فوزیہ قصوری کی تحریک انصاف سے علیحدگی ۔۔ ایک لمحہ فکریہ

تحریک انصاف سے میر ی وابستگی ” نئے پاکستان” کے حوالے سے استوار ہوئی، آج نئے پاکستان کا تصور لوگوں کے دلوں میں رچ بس گیا ہے، میرے خیال میں تحریک انصاف کی منزل نیا پاکستان ہے۔

لوگ الیکشن 2013 کے نتائج سے دل برداشتہ نہیں ہوئے ہیں، ان کے حوصلے بلند ہیں اور وہ منزل کی طرف گامزن ہیں ، انہیں معلوم ہے کہ منزل تک پہچنے کے لئے ابھی بہت مسافت طے کرنا باقی ہے۔ 

تحریک انصاف نے اپنی 17 سالہ جدوجہد کے ذریعے لوگوں کی عمومی رائے کو متاثر کیا، خصوصا” ملک کا وہ نوجوان طبقہ جو پہلی بار ووٹ کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کررہا تھا ، انہوں نے عمران خان کی تبدیلی کی آواز پر لبیک کہا اور لوگوں کا ہجوم پر عزم کارواں کی صورت اختیار کر گیا۔

اس سارے عمل میں ، احتیاط کے تمام تر لوازمات کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا جو کہ وقت کا اہم تقاضہ تھا ، لوگوں کی بھیڑ کے لئے کارواں کے دروازے کھول دئے گئے ، دل صاف تھے ، اور ایک ہی نعرہ گونج رہا تھا کہ تبدیلی کے لئے ووٹ دیں۔ مگراس بات کا خیال نہیں رکھا گیا کہ ایک مچھلی سارے تالاب کا پانی گندا کرسکتی ہے۔

فوزیہ قصوری کی تحریک انصاف سے علیحدگی کو لوگ اہمیت دے رہے ہیں اور یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ، اس سے پہلے ڈاکٹر شیریں مزاری بھی اس سارے عمل سے گزر چکی ہیں۔ فوزیہ قصوری کی تحریک انصاف سے علیحدگی ، جسم سے اعضا کو الگ کردینے کے مترادف ہوگی، اور ان کا یہ عمل لوگوں کی رائے کو متاثر کرسکتا ہے۔

میری دعا ہے کہ تحریک انصاف ، نئے پاکستان کی منزل تک ضرور پہنچے ، مگر ا س کے لئے ضرور ی ہے کہ تحریک کے بنیادی اجزا ایک دوسرے سے مربوط رہیں۔

سانحہ لاہور

کوئی تو قدم آگے بڑھائے!

قوم ہر طرح کی قربانی دینے کے لئے تیار ہے، مگر کوئی تو قدم آگے  بڑھائے!

حکیم الامت ڈاکڑ محمد اقبال  کے 136 ویں  سالگرہ کے مواقع پر  مجھے  ان کا، پاکستان کی تخلیق سے تعبر کیا  گیا   خواب یاد آرہاہے  ۔

فکر و فلسفہ کے نمائیدہ  اس عظیم شاعر مشرق نے   اپنےواجدان سے ایک ایسی اسلامی تشخص  پر مبنی  ریاست کا تصور پیش کیا ، جیسے لاکھوں جانوں کی قربانی دے کر حاصل کیا گیا ، آگ و خون کے راستے گزرتے ہوئے  انسانوں کی سب سے بڑی ھجرت    ، وطن  پاک پہنچی۔ مہاجرین اور انصار کے درمیان قیام ہونے والے رشتے نے ،  چودہ سو سال پہلے  ہونی والی ہجرت مدینہ کی یاد تازہ کردی۔

لوگوں  نے، عزم و ہمت کے وہ جوہر دیکھائے کہ قوم جلد ہی  ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوگئی۔

وقت سفر کرتا رہا ۔۔۔۔ پاکستان کے ساتھ آزاد ہونے والی حکومیتں  ترقی کا سفر کرتی رہیں ، مگر   ہم اپنے اثاثے کھوتے چلے گئے ، عظیم قومی رہنماؤں  ڈاکڑ محمد اقبال ، بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی رحلت  اور لیاقت علی خان کی  شہادت کے بعد ، ایسا لگتا تھ ا کہ  قوم بے سمتی کا شکار ہوگئی ہے،

اب انہیں خواب غلفت سے جگانے والا کوئی نہیں !

پھر   ملک کے جمہوری نظام کی بساط کو لپیٹ دیا گیا،  ایک ایسی حکمرانی  کا دور آیا ، جب  ہونٹوں کو خاموش رہنے کا حکم دے دیا گیا،  ایسی سنگلاخ دیواریں تعمیر کردی گئی کہ لوگوں کے کانوں تک کوئی چیخ نہیں  پہنچ سکے ، وقت چلتا رہا ، مگر آسمانوں پر سے  چمکنے والے تاروں کو  اتار لیا گیا، فضا میں تیرتے پرندوں کے  گیتوں کو پیروں تلے روندا گیا۔انسانیت کو بے آبرو کر کے، اس کے روشن چہرے پر کالک  مل دی گئی،   وقت چلتا رہا ،اس دوران  ملک کا ایک بازو ہم سے الگ ہو گیا ، وقت چلتا رہا  ،  اس اندھیرے میں  ایک بار پھر  سیاست کا  دروازہ کھلا ، مگر روشنی  اندر داخل نہیں ہوئی،  انکھوں  میں اندھیرے تیر تے رہے،  اور  سیاست ، ملکی سے زیادہ ، ذاتی مفادات سے وابستہ رہی،  ملکی مفادات کو  بیرونی قرضوں کے عوض  گروی رکھ دیا گیا۔   وزارتوں کے زیر نگرانی چلنے وال ادارے اور اثاثے   تباہ و برباد ہوتے چلے گئے ، مگر کوئی بھی اس کی  ذمہ داری قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔

آج وقت ایک بار پھر رک سا گیا ہے ،  قوم ایک بار پھر ، اس بات کی منتظر ہے کہ   حکیم الامت ڈاکڑ محمد اقبال    کے فکر و فلسفہ  کا احیا ء کیا جائے ، ان کی شاعری میں بیان کردہ  پیغام کی اصل روح تک پہنچا جائے ،قوم کی ترقی کی راہ میں حائل تما م رکاوٹوں  کو دور کیا جائے ، چاہے  ہمیں کتنی ہی بڑی قربابی کیوں نہ دینی پڑے،

 قوم ہر طرح کی قربانی دینے کے لئے تیار ہے، مگر کوئی تو قدم آگے  بڑھائے!

یہ کہانی کون لکھ رہاہے!

گذشتہ دس روز میں 100 افراد کی ہلاکت، اس شہر کراچی کا المیہ ہے، جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا ،ملک کی معاشی ترقی کا دروازہ اور محبت کی کہانی کا روشن باب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہونے کے باعث تمام لوگوں کے لئے منی پاکستان کی حیثیت رکھتا تھا، مگر آج اندھیرے میں ڈوبے اس شہر کے لوگ ماتم کناں ہیں۔ مسجدوں سے بلند ہونے والی آوازوں پر، گولیوں کی بوچھاڑ حاوی ہوتی جارہی ہے۔ درختوں پر بیسرا کرنے والے پرندے، اجنبی چہروں کے خوف سے ،اپنے گھونسلوں سے کبھی کا اڑ چکے ہیں، ویرانیوں نے دلوں میں گھر کرلیا ہے ، گھروں کے باہر جوانوں کے لاشے پڑے ہیں، ماؤں کی سفید چادروں نے کفن کی صورت انہیں پناہ دے رکھی ہے، ظلم کی یہ رات بہت لمبی ہے ، روتی ہوئی آوازیں ہر گھر کا دروازہ کھٹکٹا رہی ہیں، مگر اس کہانی کے لکھنے والے ہاتھوں کو ابھی اپنی بھوک مٹانے کے لئے ، بہت سی لاشوں ، آہوں اور سسکیوں کی ضرورت ہے۔

اس شہر کے ہر موڑ پر جلتے ہوئے چراغوں کو بجھانے لئے ، کتنے ہی نقاب پوش ، اپنی سیاہ چادروں میں بارود کی بارش چھپائے کھڑے ہیں۔

 
 

اب بس بہت ہو چکا ۔۔۔۔

اب بس بہت ہو چکا ۔۔۔۔
سجدہ گاہ کو لہولہاں کر دیا گیا
مسجد کی درودیوار پر
میرا جسم لہو کی صورت چسپاں ہے
فرش پر سجدہ ریز لاشیں ہی لاشیں ہیں
اور اسکولوں کی دیواروں کو پھلانگ کر آنے والے پردیسووں نے
معصوم بچوں کو قطاروں میں کھڑا کردیاہے
ان کے معصوم جسموں سے بہتا لہو
فرش پردریا کی صورت بہہ رہا ہے
اوران کےبیچ معصوم زندگیوں کی فریاد کرتی استانی کا شعلہ زدہ جسم
گیلی لکڑی کی طرح سلگ رہا ہے
خوف اور دہشت زدہ طالبعلوں کو ایک نیا سبق سیکھانے کےبعد
ان کی کتابوںسے معصوم زندگیوں کے سارے اگلےباب پھاڑ دیئے گئے
اب ہر طرف ، خون آلودہ جوتے، کتابیں اور قلم و دوات پڑی ہیں
ایک خاموش فضا دم توڑ رہی ہے
جن کی آخری سانسوںمیں خون کی بو رچی بسی ہے
ہماری فوج پربھی شب خوں مارا گیا
وہ ہمیشہ ان راستوں کےداخل ہوتے ہیں
جن پر صرف ہمارے دوست دستک دیتے ہیں
اعتماد اور اعتقاد کا خون ہو تا رہا
اب بس بہت ہو چکا ۔۔۔۔
حملہ آواروں کے باریش چہرے
کلمہ پڑتی آوازیں ۔۔۔۔۔۔۔ دھوکا ہیں
وہ ہم میں سے نہیں ہو سکتے
ٹوٹے ہوئےآئینوں پر
ان کےاصل چہرے نقش ہیں
ہم نے ان ابلیسی چہروں کو پہچان لیا ہے
جو ہمیں خاک میں ملا دینا چاہتے ہیں
اور ان کی طاقت ہیں
ہمارے جیسےبے نام اور خاموش لوگ
اوران کی آوازوں میں شامل ہیں
ہمارے جھوٹے سیاستدانوں اور نام نہاد علما کے کھوکھلے نعرے
اور ان کی آنکھوں میں چھپی ہے ، دولت کی ہوس،
ہمارے اپنے گمراہ لوگ ۔۔۔۔
بازاروں میں چلتے پھرتے خوش نما چہروں اور نغموں کو شکار کر رہے ہیں
اس قوم کے وطن فروش ، لوگوں کے ہجوم میں چھپے ہوئے ہیں
مگر ان کی ابلیسی چہرے جلد بےنقاب ہوجائیں گے
کہ اب ہمیں اپنی نہیں ۔۔۔
ان ظالموں کی سربریدہ لاشیوں کے ڈھڑہچاہیے ہیں
تاکہ ہمارا وطن ہمیشہ کے لئے آزاد ہو جائے

اکمل نوید
http://www.anwer7star.com/