Category Archives: سیاسی اور معاشرتی کالم

ایک ملاقات

2 اپریل 2013، گلشنِ اقبال ٹاؤن، کراچی یونیورسٹی کے گیٹ نمبر 3 (مسکن) کے باہر جناب جاذب قریشی سے ہونے والی ملاقات میرے لئے ایک اہم درجہ رکھتی ہے۔

کافی عرصہ گزر گیا کہ میں جناب جاذب قریشی سے نہیں مل پایا، تب ایک روز ،یکم اپریل 2013 کو ان کا فون آیا، ان کے لہجے پر تھکن غالب تھی، مگر اس کے باوجود گفتگو کے دوران، مجھے تازیگی کا احساس بار بار چھوتا رہا ، ایسا لگا کہ وہ اپنی حیران کردینے والی طلسمی آنکھوں سے مجھے دیکھ رہے ہیں اوران کا لگایا ہوا “شیشے کا درخت” مجھ پر سایہ فگن ہے۔

یہاں میں اس بات کی وضاحت کرنا چاہوں گا کہ میری جاذب قریشی صاحب سے کوئی ذاتی واقفیت نہیں تھی، مگر ایک اتفاقی ملاقات میں، اپنی کچھ نثری نظمیوں پر ان سےتبادلہ خیال ہوا، ان نظموں کو سننے کے بعد انہوں نے کہا کہ تم میں شاعری کے روشن امکانات پوشیدہ ہیں ، تم انہیں ضرور تلاش کرو ۔۔۔ اس پہلی ملاقات کے بعد ۔۔۔ ہمارے درمیان ایک رشتہ استوار ہو تا چلا گیا۔ ان کی پہلی کتاب “پہچان” اور دوسرا شعری مجموعہ ” شناسائی” آج میرے لئے ان سے تعلق کا گہرا استعارہ بن چکے ہیں۔ایک استاد کی صورت وہ میرے لئے شاعری کا دبستان ہیں۔

میرا شخصی نام محمد انور ہے ، مگر انہوں نے میری شاعری اور اظہار کی مختلف جہتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے، مجھے میرا شعری نام “اکمل نوید” عطا کیا۔ آج یہ نام میری منفرد پہچان بن چکا ہے، شاعری ، دو دنیاؤں کے درمیا ن ایک طویل سفر ہے، اس سارے سفر میں جناب جاذب قریشی کی رفاقت ایسی کلید کی طرح ہے، جس نے میرے لئے دریافت کے تمام دروازے کھول دئیے ہیں۔ میرے پہلے شعری مجموعہ کا نام انہوں نے” دوسرے کنارے پر “ رکھا ، وہ مجھ سےزیادہ میری ذات کا ادراک رکھتے ہیں۔

اس ملاقات کو جسے میں اپنی زندہ یادوں کا اہم حصہ قرار دے رہاہوں، اپنی طبعت کی شدید ناسازی کے باوجود، جاذب صاحب نے ایک بار پھر ، اپنی اس بات کا اعادہ کیا کہ میں اپنے شعری امکانات کودریافت کروں، اپنی کچھ نئی تخلیقی کتابیں انہوں نے ، مجھے بڑی محبت کے ساتھ عنایت کیں ، کچھ دیر کے سکوت کے بعد ، انہوں نے کہا کہ وہ کل کڈنی سنٹر میں علاج کے لئے داخل ہورہے ہیں، انہوں نے بڑے یقین کے ساتھ کہا کہ جلد صحتیابی کے بعد ، وہ میری نثری نظموں کتاب “دوسرے کنارے پر” کی تقریب رونمائی کریں گے۔

