غیر طبع شدہ نظمیں

اب بس بہت ہو چکا ۔۔۔۔

اب بس بہت ہو چکا ۔۔۔۔ سجدہ گاہ کو لہولہاں کر دیا گیا مسجد کی درودیوار پر میرا جسم لہو کی صورت چسپاں ہے فرش پر سجدہ ریز لاشیں ہی لاشیں ہیں اور اسکولوں کی دیواروں کو پھلانگ کر آنے والے پردیسووں نے معصوم بچوں کو قطاروں میں کھڑا کردیاہے ان کے معصوم جسموں سے […]

اب بس بہت ہو چکا ۔۔۔۔ Read More »

اب بس بہت ہو چکا ۔۔۔۔

اب بس بہت ہو چکا ۔۔۔۔ سجدہ گاہ کو لہولہاں کر دیا گیا مسجد کی درودیوار پر میرا جسم لہو کی صورت چسپاں ہے فرش پر سجدہ ریز لاشیں ہی لاشیں ہیں اور اسکولوں کی دیواروں کو پھلانگ کر آنے والے پردیسووں نے معصوم بچوں کو قطاروں میں کھڑا کردیاہے ان کے معصوم جسموں سے

اب بس بہت ہو چکا ۔۔۔۔ Read More »

اس کی آخری تصویر

ٹیلفون کی کنٹکیٹ لسٹ میں اپنے دوستوں کا نام تلاش کرتے ہوئے اس کا نام باربار میری نظروں کے سامنے سے گزرتا ہے اس کی آخری تصویر کنٹرکٹ پروفائل پرموجود ہے جسکے عکس کوکیمرےکی آنکھ نے کبھی قید کیاتھا میں ڈائل بٹن کو پریس کرتا ہوں دیر تک ڈائل ٹون بجتی ہے اور پھر یکلخت

اس کی آخری تصویر Read More »

غیر تخلیقی لمحوں کا درد

یہ لمحے جو گزررہے ہیں،مجھے ایک درد سے دوچار کررہے ہیں میں اپنے دل کی ڈھرکنوں کو لفظوں سے جوڑکر ایک ایسا آھنگ بنا نا چاھتا ہوں جو میرے ساتھ دور تک چلے تنہائیوں کی قید سے باہر سورج کو دیکھتے ہوئے اپنے اندر پھیلتے اندھیروں سے  میں ڈر رہا  ہوں کتنا بڑا عرصہ بیت

غیر تخلیقی لمحوں کا درد Read More »

سانحہ پشاور کے شہید طلبا کے نام

سانحہ پشاور کے شہید طلبا کے نام افسوس کا کوئی بھی لفظ نہیں لکھا جا سکتا کہ یہ ایک مکمل درد ہے جسکی اذیت زمانہ دور تک محسوس کرے گا ہماری قوم دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں کتنی قربانیاں دے چکی ہے اور کتنا قرض ہم پر  ادا کرنا باقی ہے دھشت گردی

سانحہ پشاور کے شہید طلبا کے نام Read More »

آج تھرکی صحرائی زندگی کے لئے ہمیں جاگنا ہو گا

صدیو ں سے تھر کی تپتی ریت پر مور اپنےرقص کرتے رنگوں کو قوس و قزح کی صورت زمین پر بکھر رہے ہیں آج حد نظر تک کوئی بھی پرندہ آسمان کی وسعتوں کو چھوتا نظر نہیں آ رہا ہے زیست کی نمی پاتال کی گہرائیوں میں کہیں چھپ گئی ہے جہاں تک پہنچتے پہنچتے

آج تھرکی صحرائی زندگی کے لئے ہمیں جاگنا ہو گا Read More »

شب و روز کی گردش سے گزرتا ہو ایہ سال

شب و روز کی گردش سے گزرتا ہو ایہ سال آج نجانے کیو ں سانپ کی طرح رینگ رہا ہے اس کی زہر بھری پھنکار سے میرے تازہ خوابوں فصل جل چکی ہے زخم آلودہ جسم لمس کی خواہش لئے آہٹوں کی دھند میں کہیں گم ہو چکا ہے سورج کالی آندھیوں کی گرفت میں

شب و روز کی گردش سے گزرتا ہو ایہ سال Read More »

اے محرم تو سرخرور ہے سدا

سیاہ آسماں پر پھیلے  لہو رنگ پرچم تلے قافلے صدیوں سے ہیں سچ کے سفر پر رواں سر ان کے پڑے ہیں سجدوں میں کٹے ہوئے بریدہ جسم ہیں ان کے خوشبو سے مہکے ہوئے برف جیسے شعلے جلے ہوئے خیمو ں سے ہیں  لپٹے ہوئے آسمانوں سے لگی پر نم چشم کے سامنے ڈوب چکی

اے محرم تو سرخرور ہے سدا Read More »

موت کتنی ارزان ہے !

عید کے دن، میں اس مختصر سے خاندان کو یاد کررہا ہوں جسے بڑی بے رحمی سے زندگی کی کتاب سے نوچ کر پھنک دیا گیا اس شہر میں یوں تو روز ہی کوئی مرتا ہے کوئی اپنی موت اور کوئی ایسی موت بھی مرجاتا ہے کہ اس کا اپنے قاتلوں سے کوئی بھی لینا

موت کتنی ارزان ہے ! Read More »

ہم چیخناچاہتے ہیں

ہم چیخناچاہتے ہیں یہ زندگی سے ناراض رویہ ہے ہر صبح آواز قتل کر دی جاتی ہے تو ساراشہر خاموش ہوجاتا ہے کسی کو گرنے سے بچانے کے لئے ہم چیخنا چاہتے ہیں مگر ایک ایسی تصویر بن جاتے ہیں جس میں خاموشی کو قید کر دیا جاتا ہے ہم تہہ در تہہ کسی اجنبی

ہم چیخناچاہتے ہیں Read More »

بے دروازہ گلی

بے دروازہ گلی یہ تنہائی آگ کے درخت جیسی ہے اور ان ویران گلیوں میں کوئی دروازہ نہیں کھلتا لوگ دعا مانگنا بھہول گئے ہیں ہر چہرہ پھتر ہے صرف ایک ہی آنکھ روتی ہے اور ایک ہی دریا بہتا ہے کوئی اڑتا پرندہ نہیں صرف ہاتھ اٹھے ہوئے ہیں موسم کی جلتی ہوئی شام

بے دروازہ گلی Read More »

زندگی کے درمیان

جب زندگی کے درمیا ن راستے ختم ہوھوگئے تو ہم نے سوچا، ایک ایسی رات آراستہ کی جائے جسکی مشرقتی دیوار پر سورج کبھی طلوع کہ ہو خوشبو کی بہتی جھیل میں جب ہم نے اپنے پاوں رکھے تو چاند اور ستارے ہمارے ہمراہ تھے پرندوں کی اجلی آوازیں تنہائی کی چادر پرلکھے گم شدہ

زندگی کے درمیان Read More »

نیاسال

ایک ایسی گہری رات کے بعد طلوع ہونے ہوالی نئے سال کی صبح کیسی ہوگی جب آگہی جرم بن چکی ہے جب الفت و محبت میں ڈوبے ہوئے لمحے وقت کی ٹوٹی ہوئی کرچیوں میں خون آلودہ پڑے ہیں اور وقت کی بے وفائی بے دام ہوچکی ہے آدمی اپنے انسان ہوئے کے احساس سےمحروم

نیاسال Read More »

جسم کی جلتی دھوپ

اب جینے کے کئی معنی ہیں یہاں پہنچنے تک ہم نے کئی زخم  اٹھائے ایک ایسی دھوپ عبور کی جسکی جلتی آگ میں اڑتے پرندے بھی پگھل رہے تھے تم سنگھار کرنا چاہتی ہو اپنا روپ ، اپنی خوشبو، اپنی آواز اور قدموں کی چاپ سب کچھ میرے حوالے کردینا چاہتی ہو سفر کی دھوپ

