی گئی تھی، اس کی خواب دیکھنے والی آنکھوں کے آگے سنگلاخ دیواریں چن دی گئی تھیں ۔ اور تنہائی، اس کی روح میں ہمیشہ کے لئے بس گئی تھی۔کوئی خواب نہ تھا، جس سے وہ اپنے دل کی بات کہہ سکتی، (مگر کیا اس کا دل ڈھرکتا بھی تھا؟) اس نے کبھی ایسا محسوس نہیں کیا ۔ مگر انجانی خواہشیں اس کے اندر گھر کر چکی تھیں۔ رات کو اپنے آس پاس ہمیشہ اس نے کسی کی آہٹ کو محسوس کیا۔ وہ کون تھا؟ اس جستجو کی اسے آگہی نہ تھی۔ بس دل کسی احساس سے بوچھل تھا۔ دن اور رات کے بے معنی آ نے اور جانے کو وہ کیونکر زندگی کہہ سکتی تھی۔ مگر دل کے اندھیرے میں ہمیشہ محسوس رہنے والا احساس اب ایک روشنی میں بدل رہا تھا۔ اس کی خواہشیں معصوم تھیں۔ اس نے جب اس روشنی کا ہاتھ تھاما تو پہلی بار اپنے خالی دل کو بھرا ہوا پایا۔ اس کے خدو خال کتنے مانوس تھے، مگر تصویر اب بھی واضح نہ تھی۔ کوئی اس میں اپنے رنگ بھر رہا تھا۔
تب اس کی خواہشوں نے سمندر دیکھنے کی خواہش کی، کیا اس کی ان دیکھی محبت ، سمندروں سے بھی بڑی ہے اور جہاں دو کنارے ملتے ہیں، کیا اس کی زندگی میں بھی ایک ایسا پوشیدہ کنارہ ہے، جسے کسی نے نہ چھوا ہو، اور جہاں ہمیشہ سفر میں رھنے والے مسافر اپنی منزل تما م کرتے ہیں۔
اس کی معصوم خواہشوں کو آج کئی سوال درپیش ہیں۔ کیونکہ تصویر کے رنگ ابھی ادھورے ہیں اور وہ چہرہ جو ہر پل اس کی ڈھرکنو ں کے ساتھ تھا اپنی شکل ادھوری چھوڑ گیا ہے ۔

کہانی کا حصہ

میں ایک ایسی کہانی کا حصہ ہوں جسے کسی انجام کے بغیر لکھا دیا گیا، اس شہر خاموشاں میں ، جہاں ہوا بھی ٹہر گئی تھی، خواب سے بیدار ہوتی آنکھوں نے رقص کی خواہش کی، مگر اس اجنبی شہر میں آشنائی جرم ٹہری۔
پھر کہانی میں تمہیں بھی شامل کر دیا گیا، شاید تقدیر ایسے ہی کھیل رچاتی ہے، تم محبت کے شجر سے توڑا گیا ثمر تھیں، ایک ناراض رویہ تمہاری آنکھوں میں آ بیٹھا تھا، اور تم کسی کا اعتبار نہیں کر سکتی تھیں، مگر قدرت ایسے ہی کھیل رچاتی ہے، کیوپڈ کا چلا تیر بے خطا تھا اور تم گھائل ہوگیں۔
تمام راستے رقص گا ہ کی طرف جارہے تھے، یہ کہانی جو کسی انچام کی محتاج نہ تھی، دو دلوں کے درمیا ن سفر کر رہی ہے،درمیان میں ایک دریا بہہ رہا ہے، پہاڑوں کی وادیوں میں ایک پکار گونج رہی ہے، اور ہمارے دل انچانے وسوسوں سے ڈھرک رہے ہیں، ایک دریا کے کنارے ہم دونوں پیاسے ہیں اور بارش ہورہی ہے۔
یہ بھی قسمت میں لکھا ہے کہ ہم کسی انجام تک نہیں پہنچ پائیں گے اور ہر صبح اپنی ناتمام آرزوں کو ساتھ لے کر ہم اپنے اپنے قفس سے پرواز کر تے ہیں، متروک وادیوں اور برباد شہروں پر سے گزرتے ہوے، ایک لمس کی خواہش ہم پر اپنی تھکن طاری کر دیتی ہے۔
ایک سوال جو بار بار اپنی شکلیں بدلتا ہے، مگر ہمیں اجبنی نہیں کر سکتا !

بہت سے چہروں میں گم وہ ایک چہرہ

مجھے یوں لگا ، میں آئینہ میں خود کو دیکھ رہا ہوں۔ اتنی محبت مجھے خود سے بھی نہ تھی۔ جس قدر چاہت کا اظہار اس نے مجھ سے کیا ۔ وہ میرے خون میں سفر کرتی ہوئی میرے دل اور پھر خواب تک آپہنچی ۔ ہر رات میں ایک بزم سجاتا ہوں۔ رات کے آخری پہر تک پہنچتے پہنچتےوہ اداس ہوجاتی، جیسے وہ میرے زندگی سے جانا نہ چاہتی ہو۔میں اس کے لئے کیا تھا اور وہ قطرہ قطرہ پگھلتی مجھ میں سما جانا چاھتی تھی۔
میں شرمندہ تھا ۔۔ ایک ایسی صبح کے آجانے پر جب اس کا ہاتھ میرے ہاتھوں سے چھوٹ جاتا، اس سے جدائی کی ہر گھڑی میں ، مجھے یو ں لگتا کہ مجھ پر اس کا رنگ چڑھتا جا رہا ہو۔ ایک لمحہ ایسا بھی ہمارے درمیان آیا، جو خواب جیسا تھا (مگر اس کے رنگ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ نکھرتے جارہے ہیں) مجھے یوں لگ رہا تھا کہ میں ایک پیاسے سفر کے بعد کسی سایہ دار درخت تلے کھڑا ہوں، جس کی پناہ میں آسودگی تھی۔ اس کے قریب پہنچ کر مجھےساحل سے ٹکراتی موجوں کو چھونے کا احساس ہوا۔
جب ہم ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے، ہمارے سائے ہر پل قریب آتے ہوئے ایک دوسرے میں گم ہوگئے، مجھے احساس ہوا کہ کسی نے میرے لئے زندگی کا بند دروازہ کھول دیا ہو، یہ خواب نہیں تھا ، میں آج بھی خود کو، اسی خوشبو میں بسا محسوس کر رہا ہوں، جس بارش میں ہم دیر تک بھیگتے رہے تھے اس کی میٹھاس میرے ہونٹوں پر تازہ ہے۔
ہم ایک دوسرے کے لئے کیا تھے، رفتہ رفتہ جسموں کے بندھوں سے آزاد ہوتے ہوئے، ہم حیرت زدہ تھے اور اس انکشاف سے گزررہے تھے کہ محبت کے لمس کا سفر ، زندگی کے اجالے کو چھوتا ہوا منزل تک پہنچ گیا ہے۔
بہت سے چہروں میں گم وہ ایک چہرہ تھا ،
جسے میں آج اپنا چہرہ کہتا ہوں !