میں حیرت زدہ ہوں ۔۔۔ آج کے بے رحم معاشرے کا ہرفرد ، صرف اپنی ذات کی آبیاری کو مقدم رکھتا ہے، یہ کونسا رشتہ ہے، اور کس پل سے جڑا ہے کہ گزرنے والا ہر وقت” نیند کا ریشم”بن کر، اسے برباد کرنے کے بجائے آباد کررہا ہے، اندھرے کے سینے میں روشنی کی صلیب اتارنے والےجاذب قریشی، کل کےروشن دن کی خواہش میں ، سورج کو زمین میں بو رہے ہیں- وہ اپنے ہمراہ پرندوں کی “اجلی آوازیں” اور نئے استعاروںکا چہرہ لئے ، ایک نئی زمین کا خواب ،آسمان سے زمین پر اتارے کے لئے، سیاہ آندھیوں اور بگولوں میں سے گزر رہے ہیں۔

میری ان سے محبت ، اتنی زیادہ اہم نہیں ، بلکہ بہت ہی کمتر ہے، مگر ان کا چہرہ اور بولتی آنکھیں آج میری “پہچان” بن چکی ہیں، وہ مجھے “شناسائی” کی پرکھ عطا کررہی ہیں، ان کا یہ ہنر بہت ہی اہم اور معتبر ہے جو میرے “شکستہ عکس“ کو اپنی “تخلیقی آواز” سے ہم آھنگ کر رہے ہیں

میرے ہونٹ اور دل کی ہر ڈھرکن، ایک دعا کی صورت ،خدا کی طرف محو سفر ہیں،

اے میرے اللہ ، ان معتبر اور سچے لوگوں کا اعتبار ہمارے درمیا ن سدا قائم رکھ

(امید ہے کہ میری اس دعا میں ، آپ بھی میرے ساتھ ہی

معذرت کے ساتھ

اسلام ، کفروجہالت کے مقابل ایک ایسی روشنی کا ظہور ہے ، جس نے انسان کے ذہن و دل کو منور کیا۔ ہمارا مذہب غور و فکر کی دعوت دیتا ہے ، جو علم کے راستہ میں حق و صداقت کا ابتدائی زینہ ہے۔

مسلمان سائنسدانو ں نے علم کے اس راستے کی درست راہیں متعین کیں ، ایسے اصول واضع کیے ، جس نے انسانی زندگی کو آسان اور علم کو اس کی قدر سے مشروط کر دیا۔

مگر آج علم کا ہر راستہ اور سائنسی واضح داری کا فروغ مسلمانوں ں کے ذہنوں پر خود فراموشی کے تالے لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔اس کے بعد کی تاریخ ایسےسیاہ واقعات سے بھری ہوئی ہے، جب مسلمانوں کے عظیم الشان شہر وں کو تاراج کیا گیا ، انسانی کھوپیڑیوں سے بلندو بالا مینار بنائے گئے ، کتب خانوں کو آگ لگادی گئی اور ان میں موجود بیش قمیت کتابوں کی جلی ہوئی راکھ سے دریاوں کا پانی سیاہ ہو گیا۔

مسلمان ٹوٹی ہوئی تسبح کے دانوں کی ظرح بکھیر دیئے گئے، مشرق ومغرب تک پھیلی عظیم الشان اسلامی مملکت کو ٹکروں میں بانٹ کر ان کی افرادی اور انقلابی قوت کو کمزور کر دیا گیا۔ انسانی حقوق کے لئے بلند کی گئی آواز کی آڑ میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف منفی پر چار کیا گیا۔

کفرو اسلام کی جنگ آج بھی جاری ہے ، مگر ہمارے ھتیار ہمارے ہی خلا ف صف آرا ہیں۔ مسلمانوں کی مساجد پر ، خود مسلمان حملہ آوار ہیں۔ یہ کیسا علم ہے کہ اس کی روشنی ، جس نے غار حرا سے اپنا سفر شروع کیا اور پوری دنیا کو منور کر دیا ، اس کی آگہی ہمیں اپنے دشمنوں کو شناخت نہیں کرنے دیتی، شاید ہم علم کے راستے سے بھٹک گئے ہیں ، مگر ہمارا دین جو اپنی وحدت میں مکمل علم ہے ، تو پھر اپنے دین کی پاسداری کیوں ہم پر کیوں لازم نہیں؟