جسم کی جلتی دھوپ Read More »

ہمیں رہائی ملے

اس کے خدوخال میرے جسم کی حرارتوں میں لکھ دیے گئے حیرتوں کی چار دیواری سے دور پرندوں کی آوازوں کے ہمراہ طلوع ہونے والی صبح جہاں گہری نیند میں دیکھے جانے والے خواب ہمیشہ ٹوٹ جاتے ہیں ایک احساس بے کنار آسمانوں کی سمت پھیل  رہا تھا خواب کی بے چین نیند سے جاگ

ہمیں رہائی ملے Read More »

محبت کے موسم میں

میں محبت کے اس موسم میں مرنا چاھتا ہوں جب درختوں پر پھول کھل رہے ہوں تمہارا وجود پھیگی بارش کی طرح قطرہ قطرہ میرے پیاسے جسم میں جذب ہورہا ہو تصویر کے اس  منظر   میں (میں چاھتا ہوں تم میرے لئے موت کا جام تجویز کرو محبت سے شرابور خواب آلودہ جسموں کے

محبت کے موسم میں Read More »

اسکے خال وخد

اسکے خال و خد میرے جسم کی حراتو ں میں لکھ دئے گئے حیرتوں کی چار دیواری سے دور پرندوں کی آوازوں کے ہمراہ طلوع ہونے والی صبح جہاں گہری نیند میں دیکھے جانے والے خواب ہمیشہ ٹوٹ جاتے ہیں ایک احساس بے کنار آسمانوں کی سمت پھیل رہا تھا خواب کی بے چین نیند

اسکے خال وخد Read More »

ایک تنہا نغمہ رقص میں بے حال ہے

یہ ایک ایسا احساس ہے جو چھونے سے بھی زیادہ لطیف ہے جسم کے پر لطف زاویوں سے ماوارا روح کی گہرائیوں سے ایک چشمہ پھوٹ رہا ہے جسکے رنگ خواب کی نیم آغوش بانہوں میں گم ہورہے ہیں اور آنکھوں کے راستے تمہارے جسم کے تالاب سے میں پانی پی رہا ہوں پیاس بلوریں

ایک تنہا نغمہ رقص میں بے حال ہے Read More »

آج کا روشن دن

آج کا دن غیر معولی طور پر روشن ہے لوگوں کے ہجوم کے درمیان بے نام چہروں ، بے ہنگم آوازوں کے شور اور روشنی کے بے سمت بکھرتے زاؤیوں کو توڑ کر مجھے اس تک پہچنا ہے جس کے لئے میرے دل کے مندر میں گھنٹیاں بجائی جارہی ہیں وہ چہرہ اجبنی ہے مگر

آج کا روشن دن Read More »

ہم نے سوچا

جب زندگی کے درمیان راستے ختم ہوگئے تو ہم نے سوچا، ایک ایسی رات آراستہ کی جائے، جسکی مشرقی دیوار پر سورج کبھی طلوع نہ ہو۔ خوشبو کی بہتی جھیل میں جب ہم نے اپنے پاؤں رکھے تو چاند اور سورج ہمارے ساتھ تھے۔ پرندوں کی اجلی آوازیں تنہائی کی چادر پر لکھے گم شدہ

ہم نے سوچا Read More »

نیا سال

ایک ایسی گہری رات کے بعد طلوع ہونے والی نئے سال کی صبح کیسی ہوگی جب آگہی جرم بن چکی ہے جب الفت و محبت میں ڈوبے ہوئے لمحے وقت کی ٹوٹی ہوئی کرچیوں میں خون آلود پڑے ہیں وقت کی بے وفائی، بے دام ہوچکی ہے آدمی اپنے انسان ہونے کے احساس سے محروم

نیا سال Read More »

اب جینے کے کئی معنی ہیں

اب جینے کے کئی معنی ہیں ، یہاں پہچنے تک ہم نے کئی زخم اٹھائے اور ایک ایسی دھوپ عبور کی جس کی جلتی آگ میں اڑتے پرندے بھی پگھل رہے ہیں۔ تم سنگھار کرنا چاھتی ہو، اپنا روپ، اپنی خوشبو ، اپنی آواز اور قدموں کی چاپ، سب کچھ میرے حوالے کردینا چاھتی ہو۔

