Category Archives: Urdu Articles (Social / Political)

ایک ستم اور میری جاں

 

 

ایک ستم  اور میری جاں

 

حکومتوں کا بنیادی مقصد ایک ایسی فلاحی ریاست کا قیام ہوتا ہے  جہاں لوگوں کو   بنیادی   حقوق، ملازمتوں کے مساوی  مواقع ، اور انصاف کا فوری حصول ممکن ہو۔مگر پاکستان میں حکومتیں، جمہوری نظام کی آڑ میں برسہا برس  سے ،حکومتی  وسائل کو ذاتی منفعت  کے کاموں میں استعمال کرنے کی عادی ہو چکی ہیں، جمہور کے لئے قوانین واضع کرنے کی جگہ ، ایسے قوانین  کا اجرا کیا جارہا ہے، جو  تاحیات حکمرانی کے لئے  ان کا راستہ صاف کرسکے۔

اب یہ بات سب پر عیاں ہوچکی ہے کہ ہمارے ملک کی  دو بڑی سیاسی جماعتوں نے برسر اقتدار آکر لوٹ مار اور اقرابا پروی کا بازار گرم کردیا۔ اور عوام کے حصے میں جمہوریت ایک بہترین انتقام کا نعرہ بن کر سامنے آئی ۔عوام کے حصے میں آنے والی روٹی  اور روزگار کو بھی ان  سے دور  کردیا، غریبوں کے لئے قیام اسکولوں میں تعلیم ناپید، ہسپتالوں سے ڈاکٹر اور دوائیں نایاب، اور ملک سے روزگارکے مواقع غائب ہوتے چلےگئے ، آبادیاں ، بنیادی ضرورتوں سے محروم ،کچرے کے ڈھِیر کی طرح بدنما دیکھائی دینے لگیں۔ جبکہ ملک کی اشرافیہ ، کے لئےرائج دوہرے معیار نے ان کے درمیان طبقاتی  فاصلے بڑھا دئے۔جھوٹ اور   منامقت کا چلن عام  ہو گیا۔

ملک کے دو بڑے شہروں، لاہور اور کراچی ، جو کہ  اپنی  گنجان آبادیوں کے باعث، مسائلستان بن چکے ہیں ،وہاں  ٹرانسپورٹ کا بوسیدہ نظام   لوگوں کے لئے تکالیف کا باعث بن  چکا ہے۔ایسے میں عالمی سطح پر تسلیم شدہ    “ای ٹیکسی” کا نظام  ان شہروں میں متعارف کرایا گیا،  جہاں  جدید تریں  اور معیاری ٹرانسپورٹ اور اس سے منسلک تعلیم  یافتہ  اسٹاف جسکا تعلق  موبائل ایپ کے ذریعے  صارف سے جوڑ دیا گیا۔ بہت ہی آسا نی سے   دستیابی کو ممکن بنادیا ۔ آپ جہاں ہیں اور جہاں  جانا چاہتے ہیں   ، یہ سب معلومات ، اس  موبائل  ایپ سے جوڑے   سرور  پر  مہیا کی جاتی ہے جو فوری طور پر  ، فاصلہ کی طوالت اور اس کا تخمینے سے آپ کو  آگاہ کردیتا ہے۔

اس جدید نظام نے  ، لوگوں کی سفری  سہولیا ت   کے ساتھ ساتھ، ملک کے بے روزگاہ  نوجوانوں کے لئے باعزت  معقول  روزگار مہیا کیا بلکہ  لوگوں کے لئے سرمایہ کاری  کا بھی ذریعہ  بنا ۔۔۔۔ اگر آپ  ایک شاندار  گاڑی کے مالک ہیں  اور کمپنی کے معیار سے مطابقت پر  ، آپ اس گاڑی  کو کمپنی  کو دے کر معقول  ماہانہ  معوضہ   بھی حاصل کر  سکتے ہیں۔

تیزی سے  تبدیل ہوتی اس دینا میں ،یہ تبدیلیاں زندگی  میں آسانیاں پیدا کرتی ہیں، مگر ہماری حکومتوں کو  یہ   تبدیلیاں راس نہ  آئی، انہوں نے سڑکوں پر ڈھولتی  ، بوسیدہ اور پرانی  گاڑیوں  کے چلنے پر کبھی کوئی نوٹس نہیں  لیا، مگر فوری  طور پر انہوں نے اس نئے نظام سے پیدا ہونے والے سہولتوںکو  عوام کےلئے  غیر قانونی ٹہرا دیا۔ اور حكم جاری كردیا   کہ انہیں بهی  بوسیده نظام كے اصول وقوانیں  كے تحت چلنے كی  اجازت لینی  ہوگی، جہاں   صارف  کے لئے  سہولتوں  کے برعکس ،اجر  صرف  اپنے منافع پر نظر رکھے ۔

آہ ۔ جنید جمشید، زندگی اللہ کی امانت ہے

junaid-jamshad

آہ ۔ جنید جمشید

زندگی اللہ کی امانت ہے

جنید جمشد نے اپنے منفرد انداز گائیگی اور وائٹل سائین کی گروپ پرفارمنس کے ذریعے اپنی گلوکاری کو مقبول عام بنا دیا ،اس کے گائے ہوئے گیتوں نے  نوجوان نسل کومتاثر کرناشروع کردیا ۔اس نے بہت جلد شہرت کی بلندیوں کو چھو ا۔اس کی زندگی کی راتیں، جگمگاتی روشیوں ، چاہنے والوں کی آوازوں کے شور میں بسر ہو رہی تھی ، جبکہ دن کی ساری مسافت ، نیند کی وادی میں گم ہورہی تھِی۔ شوبز کی خوبصورت جگمگاتی دنیا میں کسی ایک اجنبی  لمحہ نے ، اس کو نیند سے بیدار کر دیا ۔ روشینوں اور آوازوں کے شور کے پیچھے چھپا اندھیر ہ اس کے سامنے آگیا، حقیقت بے نقاب ہوگئِ کہ یہ  زندگی جھوٹ اور بناوٹی ہے۔اس احساس زیاں نے اس کی زندگی کو یکسر بدل ڈالا۔ زندگی کی ڈگر پر اذان کی آواز اس کے لئے سنگ میل بن گئی۔احکامات خداوندی اور  سنت رسول ﷺ کی  پیروی اس کا مقصد حیات بن  گئی۔

                        جیند جمشید نے محسوس کرلیا کہ زندگی اللہ کی امانت ہے، اور زندگی کو اس کے فرمان کے مطابق بسر کرنا عین عبادت ہے۔ آسائش زندگی  اب اس کا متمع نظر   نہیں رہا۔ایک باشرع انسان موت سےکبھی نہیں گبھراتا ، موت تو صرف ابدی زندگی کے سفر کا دروازہ ہے- زندگی کا جو بھِی لمحہ اسے میسر آتا ہے ، وہ خوشی کا اظہار کرتا ہے کہ  اسے اپنے رب کو راضی کرنے کی ایک اورمہلت مل گئِ، یہ ہی اس کی سرمایہ کاری ہے ،جو اللہ کے حضور ، اسسکےسرخرو  ہونے کا باعث بنے گی۔

                        نواجونی کی عمر، رسم و رواج سے بغاوت کا نام ہے،اس عمر میں  پابندیاں ،زنجیروں کے بوجھ کی طرح محسوس ہوتی  ہے ۔اسےوقت اگر کوئی ان دیکھے خدا کے بتائے ہوئے سیدھےراستہ پر  چلنا چاہے تو اسکادل انکارپر مائل  رہتا ہے۔نفس کے ساتھ جاری اس جہاد میں ، کامیابی ہر کسی کا نصیب نہیں  ہوتی ۔

جیندجمشید  نے جاگتی  راتوں اور شوبز کی چمکتی  روشنیوں سے منہ موڑ کر ، طلوع سحر کی پہلی روشن کرن کو سلام کیا جو اللہ کے حکم پر   اپنےدن  کا آغاز کرتی ہے، موت کو گلے سے لگا کر ، شہادت کے مرتبے پر فائز ہونے کا مرتبہ حاصل کرنے والے جنید جمشید نے ، ہماری آنکھوں کے پردوں پر جمے ہوئے اندھے جالوں کو صاف کردیا تاکہ حقیقی راستہ اسے نظر آسکے۔

                        زندگی  کے سکے کےدونوں طرف ڈھالی گئِ ، حق و باطل کی شبہیوں نے، مرکزی نقطے میں پہناں  ہو کر تمام باطل قوتوں سے انکار کردیا ۔۔۔ اب زندگی صرف اللہ  کی امانت ہے ۔

جیند جمشید نےتبلیع کےپر خار راستے پر چلنے کو اپنی زندگی کا چلن بنایا،  جو جہاد کا مترادف ہے،اس سفر میں دوستوں  سے زیادہ ،اسے دشمنوں کا سامنارہا ،اور تحفہ شہادت اسکی زندگی کی سب سے بڑی گواہی بن گیا۔

Skip to toolbar