عقل و فہم کی کسوٹی پر کھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہمارا وطن عزیز ، کسی کو بھی عزیزنہیں ، ملک میں لسانیت اور عصبیت کو فروغ دیا جارہا ہے ، قومی سانحات و واقعات پر کوئی بھی غوروفکر کا قائل نہیں ۔ ملک کیسے دولخت ہوا ، اس کے پیچھے کو ن سے عوامل تھے، اس بربادی میں کن لوگوں کا مفادہ پوشیدہ تھا ، او ر اس تقیسم سے کن طاقتوں کو فائدہ حاصل ہوا۔ اسلام کے نام پر قیام ہونے والی ریاست کی حفاظت کیوں کر نظر انداز کی گئی، کیا وہی لوگ اور عوامل ہمارے درمیان آج بھی موجود ہیں، اور ملک کی مزید تقسیم کے فارمولے پر عمل کر رہے ہوں، ہماری سیاسی جماعیتوں نے کھوکھلے نعروں کے سوا کچھ نہیں د یا، جس کے باعث آج قوم کا سفر ترقی کی جانب نہیں تیزلی کی طرف گامزن ہے۔ ایک بار پھر اس امر کی ضرورت ہے کہ ایک ایسی قوم کی تشکیل کی جائے، جو اپنے قردار مقاصد سے آگاہ ہو۔

آج قوم ہم سے بے شمار سوالوں کے جواب چاھتی ہے، مگر ہم کون ہیں ؟ یہ سوال سب سے اہم ہے۔ معاشرہ افراد کی جن اکائیوں سے مل کر وجود پاتا ہے۔ اس کا ہر کرادر آج خود سے سوال کر رہا ہے کہ میں کو ن ہوں؟

ایک عالم دین ؟ کیا وہ دین کا صیح ادارک و فہم رکھتا ہے اور درست سمت کی رھنمائی کر سکتا ہے!

ایک معلم ؟ کیا وہ اپنے فرائض کی اہمت سے آگاہ ہے، کہ کس طرح ایک قوم سیسہ پلائی دیورا بنتی ہے !

غرض ایک سیاست داں ، ایک سپاہی ، ایک طبیب ، ایک منضف بھی اپنے پیشے سے وابستہ امور کی ادائیگی میں ، انضاف کے پیمانے پر پورا اترتا ہے۔ ان سب سوالوں کے جواب میں ایک بہت بڑا انکار ، ہمار ے سفر کی کامیابیوں کے راستے پر کھڑا ہے۔

غفلت اور جہالت کی گہری نیند میں سوئی ہوئی اس قوم کے ملک میں ، سیاسی جماعتیں ، سیاسی خاندانوں کی اجارادرای کی علامت بن گیئں ہیں، مذہبی جماعیتں اپنے مرکز سے بھٹک گیئں ہیں، عوامی خدمت سے شرسار کوئی نہیں ، قوی اداروں کو ، حکمرانوں کے دوست و احباب تباہ کررہے ہیں۔ بدعنوان افراد ،سرفرازی کے نشانات سے نوازے گئے ہیں۔

اس پش منظر میں ایک حالیہ واقعہ “توہین رسالتؐؐ و عظمت رسول ؐ ” کے نام پر سیاسی ،مذہبی جماعتوں اور حکومت کی طرف سے اعلان کردہ یوم احتجاج ہماری آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے ، لوگوں کے بے ہنگم احتجاجی ہجوم نے اس دن قومی اثآثوں کو پامال کیا لوگوں کی قیمتی املاک کو لوٹ لیا اور بے گناہ انسانی جانوں کو تلف کیا ، کیا احتجاج کر نے والے ان لوگوں کو ہم امت رسو ل قرار د ے سکتے ہیں۔ یہ سوا ل بہت اہمیت کا حامل ہے کہ کس طرح ان احتجاج کرنے والوں ، دھشت گرد، لٹرے، اور قاتل شامل ہوگئے، جنہوں نے تباھی اور خون کی ہولی کھیل کر ، ہمارے چہروں کو داغ دار کردیا۔

توہن رسالت ؐ کے واقعے سے جڑے یوٹیوب چینل کو ملک میں بند کر دیا گیا۔ اس ملک میں جہاں تعلیمی نظام پہلے ہی کھوکھلا ہو چکاہے ، حکومت کا یہ اقدام کہ وہ علمی اور سفارتی کوششو ں سے مذکورہ ویڈیو کلپ پر پابندی لگاتی جیسے دیگر مسلم ممالک نے کیا ِ یوٹیوب چینل پر بندش عائد کر دی۔ اس امر سے تعلیمی میدان سے وابستہ افراد خصوصا تحقیق اور دریافت سے وابستہ لوگ بری طرح متاثر ہیں۔ ضرروت اس بات کی ہے ہم اپنی ترجیحات کا درست تعین کریں۔ گزرتے وقت کے ساتھ ، درست فیصلے ہی قومی ترقی و تعمیر کے لئے ضروری ہیں۔

اکمل نوید

میرا ووٹ “نئے پاکستان ” کے لئے ہے

پاکستان کی قومی تاریخ میں، عوام کو آزادانہ انتخابات کے مواقع بہت کم میسر آئے ہیں، ملک کی گذشتہ 65 سالہ تاریخ کے بہت بڑے حصے کو، فوجی آمریت کے تاریک سائے نے گھیرا ہوا ہے۔ جمہوری حکومتیں، کرکٹ کے کھلاڑیوں کی طرح کبھی کلین بولڈ کردی گئیں یا پھر میچ فکسنگ کی طرح ان کے اختتام کا تعین کرلیا گیا۔ اس تمام عرصے میں عوام کی زندگی ، جمہوری ثمرات سے محروم رہی۔ روٹی ، کپڑا اور مکان جیسے انقلابی نعرے، خوبصورت سلوگن ثابت ہوئے اورعوام کی کثیر تعداد، غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوگئی، جہاں ان کے سروں پر کوئی سائبان نہیں، تپتی زمین پر ننگے پاؤں چلنے والی اس عوام کے لئے زندگی کو بسر کرنا ، غذاب بنتا جا رہاہے۔ملک کی گرتی ہوئی معیشت، بے روزگاری ، ناانصافی اور طبقاتی تقسیم سے ستائی ہوئی عوام نے اخلاقی اقدار کے بوجھ کو اتار دیا اور مادر پدر آزاد ہوگئے، پڑھے لکھے نوجوانوں کی اکثریت، جرائم کی طرف مائل ہوگئی،اسٹریٹ کرائم کی شرح میں بے پناہ اضافے اور فروغ پاتی مجرمانہ ذہنیت کےباعث ، ایک کھوکھلا پن ہماری زندگیوں میں شامل ہوگیا ہے۔ کمزور اور ناتواں لوگ، اجتماعی خودکشیوں کو زندگی پر ترجیح دے رہے ہیں، جہاں زہر کی ایک پڑیا ، گھر کے تمام افرادکو گہری نیند سلا کر، انہیں ہر طرح کے مصائب سے آزاد کردیتی ہے۔

آمریت کی گود میں پلنے والے ، سیاسی لیڈراں اپنی خود ساختہ جلاوطنی اور اپنے خلاف کرپشن کے الزمات کو سیاسی انتقام قرار دے کر ، اقتدار کی سیڑھی چڑھنا چاھتے ہیں۔ جمہوری عمل کو ان سیاست دانوں نے اقتدار کے حصول کا کھیل بنا دیا ہے۔ ان پر حیوانیت طاری ہے اور زمین پر بے گناہ انسانوں کا خون بہایا جا رہے، سیاسی لیڈراں اقتدار کو عوام کی خدمت کے لئے نہیں، بلکہ طاقت اور اپنی انا کی تسکین کے لئے حاصل کرنا چاھتے ہیں۔تاکہ ان کا یہ اقتدار، انہیں ، ان کے خاندان اور دوستوں کو بلندی کی طرف لے جائے گا۔ چاھے اس کی قیمت ، ملک کو دولخت کرکے ادا کی جائے۔

ان تناضر میں ، گیارہ مئی 2013
کو اپنے ووٹ کے استعمال سے قبل میں سوچ رہا ہوں کہ میرا ووٹ کس کے لئے ہے؟

کیا میرا ووٹ کے حق کو استعمال کرنا ملک میں تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اور اگر اس بات پر میرا
پختہ یقین ہے تو پھر میں کیوں، اپنا ووٹ اقتدار کی میوزیکل چیئر میں شامل افراد کو دوں، جنہوں نے آج تک اپنے منشور پر عمل دارامد نہیں کیا، وہ چہرے بدل بدل کر مسند اقتدار پر فائز ہوجاتے ہیں، اور پھر اگلے آنے والے الیکشن تک ان کا رابطہ اپنی بے وقوف عوام سے منقطع ہوجاتا ہے۔

کیا میرا ووٹ ان لیڈران کے لئے ہے جنہوں نے ہمیشہ ملکی مفادات پر اپنے ذاتی مفادات کو ترجیع دی ، اور عوام کے دکھ سکھ سے بے بہرہ ہو کر اقتدار کے محلوں میں خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہوتے ہیں۔

نہیں

میرا ووٹ ، عالیشان پاکستان کے لئے ہے، اس کے بہتے دریاوں، لہلاتے سرسبز کھیتوں ، اونچے پہاڑوں اور صحراوں کے لئے ہے

اجالوں اور رقص کرتے رنگوں، گہنگناتی ہواؤں کے لئے ہے

مختلف بولیوں، زندگی بھرےقصے، کہانیوں کے لئے ہے

میرا ووٹ “نئے پاکستان ” کے لئے ہے

اس تبدیلی کے لئے ہے جو حبس میں جکڑے دن کو آزاد کردے!

قاہرہ کے تحریر اسکوئر سے لیاری کے چیل چوک تک

تیز تر سائنسی ایجادات خاص طور پر انٹرنینٹ کے وسیع تر پھیلاؤ کے باعث گوبل ویلیج کا تصور تیزی سے فروع پا رہا ہے۔ دنیا بھر میں نئے نظریا ت کے اجر اء کا سفر بھی جاری ہے۔ بادشاہت اور جبر سے قائم حکومیتں لوگوں کے اجتماعی سیلاب میں بہتی جارہی ہیں۔حالیہ دنوں میں اٹھنے والے عوامی انقلاب مصر ، لیبیا، یمن، بحرین سے ہوتے ہوئے شمالی افریقہ اور مشرق وسطی کے کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ تیونس اور مصر میں تو حکومت نے مسلسل عوامی دباؤ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے عدم تعاون کے باعث اقتدر چھوڑ دیا لیکن باقی ممالک میں حکمران ملکی افواج کی مدد سے احتجاج روکنے اور بغاوتیں فرو کروانے میں مصروف ہیں۔ جبکہ کچھ ممالک نے عوامی رجحانات دیکھ کر بڑے اقتصادی پیکجز کا اعلان کیا ہے جن میں سعودی عرب سر فہرست ہے۔

دنیا کے وسیع تر کنیوئس سے ہم پاکستا ن کی طرف آئیں تو ہمیں یہاں ایک گہری گھٹن کا احساس ہوتا ہے ، پاکستان جہاں جمہوریت نے خود اپنی عوام کو گہرے زخم دئے ہیں ، لوگ روزگار سے محروم ہیں ، جسکے باعث نوجوانوں کا رخ جرائم کی دنیا کی طرف ہو گیا ہے، اخلاقیات سے مارواء ایک ایسی نسل کی آبیاری کی جاری ہے، جو معاشرتی اور مذہبی شعور سے نابلد ہے۔ سب سے گھناؤنا کردار ملک کے سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کا ہے، جن کے دو چہرے والے نظریا ت نے نظریہ ضرورت کی یاد تازہ کردی ہے، لوگ تعلیم ، صحت اور روزگار جیسی بنیادی ضروریا ت سے محروم ہیں، توانائی کے ذرایع کی عدم دستیابی کے باعث صنعتوں کی بند ش نے زندگی کی محرومیوں میں انگنت اضافہ کر دیا ہے۔کرپشن اور لاقانونیت کے بڑھتے ہوئے اندھیروں نے کثیر آبادیوں کو اپنے گھرے میں لے لیا ہے۔ ناگہبان آنکھوں سے دور نئی نسل جرائم کی گود میں پروان چڑھ رہی ہے، خواتیں کے خلاف جنسی جرائم میں بے پناہ اضافے نے معاشرے کی خوبصورتی کو مسخ کردیا ہے۔ بد کرداری کے فروغ نے ، غیر اخلاقیات کو تیزی سے فروع دیا ۔ روشنیوں سے چمکتا ہمارا شہر ایک برباد شہر کی داستان بن گیا ہے۔

لیاری کے چیل چوک میں لڑی جانے والی جنگ ، صرف منشیات فروشوں اور دہشت گردوں کے خلاف نہیں ، بلکہ اس کے کئی اسباب دیگر بھی ہیں جو غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں، قانوں نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف نبرد آزما طاقتوں کا کہنا ہے کہ انہیں یہ جدید تر ہتھیار ایک سیاسی جماعت نے دوسری سیاسی جماعت کے خلاف استعمال کے لئے دئے تھے ، اور اس آپریشن کا مقصد کہانی کے ان کردار کو ہمیشہ کے لئےخاموش کردینا ہے ،

لیاری کے چیل چوک میں فتح کس کو ہوگی ؟

یہ ایک سوال ہے جس کا ابھی کوئی جواب نہیں کیونکہ برائی کے خلاف لڑنے والوں کے چہروں پر خود بے شمار سوالات لکھے ہ

ایک اور المناک حادثہ

ہماری روزمرہ زندگی چاہئے وہ ملکی معاملات ہوں یا بھر سیاسی شعبدہ بازی، حادثات ہمارا تعاقب کررہے ہوتے ہیں۔ ایک عام زندگی سے ملکی روزنامے تک سفر جاری ہے ۔ حادثات سیاچن جسے بلند وبالا سرحدی محاذ پر بھی ہمارے منتظر ہیں ، جہاں برفانی تودے تلے دبے ہمارے سپاہی زندگی کی دستک کے منتظر ہیں، تو کراچی جیسے بڑے شہر میں گلیوں اور کوچوں میں لڑی جانے والی جنگ جاری ہے ،مگر کوئی نہیں جا نتا کہ گھر گھر موت کو تقیسم کرنے والے یہ لوگ کون ہیں، ملکی تاریخ سے سبق نہ سیکھنے والوں کے لئے ایک اور بنگلہ دیش کی کہانی بلوچستان کے پہاڑوں پر لکھی جارہی ہے۔ لگتا ہے کہ کھیل ختم ھونے کو ہے ۔

اسلام آباد کے ہوائی اڈے کے قریب جمعہ 20 اپریل 2012 کی شام بھوجا ایئرلائن کا مسافر طیارہ گر کر تباہ ہونے سے تمام 127 افراد ہلاک ہو گئے۔

اسلام آباد کے حسین افق پر ایک ہی جیسا یہ دوسرا حادثہ ہے۔ جس وقت یہ حادثہ پیش آیا ۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں طوفانی بارش کے ساتھ تیز ہوائیں بھی چل رہی تھیں۔ طیارے کا ملبہ اسلام آباد ہائی وے سے چند کلومیٹر دور حسین آباد نامی گاؤں میں گھروں اور ان کے ارد گرد وسیع علاقے میں گرا۔

ہمیشہ کی طرح یہ حادثہ بھی بہت سے سوالات کے جواب چاھتا ہے ، مگر ہمیشہ کی طرح بولنے والے ھونٹوں پر تالے ہیں۔

مگریہ تصویرں کہہ رہی ہیں ، سچ کو تلاش کیا جائے