اب جینے کے کئی معنی ہیں Read More »

اس کے باوجود

اس کے باوجود ۔۔۔ کہ میں اس دنیا میں تمہارے لئے کوئی گھر نہیں بنا سکا تم نے فقط میرے دل میں رہنا گوارا کیا خواہشوں کو چھوڑنے میں پہل کی تم مسکرا سکتی تھیں مگر تم نے تنہائی میں رھنا ، مجھے یا د کرنا اور آنسو بہنا پسند کیا اپنے ہاتھوں پر مہندی

اس کے باوجود Read More »

ایک تصویر بناؤں

اس سے پہلے کہ زمین کھسک جاتی میں نے کیوں نہ آسمان کا کنارہ تھام لیا میں نے خود کو جلا دیا اور چاہ کہ اپنی انگلیوں کو رنگ میں ڈوبو کر ایک تصویر بناؤں شام کے اجالے کی مگر تصویر کے رنگوں میں اب صرف سائے ہیں تمہاری محبت سدا بہار موسم کی طرح

ایک تصویر بناؤں Read More »

رات کے آخری پہر میں

خواب محرومیوں کو جگاتے ہیں ، میری آرزویں اب تمہارے نام سے منسوب ہیں۔ رات کے آخری پہر کسی دوسرے کے موجود نہ ہونے پر ہم کتنے ملول ہو جاتے ہیں۔ ہر صبح ، میں تمہیں رات کی کہانی سناتا ہوں، آج ہماری محبت اپنا پہلا سال مکمل کرچکی ہے۔ ہم ایک دوسرے کو جتنا

رات کے آخری پہر میں Read More »

امکانات سے باہر

امکانات سے باہر سورج کی روشنی کے ساتھ سفر کرتے ہوئے تم سے ہم آغوش ہونے کے خیال کو میں نے کبھی بوسیدہ ہونے نہیں دیا خواب و خیال> خواب گاہ سے کبھی باہر نہیں نکلے سور ج کی روشنی جب بھی ستاروں سےبھرے آنچل میں پناہ لیتی تو میں اس یقین کو کبھی نہیں

امکانات سے باہر Read More »

یہ جنگل ہے

یہ جنگل ہے اور ڈور تے ہوئے میرے پاؤں زخمی ہوچکے ہیں میں سمتوں کا گمان کھو چکا ہوں اور کسی آہٹ کی طرف ڈورتا ہوں میں لہولہان ہوں اور کسی بھی لمحے آزادی کی خواہش سے ٹوٹ سکتاہوں یہ جنگل جو پہلے پرندوں کی آوازوں سے بھرا تھا اب خاموشی کی سزا کاٹ رہا

یہ جنگل ہے Read More »

انتظار کا راستہ

کالے سمندروں کے سفر سے لوٹے ہوئے وہ مجھے انتظار کی شکار گاہ کے قریب جاگتی ہوئی ملی اس کی آنکھوں نے کہا تم تو میرے بستر کی ہر شکن میں موجود تھے اور میں ہر رات تمہارے کپڑوں میں بسے لمس سے ہم بستر ہوتی تھی اب زندگی کتنے مختلف خانوں میں بٹ گئی

انتظار کا راستہ Read More »

بوری میں بند لاش

بوری میں بند لاش کسی سے کچھ نہیں کہتی سارے سوالوں کے جواب اسکی مٹھی سے گر کر کہیں کھو گئے ہیں ادھ کھلی آنکھوں میں قید آخری منظر قطرہ قطرہ پگھل رہا ہے لوگوں کے چہرے بجھے ہوئے ہیں کچھ آوازیں بھی اس منظر میں موجود ہیں جنہیں خاموش ہونٹوں نے جکڑ رکھا ہے

بوری میں بند لاش Read More »

Scroll to Top