صرف تمہارے لئے

اس کی خواہشیں معصوم تھیں، اسے آسمانوں کی وسعت کا کبھی احساس نہ تھا، صبح کی روشنی نے پہلی بار اسے چھوا تو اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی بارش ہونے لگی۔
زندگی اتنی خوبصورت تو نہ تھی ۔۔ اس کی روح بار بار کچلی گئی تھی، اس کی خواب دیکھنے والی آنکھوں کے آگے سنگلاخ دیواریں چن دی گئی تھیں ۔ اور تنہائی، اس کی روح میں ہمیشہ کے لئے بس گئی تھی۔کوئی خواب نہ تھا، جس سے وہ اپنے دل کی بات کہہ سکتی، (مگر کیا اس کا دل ڈھرکتا بھی تھا؟) اس نے کبھی ایسا محسوس نہیں کیا ۔ مگر انجانی خواہشیں اس کے اندر گھر کر چکی تھیں۔ رات کو اپنے آس پاس ہمیشہ اس نے کسی کی آہٹ کو محسوس کیا۔ وہ کون تھا؟ اس جستجو کی اسے آگہی نہ تھی۔ بس دل کسی احساس سے بوچھل تھا۔ دن اور رات کے بے معنی آ نے اور جانے کو وہ کیونکر زندگی کہہ سکتی تھی۔ مگر دل کے اندھیرے میں ہمیشہ محسوس رہنے والا احساس اب ایک روشنی میں بدل رہا تھا۔ اس کی خواہشیں معصوم تھیں۔ اس نے جب اس روشنی کا ہاتھ تھاما تو پہلی بار اپنے خالی دل کو بھرا ہوا پایا۔ اس کے خدو خال کتنے مانوس تھے، مگر تصویر اب بھی واضح نہ تھی۔ کوئی اس میں اپنے رنگ بھر رہا تھا۔
تب اس کی خواہشوں نے سمندر دیکھنے کی خواہش کی، کیا اس کی ان دیکھی محبت ، سمندروں سے بھی بڑی ہے اور جہاں دو کنارے ملتے ہیں، کیا اس کی زندگی میں بھی ایک ایسا پوشیدہ کنارہ ہے، جسے کسی نے نہ چھوا ہو، اور جہاں ہمیشہ سفر میں رھنے والے مسافر اپنی منزل تما م کرتے ہیں۔
اس کی معصوم خواہشوں کو آج کئی سوال درپیش ہیں۔ کیونکہ تصویر کے رنگ ابھی ادھورے ہیں اور وہ چہرہ جو ہر پل اس کی ڈھرکنو ں کے ساتھ تھا اپنی شکل ادھوری چھوڑ گیا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *