تم سے گفتکو

ہم جس تناؤ سے گزر رہے ہیں، اس کے ختم ہوجانے کےامکانات معدوم ہوچکے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث ساری فضا گدلاتی جارہی ہے۔ میں تمہیں اس کا ذمے دار نہیں سمجھتا۔ بہت سے واقعات عالم بالا سے یوں ظہور پذیر ہوتے ہیں کہ اگر ہم ان کے اسباب کو سمجھنا چاہیں تو شاید کچھ بھی نہ جان سکیں۔
عورت کی زندگی بالخصوص ان تمام تجربات کی گہری چھاپ ہوتی ہے جن سے وہ گزر رہی ہوتی ہے۔ مرد کے حوالے سے عورت اپنے وجود میں بہت خواب بنتی ہے، بہت سے موسموں کے پھولوں اورپھلوں کو سنبھل کر رکھتی ہے۔ آنے والے وقت کے اسرار و رموز کی بازیافت ہی اس کی زندگی کا بہت بڑا حوالہ ہوتی ہے۔
تم نے بھی یقینا وقت کے کتنے بڑے عرصے پر محیط، ان خوابوں کو دیکھا ہوگا۔ اپنے بدن کی خوبصورتی اور دل کی بے چینی کو کن کن پیرہنوں میں سمویا ہو گا۔ اور جب وہ مرد ان سارے ان کہے جذبوں اور خوابوں کو چھونے کے لئے آگے بڑھا ہوگا تو تم نے کس طرح اور کن جذبوں کی پرکھ پر اپنے سارے وجود کو سمیٹ کر دسترخوان کی صورت اس کے سامنے بچھا دیا ہوگا۔
مگر یہ تمہاری بد قسمتی تھی کہ اس لمحے کی کوکھ سے پیدا ہونے والا اعتبار جو دو جسموں کو ایک کردیتا ہے تو تم طوفان میں گھر گئیں۔ تمہارا وہ دکھ آ ج بھی ، جلتے ہوئے شعلے کی طرح ، میرے دل کو جلا رہا ہے۔ میں نے سوچا تھا میری محبت تم پر سے گزرے ہوئے طوفانون کے بعد باقی رہ جانے والے تباہ کاریوں کی ازسر نو تعمیر کرے گی۔ مگر تم تنہا تھیں، خلا کی طرف تکتی تمہاری آنکھیں خالی تھیں۔ میں نے تمہیں چھو کر جگا دینا چاھا تھا مگر آج یوں لگ رہا ہے کہ تم تو پتھر تھیں اور میرے ساری عبادتیں جو تمہیں دوبارہ زندگی کے مثبت چہرے سے جوڑنے کے لئے تھیں، رائگاں گئیں۔
وقت کے اس لمحے جب تاریکی ہمیں چھو کر مٹاتی جارہی ہے اور ہم اپنی شناخت کھوتے جارہے ہیں، کیا اب ہم نہیں سوچ رہے کہ ہمیں اس ساری صورت حال کی کتنی بھاری قیمت چکانی پڑے گی، میں نہیں چاہتا کہ ہماری زندگی کے آخری باب میں خسارہ ہی خسارہ لکھا جائے۔ اس لئے مردہ دل ہوجانے کے باوجود میرے چہرے پر زندگی کی روشنی اور لفظوں میں محبت کی خوشبو باقی رہ گئی ہے۔ میں چاھتا ہوں کہ محبت بھرے طلسمی ہاتھوں سے تمہیں چھو کر خود سے قریب کرلوں تاکہ وہ موسم اور خواب جو گزری بہاروں میں کچلے گئے تھے ، وہ حیات نو سے معمور ہو جائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *